Breaking News
Voice of Asia News

پڑھی لکھی ماں ہی معاشرے کو سدھار سکتی ہےمحمد جمیل بھٹی

لاہور(وائس آف ایشیا)تعلیم انسان کو عقل و شعور کی دولت سے مالا مال کرتی ہے اور زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ بھی کرتی ہے بغیر علم کے انسان کبھی بھی سیدھی راہ پر چل نہیں سکتا ہے علم ہی انسان کو راہ حق کی جانب لے جاتا ہے، تعلیم کی اہمیت کے بارے میں تقریباً سب ہی لوگ بخوبی واقف ہیں اور اسی وجہ سے لوگ اپنی تمام زندگی حصول علم کیلئے صرف کر دیتے ہیں، قرآن و احادیث میں بھی علم کے حصول پر کافی زور دیا گیا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جو بھی ملک تعمیر و ترقی کا خواہاں ہے وہ اپنی اس ترقی کے سفر میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شمولیت کا بھی متلاشی ہے کیونکہ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور خواتین جو اس سلسلہ میں اپنا کردار سرانجام دے رہی ہیں اس کی اہمیت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا ہے خواتین بھی مردوں کی طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے کر ملک و قوم کی خدمت کر رہی ہیں اور ان کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں یہ صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں ویسے حصول علم ہر مرد وزن کا حق ہے لیکن مردوں کی نسبت خواتین کیلئے تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت کرنی ہوتی ہے آئندہ آنے والی نسل کی اچھی تعلیم و تربیت ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر طور پر سرانجام دے سکتی ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ پڑھی لکھی مائیں اپنے بچوں کی صحت و تعلیم اور تربیت کا زیادہ بہتر طور پر خیال رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے زیادہ توانا اور تعلیم کے میدان میں جلد ترقی کرنے والے ہوتے ہیں۔ پڑھی لکھی مائیں بچے کا شروع دن سے ہی بہتر خیال رکھتی ہیں اور خوراک مناسب ہونے کی وجہ سے وہ صحت مند رہتے ہیں بہتر قوم اس وقت بنتی ہے جب مائیں پڑھی لکھی اور باشعور و سمجھدار ہوں آج جب ہر طرف میڈیا اپنے اثرات لوگوں پر مرتب کر رہا ہے انٹرنیٹ، کیبل اور ویڈیو گیمز بھی بچوں کے اخلاق کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ایسے میں ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ہی اپنے بچوں کو میڈیا کے ان اثرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت درست خطوط پر کر سکتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ باشعور ہونے کی وجہ سے وہ اچھے برے کی تمیز بہتر طور پر کر سکتی ہے جو کہ اس کے بچوں کو ایک اچھا انسان اور مفید شہری بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے پاکستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کی شرح خواندگی افسوسناک حد تک کم ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہاں پر تعلیمی اداروں کا فقدان ہے وہاں پر تعلیمی ادارے تو ہیں مگر وہاں کے گھر کے سربراہان خواتین کو تعلیم دلوانے کا رجحان نہیں رکھتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں تعلیم کے حصول کے بعد وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گی اور پڑھ لکھ کر خاندان کی بدنامی کا باعث بنیں گی ان علاقوں کی خواتین حصول علم کی خواہشمند ہیں مگر خاندانی رسم و رواج اور پردے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ گھر والے بھی لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کرے تاکہ یہ خواتین بھی تعلیم حاصل کر سکیں اور مستقبل میں آنے والی نسل کی بہترین نشوونما کر پائیں، نیز اپنی صلاحیتوں کو بھی استعمال میں لاسکیں، گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کی خواتین میں تعلیم کے حصول کا شعور اُجاگر ہوا ہے جس کی وجہ سے اب پہلے کی نسبت کافی تعداد میں خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور بعدازاں نوکری کر کے ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی کفالت بھی کر رہی ہیں خواتین گھر کے سربراہ کی ناگہانی موت کی صورت میں یا اس کے کام کاج کے قابل نہ رہنے کی بنا پر گھر کا نظام چلانے کی ذمہ داری بھی بخوبی سنبھالتی ہیں اس کے علاوہ آج کے اس دور میں جب مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ایک کمانے والا اور دس کھانے والے ہوں تو یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم ہونے کیلئے خواتین بھی مردوں کے ساتھ کام کریں اور یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتی ہیں کیونکہ بغیر تعلیم کے وہ کسی بھی قسم کی عمدہ نوکری حاصل نہیں کر سکتی ہیں اس لیے ہر خاتون کا زیورِتعلیم سے آراستہ ہونا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کل کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہو سکیں اور کسی دوسرے پر بوجھ نہ بنیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے