Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سلسلہ جاری ہے بھارتی فوج نے مزید 7 کشمیریوں کو شہید کردیا۔

سرینگر(وائس آف ایشیا)کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسزکی ریاستی دہشتگردی جاری ہے،بھارتی فوج کی فائرنگ سے 7کشمیریوں کی شہادت کے بعد علاقہ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ،نوجوانوں کوضلع بارہ مولا،کپواڑہ اورریاسی میں آپریشن کے دوران شہیدکیاگیا،بھارتی فورسزنے سرچ آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کااستعمال بھی کیا،تینوں اضلاع میں انٹرنیٹ سروسزمعطل،تعلیمی ادارے بند کردیے گئے

 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سوپور قصبے اور جموں کے علاقے جھجر کوٹلی میں تین اور نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دو نوجوانوں کوبھارتی فوج کی 22راشٹریہ رائفلز، سینٹرل ریزروپولیس فورس اور اسپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں نے قصبے کے علاقے آرمپورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیاجبکہ ایک نوجوان کو جموں کے علاقے جھجر کوٹلی میں تلاشی کی ایک بڑی کارروائی کے دوران شہید کیاگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی گاڑی مسافر بس سے ٹکرا گئی،پانچ فوجی اہلکار اور بس ڈرائیور زخمی ،جھجر کوٹلی میں فائرنگ سے سرکاری ملازم زخمی ،ٹرک سے فرار ہونے والے تین جنگجوؤں کی وسیع پیمانے پر تلاش،سرچ آپریشن میں سینکڑوں اہلکاروں کے علاقہ سراغ رساں کتوں،ڈرون طیاروں ،تھرمل امیجز اور ہیلی کاپٹر کا استعمال ،کپواڑہ میں دو نوجوانوں کی شہادت پر تعزیتی ہڑتال،کاروبار زندگی تھم گیا،تعلیمی ادارے ،موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل،شہری ہلاکتوں کیخلاف آج مزاحمتی خیمے کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے ۔تفصیلات مقبوضہ کشمیر کے علاقے ٹنگمرگ میں ٹول پلازہ کے نزدیک اسوقت ٹیر ٹیورل کے پانچ اہلکار شدید زخمی ہوگئے جب ٹنگمرگ سے سرینگر جارہی مسافر بس زیر نمبر نے 161 ٹیر ٹیورل آرمی یونٹ کی گاڈی زیر نمبر 14c100515Lکوزوردار ٹکر مار دی جس سے بس ڈرائیور نصیر احمد تیلی ساکنہ کرالہ پورہ ہری اوٹنو ٹنگمرگ اور فوج کے پانچ اہلکار ڈرائیور حولدار محمد حسین کانسٹبل فردوس احمد مشتاق احمد محمد مقبول اور عبدالحمید شدید زخمی ہوگئے۔ جنہیں فوری طور سب ڈسٹرک اسپتال ٹنگمرگ منتقل کیا گیا۔ فوجی ڈرائیور محمد حسین کو فوجی اسپتال بادمی باغ جبکہ سیول بس ڈرائیور کو صورہ انسچوٹ منتقل کیا گیا ٹنگمرگ پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ھے۔ادھر جھجر کوٹلی ادہم پور کے قریب ایک ٹرک میں سوار مشتبہ اسلحہ برداروں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں محکمہ سریکلچر کا ایک ملازم زخمی ہو گیا جبکہ اسلحہ بردار فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے ایک وسیع علاقے میں تلاشی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے اور حملہ آوروں کو تلاش کرنے کیلئے سینکڑوں اہلکاروں کے علاقہ سراغرساں کتوں ، ڈرونز، فوجی ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔پولیس نے ٹرک کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق بتایا کہ یہ ٹرک جموں سے سرینگر کی طرف جا رہا تھا کہ سکیتر کے قریب لگائے گئے ناکہ کو توڑ کر بھاگ نکلا لیکن 2کلو میٹر دور جھجر کوٹلی کے مقام پر ڈھابہ پرکھانے پینے کا سامان لینے کے لئے رک گیا۔ ڈھابہ پر کام کرنے والے عینی شاہد امت کمار نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ٹرک کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر ڈھابہ پر آیا اور پانچ آدمیوں کیلئے کھانا لگانے کا آرڈر دیا ہی تھا کہ اتنے میں پولیس اور سی آر پی ایف کی ٹیم وہاں پہنچی اور ڈرائیور سے پوچھ تاچھ کیساتھ ساتھ ٹرک کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ اس وقت صبح کے 8بجکر 10منٹ تھے۔انہوں نے کہا کہ وال پٹی سے لدھے ٹرک میں سے تین آدمی نکل کر جھجر نالہ کی طرف بھاگے، تاہم جاتے جاتے انہوں نے پولیس پر فائر کھول دیا اور ایک گولی خاکی وردی میں ملبوس محکمہ ابریشم کے ایک ملازم کو جا لگی ۔ پولیس نے زخمی ملازم کی شناخت 52سالہ گنیش داس ولد تارا چند ساکن جھجر کوٹلی کے طور پر کی ہے ، اسے جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بیان کی جاتی ہے ۔فائرنگ کی خبر پھیلتے ہی فورسز نے پورے علاقہ کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کر دی ، جموں ادہم پور اور دومیل کٹرہ شاہراہوں پر ٹریفک بند کر دی گئی۔ بھاری تعداد میں فوج، نیم فوجی اور پولیس دستے تلاشی مہم میں جھونک دئیے گئے ، ڈرؤن اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، جھجرکوٹلی کے قرب و جوار کے علاوہ ویشنو دیوی یونیورسٹی اور نارائنہ ہسپتال کٹرہ سے ملحقہ علاقوں میں بھی خصوصی تلاشی مہم چلائی گئی ہے ۔آئی جی پی جموں شو دیو سنگھ جموال نے ایک بڑے حملہ کو ناکام بنانے کا دعوی کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ عنقریب ہی مفرور اسلحہ برداروں کو دبوچ لیا جائے گا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹرک کو ضبط کرنے کے علاوہ ٹرک ڈرائیور کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے جب کہ ٹرک سے ایک اے کے 47رائفل اور تین میگزین برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ ملی ٹینٹ ممکنہ طور پر کٹرہ کے قریبی جنگل میں روپوش ہیں ، چونکہ علاقہ میں ایک یونیورسٹی اور بڑا ہسپتال واقع ہے اس لئے فورسز کسی بھی قسم کا خطرہ مول لئے بغیر انتہائی احتیاط سے اوپریشن چلا رہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی نے بتایا کہ ملی ٹینٹ جموں سے سرینگر کی طرف جا رہے تھے، ڈرائیور اور کنڈیکٹر سے دریافت کیا جارہا ہے کہ وہ کہاں سے سرحد عبور کر کے ہندوستانی علاقہ میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے اہداف کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ آئی جی پی نے مزید بتایا کہ تلاشی مہم میں جدیدٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے اور یو اے وی، ڈرونز، تھرمل امیجر اور تربیت یافتہ کتوں کے علاوہ ہیلی کاپٹروں کو بھی کام پر لگایا گیا ہے ۔ اس دوران پولیس نے جموں ، کٹرہ اور ادہم پور میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ، لوگوں کو احتیاط برتنے کی صلح دی گئی ہے ۔پولیس کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ جھجر نالہ کے قریب پولیس اورجنگجوؤں کے درمیان مختصر تصادم ہوا جس کے بعد ملی ٹینٹ فرار ہوگئے، سیکورٹی فورسز ان کی تلاش میں ہیں۔ 3مفرور ملی ٹینٹوں کی عمر 18اور 22برس کے بیچ ہے ، ان میں سے دو کے پاس اسالٹ رائفلیں جب کہ تیسرے کے پاس پستول ہے ۔ ایک نوجوان پٹھانی سوٹ جب کہ دیگر دو پینٹ شرٹ زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ کسی بھی مشتبہ شخص نظر آنے پر پولیس کو فون نمبر 7006690780 یا 9622856295پر مطلع کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ ادھر کپواڑہ میں شہید ہونے والے دو نوجوانوں کی یاد میں تعزیتی ہڑتال رہی ۔ جبکہ ہندوارہ میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس معطل اور تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا کام بند رہا۔شاٹھ پورہ لنگیٹ کے 18سالہ فرقان احمد لون اور ہارون زینہ گیر سوپور کے لیاقت احمدکی ہلاکت پربدھ کو لنگیٹ ،کرالہ گنڈ اور سپر ناگہامہ میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ تمام تجارتی اورکارو باری سر گرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں ۔لنگیٹ اور ہندوارہ میں ڈگری کالج سمیت تما م ہائر سکینڈری سکولو ں بند رکھنے کے احکامات دیئے گئے تھے تاہم اس کے باوجود تعلیمی ادارے نہ کھل سکے ۔ ہندوارہ میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر رہی ۔دریں اثناء سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے (آج) 14ستمبر کو احتجاج اور ہڑتال کی اپیل کر رکھی ہے ۔مزاحمتی خیمے نے لوگوں کو کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند رکھنے اور ریلیاں نکالنے کی اپیل کی ہے ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے