Voice of Asia News

شامی حکومت نے رواں سال کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیام اقوام متحدہ

دمشق(وائس آف ایشیا)شام میں بشار حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم نے کہاہے کہ شامی حکومت نے رواں سال اپوزیشن کے زیر کنٹرول غوطہ شرقیہ اور ادلب صوبے میں جنگی جرائم کا درجہ رکھنے والے حملوں میں کلورین گیس کا استعمال کیا جو ممنوعہ کیمیائی ہتھیار ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں برس اپریل میں غوطہ شرقیہ کو واپس لینے کے لیے شامی سرکاری فوج نے شہری آبادی کی کثرت رکھنے والے علاقوں پر متعدد اندھادھند حملے کیے۔ اس دوران کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ یہ اشارہ 22 جنوری سے یکم فروری کے درمیان دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے غوطہ شرقیہ میں دوما کے ایک رہائشی علاقے میں ہونے والے واقعات کی جانب تھا۔اقوام متحدہ میں ایک عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اس طرح 2013ء کے بعد سے تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے شام میں جن کیمیائی حملوں کی تصدیق کی گئی ہے اْن کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔ ان میں 33 حملے شامی حکومت سے منسوب ہیں جب کہ بقیہ چھ حملوں کا سبب بننے والے فریق کی شناخت کا تعین نہیں کیا جا سکا۔تحقیقاتی ٹیم نے باور کرایا کہ استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کی نوعیت سے قطع نظر شہریوں کا قتل سْرخ لکیر ہے۔ ٹیم کا کہنا تھا کہ تنازع کے فریقوں پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کو عسکری اہداف اور جنگ سے دْور کر دیں۔ٹیم نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے مطالبے کے حوالے سے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے سب سے مطالبہ کیا کہ اِدلب میں شہریوں کا تحفظ کیا جائے۔ ساتھ ہی ٹیم نے مطالبہ کیا کہ شام میں بیرل بموں اور اندھادھند بم باری کا سلسلہ روکا جائے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے