Voice of Asia News

بھارت میں ایڈز کے مریضوں سے امتیازی سلوک جْرم ،بھارتی حکومت

نئی دہلی(وائس آف ایشیا)بھارت میں طویل انتظار کے بعد حکومت نے ایڈز کے مریضوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قابل سزا جرم قرار دے دیا ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے متاثرین کی زندگی کچھ آسان ہوجانے کی امید کی جارہی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ایچ آئی وی/ ایڈز ایکٹ 2017ء کے نام سے اس قانون کے نافذ ہوجانے کے بعد اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ دو برس تک قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس قانون کے نافذ ہوجانے کے بعد بھارت میں 21 لاکھ سے زائد ایچ آئی وی/ ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی زندگی ممکنہ طور پر نسبتا آسان ہوجائے گی۔پارلیمان میں یہ بل سابق ڈاکٹر من موہن سنگھ حکومت میں وزیر صحت غلام نبی آزاد نے 2014 میں پیش کیا تھا اور گزشتہ برس اپریل میں پارلیمان نے اس کی منظوری دے دی تھی۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ نے اس کی توثیق بھی کردی تھی تاہم مودی حکومت اس قانون کو نوٹیفائی کرنے میں تاخیر کر رہی تھی جس کے لیے پچھلے دنوں دہلی ہائی کورٹ نے اس کی سرزنش بھی کی۔حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا مقصد ایچ آئی وی یا ایڈز کے متاثرین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنا اوران کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ایچ آئی وی کے مریضوں کے خلاف امتیازی سلوک کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا کہ مریضوں کو روزگار، تعلیم، صحت، جائیداد، کرایہ پر مکان جیسی سہولیات دینے سے انکار کرنا یا کسی طرح کی نا انصافی کرنا بھید بھاؤ ہوگا۔اس کے ساتھ ہی کسی کو ملازمت، تعلیم، یا صحت سے متعلق خدمات فراہم کرنے سے پہلے ایچ آئی وی ٹیسٹ کروانا بھی بھید بھاؤ ہوگا۔ اس قانون میں یہ التزام بھی ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی رضامندی کے بغیر اس کا علاج یا اس پر میڈیکل تحقیق نہیں کی جاسکتی۔ اس کے علاوہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو ملازمت نہ دینے یا ملازمت سے نکالنے پر بھی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ متاثرہ شخص کو جائیداد میں پورا حق اور صحت سے متعلق تمام ممکنہ امداد حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسے اپنے خاندان کے ساتھ رہنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔اس قانون میں اداروں پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ متاثرین کے حقوق کی حفاظت کریں اور ان کی شکایتوں کے ازالے کے لیے مؤثر میکنزم تیار کریں۔ انشورنس کمپنیاں بھی اب ایچ آئی وی/ ایڈز سے متاثرہ افراد کو میڈیکل انشورنس دینے سے انکار نہیں کرسکیں گی، تاہم اس کے لیے وہ کچھ زیادہ پریمیئم کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔ اس قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر کے مریضوں کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہنے اور گھر کے دیگر افراد کی طرح ہی تمام سہولیات استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔اس قانون کو اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ بھارت ایچ آئی وی سے متاثر دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ایک ارب پچیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں پندرہ اور 49 برس کے درمیان عمر کے 0.26 فیصد افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 21.17 لاکھ ہے۔ یو این ایڈز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2015 تک تقریباً بیس لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر تھے۔ صرف 2015 میں ہی68 ہزار سے زائد ایڈز کے مریضوں کی موت ہوگئی تھی جب کہ 86 ہزار نئے افراد میں ایچ آئی وی انفیکشن پائی گئی تھی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے