Voice of Asia News

میانمارکی رہنماء آنگ سوچی کا برطانیہ کے دو صحافیوں کو قید کی سزا کا دفاع

ہنوئی (وائس آف ایشیا)میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے بین الاقوامی مذمت کے باوجود خبر رساں ادارے روئٹرز سے وابستہ دو صحافیوں کو جیل بھیجنے کا دفاع کیا ہے اورکہاہے کہ صحافی وا لون اور کیاو او کو نے قانون کو توڑا ہے اور ان کی سزا کا آزادیِ اظہار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آنگ سانگ سوچی نے جمعرات کو ویتنام میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی اقتصادیات کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنی خاموشی کو توڑ دیا۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس مقدمے نے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا ہے اور بہت سے نقاد نے اصل میں فیصلے کو پڑھا ہی نہیں ہے۔میانمار کی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ دونوں صحافیوں کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے اور یہ فیصلہ کیوں غلط تھا کی نشاندہی کرنے کا پورا حق ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے