Voice of Asia News

این آئی فنڈنگ کیس میں پاکستانی ہائی کمیشن کا کردار ثابت نہ کر سکی،حریت کانفرنس

نئی دہلی(وائس آف ایشیا ) بھارت کی ایک عدالت نے قریب ایک برس سے تہاڑجیل میں نظربندمعروف کشمیری تاجرظہوروٹالی کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ 24جولائی2017کوقومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے سری نگراورنئی دہلی میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران 7 مزاحمتی لیڈران بشمول نعیم احمد، الطاف احمدشاہ ،ایازاکبر،یرسیف اللہ ،شاہدالاسلام ،معراج الدین کلوال اورفاروق ڈارعرف بٹہ کراٹے کوگرفتارکئے جانے کے بعداین آئی اے نے معروف تاجرظہووٹالی کے علاوہ جنوبی کشمیرکے ایک نوجوان فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف اورجاویداحمدبٹ کوبھی حراست میں لیکرنئی دہلی منتقل کیاتھا۔سبھی ملزمان یعنی سات مزاحمتی لیڈروں ،ظہوروٹالی،کامران یوسف اورجاویدبٹ کیخلاف این آئی اے نے دلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں 18جنوری2018کو چارج شیٹ داخل کیا تھا۔تاہم فردجرم عائدکئے جانے کے کچھ وقت بعداسی عدالت نے کامران یوسف اورجاوید احمدبٹ کی ضمانتی درخواستوں کومنظورکرلیا،اوران دونوں نوجوانوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔جمعرات کوظہوروٹالی کی ضمانتی درخواست منظور کی۔پٹیالہ ہاؤس کورٹ نئی دہلی نے ضمانتی عرضی منظورکرتے ہوئے ظہوروٹالی کویہ ہدایت دی کہ وہ بطورضمانت یایقین دہانی کے مبلغ2لاکھ روپے جمع کرانے کیساتھ ساتھ اپنا پاسپورٹ بھی جمع کرائیں ۔ظہور وٹالی کی ضمانت پر رہائی کے احکامات صادر کرتے ہوئے ڈویژن بینچ نے 40صفحات کے آرڈر میں کہا ہے کہ این آئی اے نے وٹالی کیخلاف کوئی بھی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کئے ، جو الزامات انہوں نے وٹالی پر لگائے تھے۔وٹالی کے وکیل ریاض نے کہا کہ ہائی کورٹ نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس بات کو صاف کیا کہ این آئی اے کوئی بھی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا وٹالی کشمیر کا ایک معروف تاجر ہے، وہ کئی تجارتی مراکز چلارہے ہیں،وہ پاک بھارت تجارت میں کلیدی رول ادا کررہے ہیں، این آئی اے نے عدالت کو جتنی بھی دستاویزات فراہم کی ہیں،جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے، کہ تجارتی سرگرمیوں کو ملی ٹینٹوں کی سرگرمیوں کیلئے استعمال میں لائی جاتی ہیں جیسا کہ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے۔دلی ہائی کورٹ نے مزید کہا ہے دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے رول کو بھی ثابت نہیں کیا گیا ہے کہ وہ فنڈ فراہم کرتا ہے،نیز کل جماعتی حریت کانفرنس کوئی کالعدم نتظیم نہیں۔عدالت نے اپنے آرڈر میں کہا ہے سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ نہ حریت کانفرنس اور نہ انکے ساتھ منسلک26اکائیاں کالعدم جماعتیں ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے