Voice of Asia News

وزیر اعظم کی خاص توجہ کے منتظر،خواجہ سرا :محمد قیصر چوہان

میں اپنے کالم کے عنوان پر بعد میں بات کروں گا مگر پہلے وزیر اعظم عمران خان کی نظرشناسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بہت سارے کرکٹرکو ایک ہی نظر میں جانچا اور وہ پاکستان کے سٹار بن گئے۔ اس طرح جب عمران خان کے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کے عزم سے فنڈریزنگ شروع کی تو عمران خان کی شوکت خانم ہسپتال بنانے والی مارکیٹنگ اور میڈیا ٹیم نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔اس طرح عمران خان کی شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے والی ٹیم کے ایک اہم رکن عنصر جاوید جو کہ اب ایک ادارہ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے نام پر چلا رہے ہیں۔1991-92میں عمران کی ٹیم کا حصہ بنے ۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے 1983-1989 ایم ایس سی سائیکالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پہلے عورت فاؤنڈیشن اور1991-92 کو شوکت خانم کینسر ہسپتال کیلئے عمران خان کی ٹیم کا حصہ بنے تو تین ماہ کے بعد ہسپتال مینجمنٹ نے چاہا کہ ایک سینئر آدمی کو لایا جائے تو اکیلے عمران خان ہی تھے جنہوں نے کہا نہیں مجھے اس نوجوان میں سپارک نظر آتا ہے۔ کیونکہ دردانہ ملک کا بحیثیت میڈیاہیڈ کا 4ماہ کا کنٹریکٹ ختم ہوا تھا۔اس کے اوپر مت کسی کو لاؤ یہ ذمہ داری اسے نبھانے دو۔ تو پھر اس نوجوان نے وہ کچھ کر دکھایا کہ اسد اللہ غالب نے اپنے کالم لکھا عنصر جاویدکو عمران خان اور شوکت خانم کے سخت ترین نقادوں کو عمران کے پاس لے کر جانے کا فن آتا ہے۔ عمران خان کا نقاد چاہے کتنا ہی مخالف نہ ہو ، انہیں ان کی رائے کینسر ہسپتال اور عمران خان کے حق میں تبدیل کرنے کا فن آتا ہے۔اجمل نیازی نے اپنے ایک کالم میں لکھا عنصر جاوید ایک پاگل اور جنونی قسم کا نوجوان ہے جو کہ عمران خان اور کینسر ہسپتال کیلئے اپنے دن رات ایک کر کے اسے غیر سیاسی رکھنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔عنصر جاوید تحریک انصاف جب بننے کے مراحل میں تھی اُس وقت خفیہ میٹنگ کا بھی حصہ تھے اور 25اپریل 1996 کو تحریک انصاف کے پہلے میڈیا ہیڈ کے طور پر خدمات انجام دی ان کے بعد ان کی جگہ حسن نثار، نسیم زہرا، مواحد حسین اور اکرم چوہدری نے لی۔ مگر اس نوجوان کی کمی پوری نہ کی جا سکی۔آج عنصر جاوید 18سے زائد پیدائشی نقائص والے بچوں کیلئے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے نام بنائی گئی NGOمیں بحیثیت صدر کام کر ر ہے ہیں۔اور ان کے ساتھ جنرل سیکرٹری عرفان قریشی اور BDFکے چیف پیٹرن اور چیف سرجن پروفیسر ڈاکٹر افضل شیخ اس NGOکے روح رواں ہیں۔ پروفیسر افضل شیخ اور ان کی ٹیم اب تک ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کے 12ہزار سے زائد آپریشن100% فری جو کہSmile Train کے ساتھ مل کر کر چکے ہیں۔ہونٹ و تالو کٹے بچوں کو سرجری کے بعد سپیچ تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے BDFکی سپیچ تھراپسٹ صائمہ عباس وہ بھی ایسے غریب و مستحق بچوں کو 100%فری سہولت دی جا رہی ہے۔برتھ سرٹیفکیٹ فاؤنڈیشن کی ٹیم ایک نہایت ہی منفرد اورالگ کام کر رہی ہے وہ پیدائشی طور پر جنس واضح نہ ہونے والے بچے ہیں جن کو پیدائش کے وقت خواجہ سرا کہا جاتا ہے۔ان خواجہ سرا کی دو اقسام ہیں۔ 1۔ ایک صحیح ہونے والے خواجہ سرا 2۔ دوسرے پیدائشی طور پر صحیح نہ ہونے والے خواجہ سرا صحیح ہونے والے بچے اپنی ساخت سے خواجہ سرا ہی لگتے ہیں اگر ان کی تشخص نہ ہو اور آپریشن نہ ہوسکے تو ان کی زندگی ایسے ہی خواجہ سرا کی طرح گذر جاتی ہے۔ان کا آپریشن کر دیا جائے تو یہ 100%لڑکی بن جاتی ہیں اور ان کی شادی کر کے اپنی خوشگوار فیملی بنا کر زندگی گذار سکتی ہے۔ مگر انہیں تمام عمر دو ادویات جو کہ ان کے ہارمونز کنٹرول کرتی ہیں ساری زندگی کھانا پڑتی ہے جس کا ماہانہ خرچہ8سے10ہزار روپے ہے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے چیف سرجن پروفیسر افضل شیخ 100سے زائد بچوں کا آپریشن کر کے ان کو مکمل لڑکی بنا چکے ہیں اور ایک مقامی ڈونرمحمد افضل اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل ان کو فری ماہانہ ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔دوسرے صحیح نہ ہونے والے خواجہ سرا قدرتی نقص سے پیدا ہوتے ہیں ان کا کوئی علاج نہیں۔ آپ جب ان کی آب بیتی سنے تو بہت دکھ ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم جس گھر میں پیدا ہوتے ہیں سب سے پہلے ہمارے والدین اور بہن بھائی ہم سے شرماتے ہیں اس کے بعد سوسائٹی ہمیں قبول نہیں کرتی۔ ہر جگہ ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے آگے بڑھنے کے تمام راستے معاشرے کے رہنے والے جب بند کر دیتے ہیں۔ تو ہمیں بھی جینا ہے اور جب ہم خود اپنے راستے بناتے ہیں۔ تو ہمیں معاشرہ کا بُرا کردار سمجھا جاتا ہے۔اس کا ذمہ دار کون؟ ہم یا معاشرہ اس لیے BDFان کے لئے ان کی بحالی اور ووکیشنل ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا ہے۔ جہاں پر سب کی Rehabilitation کی جاتی ہے۔اس کام کو سرانجام دینے کیلئے BDFکے پاس کراچی میں مدثر احمد کی خدمات حاصل ہے۔ جو کہ بیرون ملک سے NLPکے لائسنس یافتہ ٹرینر ہیں۔20ممالک میں جا کر مختلف سیمینار ورکشاپ اور لیکچر غیر ملکیوں اور خصوصاً گوروں کو دے چکے ہیں ۔ان کا کہنا ہے ہم نے ان کی egoکو تکلیف پہنچاتی ہے سب سے پہلے ان کی عزت نفس کو بحال کرنا ہے اور پھر ووکیشنل ٹریننگ ان کے ساتھ دوسرے ٹرینر لاہور میں میجر کنول ہیں۔ میجر کنول بھیNLPکا لائسنس یافتہ ٹرینر ہیں جو برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ کا م کر رہے ہیں۔ ان خواجہ سراؤں کو بیوٹیشن، شیف، فیشن ڈیزائننگ،ITکورس ،ایجوکیشن اور میزبانی جیسے ٹریننگ کورس کروا کر ان کیلئے نوکریاں تلاش کرکے دی جاتی ہیں۔تاکہ یہ معاشرے کا کارآمد شہری بن کر باعزت روزگار خود کما کر زندگی گزار سکیں۔سابقہ وفاقی وزیر شوکت ترین نے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ جنوری 2019کیلئے ان خواجہ سراؤں کے دو Rehibilitation Center کو سپانسر کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔یہ سنٹر کراچی اور لاہور میں ہوں گے۔ شوکت ترین کے تعاون سے جلد فعال ہو جائیں گے۔حال ہی میںUCHلبرٹی گلبرگ لاہور کے ایڈمنسٹریٹر عمران ٹائٹس نے BDFکے ساتھ ایک MOUدستخط کئے ہیں۔ جس میں انہوں نے کہا UCHپاکستانیوں کا ہسپتال ہے جو کہ تمام مذاہب ، نسل، فرقے سے بالا ترہو کر کام کر رہا ہے۔ BDF 18سے زائد پیدائشی نقائص کے بچوں کے آپریشن UCHمیں بھی کرے گا اور ساتھ ہی خواجہ سراؤں کے Rehabiltaion Center کے لئے ایک الگ جگہ مختص کر دی ہے۔
میرا وزیر اعظم عمران خان کی توجہ اس طرف دلانا ہے۔ عمران خان صاحب1991-92میں جس بچے میں آپ کو سپارک نظر آیا تھا آپ ہی جانتے ہیں کہ اس نے آپ کے لئے شوکت خانم ہسپتال کیلئے کیا خدمات سرانجام دی ۔آج آپ جس نئے پاکستان کی بات کر رہے ہیں تو دیکھتے ہیں اس نوجوان نے اپنے اردگرد کیسے کیسے لوگوں کو برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کیلئے اکٹھا کو لیا ہے۔ اسد اللہ غالب نے 1995میں اس شخص کے لئے جو الفاظ کہے تھے کہ عمران اور شوکت خانم ہسپتال کے سخت ترین نقادوں کو اپنے ہاں لے کر جانے کا فن آتا ہے۔مجھے بھی اب یقین ہو گیا ہے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کی ٹیم خصوصاً خواجہ سراؤں کیلئے جو کام کر رہی ہے ۔ یہ پاکستان کا اور عمران خان کا سوفٹ امیج پوری دنیا میں بہتر طور پر پہنچایا جا سکتا ہے۔عمران خان آپ کو چاہئیے اپنے ہیلتھ منسٹر عامر کیانی اور یاسمین راشد کو کہیے ایسے لوگوں کی مدد کرے یہ ہمارے پاکستان کو سوفٹ امیج بہتر بنانے میں مدد گار ہو سکتے ہیں اور ساتھ ہی ان خواجہ سراؤں کو معاشرے کا فعال شہری بنانے کے گے اس موقعہ پر چیف جسٹس آف پاکستان کا ذکر نہ کرنا بھی نا انصافی ہوگا۔ کیونکہ انھوں نے خواجہ سراؤں کیلئے بہت کام کیا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ نظر انداز طبقہ جو کہ پیدائش سے لے کر ساری زندگی اپنی عزت نفس کے مجروح ہونے ہونے کے ساتھ ہی زندگی گزارتا ہے۔ اور ان کا روپ دھاڑے سڑکوں پر بھیک مانگنے والے 90% فیصد نارمل مرد ہیں۔ جنہوں نے زنانہ کپڑے پہن کر اور میک اپ کر کے بھیک مانگنے کا آسان ذریعہ معاش بنا لیا ہے اور بیچارے خواجہ سرا کے نام کو اور زیادہ رسوا ہمارے معاشرے کے نارمل لوگ پہنچا رہے ہیں۔میری نظر میں دو خواجہ سرا دیکھے ہیں جو کہ باعزت روزگار کے ذریعے زندگی گزار رہے ہیں ۔اکرم نامی خواجہ سرا کے 9بہن بھائی ہیں جو کہ نارمل انسان ہیں اس کے بوڑھے والدین بھی ان بہن بھائیوں کے ساتھ گاؤں میں رہتے ہیں۔ یہ خواجہ سرا جو کہ 23 سالہ نوجوان PIAسوسائٹی میں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے محنت مزدوری کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے اللہ تعالیٰ نے جب مجھے دو ہاتھ پاؤں دئیے اور ایک صفت سے اپنی مشیت سے مرحوم رکھا اس میں بھی کوئی بھلائی ہوگی تو میں کیوں نا محنت مزدوری کی روزی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کیلئے لے کر جاؤں۔
دوسرا نیلا گنبد کے پاس کنگ ایڈورڈ کالج کی دیوار کے ساتھ درخت کے نیچے ایک خواجہ سرا عینی نے کھلونوں کی ریڑھی لگائی ہوتی ہے۔اس کا بھی کہنا تھا اگر کوشش کی جائے تو آپ حق حلال کی روزی کما سکتے ہو اور میں بھی22سال سے محنت مزدوری کر رہی ہوں یہی وجہ ہے میرا وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ہیلتھ عامر کیانی اور راشد یاسمین آپ کے لئے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن جیسی NGOایک مشعل راہ ہے جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں یہ ایسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ کیا حکومت وقت آپ سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا صرف اور صرف ایسی NGOکا ہاتھ پکڑ لیں۔اور آج تک اس مرحوم طبقے کیلئے وہ کام کردیں جو کہ ریاست مدینہ جیسی ریاست سے امید کی جاسکتی ہے۔شاید انہیں لوگوں کی دعائیں شامل تھی کہ PTIحکومت میں آگئی اور ان کیلئے کام کر سکے صرف چیف جسٹس ثاقب نثارہی تن تنہا اپنے بل بوتے پر خواجہ سراؤں کے قانونی حق کیلئے بہت کچھ کیا جس کا اجر اللہ تعالیٰ انہیں دے گا۔ یہ دو خواجہ سرا عینی اور اکرم حق حلال اور محنت مزدوری سے اپنے لئے روزی کما رہے ہیں اور کتنے ہی ایسے ہوں گے جو اب مندرجہ بالا خواجہ سراؤں کی طرح روزی کمانا چاہتے ہوں گے۔انہیں ہم اور آپ نے مواقع دینے ہیں لاکھوں نہیں تو ہزروں خواجہ سرا صرف اس بات سے متنفر ہیں کہ معاشرہ ہمارے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر کے ایسے خواجہ سراؤں کو میرا مشورہ ہے برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن لاہور سے رابطہ کریں بہت ممکن ہے۔ ان خواجہ سراؤں میں ایسے بھی ہوں جنہیں ابھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہ وہ بھی صحیح ہو جانے والوں میں شمار ہوتے ہوں اور آپریشن کے بعد مکمل لڑکی بن سکے اور اپنی خوشگوار فیملی بنا سکے یہ سہولت بھی برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن 100%فری دے رہی ہے اور انہیں ساری زندگی دو ادویات بھی ساری زندگی کھانا پڑین گی وہ بھی مفت مہیا کی جائیں گی۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے