Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ، جھڑپوں کی تفصیل جاری،2شہداء سپرد خاک،3پاکستانی قرار

سرینگر(وائس آف ایشیا ) بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں ککریال کٹرہ اور سوپور میں جھڑپوں کی تفصیل جاری کر دی ہے ،جھڑپوں میں شہید ہونے والے2نوجوانوں کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ 3کو پاکستانی قرار ،تین کی کنٹرول لائن سے لاشیں نہ اٹھائی جا سکیں ، ایس ڈی پی او کٹرہ ، فوجی میجر، سی آر پی ایف کے دو آفیسر اور دیگر 8فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز کے مطابق گزشتہ روز ضلع ریاسی کے ککڑیال کٹرہ علاقہ میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین 6گھنٹے تک چلنے والے مسلح تصادم میں 3جنگجو جاں بحق ہو گئے جب کہ اس آپریشن میں 4افسران سمیت 12فورسز اہلکار زخمی ہو ئے۔ جی او سی یونیفارم فورس میجر جنرل اروند بھاٹیہ نے میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کی صبح11:40منٹ پر اس وقت جھڑپ شروع ہوئی جب کل جھجر کوٹلی سے مفرور3 ملی ٹینٹوں کو ویشنو دیوی یونیورسٹی سے ملحق ککڑیال علاقہ کے دھیرتھی گاؤں کے ایک مکان میں گھیر لیا گیا۔ رات بھر جھجر نالہ میں گزارنے کے بعد ملی ٹینٹ راج کمار نامی ایک شخص کے گھر میں داخل ہوئے اور کھانا طلب کیا لیکن گھر والوں نے بتایا کہ ابھی ناشتہ تیار نہیں ہوا ہے ۔ اس پر ایک ملی ٹینٹ نے لڑکے کو 2000کا نوٹ دے کر بسکٹ اور پھل لانے کے لئے کہا لیکن لڑکے نے بازار جانے کے بجائے قریب ہی تلاشی مہم میں لگے سی آر پی اہلکاروں کو اس کی اطلاع دے دی۔ ایک پولیس اہلکارنے بتایاکہ سی آرپی ایف اہلکاروں نے جموں وکشمیرپولیس کے ساتھ مل کرگھرپردھاوابو ل کرانکاؤنٹرشروع کیااورایک جنگجوکوڈھیرکردیاجبکہ دودیگرقریب ہی واقع مکی کے کھیتوں میں چھپ گئے۔گولہ باری کے تبادلے میں آٹھ سیکورٹی اہلکاربشمول ایس ڈی پی او نگروٹہ ، سی آرپی ایف اہلکار،ایک آرمی میجراوردوپیراٹروپرزخمی ہوگئے۔پولیس افسرنے بتایاکہ 30 منٹوں کے بعددوسرے ملی ٹینٹ کوبھی ماراگیاجبکہ تیسرا جنگجوقریب 6 بجے ہلاک ہوا،ان تینوں مجاہدین کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے جن کی لاشیں بھارتی فوج نے تحویل میں لے لی ہیں ۔بھاٹیہ کے مطابق گولی باری کے تبادلے میں زخمی ہونے والوں کی شناخت میجر دیپک اپادھیائے ،پیراٹروپرس راجندرسنگھ اورسدھیرکمار(فوج)اسسٹنٹ سپرانٹنڈنٹ آف پولیس ہرش پال سنگھ، ڈی ایس پی منوج کماریادو، کانسٹیبل ذاکرحسین ،کانسٹیبل پنچم سنگھ ،کانسٹیبل ابھے سنگھ اورسارجنٹ محمداقبال (سی آرپی ایف)، ڈی ایس پی موہن لال شرما،کانسٹیبل بھانوپرتاپ سنگھ اورکانسٹیبل یش پال سنگھ جموں وکشمیرپولیس شامل ہیں۔پولیس اورپیراملٹری سے تعلق رکھنے والے تمام زخمیوں کو نارائناسپرسپیشلٹی ہسپتال ککریال جبکہ آرمی ٹروپرس کوکمانڈاسپتال ادہم پورمنتقل کیاگیا۔انسپکٹرجنرل آف پولیس جموں شیودیوسنگھ جموال نے کہاکہ گھنی آبادی میں آپریشن کومنظم طریقے سے چلانا اورکوئی نقصان نہ پہنچے کومدنظررکھناایک چیلنج تھاجس میں فورسزکامیاب ہوئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ سابق فوجی، جس کے گھر میں ایک گھنٹہ تک جنگجوٹھہرے تھے، نے پولیس کو مطلع کیاکہ جنگجو بدھ کی شام اس کے گھر آئے، کھانا کھایا اور کپڑے تبدیل کر کے وہاں سے چل نکلے۔سابق فوجی نے میڈیا سے بھی اس ضمن میں تفصیلی بات کی اور بتایاکہ جنگجووں نے ہم سے گاڑی کی مانگ کی لیکن ہم نے انہیں بتایاکہ ہمارے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔انہوں نے ہمیں موبائل فون بھی سوئچ آ ف رکھنے کو کہا۔اس کے فوری بعد اہل خانہ نے جنگجووں کے بارے میں پولیس کو مطلع کیا۔یاد رہے بدھ یعنی12ستمبر کو ٹرک زیر نمبر1476-JK03Fجموں سے سرینگر کی طرف جا رہا تھا کہ سکیتر کے قریب لگائے گئے ناکہ کو توڑ کر بھاگ نکلا لیکن 2کلو میٹر دور جھجر کوٹلی کے مقام پر ڈھابہ پرکھانے پینے کا سامان لینے کے لئے رک گیا۔ جموں رورل کے سکیتر نالہ میں پولیس ٹیم نے جھجرکوٹلی سائی کیفٹیریا کے باہر کھڑے ٹرک کے اندر صبح 7:50پرمشکوک نقل وحمل دیکھی جب ڈرائیور اور اس کے ساتھی باہر ناشتہ کر رہے تھے اور انہوں نے مزیدتین افراد کے لئے کھانہ پیک کرنے کا آرڈر کیاتھا۔ جنگجووں ٹرک کے اندر بیٹھے تھے ۔ جب پولیس نے ٹرک کی چیکنگ کرنا شروع کی تو اندر چھپے جنگجووں میں سے ایک نے پولیس اہلکار پر فائرکردیا۔ تینوں جنگجووں نے ٹرک سے چھلانگ لگائی اور جنگلی علاقہ کی طرف بھاگنا شروع ہوگئے۔ راستہ میں انہوں نے محکمہ سیریکلچر کا گارڈ گنیش داس دیکھا جوکہ خاکی وردی میں ملبوس سڑک کنارے چل رہاتھا، جنگجووں نے اس کو پولیس کانسٹیبل سمجھ کر گولی چلادی جس سے وہ زخمی ہوگیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ ٹرک سے بھاگتے وقت جنگجووں ایک تھیلا وہیں نیچے گر گیا جس میں سے پولیس نے ایک اے کے رائفل، ایک پستول، چھ گرنیڈ، کچھ اسلحہ اور ادویات برآمد کئے ہیں تاہم اس کے باوجود جنگجووں کے قبضہ میں2اے کے رائفلیں، ایک پستوال اور کچھ دھماکہ خیز مادہ ہے۔ فرارہونے کے بعدپولیس اورفورسزنے مشترکہ طورپرجنگجوؤں کوڈھونڈنے کیلئے جموں اورریاسی اضلاع کے جھجرکوٹلی کے جنگلاتی خطے میں تلاشی مہم شروع کررکھی تھی ۔میجر جنرل اروند بھاٹیہ نے بتایا کہ یہ ملی ٹینٹ سانبہ سیکٹر کے بوبیان علاقہ سے سرحد عبور کر کے ہندوستان کے زیر انتظام علاقہ میں گھس آئے تھے اور وادی کی طرف جانے کے لئے ٹرک میں سوار ہوئے تھے۔ اگر چہ اس دوران کئی سیکورٹی تنصیبات تھیں لیکن جنگجوؤں کی منزل کشمیر تھی تاہم وہ جھجر نالہ کو عبور نہ کر سکے اور جنگلوں میں کھو گئے، انہیں علاقہ کے متعلق کوئی علم نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انٹلی جنس ایجنسیوں کے مطابق یہ در اندازی کا تازی واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرک ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی جنگجو تنظیم کے بالائی کارکن ہیں اور ملی ٹینٹوں کو یہاں وہاں پہنچانے کے کام پر مامور تھے، ابتدائی پوچھ گچھ میں انہوں نے اس بات کو قبول کیا ہے ۔ اروند بھاٹیہ نے کہاکہ ان جنگجووں کا تعلق لشکرطیبہ سے معلوم ہوتاہے،جن دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیاہے ، وہ جنگجووں کے بالائی ورکر ہیں اور ایک سال کے اندر قریب20-22جنگجووں کو اسی طرح کشمیر لے جاچکے ہیں، مزید اس بارے میں پولیس تحقیقات کریگی اور پورے ماڈیول کا پتہ لگایاجائے گا۔ ادھر تیلیاں محلہ آرم پورہ سوپور میں ایک گھمسان کی جھڑپ میں جیش محمد سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں پولیس کے مطابق ایک باردو سرنگ دھماکوں کا ماہر تھا۔پولیس کے مطابقتیلیاں محلہ نامی بستی میں جنگجووں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج کی 22 راشٹریہ رائفلز، جموں وکشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور سی آر پی ایف نے گذشتہ رات تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران گاوں میں موجود جنگجووں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ کی۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین فائرنگ کا تبادلہ وقفہ وقفہ سے گھنٹوں تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح تصادم کے دوران دو جنگجووں کو ہلاک کیا گیا جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ پولیس بیان میں کہا گیا کہ جنگجووں کی شناخت علی عرف اطہر اور ضیاء الرحمان کے بطورکی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا مارے گئے جنگجو جیش محمد سے وابستہ تھے۔ علی جیش محمد کے اہم کمانڈروں میں سے تھا اور 2014 سے سرگرم تھا۔ وہ سوپور آئی ای ڈی دھماکے کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں ریاستی پولیس کے چار اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ قصبہ میں جمعرات کو انتظامیہ کے احکامات پر تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا۔جھڑپ کے بعد قصبہ میں ہڑتال رہی اور ہر قسم کی سرگرمیاں معطل رہیں۔اس دوران کئی ایک مقامات پر پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ انتظامیہ کے احکامات پر تمام تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا۔دریں اثنا انتظامیہ کی طرف سے سوپور میں موبائیل انٹرنیت خدمات منقطع کرائی گئیں۔ انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ ریلوے حکام کی طرف سے سرینگر اور بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات کو بھی معطل کیا گیا ۔علی اور ضیا الرحمان کی آبائی علاقوں میں تدفین کر دی گئی ہے جن کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور بعد میں احتجاج کیا ۔ سرحدی ضلع کپوارہ کے حد متارکہ پر واقع کیرن سیکٹر میں تازہ دراندازی کے دوران فوج نے 3جنگجوؤ ں کو جا ں بحق کر نے کا دعوی کیا ہے ۔ حد متارکہ پر بلبیر پوسٹ کے قریب ڈٹگلی پر تعینات 3جیک رائفلز نے جمعرات کی دوپہر جنگجوؤ ں کے مشکوک گروپ کو دیکھا اور فوری طور تمام راستو ں پر ناکہ لگا کر جنگجوؤ ں کی تلاشی شروع کی ۔ جنگجوؤ ں کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی جو انہوں نے ٹھکرا دی اور فوجی پارٹی پر زبردست فائرنگ کی ۔فوج کا کہنا ہے کہ مزید کمک طلب کر کے علاقہ کو سیل کیا گیا،جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیو ں کا تبادلہ ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ جھڑپ میں تین مسلح جنگجوجا ں بحق ہوئے ۔شام دیر گئے تک جنگجوؤ ں کی لاشوں کو بر آمد نہیں کیا جاسکا تھا ۔علاقہ کے ایک بڑے حصہ کو گھیرے میں لیکر تلاشی کاروائی جاری تھی ۔ادھر گاندربل پولیس نے گاندربل سے وابستہ نوجوان اور بالائی کارکن کو گرفتار کرکے انہیں ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا۔ایس ایس پی گاندربل خلیل احمد نے کہا کہ ہم نے رواں سال مئی کے مہینے میں انصار غزوت الہند میں شمولیت اختیار کرنے والے روف احمد بٹ ولد عبدالرحمن ساکن سہ پورہ گاندربل کو گرفتار کیا۔اسکے بعد اسکے ساتھی اشفاق احمد ڈار ولد عبدالمجید ساکن سہ پورہ ، جو بالائی کارکن ہے اور نوجوان کو عسکریت تنظیموں میں شمولیت کرنے پہ راضی کرتا تھا ،کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔روف احمد بٹ جو گورنمنٹ پالی ٹیکنیک کالج گاندربل میں سیول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کررہا تھا کو گھر والوں کی مدد سے گرفتارکیا گیا۔ مذکورہ نوجوان کشمیر یونیورسٹی درگاہ سے بندوق چھینے میں بھی ملوث ہے۔دریں اثناء جمعہ کو سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مزاحمتی خیمے نے سوپور ،کپواڑہ،پلوامہ اور دیگر علاقوں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کیخلاف احتجاج اور ہڑتال کی اپیل کر رکھی جس کے باعث وادی میں کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے ۔بھارتی فورسز نے حریت پروگرام ناکام بنانے کیلئے سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت چوٹیء کی حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند رکھا جبکہ یاسین ملک سمیت درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر کے تھانوں میں بند کر دیا اور حریت قائدین کو نماز جمعہ ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔اس دوران نماز جمعہ کے موقع پر مساجد میں شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور نماز جمعہ کے بعد وادی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اس دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔تمام تر رکاوٹوں کے باوجود سینکڑوں افراد سوپور پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور شہدا ء کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔وادی کے مختلف علاقوں میں پر تشدد مظاہروں کے دوران بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا گیا۔اس دوران وادی میں انٹر نیٹ،موبائل اور ریل سروس معطل رہی ۔کئی علاقوں میں تعلیمی اداروں کو بھی بند رکھا گیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے