Voice of Asia News

پاکستان میں ہندو دھرم کے قدیم,تاریخی مندر : محمد قیصر چوہان

پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس کی تاریخ بہت قدیم ہے انسانی تاریخ کے کئی ایک واقعات کا تو آغاز یہی یہاں سے ہوا۔ تب سے یہ سرزمین مسلسل آباد ہے ملک کے طول و عرض میں بے شمار ایسے مقامات بکھرے ہوئے ہیں جو گزشتہ ادوار کی تہذیب و تمدن اور وقار کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر سائنسدان اور محقق اس بات پر اتفاق رائے کرتے ہیں کہ کروڑوں سال پہلے جب عالم انسانیت اپنے انتہائی ابتدائی مراحل میں تھی وہ موجودہ پاکستان میں ہی کہیں واقع ہے اس کے بعد عالم انسانیت کی یہ ابتدائی تنظیم ایشیائے کو چک کے علاقے میں بحیرہ کیسپئن کی جانب ہجرت کر گئی تھی۔ موہنجوداڑو ہڑپہ اور ٹیکسلا کی قدیم تہذیبی آثار بھی پاکستان کی تاریخی اہمیت کو واقع کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی قدیم تہذیبی آثار پاکستان میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔پاک سرزمین کہ یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں مختلف زمانوں میں اسلام کے علاوہ باقی مذاہب بھی پھلے پھولے ہیں اور یہ سر زمین ان مذاہب کی تہذیبی، علمی اور معاشرتی ترقی کا گہوارا رہی ہے۔ بدھ مت کے زوال اور سندھ میں ہندو مذہب کے سیاسی عروج کے بعد جنوبی ایشیاء میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور سب سے پہلے جو علاقہ فتح کیا گیا وہ سندھ ہے۔ اسی لیے سندھ کو ’’باب الاسلام‘‘ کہا جاتا ہے۔ سندھ کی سرزمین پر اسلامی فوجوں کے قدم رکھنے سے پہلے اکثر مسلمان اولیاء اور صوفی بزرگ سندھ آچکے تھے محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد کی تقریباً آٹھ سو سال بعد محمود غزنوی نے شمالی کوہستانی راستوں سے برصغیر جنوبی ایشیاء پر حملے کئے موجودہ صوبہ سرحد، وسطی پنجاب اور جنوب مغربی علاقوں کو فتح کیا۔ اس وقت سندھ اسلامی علوم اور تہذیب کا ایک پرانا مرکز بن چکا تھا۔ ’’غازی‘‘ کی تحقیقات کے مطابق پاکستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ہندوؤں کے تاریخی مندر اور مقدس مقامات موجود ہیں۔ اس طرح کراچی میں پرورن دیوتا لورڈ ڈیرو لعل کا قدیم مندر، دریا شاہ کا مندر، پاتال صوبہ بلوچستان میں شری ھنگلاج کا مندر اور سکھر کے پاس دریائے سندھ کے وسط میں سادھوبیلا کے مندر، پاکستان کے عظیم تاریخی ورثے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ہندو مذہب کے مقدس مذہبی مقامات میں اروڑ کا مندر، دھارنڑ اور مکلی میں کامکی مائی کا مندر خاص طور سے قابل ذکر ہیں جبکہ پاکستان کے ہر شہر میں تاریخ کے مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والے مندر موجود ہیں۔سندھ کے ضلع تھرپارکر میں جین مذہب (ہندو دھرم کا ایک فرقہ) کے ماننے والوں کی اہم تاریخی مذہبی مقامات موجود ہیں ان میں دیر او اہ یاد یر اول کا قدیم تاریخی مندر، نگر پار کر کے مندر، ریشی منی بزرگوں کے لٹھ ہمارے ملک کی قدیم تاریخی یادگاروں کا اہم حصہ ہیں۔پاکستان میں ہندوؤں کی تمام بڑی مذہبی سرگرمیاں سوامی نارائن سے شروع ہوتی ہیں۔پاکستان میں ہندو مذہب کے پیروکار اقلیتی برادری کا حصہ ہیں اور ان کے مذہب اور ثقافت سے منسلک چیزیں پاکستان کی تاریخی وراثت کا حصہ ہیں۔
پنجاب کے ضلع چکوال میں کٹاس راج کا تاریخی مندر اور تالاب دُنیا بھر کے ہندؤوں کا مقدس مقام ہے جہاں عقیدت مندوں کے علاوہ سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔بلوچستان کے ضلع لسبیلا میں ہنگلاج ماتا کا معروف مندر ہے۔ یہ ہنگول کے دریا کے کنارے موجود غار میں قائم ہے۔کراچی میں ڈیڑھ ہزار سال قدیم ہنومان مندر عقیدت مند وں کا محور ہے،صوبہ سندھ کے روہڑی شہر کے پاس ایک غار میں کالکا دیوی کا مندر ہے۔سندھ صوبے کے شہر نگر پارکر کے ایک غار میں موجود قدیم چڑی او مندر ہے۔پشاور کے گورکھ ناتھ مندرمیں عقیدت مند اور سیاح دونوں آتے ہیں۔کراچی میں ہزاروں سال قدیم ہنومان مندر،رام جھرومندر،موج بھائی مولرام مندر،پرورن دیوتا اورڈیرو لعل کا مندر،شری راماسوامی مندر،ی نارائن مندر، دریا شاہ کا مندر،پاتال رتنیشور مہادیو کا مندرکا شمار پاکستان کے بڑے مندروں میں ہوتا ہے۔لاہور میں موجود والمیکی مندر میں بھی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔شاردا دیوی کا مندر ہندو مذہب کیلئے ایک مقدس مقام ہے۔آزاد کشمیر کاضلع’’ نیلم‘‘ اٹھمقام اور شاردا نامی دوتحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کے قابل دید مقامات میں شاردا اور ناردا کے مندر وں کا شمار یہاں کی اہم ترین تاریخی عمارتوں میں ہوتا ہے جو ہندو زائرین کیلئے انتہائی متبرک مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔

شری مائی ہنگلاج
ہنگول نیشنل پارک جوکہ بیک وقت سمندری، دریائی، صحرائی اور پہاڑی جنگلات کی تحفظ کا دعویدار ہے۔ 1650 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا نیچرل پارک ہے۔ہندوؤں کی مقدس عبادت گاہ نانی مندر بھی ہنگول نیشنل پارک میں واقع ہے۔پاکستان میں ہندو مذہب سے متعلق جتنے بھی مقدس مقامات موجود ہیں۔ غالباً ان میں سے کوئی بھی شری مائی ھنگلاج سے زیادہ قدیم نہ ہو گا۔ شری مائی ہنگلاج کا مندر دریائے ہنگول کے دائیں کنارے پر ضلع لسبیلہ میں واقع ہے۔ یہ عام مندروں سے بہت مختلف ہے یہ مندر ایک قدرتی غار کے اندر اس کے انتہائی آخری سرے پر واقع ہے اور اس میں بت کی جگہ قبر کی شکل کا ایک پتھر ہے۔ یہ مقام ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔ اور اسے شری مائی ھنگلاج دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جو تقدیر بنانے یا بگاڑنے والی دیوی بتائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی نظر میں یہ دیوی ’’بی بی نانی‘‘ تھیں جو ایک بزرگ خاتون تھیں۔ہنگول کے پہاڑ کے دامن میں ایک تنگ غار میں واقع ہنگلاج ماتا "نانی مندر یا نانی پیر’’ واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم مندر دو سو سے ڈھائی سو سال پرانا ہے۔ ہندو مذہب کے ماننے والے کہتے ہیں کہ اس میں انسانی ہاتھ استعمال نہیں ہوا ہے۔ اسی مقام پر ہندووں کی دیگر ہستوں کے مندر بھی موجود ہیں۔ جن میں کالی ماتا، گنیش، دیوامندر، گروگورک ناتھ دانی قابلِ ذکر ہیں۔ ہندو مذہب کے پیروکار ہر سال اپریل کے مہینے میں ہزاروں کی تعداد میں ہنگلاج ماتا کی یاترہ کیلئے ہنگول کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں وہ اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ ہندوؤں کی اکثریت اندرون سندھ آباد ہے۔ جبکہ مکران کوسٹ، لسبیلہ، قلات سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہندو آباد ہیں۔ اور پاکستان میں آبادی کا دو فیصد آبادی ہندوؤں کی ہے۔ جبکہ ہندو آبادی کے حوالے سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ اور بھارتیہ جتنا پارٹی کے رہنما جسونت سنگھ ہنگول آئے تھے اورنانی مندر میں مذہبی مقام کی یاترہ کی تھی۔
چندر کوپ
اس علاقے میں دلدلی مٹی کے آتش فشاں ہیں جن کو ’’چندر کوپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ضلع لسبیلہ کے ساحل پر واقع ہے۔ شری مائی ہنگلاج کے راستے میں ان سے سات آتش فشاں ہیں جب کہ گوادر کے درمیان گیارہ آتش فشاں اور ہیں۔ یہ آتش فشاں نیچی پہاڑیوں کے دھانے پر ہیں جن میں اکثر گیس خارج ہوتی رہتی ہے۔ طبقات الارض کے ماہرین کی نظر میں یہ آتش فشاں زیر زمین رقیق گندھک کے چشموں کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں اور ان میں ابلتی ہوئی مٹی سمندر میں جوار بھاٹے سے متاثر ہوتی ہے ان آتش فشانوں کا سمندر سے فاصلہ بمشکل ایک میل ہو گا۔ ہندو زائرین ان آتش فشانوں کی بھی پرستش کرتے ہیں ان کے مطابق یہ آتش فشاں ’’بھبھک ناتھ‘‘ نامی دیوتا کا مسکن رہیں۔
شاردا دیوی کا تاریخی مندر
آزاد کشمیر کاضلع’’ نیلم‘‘ اٹھمقام اور شاردا نامی دوتحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کے قابل دید مقامات میں شاردا اور ناردا کے مندر وں کا شمار یہاں کی اہم ترین تاریخی عمارتوں میں ہوتا ہے جو ہندو زائرین کیلئے انتہائی متبرک مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔شاردا کو قدرت نے حسن کی دولت سے نواز رکھا ہے‘ وادی میں دریائے نیلم بہتا ہے۔ مسافردریائے نیلم کے اوپرلگے لکڑی کے معلق پل پر ہچکولے لیتے ہوئے سفر طے کر کے جب شاردا کی وادی میں پہنچتے ہیں تو اس کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع، اس وادی میں اونچی نیچی ڈھلانوں پر بھاگتی دوڑتی بھیڑ، بکریاں عجب سماں پیش کرتی ہیں۔ علی الصبح بلند و بالا چوٹیوں پر سے بادل پھسل پھسل کر نیچے آتے ہیں جو ایک دلفریب منظر ہوتا ہے۔شاردامیں واقع شاردا دیوی کا مندر ہندو مذہب کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔ اس مندر میں جانے کیلئے 63 سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ ہندو مت میں 63کے ہندسے کو ایک متبرک حیثیت حاصل ہے اسی لیے شاردا پہاڑی کے ٹیلے پر واقع اس مندر کی تعمیر کیلئے بھی اس بات کاخاص خیال رکھا گیا تھا۔ مندر کی دائیں جانب ایک پہاڑی نالہ بہتا ہے جسے ’مدھومتی دیوی‘ کا تالاب کہا جاتا ہے۔
قدیم روایات کے مطابق اس تالاب میں مدھومتی دیوی اشنان کیا کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مندر میں آنے والے ہندو زائرین پہلے اس تالاب میں اشنان کرتے ہیں اور اپنے بدن سے تمام غلاظتیں اور گناہ دھونے کے بعد ، ننگے پیروں سیڑھیوں پرچلتے ہوئے پوجا کے مقام پر پہنچتے ہیں۔ اس مندر سے متعلق ہندو مت کی کتابوں میں مافوق الفطرت روایات بیان کی گئی ہیں جن میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس مقام پر شاردا دیوی کا ایک بت تھا جو زمین پر ایستادہ ہونے کی بجائے فضا میں معلق رہتا تھا اور ہر ماہ چاند کی 18تاریخ کو یہ رقص کرتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ زائرین میں سے جو شخص اسے ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا تھا وہ اس کی حدت سے پسینے میں بھیگ جاتا تھا اور دیوی کی طرف سے اس کی پوجا کو قبولیت کی سند مل جاتی تھی۔ آج بھی دنیا بھر میں موجود بودھ بھکشو اور ہندو پجاری اس مندر کے درشن کرنے کے متمنی رہتے ہیں لیکن حساس علاقہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے یہاں جانے کی اجازت انتہائی مشکل سے دی جاتی ہے۔ہزاروں سال تک یہ علاقہ ہندو مذہب کے لیے ایک متبرک مقام رہا لیکن جب یہاں بودھ مت کے ماننے والے زائرین کی ا?مد شروع ہوئی اور یہاں اس مذہب کو فروغ حاصل ہوا تو یہ بودھ بھکشوو?ں کے لیے بھی تقدس کا درجہ اختیار کرگیا۔ان پہاڑوں پر ہندؤوں اور بودھ بھکشوؤں کا دوسرا مقدس مقام ناردا کا مندر اور سراسوتی جھیل ہے جسے سراسوتی دیوی سے منسوب کیا گیا ہے۔ ہندو سادھو اور بودھ بھکشو شاردا مندر کی زیارت کے بعد وہاں سے ننگے پیر چلتے ہوئے نو گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرکے ناردا کے مندر تک جاتے ہیں۔ان مقامات کا ہندو دھرم میں اتنا متبرک مقام ہے کہ جنوبی ہند کے باشندے صبح اشنان (غسل )کرنے کے بعد شاردا مندر کی طرف منہ کرکے شاردا دیوی کی مالا جپتے ہیں۔ اس وادی میں بہنے والے دریائے کشن کو ہندو دھرم میں کشن گنگا کا نام دیا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت دریا ئے نیلم اور کشن کے سنگم پر کشن گنگا ڈیم تعمیر کررہا ہے۔
کٹاس راج مندر
صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال کی خوبصورت وادء کہون میں واقع کٹاس راج کے آثار قدیمہ بیش قیمت اثاثہ ہیں۔کٹاس راج مندر چکوال میں چو آ سیدن شریف گاوں کے پاس کلر کہار سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔کٹاس سطح سمندر سے 2200فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کا اصل نام ’کٹکشا‘ ہے اور سنسکرت میں اس کا مطلب ’آنسوؤں کی لڑی‘ ہے۔ ’مہابھارت‘ (سنسکرت مثنوی) میں اسے ’کائنات کا تالاب‘ کہا گیا ہے۔ کٹاس ہندووں کے سنہا سلطنت کا دارالحکومت بھی رہا۔کٹاس راج کو ہندوؤں کے خدا شیوا کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ جگہ آج بھی ہندوؤں کیلئے بہت مقدس ہے اور وہ اکثر اوقات یہاں نہ صرف پاکستان سے بلکہ دوسرے ممالک سے سفر کر کے آتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ البیرونی نے بھی کچھ وقت کٹاس میں سنسکرت سیکھنے میں گزاری اور یہاں ’زبانوں کی یونیورسٹی‘ بھی موجود ہوا کرتی تھی۔ البیرونی کے یہاں ٹھہرنے کے ثبوت ہمیں ’کتاب الہند‘ میں ملتے ہیں۔ اس دوران البیرونی نے مختلف تجربات بھی کیے اور زمین کے رداس کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ کٹاس دوسرے عقیدہ کے لوگوں کیلئے بھی مقدس ہے۔ ’پارس ناتھ جوگی‘ نے بھی اسی جگہ پر اپنی آخری سانسیں کاٹیں اور اس کی یادگار آج بھی کٹاس کے ساتھ موجود سرکاری سکول کے احاطے میں ہے۔ جگت گرو نانک نے بھی اس جگہ ’ویساکھ‘ کے دن قدم رکھا اور یہ جگہ’نانک نواس‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف صوفیوں اور جوگیوں کی بھی آماج گاہ رہی۔شری کٹاس راج مذہبی حوالے سے دنیا کے چند اہم مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ ہندوؤں کا مقدس مقام ہے لیکن یہاں پر ہندو مذہب کے علاوہ آریوں، یونانیوں، درآوڑوں، جین مت، بدھ مت، سکھوں اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کا بھی عکس دکھائی دیتا ہے۔کٹاس راج کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ’’مہابھاترا‘‘ کے کردار پانڈوؤں کے یہاں آنے کے بعد انہوں نے ست گڑھ کے مندر تعمیر کروائے۔ پانڈوؤں نے جلاوطنی کے ۱۲ سال یہاں گزارے۔ ست گڑھ اور سات مندروں کو وہ جگہ کہا گیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے بارہ سال گزارے۔کٹاس کو ہندو خدا ’شیوا‘ کی پیدائش کی جگہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ برہمنوں کی کہانیوں سے ہمیں یہ جگہ ’شیوا‘ کے نام سے منسوب نظر آتی ہے اور شیوا اپنی بیوی ’ستی‘ کی موت کے غم میں اتنا رویا کہ آنسوؤں کی بارش کی صورت میں تالاب بن گیا جو کہ آج بھی کٹاس میں موجود ہے اور لوگ اسے ’مقدس تالاب ‘کہتے ہیں چونکہ یہ شیوا کے آنسوؤں سے بنا تھا۔ شیوا کی دائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو پشکار (راجستھان )میں گرا اور بڑا تالاب بن گیا اور بائیں آنکھ سے نکلنے والا آنسو کٹاس میں گر کر تالاب میں تبدیل ہو گیا۔
ہندوؤں کی سب سے پرانی کتاب ’رگ وید‘ کٹاس میں لکھی گئی اور یہ اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ہے جو دنیا کی بڑی نظموں میں سے ایک ہے جسے ’مہابھارت ‘ کہتے ہیں۔ یہ کتاب تقریباً 300 قبل مسیح میں لکھی گئی لیکن کچھ ہندو سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ 1300 قبل مسیح لکھی گئی۔ اس کتاب میں کٹاس کے متعلق بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ’رگ وید‘ کی پہلی کتاب میں کہا گیا ہے کہ کٹاس کے تالاب کے نیچے ایک چھوٹا دریا بہتا تھا۔ جبکہ برطانوی آرکیالوجسٹ کا ماننا ہے کہ یہ تالاب قدرتی چشموں کی وجہ سے بنا۔ ’تذکرہ جہلم‘ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تالاب انسان کا بنایا ہوا ہے جو کہ پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کی لمبائی 122فٹ ہے اس کے ارد گرد 19فٹ کی لمبی اور مضبوط دیوار ہے۔ جنرل الیگزینڈر کن نگھم کے مطابق، جو کہ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل (1872۔73) تھے، اس تالاب کی گہرائی 23 فٹ ہے۔ جب کہ ہندوؤں کے مطابق گہرائی لامحدود ہے۔ گرجاکھ کی تاریخ میں بتایا گیا کہ اس تالاب کے نیچے پانی کی بہت سی ندیاں ہے۔
یہاں پندرہ دن کا تہوار اماوس کے دنوں میں ہر سال منایا جاتا ہے اور ہندو برادری یہاں آ کر اپنے خدا شیوا کو نذرانہ پیش کرتی ہے یہ جگہ چونکہ ہندو برادری کے لیے برصغیر میں مقدس مانی جاتی ہے تو ہندو یاتری تہوار کے دنوں میں پوجا کرنے کے ساتھ مختلف ناچ اور بھجن گاتے ہیں جو ایک طرح سے شیوا کی شادی کو پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے علاوہ یاتری ’مقدس تالاب‘ میں نہا کر اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔بدھ مت کے زوال کے بعد کٹاس میں ہندو شاہی دور عروج پر پہنچا۔ کٹاس راج اور بہت سارے دوسرے مندر اور قلعے تعمیر کیے گئے۔ ست گڑھ سے مشرق کی جانب تقریباً 40 کلو میٹر کے فاصلے پر بدھ سٹوپا نظر آتا ہے۔ الیگزنڈر کن نگھم کے مطابق یہ سٹوپا 200 فٹ بلند ہے اور اس کے گرد پانی کے چشمے تھے موجودہ سٹوپا کی کھدائی سے زمین سے تقریباً دو میٹر نیچے پتھر کے تراشے ہوئے چوکور ٹکڑوں کا خوبصورت فرش ملا اور اس سٹوپہ کی بلندی 4 میٹر ہے جبکہ لمبائی اور چوڑائی 12×10 میٹر ہے۔ اس سٹوپا سے 16پتھر کی تہیں بھی ملی ہیں اور اس کے جنوب کی سمت پہاڑی پر بدھ مت کی خانقاہ کے آثار بھی ہیں۔ست گڑھ کا لفظی مطلب ’سات گھر‘ ہے۔ کٹاس راج کے یہ مندر پہاڑی چوٹی پر واقع ہیں ان تک رسائی کے لیے طویل سیڑھیاں بنائی گئی ہیں جب کہ اکثر جگہ پر پرانی سیڑھیوں کے آثار بھی ہیں۔ اس وقت یہاں 5 مندرموجود ہیں جبکہ دو کے آثار موجود ہیں۔ ان مندروں میں سب سے بڑا مندر درمیان میں ہے جو ان تمام میں قدیم ترین ہے۔ جس کے نیچے والے حصے کی لمبائی 68.5فٹ اور چوڑائی 56.5 فٹ ہے۔ یہ تمام مندرکشمیری طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان مندروں کی تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مندر ساتویں صدی عیسوی سے لے کر دسویں صدی عیسوی کے درمیان تعمیر کیے گئے۔
کٹاس میں سب سے بڑا مندر ’شیوا‘ کا مندر ہے۔ اس جگہ سے تین سروں اور چار ہاتھوں والی مورتی بھی ملی۔ سروں کے درمیان ایک انسانی چہرہ اور بائیں طرف شیر اور دائیں طرف خنزیر کا چہرہ موجود ہے۔ ہندووں کے مطابق انسانی چہرہ ’وشنو ناراین‘، خنزیر کا چہرہ ’وشنو ورہا‘ اور شیر کا چہرہ ’وشنو نارسنگا‘ کا ہے۔ جبکہ تین ہاتھوں میں کنول کے 44 پھول اور چوتھے میں ایک مورتی پکڑی ہوئی ہے۔ دوسرا مندر ’گنیش جی مہاراج‘ (سچائی کا خدا) ، تیسرا مندر ’شیولنگم مہاراج‘، چوتھا مندر ’کالی ماتا‘ (تباہی کی دیوی )، پانچواں مندر ’پاروتی‘ (شیو جی مہاراج کی بیوی)، چھٹا مندر ’لکشمی دیوی‘ (دولت کی دیوی ) کے ہیں۔یہ مندر ’ہندو شاہی بادشاہوں‘ کے دور میں بنائے گئے۔’رام چندرا کا مندر ‘ ہری سنگھ حویلی کی مشرقی جانب موجود ہے۔ دو منزلہ عمارت میں آٹھ کمرے ، زمینی منزل کے جنوب کی جانب سیڑھیاں موجود ہیں جو کہ پہلی منزل کی جانب جاتی ہیں اس مندر کی دو بالکونیاں ہیں۔ ’ہنومان ‘ کا مندر مغربی جانب واقع ہے۔اس مندر کے گنبد پر ناگ کی اشکال نظر آتی ہیں جو خاص ترتیب سے بنائی گئی اور یہ ہندوؤں کی تہذیب کی عکاسی کر رہے ہیں۔
ضلع چکوال کی خوبصورت وادء کہون میں واقع کٹاس راج کے آثار قدیمہ بیش قیمت اثاثہ ہیں مگر اب ان پر نحوست کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ پتھروں کو پیس کر سیم و زر میں تبدیل کرنے والا ’’سیمنٹ مافیا‘‘ قدیم دنیا کے اس شاہکار کے درپے ہے۔کبھی کٹاس راج ایک خوبصورت تفریحی مقام تھاکبھی کٹاس راج ایک خوبصورت تفریحی مقام تھا ۔ان کے آنسوؤں سے وجود میں آنے والی دوسری جھیل’’پشکر‘‘ (جوالا مْکھی) بھارت میں واقع ہے۔ میٹھے پانی کی کٹاس جھیل سطح سمندر سے تقریباً دو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔انسانی آنکھ سے مشابہ یہ جھیل دو سو فٹ لمبائی اور ڈیڑھ سو فٹ چوڑائی میں ہے۔ آج کل کٹاس راج کی یہ مقدس جھیل خبروں میں ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قریب ہی اس جھیل کے مغرب میں واقع بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے اس مقدس جھیل کا پانی استعمال کرنے پر سوموٹو ایکشن لیا اور سماعت کے بعد مذکورہ سیمنٹ فیکٹری کو نہ صرف اس کا پانی استعمال کرنے سے روک دیا بلکہ اسے اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم بھی دیا ۔سیمنٹ فیکٹری نے چند ماہ قبل اس جھیل کا پانی مکمل خشک کر دیا تھا۔ قدرتی طور پر اس کا پانی جھیل کے نیچے واقع قدرتی چشموں سے نکل کر اوپر آتا تھا تاہم خشک ہونے کے بعد زیر زمین اسفنج نما چٹانوں سے پانی آنا بند ہو گیا۔سپریم کورٹ کے دباؤ پر اس کی دیکھ بھال کرنے والے سرکاری ادارے متروکہ وقف املاک بورڈ اور اس کا پانی غیر قانونی طور پر استعمال کرنے والی سیمنٹ فیکٹری نے اس مقدس جھیل کی تہہ میں کنکریٹ کا فرش بنا کر اسے ہمیشہ کے لیے پانی کے قدرتی ذرائع سے محروم کر دیا ہے۔یوں وہ ہندو یاتری جو ہر سال یہاں کے پانی سے اشنان کرنے دور دراز سے آتے ہیں وہ اب اس تقدس سے محروم ہو گئے ہیں۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس پانی سے غسل کرنے پر ان کے گناہ بھی دْھل جاتے ہیں۔پاکستان کی شہرت اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے پہلے ہی اچھی نہیں یقیناًجب اصل حقائق ہندو برادری تک پہنچیں گے تو ان پر وطن عزیز کے حوالے سے منفی تاثر پڑے گا۔سیمنٹ فیکٹریوں نے تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھ چھوڑا ہے حالانکہ ان کے ماسٹر پلان میں واضح تھا کہ وہ اپنے استعمال کے لیے پانی دریائے جہلم سے لائیں گے تاہم سالہا سال سے انہوں نے اس پلان پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی۔علاقے میں واقع سیمنٹ فیکٹریوں کی لگائی گئی ٹربائنوں سے علاقے میں واٹر ٹیبل بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ عام گھروں کے بور تک خشک ہو چکے ہیں اور وہ ایک سرسبز و شاداب علاقے اور اس میں واقع زیر زمین میٹھے پانی سے تقریباً محروم ہو چکے ہیں۔عوام میں مستقبل کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔سیمنٹ فیکٹریاں روزانہ کئی سو کلو گرام سیمنٹ دھول کی صورت فضاء میں بکھیر رہی ہیں جس سے علاقے کے لوگ سانس کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہ فیکٹریاں اردگرد کی پہاڑیوں سے پتھر نکالنے کیلئے دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے کٹاس راج میں واقع قدیم اور نادر عمارتوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔کٹاس راج کے منادر اور دیگر عمارتیں تباہی کے دہانے پر ہیں، انہیں بچانے کے لیے سنجیدہ کوششوں اور انتہائی سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
ملوٹ کا مندر
ملوٹ کا مندر بھی چکوال میں واقع ہے۔ یہ پورا علاقہ سرسبز و شاداب ہے۔ رنگ برنگے پھولوں اور خوبصورت پرندوں سے بھرا ہوا ہے۔ جہاں ہندو زائرین دور دور سے یہاں آکر پوجا کرتے رہتے ہیں۔
شیو گنگا مندر
ملوٹ کے مندر کے مشرق میں کشمیری طرز تعمیر میں بنایا ہوا شیو گنگا کا مندر واقع ہے۔ یہ مندر برگد کے ایک بہت پرانے اور گھنے درخت کی چھاؤں میں ایک عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ مندر کے آس پاس گھنے درخت ہیں۔ یہاں ہندو زائرین کے علاوہ ملکی و غیر ملکی سیاح بھی آتے رہتے ہیں۔

موج بھائی مولرام کا مندر
موج بھائی مولر ام کا مندر ملیر اسٹیشن کے سامنے واقع ہے۔ اب وہاں شاذو نادر ہی کوئی یاتری جاتا ہے کسی زمانے میں یہاں ہر اتوار کو عمدہ لنگر لگتاتھا۔ بڑے بڑے عملدار اور ساہو کار موج بھائی مولرام کو اپنا سٹ گرو اور مرشد مانتے تھے۔ہندوؤں کے مطابق سوامی مولرام خود اونچا بادشاہی ٹوپ پہنتے، ایک شاہانہ پلنگ پر ریشمی گدریلا بچھا کے اور گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھتے تھے۔ اور ان کے دربار میں ’’سوائفیں‘‘ ناچتی گاتی تھیں اور استاد مبارک علی خان کے علاوہ اور بھی گلوکار وہاں آکر گاتے تھے۔ پنجاب اور لکھنؤ کی مشہور طوائفوں کے یہاں مجرے ہوتے تھے۔
پرورن دیوتا اورڈیرو لعل کا مندر
نیسٹی جیٹی کے پل کے نیچے پرورن دیوتا اور ڈیرو لعل کا قدیم مندر واقع ہے۔ جہاں عورتوں اور مردوں کے اشنان کیلئے الگ الگ پکے گھاٹ بنے ہوتے ہیں۔ وہاں ہندو دھرم کے ماننے والے پل پر سے تیرتے، کودتے اور شرطیں لگاتے ہیں۔ نوروز اور چالیسویں پر یہاں بڑے میلے لگتے ہیں۔ اس موقع پر تاہری کی دیگیں چڑھتی ہیں۔ کھلونوں کا بازار لگتا ہے ناریل پور نیما پر چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے ہیں۔
دریا شاہ کا مندر
منوڑہ پر دریا شاہ کا قدیم مندر ہے۔ اب یہ مندر مسلم آبادی میں گھر گیا ہے۔ ایک زمانے میں یہاں ہر اتوار کو میل لگتا تھا۔ یاتری (زائرین) کٹمب والے ٹفن بکس میں کھانا، چھبی میں میوے،مٹھائیاں اور ڈھوڈے ساگ کا پرساد ملتا تھا۔ یاتری بھجن کیر تھن کرتے، تاش کھیلتے، سمندر کے کنارے گھومتے یا شرطیں لگاتے، بہار کے موسم میں یہاں بڑا میلا لگتا تھا۔ ہندو پنڈتوں کے مطابق منوڑہ جزیرے کے چاروں طرف اتھارہ کھارا سمندر ہونے کے باوجود اس مندر کے کنویں کا پانی میٹھا ہوتا تھا۔
پاتال رتنیشور مہادیو کا مندر
کلفٹن پر پاتال رتنیشور مہادیو کا مندرواقع ہے۔ جہاں تہواروں کے موقع پوجا پاٹ کی جاتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والی عورتوں، مردوں اور بچوں کا ہجوم رہتا ہے۔ کسی زمانے میں ’’شری مائی ھنگلاج‘‘ کے یاتری اندرون سندھ سے یہیں آکر قیام کیا کرتے تھے مندر کے ایک کونے پر میٹھے پانی کا چشمہ بہا کرتا تھا۔ جہاں یاتری پانی بھرتے تھے۔ آج کل وہ چشمہ بند ہو گیا ہے۔
سوامی نارائن کا مندر
یہ مندر بلدیہ عظمیٰ کے دفتر کے سامنے ایک بڑی ہندو آبادی کے بیچ واقع ہے۔ جہاں روزانہ رات 7 بجے سے دس بجے تک بھجن اور پوجا ہوتی ہے۔ اس مندر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہندوؤں کی جو بھی سرگرمیاں ہوتی ہیں وہ یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ تہواروں میں یہاں ہندو اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ یہاں ہندو پنچائیت کمیٹی کا دفتر بھی واقع ہے جو ہندوؤں کے مذہبی، سماجی اور معاشرتی مسائل کے حل کیلئے کام کرتی ہے۔
رام جھرو کا مندر
رام جھرو کا مندر دراصل ایک چٹان ہے جسے ’’آئسٹر راک‘‘ بھی کہتے ہیں۔ جو کلفٹن اور منوڑہ کے درمیان کھلے سمندر کے بیچ میں واقع ہے۔ یہ جگہ اس لیے مقدس سمجھی جاتی ہے کہ ’’شری مائی ھنگلاج‘‘ جاتے ہوئے ’’رام‘‘ لکشمن اور سیتا‘‘ یہاں رکے تھے تب سے یہ چٹان رام جھرو کا کہلانے لگی۔ شروع میں یہ چٹان کلفٹن اور منوڑہ کی پہاڑیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ایک قطار میں تھی دسویں صدی کے زلزلے میں چھوٹی چٹانیں سمندر کے اندر اتر گئیں۔ اب منوڑہ اور کیماڑی سے یاتری لانچوں کے ذریعے بیٹھ کر رام جھرو کا جاتے ہیں۔مگر وہاں کوئی عمارت موجود نہیں ہے۔
گوری کا مندر
تھرپارکر میں دیر او اہ یاویر اول سے چودہ میل میں گوری کا قدیم جین مندر واقع ہے کہاں جاتا ہے کہ اس مندر میں ایک بت تھا جو اپنے آپ غائب ہو گیابت کی بھنوؤں کے درمیان ایک بیش بہا ہیرا لگا ہوا تھا جبکہ اس کے سینے پر بھی دو قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ یہ بت مندر کا پردھت اپنے ساتھ دیرہ او اہ لے گیا جہاں وہ اس ک پوشیدہ رکھتا تھا اور صرف خاص خاص موقعوں پراس کا دیدار کرا کے زائرین سے بھاری نذرانہ وصول کرتا تھا۔
ہندو عقیدے کے مطابق اس مشہور بت کی آخری زیارت 1824 میں کرائی گئی تھی اس دوران پردھت کا اچانک انتقال ہو گیا اور اس نے بت کو کہاں چھپایا تھا یہ راز اب تک نہیں کھل سکا ہے۔ اگرچہ گوری کا مندر کافی خستہ حالت میں ہے لیکن اپنی نوعیت کے مخصوص فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے حکومت پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے اس مندر کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اوراس کو سال بھر جین مت کے ماننے والوں کیلئے عبادت اور زیارت کیلئے کھلا رکھا جاتا ہے۔
بوڈیسر کا مندر
تھرپارکر میں جین مت کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے ان کا ایک اور مشہور قدیم اور تاریخی مندر نگر پار کر کے پاس بوڈیسر کے گاؤں میں واقع ہے وڈیسر ایک تالاب کا نام ہے۔ جس کو روایت کے مطابق ’’بھوداپرامار‘‘ نے تعمیر کرایا تھا۔ بوڈیسر کا مندر بھی ہت خستہ حالت میں ہے لیکن ان کے اندر دیواروں پر بنے ہوئے نقش اور تصویریں اب تک محفوظ ہیں۔ اس مندر کے پاس چند اور قدیم مذہبی عمارتیں موجود ہیں۔ جن میں جین مت کے بزرگوں کے رہنے کی ایک عمارت اور ایک مسجد بھی شامل ہے جو سلطان محمود بیگڑہ کی تعمیرا کرائی ہوئی ہے۔
کالکان یا کالن
کالی دیوی کا مندر روھڑی میں واقع ہے۔ یہ مندر جو نا معلوم وقتوں سے ہندو مذہب کے ماننے والوں کی زیارت گاہ ہے یہ مندر اروڑ کے قلعے کے پاس ایک ٹیکری کے اندر واقع ہے۔ اروڑ راجہ داھر کا دارالحکومت تھا اور موجودہ تعلقہ روھڑی میں شامل ہے۔
سادھ بیلہ
سکھر اور روھڑی کے درمیان دریائے سندھ میں سادھ بیلہ نامی جزیرہ اور قدیم ہندو زیارت گاہ ہے۔ یہاں زمانہ قدیم میں ہندو مذہب کے بزرگ سادھو، رشی اور منی رہتے تھے ان کی قیام گاہ آج بھی موجود ہے جس کی دیواروں پر مذہبی نوعیت کی تصویریں بنائی گئی ہیں۔ سادھ بیلہ میں ایک خوبصورت مندر بھی ہے۔ جو سفید سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی زیارت کے لیے ہر سال ملک اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں ہندو زائرین آتے ہیں اور ان مقدس جزیرے میں مقم ہو کر عبادت و ریاضت کے ذریعے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق اسلامی ریاست میں دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست اسلامیہ کی ذمہ داری ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ مسلمان فاتحین نے ہمیشہ دیگر مذاہب کی عمارت کا بھرپور تحفظ کیا۔یہ سب مندر پاکستان کے عظیم تاریخی ورثے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس قومی ورثے کی حفاظت ہمارے مذہبی اور قومی فرائض میں شامل ہے پاکستان کے آثار قدیمہ کے حکام ان مندروں کو اپنی تحویل میں تو لے لیتے ہیں مگر ان کی خستہ حالت کو بہتر بنانے کیلئے ضروری اقدامات نہیں کئے جاتے۔ جس کے باعث یہ قومی ورثے دن بدن کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں اور تاریخ مسخ ہو رہی ہے۔پاکستان میں ہندوؤں کے ان مذہبی اور ثقافتی مقامات کی دیکھ بھال حکومت کا فرض ہے کیونکہ ان مذہبی مقامات کی یاترا کیلئے بڑی تعداد میں ہندو پاکستان آتے ہیں۔ اس سے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ دونوں ملکوں کے سماج میں عدم برداشت‘ نفرت اور انتہا پسندی جیسے منفی رجحانات کی جگہ خیر سگالی‘ محبت اور تعاون جیسے مثبت جذبات بھی پروان چڑھیں گے۔پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور تمام غیر مسلم اپنی مذہبی رسومات اور تہوار منانے میں مکمل آزاد ہیں۔ حکومت اقلیتوں کے مخصوص فنڈز کو فوری طور پربلا تفریق تمام غیر مسلموں کی مذہبی عبادت گاہوں کی حفاظت اور تعمیر و ترقی پر خرچ کرے۔ ان عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اہم آئینی ذمہ داری ہے اوراس کے علاوہ پوری دنیا میں بین المذاہب رواداری، محبت، امن اور سلامتی کے رویوں کو عام کرنے میں بھی اپناکردار ادا کرتے رہنا ہوگا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے