Voice of Asia News

فرقہ وارانہ قتل کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدام نہیں کئے گئے ٗ چیف جسٹس

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ فرقہ وارانہ قتل کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدام نہیں کئے گئے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ ورانہ قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ خیبرپختون خوا حکومت کے سرکاری وکیل نے کہا کہ قتل و غارت گری کی روک تھام کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے، شرپسند عناصر کے خلاف سرچ آپریشن کیے گئے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈی آئی خان میں فرقہ وارانہ قتل کے خاتمہ کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیے گئے چیف سیکرٹری رپورٹ دیں کہ مسئلے کو حل کرنے کیلئے کیا کارروائی کی ہے؟۔ عدالت نے آئی جی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا لگتا ہے کسی سیکشن آفیسر نے دفتر میں بیٹھ کر رپورٹ تیار کی ہے۔درخواست گزار سید وسعت اللہ حسن نے بتایا کہ قتل کی ایف آئی ار کا اندراج ہوا تاہم کوئی ذمہ دار پکڑا نہیں گیا، علاقے میں الیاس گروپ اور عرفان گروپ دہشت گردی کا سبب بن رہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حکومت سے کہیں مسئلہ کے حل کیلئے مناسب منصوبہ بنائے ٗامن عامہ کو کنٹرول کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ٗعلاقے کے لوگوں میں حالات کو دیکھ کر اضطراب پایا جاتا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے