Voice of Asia News

سکھ مذہب کی تاریخ اور بابا گرونانک کی تعلیمات : محمد قیصر چوہان

سکھ مت مذہب کی بنیاد ساڑھے پانچ سو سال پہلے اسلامی ریاست پاکستان میں رکھی گئی تھی۔سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی 15 اپریل 1469ء کو لاہور سے تقریباً پچاس میل جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں رائے بھوئی کی تلونڈی جس کو اب ننکانہ صاحب کہا جاتا ہے میں پیدا ہوئے۔مہتا کالو ( کلیان چند داس بیدی)ان کے والد تھے اور والدہ کا نام ترپتا تھا۔جو ہندو مذہب اوربیدی کھتری خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔گرونانک کے والد تلونڈی گاؤں میں فصل کی محصولات کے مقامی پٹواری تھے۔ان کی ایک بہن تھیں، جن کا نام بی بی نانکی تھا۔ وہ ان سے پانچ سال بڑی تھیں ۔بابا گرو نانک صاحب بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کیلئے پیار کا پیغام لے کر آئے تھے اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نے پنجاب کے لوگوں کو ’’ست شری اکال یعنی خدائے واحد ہی سچ ہے‘‘ کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ گرو نانک بچپن سے ہی زندگی کی حقیقت کے بارے میں متجسس رہتے تھے۔ وہ مویشی چرانے جنگل میں جاتے تو جوگیوں اور درویشوں کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔گھر والوں نے سوچا کہ اگر گرو نانک کی شادی کر دی جائے تو شائد وہ دنیا داری کی طرف مائل ہو سکیں اس لیے 16سال کی عمر میں24 ستمبر 1487ء کو نانک کی مل چند اور چندو رانی کی بیٹی بی بی سولکھنی سے بٹالا میں شادی کروادی گئی۔گرو نانک نے شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ شادی روحانی زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ انہیں اپنی بیوی سے بہت پیار تھا۔ ان کے ہاں دو بیٹوں نے جنم لیا۔پہلابیٹا شری چند8 ستمبر 1494اور دوسرا بیٹا لکشمی چند 12 فروری 1497کو پیدا ہوا۔شری چند کو گرو نانک کی تعلیمات سے روشنی ملی اور آگے چل کر انہوں نے اداسی فرقے کی بنیاد رکھی۔
سکھ روایات کے مطابق، گرو نانک کی پیدائش کے وقت اور زندگی کے ابتدائی برسوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ نانک کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے۔ ان کے سوانح نگاروں کے مطابق، وہ کم عمری ہی سے اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ پانچ برس کی عمر میں نانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں۔ سات برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں اس وقت کے رواج کے مطابق گاؤں کے مدرسے میں داخل کروایا۔ روایات کے مطابق، کم عمر نانک نے حروف تہجی کے پہلے حرف میں، جو حساب میں عدد 1 سے مشابہت رکھتا ہے، جس سے خدا کی وحدانیت یا یکتائی ظاہر ہوتی ہے، مضمر رموز بیان کرکے اپنے استاد کو حیران کر دیا۔گرو نانک ایک روایتی ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے بچپن کے دوستوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ ان کا سب سے قریبی دوست ایک مسلمان میراثی تھا جس کا نام’’ مردانہ‘‘ تھا۔چھ سال کی عمر میں گرو نانک کو مقامی استاد کے پاس ہندی اور ریاضی کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں فارسی اور عربی بھی سیکھی۔ بعض روایات کے مطابق بابانانک نے فارسی اور اسلامیات کی تعلیم ایک بزرگ سید حسین سے حاصل کی تھی اور ان کی بابا نانک پر خصوصی نظر تھی ۔گرو نانک نے ابتدائی عمر میں سنسکرت اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا علم حاصل کیا۔ پھر گاؤں کی مسلمانوں کی مسجد کے مکتب میں عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی، بچپن ہی سے مذہبی لگاؤ رکھتے تھے، جو روز بروز بڑھتا گیا۔ بابا گرونانک متعدد مسلمان درویشوں اور فقیروں کی صحبت میں رہے ۔ شیخ اسماعیل بخاری ،پیر جلال‘ میاں مٹھا‘ شاہ شرف الدین‘ پیر عبد الرحمٰن اور پاک پتن کے حضرت بابا فرید، جلال الدین بخاری، مخدوم جہانیاں اور دوسرے بزرگوں سے کسبِ فیض کیا۔ گرو نانک غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور بہت جلدی سیکھتے تھے۔ وہ اپنی ذہانت سے اکثر اپنے استادوں کو حیران کر دیا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں انہیں ان کے والد نے کچھ روپے دیے اور کہا کہ ان سے مجھے بہترین سودا کر کے دکھاو۔ والد کا مقصد انہیں تجارت کے گْر سکھانا تھا۔گرو نانک نے ان روپوں سے کھانا خریدا اور محتاج لوگوں میں بانٹ دیا۔گھر پہنچے تو والد کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں ان پیسوں کا سچا سودا کر آیا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ تجارت کی ہے جو مجھے اس کے بدلے کئی گنا زیادہ دے گا۔ جس مقام پر یہ واقع پیش آیا اب وہاں ایک گردوارہ ہے جس کا نام سچا سودا ہے۔
ان کی بڑی بہن بی بی نانکی کی1475ء شادی ہوئی تو وہ خاندانی رواج کے مطابق ان کے ساتھ سلطان پور آ گئے۔نانک کو اپنی بہن سے بہت لگاؤ تھا چنانچہ وہ بھی اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ رہنے کیلئے سلطان پور جا پہنچے۔اس وقت ہندوستان پر لودھی خاندان کی حکومت تھی اور لاہور کا حکمران دولت خان لودھی تھا۔ گرو نانک کو ان کے بہنوئی نے دولت خان لودھی کے ہاں ملازم رکھوا دیا۔ وہ اس کے گوداموں کی دیکھ بھال کا کام کرتے تھے جس میں مدد کیلئے ان کا بچپن کا دوست مرادنہ بھی بھیج دیا گیا۔ دن بھر وہ کام کرتے لیکن صبح اور شام کے وقت وہ مراقبہ کرتے یا وہ اور مردانہ اکثر بیٹھ کر رباب بجاتے اور روحانی گیت گاتے۔یہ نانک کی تشکیل کا مرحلہ تھا اور ان کے بھجنوں میں سرکاری ڈھانچے سے متعلق جو حوالے ملتے ہیں، غالب اندازہ یہی ہے کہ ان کا علم اسی عرصے میں حاصل کیا گیا تھا۔گرو نانک ہندوستان کی عوام کی مذہبی دقیانوسیت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انسان کا رشتہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے تو پھر انسان اس بحث میں کیوں اپنا وقت برباد کرتا ہے کہ گنگا کا پانی اس کے پاپ دھوئے گا یا نہیں اور کس طرح کا لباس خدا کو زیادہ پسند ہے۔ وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے اپنا باطن خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالو۔لباس، رسوم اورظاہری وضع ثانوی بحث ہے۔کہا جاتا ہے کہ1499کی ایک صبح نانک اپنے دوست مردانہ کے ساتھ دریا پر نہانے گئے تو دریا میں اترنے کے بعد تین دن تک نہ ابھرے۔ ان کے کپڑے کالی بین نامی مقامی چشمے کے کنارے ملے۔ قصبے کے لوگوں نے یہ خیال کیا کہ وہ دریا میں ڈوب گئے ہیں۔دولت خان نے اپنے سپاہیوں کی مدد سے دریا کو چھان مارا مگر ان کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ تین دن بعد وہ اسی مقام سے باہر نکلے جہاں دریا میں اترے تھے۔ وہ باہر نکلے تو بالکل بدلے ہوئے انسان تھے۔ وہ کچھ دن تک مکمل طور پر خاموش رہے۔ جب انہوں نے زبان کھولی تو یہ الفاظ ادا کیے:(اِک اَونکار سَتّ نام، کرتا پرکھ، نِر بَھو، نِر وَیر[خدائے واحد ہی سچ ہے ، وہ خالق ہے، اسے کسی کا ڈر نہیں، اس کی کسی سے دشمنی نہیں)اکال، مورت اجونی، سے بھنگ، گْر پرساد(وہ اکیلا ہے، اس کی کوئی صورت نہیں، وہ زندگی اور موت کے چکر سے آزاد ہے، اس کا حصول ہی اصل نعمت ہے)۔دولت خان نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کے الفاظ کا مطلب دریافت کیا جس پر گرو نانک نے کہا، ‘نہ کوئی ہندو ہے نہ کوئی مسلمان’۔ اس پر دولت خان نے کہا کہ شاید ہندو نہ رہے ہوں مگر مسلمان اپنے ایمان پر قائم ہیں۔ گرو نانک نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا کی رحمت کی مسجد ہو اور بندگی کی جائے نماز ہو۔اچھا اخلاق تمہارا قرآن ہو اور سادگی اور رحمدلی تمہارا روزہ ہو۔تمہیں اگر مسلمان ہونا ہے تو ایسے مسلمان بنو۔ نیک اعمال کو اپنا کعبہ بناوّ اور سچ کو اپنا رہبر۔ اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا جو واحد ہے اور اس کا نام حق ہے،تمہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔ گرو نانک کے انہی الفاظ سے گرو گرنتھ صاحب جو کہ سکھ مذہب کی مقدس کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔نانک نے کہا کہ انھیں خدا کی بارگاہ میں لے جایا گیا تھا۔ وہاں انھیں امرت سے بھرا ایک پیالہ دیا گیا اور حکم ملا کہ’’یہ نام خدا کی عقیدت کا پیالہ ہے۔ اسے پی لو۔ میں تمھارے ساتھ ہوں۔ میری تم پر رحمت ہے اور میں تمھیں بڑھاتا ہوں۔ جو تمھیں یاد رکھے گا، وہ میرے احسانات سے لطف اندوز ہوگا۔ جاؤ، میرے نام کی خوشی مناؤ اور دوسروں کو بھی اسی کی تبلیغ کرو۔ میں نے اپنے نام کی عنایات سے تمھیں نوازا ہے۔ اسے ہی اپنی مصروفیت بناؤ۔‘‘اس واقعے کے بعد سے، نانک کو گرو (اتالیق، استاد) کہا گیا اور مذہب سکھ مت نے جنم لیا۔
بابا گرو نانک کا مذہب،خدا سے، انسانوں سے اور انسانیت سے پیار کا مذہب تھا۔ ان کا مذہب ذات پات، نسل اور ملک کی قید سے آزاد تھا۔ ان کا مذہب ایک عوامی تحریک تھی جس کی بنیاد سیکولر ازم اور سوشل ازم کے جدید تصورات پر مبنی تھی، تمام انسانوں کی برابری کی تحریک۔باباگرو نانک خدا کی وحدانیت کے قائل تھے اور بت پرستی کے خلاف تھے۔انہوں نے تثلیث کی نفی کی اور اس بات کو بھی رد کیا کہ خدا انسانی روپ میں پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا مال و اسباب غریبوں میں بانٹ کر مردانہ کے ساتھ سفر پر نکل پڑے۔ گرو نانک نے برصغیر کے طول و عرض میں کئی سال سفر کرتے ہوئے اپنی تعلیمات کا پرچار کیا۔مشرقی ہندوستان میں بنگال، آسام، اڑیسہ اورراجستھان کا سفرکیا۔اس کے بعدوہ جنوب کی طرف گئے اور سری لنکا تک پہنچے۔ شمال کی طرف سفر میں ہمالیہ کی پہاڑی ریاستوں اور کشمیر ہوتے ہوئے تبت تک گئے۔ انہوں نے بر صغیر کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند، سرائیل، اردن، شام اور بغداد، ، عراق، ایران سمیت دیگر کئی ممالک کا بھی سفر کیا۔ ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔ بغداد میں مسلمان علماء کے سامنے ایک فارسی نظم پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ تم کیوں زمینوں اور آسمانوں کی تعداد گن رہے ہو؟ کائنات تو لامحدود ہے۔اور انسان کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر وہ خدا کی خدائی کی انتہا کو نہ پا سکے گا۔ اسی طرح جب وہ مکہ پہنچے تو صحن کعبہ میں سو گئے۔ ان کے پاوں کعبہ کی طرف دیکھ کر پہرہ دار نے ان کو جگایا اور کہا کہ شرم نہیں آتی تم خدا کے گھر کی طرف پاوں کئے سو رہے ہو، اس پر انہوں نے کہا کہ تم مجھے وہ سمت دکھا دو جہاں خدا نہ ہو تو میں اس طرف پاوں کر لوں گا۔بابا گرو نانک صاحب حضرت بوعلی قلندر پانی پتی علیہ الرحمہ کے پاس ایک مدت تک رہے۔ ملتان کے مشہور بزرگ حضرت بہاؤ الدین ذکریا علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضری دی۔ حضرت غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ اور حضرت مراد علیہ الرحمہ کے مزارات پر چلہ کش ہوئے۔ شہر کے باہر جنوب مغرب میں ایک قبرستان سے ملحقہ چار دیواری میں آج بھی آپ کا چلہ مرجع خلائق ہے۔ اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے مزار پر چالیس دن چلہ کیا۔ بمقام سرسہ حضرت شاہ عبدالشکور علیہ الرحمہ کی خانقاہ پر چالیس دن ٹھہرے۔ اس خلوت خانہ کا نام چلہ بابا نانک ہے۔ حسن ابدال (ضلع اٹک) کی پہاڑی پر حضرت بابا ولی قندھاری علیہ الرحمہ کی بیٹھک پر حاضر ہوئے اور ٹھہرے۔ پاک پتن شریف میں حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کے مزار پر خلوت نشین ہوئے۔ حضرت ابراہیم فرید چشتی علیہ الرحمہ جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کی بارہویں پشت سے تھے، کی تعلیم سے ازحد متاثر تھے۔ گورو نانک کے کلام کے مجموعہ کا نام ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہے جو حضرت ابراہیم فرید چشتی علیہ الرحمہ کی شاعری سے لبریز ہے، بعض کا خیال ہے کہ یہ بھی حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ کا کلام ہے جس کے ہر شعر کے آخر میں ’’فرید‘‘ تخلص عیاں ہے۔ گرونانک کا ورد ہمیشہ ’’ھو‘‘ رہا۔ آپ پر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ آپ عالم استغراق میں چلے گئے۔ جس کی وجہ سے نماز روزے کی پابندی نہ کرسکے اور نہ ہی آپ کو حجامت بنوانے کا ہوش رہا۔ چنانچہ آپ کے پیروکاروں نے بھی نماز روزہ کی پابندی کو ضروری نہ سمجھا اور حجامت کو بھی بالکل ترک کردیا۔ چنانچہ یہاں سے الگ تھلگ ایک نئے مذہب ’’سکھ مت‘‘ کی بنیاد پڑی۔
گرو نانک نے سفر کے دوران ایک حاجی اور مسلم فقیر جیسا لباس اختیار کیا اور حج بھی کیا۔گرو نانک اپنی زندگی کا بڑا حصہ سفر میں بسر کرنے کے بعد واپس پنجاب پہنچے اور دریائے راوی کے کنارے ایک گاؤں کی بنیاد ڈالی جس کا نام کرتار پور رکھا۔(جو آج کل تحصیل شکر گڑھ میں دربار صاحب کے نام سے مشہور ہے) اور اپنے گھر کے متصل ایک مسجد تعمیر کروائی اور اس میں نماز پڑھانے کیلئے ایک امام بھی مقرر کیا تھا۔بابا گرو نانک صاحب نے کرتار پور اپنے بیٹوں اور بیوی کے ساتھ باقی کی زندگی بسر کی۔ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور لوگ دور دور سے ان کی زیارت کو آتے تھے۔سکھ روایات کے مطابق بابا گرو نانک نے زندگی کے آخری ایام میں اپنے ایک مرید ’’راہنا‘‘ کواپنا جانشین گرو مقرر کیا اور ان کا نام گرو انگد رکھا۔ جس کے معنی ’’بہت ہی اپنے‘‘ یا ’’اپنے حصے‘‘ کے ہیں۔ بھائی لہنا کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے کچھ ہی عرصے بعدبابا گرو نانک 22 ستمبر 1539ء کو کرتار پور میں، 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔جب باباگرو نانک دیو جی کا ہوا تو روایت کہ مطابق مقامی سکھ، ہندو اور مسلمان ان کی آخری رسومات کے حوالے سے آپس میں لڑنے لگ گئے۔ دونوں اپنی اپنی مذہبی روایت کے مطابق ان کی آخری رسومات کرنا چاہتے تھے۔ ہندووں نے مطالبہ کیا کہ گرو نانک چونکہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے سو آپ کی میت کو جلایا جائے، جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ گرونانک کی تعلیمات اسلام کے بہت قریب ہیں لہٰذا آپ کو دفنایا جانا چاہیے۔ گرو نانک نے کہا کہ جب میں وصال کر جاوں تو ہندو میری میت کے داہنی طرف پھول رکھ دیں اور مسلمان بائیں طرف اور اگلے دن تک جس طرف کے پھول تازہ رہے، اسی طرف کے لوگ میری میت کے وارث ہوں گے۔ ایسا کیا گیا اور اگلے دن جب میت سے چادر ہٹائی گئی تو وہاں دونوں طرف کے پھول تروتازہ تھے اور میت غائب تھی۔مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھولوں کے دفنا دیا جبکہ ہندووں نے جلا دیا۔
گرو نانک خالص توحید کے قائل تھے، رسالت کے قائل تھے، تمام ارکانِ اسلام نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃکے قائل تھے، خود حج کیا تھا، قرآن مجید اور آسمانی کتابوں کے قائل تھے، قیامت کے قائل تھے، ختمِ نبوت کے قائل تھے اور اس پر ایمان لانے کا حکم فرماتے تھے۔ان کا مقصد معاشرے سے نسلی اور مذہبی امتیاز کو ختم کرنا تھا۔ وہ فرسودہ رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔ وہ خدا کا پیغام گیتوں کی شکل میں لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ جس علاقے میں بھی جاتے اس کی مقامی زبان میں لوگوں سے بات چیت کرتے تھے۔ ان کے یہ اطوار اس زمانے کے لوگوں کے لیے انتہائی حیران کن تھے کیونکہ اس وقت ہندو اور مسلمان دونوں ہی ذات پات کے چکروں میں بری طرح الجھے ہوئے تھے اس لئے وہ جہاں بھی جاتے وہاں کے غریب لوگوں کے ہاں قیام کرتے اور امراء کی طرف سے دی جانے والی ضیافتیں ٹھکرا دیا کرتے۔ لوگ انہیں تحائف دیتے تو وہ غریبوں میں بانٹ دیتے۔سکھ مت کا بنیادی عقیدہ انتقام اور کینہ پروری کی بجائے رحم دلی اور امن کا پیغام پھیلانا ہے۔ سکھ مت حالیہ ترین قائم شدہ مذاہب میں سے ایک ہے۔ سکھ گرنتھ صاحب کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ مقدس کتاب سکھ مت کے دس میں سے چھ گروؤں کے علاوہ بعض دیگر بزرگوں اور عقیدت مندوں کی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ گرنتھ صاحب کو سکھ مت میں سب سے زیادہ بالادستی حاصل ہے اور اسے سکھ مت کا گیارھواں اور آخری گرو تصور کیا جاتا ہے۔ سکھ مت کے پہلے گرو کی حیثیت سے، باباگرو نانک کے اس کتاب میں کل 974 بھجن شامل ہیں۔
بابا نانک کو سکھ مذہب میں پہلا گْرو، ہندو مذہب میں بھگت اور مسلمانوں کے ہاں ولی اللہ مانا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کی زندگی سے ان تینوں حیثیتوں کی تائید بھی ملتی ہے، تاہم آپ نے مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کو بہت ہی ناروا قرار دیا۔گرو نانک کا مذہب،خدا سے، انسانوں سے اور انسانیت سے پیار کا مذہب تھا۔ ان کا مذہب ذات پات، نسل اور ملک کی قید سے آزاد تھا۔ وہ ہندووں، مسلمانوں، ہندوستانیوں اور غیر ملکیوں سے یکساں محبت کرتے تھے۔ ان کا مذہب ایک عوامی تحریک تھی جس کی بنیاد سیکولر ازم اور سوشل ازم کے جدید تصورات پر مبنی تھی، تمام انسانوں کی برابری کی تحریک۔ نانک کی ساری تعلیمات پنجابی زبان میں تھی اور ان کا کلام گانے والوں میں زیادہ تر غریب محنت کش ہوتے تھے۔ نانک کا خواب ذات پات سے آزاد معاشرے کا قیام تھا۔ ان کے مذہب میں عقائد اور تصورات کے بجائے عملی تعلیمات پر زور تھا، جبکہ اس دور کے طاقتور مذاہب یعنی اسلام اور ہندو مت میں تعلیمات کے ساتھ ساتھ مذہبی تصورات اور عقائد کی بھی بہت اہمیت تھی لیکن گرو نانک کا ماننا تھا کہ عقائد انسانوں کو الجھا دیتے ہیں اور ان میں تفریق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جبکہ تعلیمات انسان کو ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھارتی ہیں۔ حضرت بابا نانک کو سکھ مذہب میں پہلا گْرو، ہندو مذہب میں بھگت اور مسلمانوں کے ہاں ولی اللہ مانا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کی زندگی سے ان تینوں حیثیتوں کی تائید بھی ملتی ہے، تاہم آپ نے مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کو بہت ہی ناروا قرار دیا۔ آپ خدا کو ہر ذی روح میں جاری و ساری قرار دیتے تھے اورگفتار و کردار میں نیکی اور عفو کی تعلیم دیتے رہے۔باباگرونانک کے نزدیک خدا انسان کے باطن میں موجود ایک وحدت کا نام ہے جبکہ ذات پات، مذہب و مسلک اور رنگ و نسل کے بْت اس باطنی وحدت کو کمزور کر دیتے ہیں اور انسان کو ٹکڑوں اور گروہوں میں بانٹ کر بکھیر دیتے ہیں۔
باباگرونانک اسلامی عبادات نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور کلمہ طیبہ واذان کی حقانیت اور اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدؐ کی رسالت پر کامل اعتماد رکھتے تھے۔افسوس کہ سکھ حضرات بناوٹی رسموں، شرکیہ افعال اور غلط فہمیوں میں پڑ کر اس ست مارگ یعنی صراط مستقیم سے بہت دور جاپڑے ہیں۔ جس کی طرف گرونانک نے رہنمائی کی تھی اور جس پر آپ کی تعلیمات شاہد عدل و ناطق ہیں۔ یہ حقیقت بھی نہایت دلچسپ اور ایمان افروز ہے کہ گرونانک نے ایک کلیہ کے تحت حروف ابجد سے اس حقیقت ثابت کیا کہ کائنات کی ہر چیز حضرت محمدؐ کے نور سے منور ہے۔
سکھوں کی مقدس مذہبی کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہے، جو سکھوں کے پانچویں گرو ’’ارجن سنگھ‘‘ نے تیار کی، گرنتھ صاحب کے سارے کلام میں ’’مول منتر‘‘ (بنیادی کلمہ) کو سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے، مول منتر کا مفہوم یہ ہے کہ:’’خدا ایک ہے، اسی کا نام سچ ہے، وہی قادرِ مطلق ہے، وہ بے خوف ہے، اسے کسی سے دشمنی نہیں، وہ ازلی و ابدی ہے، بے شکل و صورت ہے، قائم بالذات ہے، خود اپنی رضا اور توفیق سے حاصل ہوجاتا ہے‘‘۔مول منتر کے بعد دوسرا درجہ ’’جپ جی‘‘ کو حاصل ہے، گرو نانک کی تعلیمات عشقِ الٰہی کے حصول پر بڑا زور دیا گیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ عشقِ الٰہی حاصل کرنے کے لئے انسان کو انانیت، خواہشاتِ نفس، لالچ دنیا سے تعلق اور غصہ کو چھوڑنا ضروری ہے، سکھ مذہب میں بنیادی طریقِ عبادت ’’نام سمرن‘‘ یعنی ذکر الٰہی ہے، یہ خدا کا نام لیتے رہنے کا ایک عام طریقہ ہے، جس کے لئے چھوٹی تسبیح کا بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اجتماعی شکل میں باجماعت موسیقی کے ساتھ گرنتھ صاحب کے کلام کا ورد بھی ہوتا ہے۔عشقِ الٰہی کے حصول کیلئے ’’نام سمرن‘‘ کے علاوہ سادھو سنگت، سیلوا، ایمانداری کی روزی، عجز و انکساری اور مخلوق خدا سے محبت و ہمدردی کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سکھوں کے عقائد واعمال :سکھوں کا بنیاد عقیدہ یہ ہے کہ خدا غیر مرئی شکل میں ایک ہے اور مرئی شکل میں اپنی لاتعداد صفات کے ساتھ مو جود ہے۔اس طرح وحدت الوجود کے عقیدہ کو ان کے یہاں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سکھوں کا دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی صفت ’’مایا‘‘ نے انسان کے اندر پانچ گناہوں کو جنم دیا ہے۔ نفس ، غصہ ، حرص ، عشق ، غرور۔ان برائیوں کو دعا ،مراقبہ اور خدمت خلق کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
گرو نانک صاحب کی تعلیم میں ’’گرو‘‘ کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، یعنی خدا تک پہنچنے کیلئے ایک "گرو” کی رہبری اور رہنمائی ضروری ہے، چنانچہ سکھوں میں دس گرو گذرے ہیں، پہلے گرو ’’راہنا‘‘ کو نانک صاحب نے ’’انگد‘‘ کا خطاب دیا، گرو ’’انگد‘‘ نے باباگرونانک صاحب اور دوسرے صوفی سنتوں کا کلام لکھنے کیلئے سکھوں کا اپنا رسم الخط ’’گور مکھی‘‘ ایجاد کیا۔تیسرے گرو ’’امر داس‘‘ زیادہ مشہور ہوئے، جنہوں نے سکھ عقیدت مندوں کو منظم کرنے کیلئے بڑی خدمات سر انجام دیں۔چوتھے گرو ’’رام داس‘‘ نے سکھوں کی شادی اور مرنے کی رسومات ہندو مذہب سے الگ متعین کیں، ’’ستی‘‘ کی رسم کی مخالفت کی اور بیواؤں کی شادی پر زور دیا۔پانچویں گرو ’’ارجن سنگھ‘‘ نے ’’گرو گرنتھ صاحب‘‘ تیار کی، امرتسر کے تالاب میں سکھوں کیلئے ایک مرکزی عبادت گاہ ’’ہری مندر‘‘ کی تعمیر کی، جسے اب ’’دربار صاحب‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔گرو "ارجن سنگھ "نے سکھوں سے ’’دسونتھ‘‘ یعنی عشرہ وصول کرنے کا انتظام کیا اور تین شہر ’’ ترن تارن، کرتار پور اور ہر گوبند پور‘‘ آباد کئے، پھر اس کی بادشاہِ وقت جہانگیر سے مخالفت ہوگئی، جہانگیر نے گرو ارجن سنگھ کو قتل کروادیا اور اس کا مال و اسباب سب ضبط کرلیا۔نویں گرو ’’تیغ بہادر‘‘ تھے، دس سال تک گرو رہے، اورنگ زیب عالمگیر انہیں دہلی بلوایا اور اسلام پیش کیا، انکار پر قتل کرادیا۔دسویں اور آخری گرو تیغ بہادر کے بیٹے ’’گرو گوبند سنگھ‘‘ تھے۔ انہوں نے سکھوں کو منظم کرنے کیلئے باضابطہ ارادت کا سلسلہ شروع کیا، وفاداری کے سخت ترین امتحان کے بعد مختلف ذاتوں سے تعلق رکھنے والے پانچ سکھوں کو ایک مخصوص رسم ’’امرت چکھنا‘‘ کے ذریعہ حلقہ مریدین میں داخل کیا اور انہیں ’’خالصہ‘‘ کا لقب دیا، اس کے بعد اس حلقہ میں عمومی داخلہ ہوا اور ہزاروں سکھ ’’خالصہ‘‘ میں داخل ہوئے، گرو گوبند سنگھ (شیر) اور عورتوں کیلئے ’’کور‘‘ (شہزادی) کا استعمال اور ’’ک‘‘ سے شروع ہونے والی پانچ چیزوں کا رکھنا ضروری قرار دیا:سکھ لوگ اپنی زندگی کے اندر پا نچ علامتوں کو اختیار کرنا اپنے لا زمی سمجھتے ہیں جنہوں وہ ’’ ککار ‘‘ کہتے ہیں (1) لمبے بال رکھنا (2) کنگھا کرنا (3) کڑا پہننا (4) کرپان ( تلوار ) ساتھ میں رکھنا (5) پگڑی اور کچہ باندھنا۔
سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے 1699ء میں تمام سکھوں کو کیش گڑھ کے قریب اکٹھا کیا اورپانچ ککے یا پانچ ککار جنہیں اردو میں پانچ کاف کہتے ہیں سکھوں کو اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ بنانے کا حکم دیا جسے سکھ مت ایک مذہبی حکم سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔
کنگھا: سرکے بالوں کو ہموار اور صاف رکھنے کیلئے۔ سکھوں کی مذہبی علامت
گرنتھ جونہر سنہرے مندر کے نام سے مشہور ہے اس میں گروجی کے دیگر تبرکات کا ذکربھی ہیں۔ اس میں پانچ ککوں کا ذکر ہے
سکھ مت میں جہاں پگڑی اور داڑھی کو بے حد اہمیت حاصل ہے وہیں تلوار کی طرح کی کرپان نیام میں رکھنا بھی ان کی مذہبی روایات و اقدار کا حصہ ہے ہر سکھ اپنے ساتھ ہمیشہ کنگھا ،کیس، کڑا،کچھا اور کرپان ضرور رکھتا ہے۔
سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے 1699ء میں تمام سکھوں کو کیش گڑھ کے قریب اکٹھا کیا اورپانچ ککے یا پانچ ککار جنہیں اردو میں پانچ کاف کہتے ہیں سکھوں کو اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ بنانے کا حکم دیا جسے سکھ مت ایک مذہبی حکم سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔
کڑا: اسٹیل یا دھات کی موٹی چوڑی جو قوت کے لیے پہنی جاتی ہے سکھوں کی مذہبی علامت
آج سکھ لوگ پانچ ککوں کے دھارنی ہیں۔ یعنی کرپان، کڑا، کچہرا اور کیس یہ پانچ چیزیں ان کے مذہب کی بنیاد ہیں۔ ان کو اختیار کیے بغیر کوئی سکھ سچا سکھ نہیں کہلا سکتا۔ چنانچہ ایک سکھ ودوان کابیان ہے:۔ ’’ککھادھاران نہ کرنے والا تنخواہیا قصوروار ہے‘‘(1 )اگر سکھ دھارن نہ کرے تو وہ سکھ نہیں رہتا۔ پلت ہوجاتا ہے‘‘۔(2 )سکھ مت میں جہاں پگڑی اور داڑھی کو بے حد اہمیت حاصل ہے وہیں تلوار کی طرح کی کرپان نیام میں رکھنا بھی ان کی مذہبی روایات و اقدار کا حصہ ہے ہر سکھ اپنے ساتھ ہمیشہ کنگھا ،کیس، کڑا،کچھا اور کرپان ضرور رکھتا ہے۔
سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے 1699ء میں تمام سکھوں کو کیش گڑھ کے قریب اکٹھا کیا اورپانچ ککے یا پانچ ککار جنہیں اردو میں پانچ کاف کہتے ہیں سکھوں کو اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ بنانے کا حکم دیا جسے سکھ مت ایک مذہبی حکم سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔
کچھا: سکھوں کا جانگھیا پھرتی اور چستی کے لیے پہناجانے والا زیر جامہ جس کی لمبائی گھٹنوں تک ہوتی ہے۔ سکھوں کی مذہبی علامت
ہر سکھ اپنے ساتھ ہمیشہ کنگھا ،کیس، کڑا،کچھا اور کرپان ضرور رکھتا ہے۔یاان پانچ چیزوں کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کا کہا۔ جن کی ابتدا ’’ک‘‘سے ہوتی ہے۔ سکھ مت میں جہاں پگڑی اور داڑھی کو بے حد اہمیت حاصل ہے وہیں تلوار کی طرح کی کرپان نیام میں رکھنا بھی ان کی مذہبی روایات و اقدار کا حصہ ہے ہر سکھ اپنے ساتھ ہمیشہ کنگھا ،کیس، کڑا،کچھا اور کرپان ضرور رکھتا ہے۔
کرپان: وہ چھوٹی تلوار جس سے قربانی کی جائے بھینٹ چڑھائی جائے یہ عموماً سکھوں کے پاس ہوتی ہے نیز تلوار، شمشیر۔ سکھوں کی مذہبی علامت
کرپان: خنجر جو اپنے دفاع کیلئے رکھا جاتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتے۔
سکھ مت میں جہاں پگڑی اور داڑھی کو بے حد اہمیت حاصل ہے وہیں تلوار کی طرح کی کرپان نیام میں رکھنا بھی ان کی مذہبی روایات و اقدار کا حصہ ہے ہر سکھ اپنے ساتھ ہمیشہ کنگھا ،کیس، کڑا،کچھا اور کرپان ضرور رکھتا ہے۔
سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے 1699ء میں تمام سکھوں کو کیش گڑھ کے قریب اکٹھا کیا اورپانچ ککے یا پانچ ککار جنہیں اردو میں پانچ کاف کہتے ہیں سکھوں کو اپنی زندگیوں کا لازمی حصہ بنانے کا حکم دیا جسے سکھ مت ایک مذہبی حکم سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔
، سکھوں کے یہاں ’’گرو‘‘ کو مر کزی حیثیت حاصل ہے ۔ گرو : دو لفظوں سے مر کب ہے ’’گو‘‘ اور ’’رو‘‘، و‘‘ کے معنیٰ اندھیروں کو دور کرنے والا اور ’’ رو‘‘ کے معنیٰ روشنی پھیلانے والا۔ سکھوں کے دس گرو ہیں۔ سب سے پہلے گرو نانک تھے جنہوں نے سکھ مذہب کی بنیاد ڈالی۔ سکھ لوگ پیغمبر وں ، نبیوں اور اوتاروں کو نہیں مانتے بلکہ اس عقیدے کی مخالفت کرتے ہیں۔سکھوں کی مذہبی کتا بیں :سکھوں کی مقدس ترین مذہبی کتا ب : گرو گرنتھ صاحب : ہے جس کی تالیف سکھوں کے پانچوے گرو جن دیو نے1640ء میں کی۔ پھر بعد میں گرو گرو بند سنگھ نے اس میں گرو تیغ بہادر کا کلام شامل کر کے اسے قطعی شکل دیدی۔اس کے33 ابواب ہیں۔ پہلا باب گرو نانک کی تصنیف کردہ ’’جپ جی ‘‘ سے شروع ہو تا ہے جسے سکھ لوگ روز آنہ پڑھتے ہیں۔گرو گوبند سنگھ کی شروع سے ہی مغل حکومت سے مخالفت رہی، ’’خالصہ‘‘ کی تشکیل کے بعد مغل حکومت سے لڑنے کیلئے انہوں نے فوجی کار روائیاں شروع کیں، لیکن اورنگ زیب عالمگیر کے مقابلہ میں انہیں سخت فوجی ہزیمت اٹھانی پڑی، ان کی فوجی قوت پارہ پارہ ہوئی اور ان کے خاندان کے تمام افراد بھی مارے گئے، گرو گوبند سنگھ نے بھیس بدل کر زندگی کے آخری ایام ’’دکن‘‘ میں گذارے جہاں دو افغانیوں نے انہیں قتل کردیا۔گرو گوبند سنگھ نے یہ طے کردیا تھا کہ آئندہ سکھوں کا گرو نہ ہوگا؛ بلکہ ان کی مذہبی کتاب ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہی ہمیشہ گرو کا کام دے گی۔
گرنتھ صاحب سکھ مت کی مقدس کتاب ہے۔ گرنتھ پنجابی میں کتاب کو اور صاحب اردو اور عربی میں دوست ساتھی یا مالک کو کہتے ہیں۔ سکھ اسے محض مذہبی کتاب ہی نہیں سمجھتے بلکہ یہ ان کے لیے زندہ گرو کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اسے گرو گرنتھ صاحب بھی کہتے ہیں۔پانچویں سکھ گرو ارجن دیو (1616۔ 1581) نے گرْو گرنتھ کی ترتیب و تدوین سن سولہ سو تین میں شروع کی تھی۔ اس وقت پنجاب کے دانشور حلقوں میں گرنتھ صاحب کی تیاری کا کافی چرچا ہوا۔گرو ارجن دیو جی کے علاوہ پہلے چار سکھ گروؤں اور مسلمان اور ہندو صوفیا اور بھگتوں کے کلام پر مشتمل گرو گرنتھ صاحب 1604 ء میں مکمل ہوا۔اس کے بعد اس میں باقی پانچ گرووں کا کلام بھی شامل کیا گیا۔ دسویں گرو گوبند جی کا علاحدہ کلام دسم گرنتھ کے نام سے موسوم ہے۔ آخری گرو گوبند سنگھ جی نے اپنی موت سے ایک سال پیشتر 1708 میں حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق ان کے بعد کوئی گرو نہیں آئے گا۔ گرو گرنتھ صاحب کو ہی رہبر و رہنما تسلیم کیا جائے گا اسی لیے گرو گرنتھ صاحب کو حاضر گرو مانا جاتا ہے۔گرو ارجن دیو جی نے کوشش کی کہ گرو گرنتھ صاحب مذہبی تعصب سے بالاتر ہو اور پورے پنجاب کی اجتماعی فہم و فراست کا ترجمان ہو۔ اس کا یہ بھی مقصد تھا کہ مروج مذہبی تعصب اور مغلوں کے غیر منصفانہ نظام سے چھٹکارے کے لیے متوازی نظریہ سازی کی جائے۔ اس لیے گرو گرنتھ صاحب کا ایک حصہ بھگت بانی کہلاتا ہے جس میں شیخ بابا فرید شکر گنج، بھگت کبیر اور ہندو سنت سور داس کا کلام شامل ہے۔ بابا فرید کا کلام تو مسلمانوں تک پہنچا ہی گرو گرنتھ صاحب کی وساطت سے ہے۔ اسی روایت کے پیش نظر زمانہ جدید میں بھی بہت سے مسلمان صوفیا (کلام شاہ حسین) کے کلام کی کھوج اور تحقیق بھی سکھ محقق ڈاکٹر موہن سنگھ جیسی شخصیتوں کی مرہون منت ہے۔گروارجن دیو جی اس سے پہلے بھی مسلمان صوفیا کے ساتھ اپنی قربت کا مظاہرہ کر چکے تھے۔ انہوں نے گرو گرنتھ صاحب کی تدوین سے پہلے امرتسر کا تالاب مکمل کروایا تھا جو ان کے والد گرو رام داس جی نے شروع کیا تھا۔ امرتسر کے تالاب میں گولڈن ٹیمپل کی بنیاد رکھنے سے پہلے وہ لاہور تشریف لے گئے اور مسلمان صوفی میاں میر (1635۔1550 ) سے درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھیں۔ مشہور سکھ تاریخ دان گیانی گیان سنگھ اور مسلمان مؤرخ غلام محی الدین المعروف بھٹے شاہ بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ گرو ارجن جی نے اس موقع پر بہت سے صوفیا کو مدعو کیا اور میاں میر صاحب نے چار اینٹوں سے اس کی بنیاد رکھی۔ اس لیے گرنتھ صاحب کی ترتیب و تدوین میں مسلمان صوفی شاعروں کے کلام کی شمولیت نئی بات نہیں تھی۔ البتہ سب مسلمان صوفیوں کا کلام اس میں شامل نہیں کیا گیا۔لگتا ہے کہ جب گروگرنتھ صاحب کی تیاری ہو رہی تھی تو پنجاب کے صوفی اور سنت شاعروں میں اس کی دھوم تھی۔ ڈاکٹر جیت سنگھ سیتل (شاہ حسین، ڈاکٹر جیت سنگھ سیتل، پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ، 1995 صفحہ 36 ) نے گیانی پرناپ سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور سے مادھولال شاہ عرف شاہ حسین، بھگت چھجو، کاہنا اور پیلو بھی اپنا کلام لے کر گرو صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ گرو صاحب نے ان بھگت شعرا کا کلام سنا لیکن اسے گرنتھ صاحب میں شامل کرنے سے معذوری ظاہر کی جس پر شاہ حسین یہ کہتے اٹھ گئے کہ ’ایتھے بولن دی نہیں جاء وے اڑیا‘ (یہاں بولنے کا مقام نہیں ہے)۔ ایک اور روایت کے مطابق جب گرو صاحب لاہور تشریف لائے تو شاہ حسین پھر اپنا کلام لے کر حاضر ہوئے لیکن ان کا کلام شامل نہ ہو سکا۔ شاہ حسین کا کلام شامل نہ ہونا تاریخ دانوں کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ان کا یا کسی بھی ایسے بھگت یا سنت کا کلام شامل نہیں کیا گیا جو عام انسانوں کی زندگی کے فرائض نہیں نبھا رہے تھے۔رو گرنتھ صاحب 5894 منظوم حمدوں پر مشتمل ہے جس میں دس گروؤں اور پندرہ مسلمان اور ہندو صوفیا اور بھگتوں کا کلام ہے۔ گرنتھ صاحب 18 مختلف راگوں میں تقسیم اور منظم کیا گیا ہے۔ گرو گرنتھ صاحب میں گرو نانک جی کی 974 منظوم حمدیں ہیں۔ گرو گرنتھ صاحب میں بہت سی زبانوں کا استعمال کیا گیا ہے جن میں پنجابی، ملتانی یا سرائیکی کے علاوہ فارسی، پراکرت، ہندی اور مراٹھی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بنیادی فہم کے لیے ہندی پنجابی کے علاوہ فارسی کی جانکاری لازمی ہے۔
گرو گرنتھ صاحب کا آغاز بابا گرو نانک کی مشہور حمد جپ جی سے ہوتا ہے۔ اس نظم میں وہ سکھ مت کے واحدانیت کے نظریے کو فلسفیانہ سطح پر بیان کرتے ہیں۔ یہ حصہ کافی پیچیدہ اور توجہ طلب ہے کیونکہ اس میں بابا گرونانک دوسرے مذہب اور مکاتب فکر سے مباحثے کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اس کی تفہیم میں دقت اس لیے بھی پیش آتی ہے کیونکہ ان کے مخاطب مکاتب فکر کی بہت سی دلیلیں ہمارے سامنے نہیں ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس میں گرو نانک ہندو ازم کے کئی خداؤں کے تصور کی نفی اور خدا کی وحدت کے نظریے کو کئی پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: تھا پیا نہ ہوئے ہوئیا نہ ہوئے آپے آپ نرجن سوئے (نہ ہی اسے مٹی سے گڑھا جا سکتا ہے اور نہ ہی (انسانی) فعل سے ہوتا ہے۔ وہ بے عیب ہے اور اپنی ذات میں سمویا ہوا ہے)یوں تو گرو گرنتھ صاحب گورمکھی رسم الخط میں لکھا گیا ہے اور اس کے مذہب کے ماننے والے اس رسم الخط میں پڑھتے ہیں ۔
سکھوں کی آبادی سب سے زیادہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں ہے جہاں ان کی اکثریت ہے۔ پوری دنیا میں سکھوں کی کل آبادی دو کروڑ پچاس لاکھ کے قریب ہے۔اس وقت پاکستان میں سکھ بہت کم تعداد میں آباد ہیں۔ بہت سے سکھ پنجاب کے صوبے میں آباد ہیں جو پرانے پنجاب کا ایک حصہ ہے جہاں سے سکھ مت کی شروعات ہوئی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے درالحکومت پشاور میں بھی سکھ کافی تعداد کافی آباد ہیں۔ ننکانہ صاحب جو سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ہے بھی سکھ کافی تعداد کافی آباد ہیں۔ اٹھاوریں و انیسویں صدی میں سکھ طبقہ ایک طاقتور سیاسی قوت بن گیا اور مہاراجا رنجیت سنگھ نے سکھ سلطنت کی بنیاد رکھی جس کا درالحکومت لاہور شہر تھا جو آج کے پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ پنجاب میں سکھ برادی زیادہ تر لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور ننکانہ صاحب میں ہے۔1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے سکھ اور ہندو بھارت چلے گئے۔ 1947ء میں آزادیِ پاکستان کے بعد سکھ برادری نے پاکستان میں منظم ہونا شروع کیا اور پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی بنائی تاکہ پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات اور ورثوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ حکومت پاکستان نے بھارتی سکھوں کو پاکستان میں آنے اور اپنے مقدس مقامات کی یاترا کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے اور پاکستان سکھوں کو بھارت جانے کی بھی اجازت ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے تمام سکھ پاکستان میں بستے تھے، خاص کر خط پنجاب میں اور بطور کسان، تاجر اور کاروباری ان کا معیشت میں بہت اہم کردار تھا۔ پنجاب، پاکستان کے درالحکومت لاہور آج بھی سکھوں کی کئی اہم مذہبی مقامات کی جگہ ہے، جس میں رنجیت سنگھ کی سمادھی بھی ہے۔ ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان سمیت 9 گردوارے ہیں اور یہ شہر سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کی جائے پیدائش بھی ہے۔ ننکانہ صاحب کا ہر گردوارہ بابا گرو نانک کی زندگی کے مختلف واقعات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ شہر دنیا بھر کے سکھوں کی یاترا کا اہم مقام ہے۔دنیا بھر سے سکھ مت کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد اپنا سالانہ مذہبی تہوار منانے کیلئے پاکستان میں قائم پنجہ صاحب گوردوارے آتی ہے۔پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے قریب پچپن کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر حسن ابدال میں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک کے پنجے کی مہر ایک پتھر پر ثبت ہے۔ یہ مقام سکھ مت کے پیرو کاروں کیلئے مقدس ہے اور وہ ہر سال
اس کی زیارت کیلئے پاکستان کا رْخ کرتے ہیں۔ سکھ یہاں آکر مقدس چشمے کے پانی سے اشنان کرتے ہیں اور اپنے روحانی پیشوا کو خراج عقیدت بھی پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر خصوصی دعائیہ تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔اس کے علاوہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد مختلف تہوار مناتے ہیں۔
گرودوارا مکتسر صاحب ۔اس تہوار کو منانے کا مقصد مکتسر جنگ کو یاد کرنا ہے جو سکھوں نے مغلوں کیخلاف لڑی تھی۔پرکاش اْتسَو دسویں پاتشاہ31 جنوری جیساکہ اس تہوار کے نام سے ظاہر ہے، اس تہوار کو منانے کا مقصد سکھوں کے دسویں گرو گروگوبند سنگھ کا یوم پیدائش منانا ہے، یہ تہوار سکھوں کے ان چند تہواروں میں سے ایک ہے جو سب سے زیادہ منائے جاتے ہیں۔
ہولہ محلہ۔17 مارچ
ایک سیکھ فنکار ہولہ محلہ میں فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہولہ محلہ سکھوں کا ایک سالانہ تہوار ہے جس میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس تہوار کا آغاز گروگوبند سنگھ نے کیا تھا اور اس کا مقصد سکھوں کو بدنی ریاضتیں کرانا تھا۔ سکھوں کا ماننا ہے کہ گرو گوبند سنگھ اس کے ذریعے معاشرے کے کمزور اور دبے کچلے طبقے کی ترقی چاہتے تھے۔ خوش محلہ کا جشن آنند پور صاحب میں چھ دن تک جاری رہتا ہے۔ آنند پور سکھوں کا ایک مذہبی علاقہ ہے۔ اس موقع پر بانگ کی لہر میں مست گھوڑوں پر سوار ن?گ، ہاتھ میں نشان صاحب اٹھائے تلواروں کے کارنامے دکھا کر ہمت اور خوشی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جلوس تین سیاہ بکروں کی قربانی سے شروع ہوتا ہے۔ تیز چاقو کے ایک ہی وار میں بکرے کی گردن دھڑ سے الگ کر کے اس کے گوشت سے ‘مہا پرساد’ پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ پنج پیارے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے رنگوں کی برسات کرتے ہیں اور جلوس میں ن?گو کے اکھاڑے ننگی تلواروں کے کارنامے نظر آتے ہوئے بولے سو نہال کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ آنند پور صاحب کی سجاوٹ کی جاتی ہے اور بڑے لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں گرو گوبند سنگھ (سکھوں کے دسویں گرو) نے خود اس میلے کی شروعات کی تھی۔ یہ جلوس ہماچل پردیش کی سرحد پر بہتی ایک چھوٹی دریا مرحلے گنگا کے کنارے پر ختم ہوتا ہے۔
بیساکھی۔13 اپریل
پنجاب اور ہریانہ کے کسان موسم سرما کی فصل کاٹ لینے کے بعد نئے سال کی خوشی مناتے ہیں۔ اسی لیے بیساکھی پنجاب اور ارد گرد کے علاقوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ فصل کے پکنے کی خوشی کی علامت ہے۔ اسی دن، 13 اپریل 1699 کو دسویں گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی۔ سکھ اس تہوار کو اجتماعی سالگرہ کے طور پر مناتے ہیں۔
یوم قتل گرو ارجن دی۔16 جون
پنج پیارے (پانچ پیارے) ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے
سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو کے قتل کا دن جون میں منایا جاتا ہے، یہ مہینہ بھارت میں سب سے گرم ترین مہینہ ہوتا ہے۔ سکھوں کے مطابق 16 جون کو مغل شہنشاہ جہانگیر کے حکم پر گرو ارجن پر تشدد کیا گیا تھا اور اسی میں وہ قتل ہوا۔ ایک ہندو بینکر چندو لال جس کی گرو ارجن سے دشمنی تھی،اس نے 1606ء میں لاہور میں شہنشاہ جہانگیر کو شکایت کی جس پر جہانگیر نے کارروائی کا حکم دیا تھا۔ یہ تہوار میں لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے اور گرم موسم کی وجہ مختلف مشروبات گردواروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔
پھالیہ پرکاش شری گرو گرانتھ صاحب۔1 ستمبر
سکھوں کے مطابق یہ وہ دن ہے جس میں گرو گرنتھ صاحب بطور آخری گرو انسانوں کو دیا گیا اور انسانی گرؤں کا سلسلہ ختم ہوا۔
بندی چھوڑ دیواس(دیوالی)۔9 نومبر
یہ دن سکھ اس مناسبت سے مناتے ہیں کہ 1619ء میں اس دن سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند گوالیر کے جیل سے بری ہو گئے تھے۔ اور انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ 52 دیگر ہندوؤں کو بھی چھڑا لیا تھا۔ اس دن سکھوں اپنے گھروں کو شمع روشن کرتے ہیں اور ہرمندر صاحب کو سجاتے ہیں۔ یہ تہوار اور دیوالی ایک دن منائے جاتے ہیں۔
گرو نانک گرپورب22 نومبراس دن سکھ مت کے بانی اور سکھوں کے پہلے گرو نانک ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے تھے۔ ہر سال اس تہوار کو منانے کی مناسبت سے سکھ اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس تہوار گردواروں میں شمعیں روشن کیے جاتے ہیں۔ یہ جشن تقریباََ تین دن تک چلتا ہے۔ اس تہوار کو مناتے ہوئے جلوس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جس کی قیادت پنج پیارے اور گرو گرنتھ کی پالکی کرتی ہے۔
گردوارا ننکانہ صاحب، پاکستان
گرو نانک یوم پیدائش کا جشن
گرو نانک کی پیدائش کے مناسبت سے امرتسر میں سجاوٹ
یوم قتل گرو تیغ بہادر22 نومبرسکھوں کے مطابق ان کے گرو تیغ بہادر کو اس دن اسلام قبول نہ کرنے پر مغل حکام نے قتل کیا تھا۔ گرو تیغ بہادر کی گرفتاری کا حکم اورنگزیب عالمگیر نے جاری کیا تھا۔ تیغ بہادر کو آنندپور کے قریب گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد آنند پور سے دہلی منتقل اور پھر دہلی سے سرہند منتقل کیا گیا۔ تیغ بہادر کو 1675ء گرفتار کیا گیا تھا اور پھر مہینوں تک جیل میں رہا۔ سکھوں کا کہنا ہے کہ ان کو کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو معجزات دکھاؤ اس پر تیغ بہادر نے انکار کیا جس کے بعد تیغ بہادر کو دہلی کے چاندی چوک پر پھانسی دی گئی۔
دیگر سکھ تہوار۔
درج بالا تہواروں کے علاوہ مزید کچھ تہوار (تقریباً 45) ایسے ہیں جو بعض مخصوص علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر منائے جاتے ہیں۔ ایسے تہواروں میں پرکاش اتسو (دیگر آٹھ گروؤں کے یوم پیدائش)، گروگڑی دیوس، جیوتی جوت دیوس (دوسرے سکھ گروؤں کی برسی)، پتنگوں کا بسنت تہوار جو وڈالی گاؤں (جہاں گرو گروبند سنگھ 1595ء میں پیدا ہوئے تھے) کے چہراتر صاحب کے گردوارہ میں منایا جاتا ہے۔ سکھ اپنے تمام تہواروں میں گردوارہ میں جمع ہو کر گرو گرنتھ صاحب کی تعظیم بجا لاتے ہیں، گربانی اور کیرتن سنتے اور پاٹھ پڑھتے ہیں۔
نیز مقامی طور پر کچھ میلے لگتے ہیں جن کی تاریخی اہمیت سکھوں کے نزدیک مسلم ہے اور ہزاروں کی تعداد میں سکھ ان میلوں میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ ان میں بعض اہم میلے حسب ذیل ہیں:فتح گڑھ صاحب میں گرو گوبند سنگھ کے چھوٹے صاحبزادے کا قتل۔چمکور کی جنگ اور گرو گوبند سنگھ کے بڑے صاحبزادے کا قتل۔گرو گوبند سنگھ کے چالیس جانبازوں کا قتل جو مغلوں کی ایک بڑی فوج سے مکتسر کے مقام پر انتہائی بے جگری سے لڑے تھے، گرو گوبند سنگھ نے ان کے متعلق خوش خبری دی کہ ان جانبازوں نے نجات حاصل کر لی ہے۔ ہر سال سری مکتسر صاحب میں میلہ ماگھی اسی واقعہ کی یاد میں لگایا جاتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے