Voice of Asia News

جنگلی حیات انسان کی بقاء کیلئے ناگزیر : محمد قیصر چوہان

جنگلی حیات سے مراد وہ درخت اور جانور جن میں چوپائے، ممالیہ، پرندے، آبی حیات اور رینگنے والے وہ جانور جو انسانی آبادی سے دور اپنے قدرتی ماحول یا قدرت کے فراہم کردہ قدرتی ماحول میں زندگی گزارتے ہیں انہیں جنگلی حیات کہا جاتا ہے۔ جن کا اپنی خوراک کا حصول اپنے قدرتی ماحول سے ہوتا ہے اور وہ اپنے ہی قدرتی ماحول میں قدرت کے متعین کردہ طریقے سے پیدا ہوتے ہیں اور زندگی گزارنے کے بعد اپنے ہی قدرتی ماحول میں مرکر دفن یا ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر جنگلی حیات کی اہمیت کو اُجاگر نہ کیا جائے تو یہ اس روح زمین پر پائے جانے والے انسانوں کے ساتھ زیادتی ہو گی اور جنگلی حیات کی اہمیت اُجاگر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جنگلی حیات انسانوں کیلئے کیوں ضروری ہے اور قدرت نے انہیں اس روح زمین پر کیوں پیدا کیا۔ قدرت نے جب یہ دنیا تخلیق کی تو اس نے اس زمین پر سب سے پہلے انسان جو کہ اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتی ہے پیدا کیا اور اس زمین پر انسانوں کے رہنے اور بسنے یا زندگی گزارنے کیلئے باقاعدہ ایک نظام وضع کیا اور اس نظام کو چلانے کیلئے اس روح زمین پر درخت، جانور، پرندے،مچھلیاں سمیت دیگر آبی حیات ور رینگنے والے جانور بھی پیدا کئے جن کو مختلف قسم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ مثال کے طور پر کچھ جانوروں کو قدرت نے زمین کی صفائی پر مامور کر دیا جیسا کہ اس روح زمین پر پائے جانے والے پرندوں کی نسل میں سے گدھ ہے جس کو قدرت نے مردارقسم کے جانور کھانے پر مامور کیا اگر دیکھا جائے تو گدھ مردار جانوروں کو کھاتا ہے۔ جن مردار جانوروں کے ذریعے انسانوں میں مختلف قسم کی اور دوسری جان لیوا بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔جو پانی اور فضا کے ذریعے انسانوں میں مختلف قسم کی جان لیوا اورر دوسری بیماریوں کا سبب بنتے ہیں اگر دیکھا جائے لگڑ بھگڑ بھی یہی کام جنگل میں انجام دے رہا ہے اور قدرت نے اسے جنگل کی صفائی پر مامور کیا ہے۔ لگڑ بھگڑ جنگل میں ان مردار جانوروں کو کھاتا ہے جن کے ذریعے مختلف قسم کی بیماریاں جنگل میں پائے جانے والے دوسروں جانوروں میں منتقل ہوتی ہیں، جن میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔ سمندر، جھیلوں اور دریا میں پائے جانے والے آبی حیات پر ایک نظر ڈالیں تو قدرت نے بہت سی ایسی آبی حیات بھی پیدا کی ہیں جن کا کام یا ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ صرف پانی کی صفائی پر مامور ہیں جس کی سب سے بڑی مثال سمندر میں پائے جانے والے مختلف قسم کے سمندری کچھوئے اور مچھلیاں شامل ہیں، جو ان بیکٹیریا کو کھاتے ہیں جو پانی کو زہر آلودہ کر کے ان آبی حیات اور مچھلیوں میں منتقل ہوتی ہیں جن آبی حیات کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے۔ اسی طریقے سے اگر دیکھا جائے تو جھیلوں اور دریاؤں میں پائے جانے والے میٹھے پانی کے کچھوؤں کو بھی قدرت نے دریاؤں اور جھیلوں میں بہتے میٹھے پانی کی صفائی پر مامور کیا ہے جو ان دریاؤں اور جھیلوں میں ان بیکٹیریا اور دوسرے اقسام کے بغیر صحت کیمیکل جو فیکٹریوں کے ذریعے پانی میں داخل ہو کر دریاؤں اور جھیلوں میں پائی جانے والی آبی حیات جو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے انہیں زہر آلود ہونے سے بچاتے ہیں اور پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنا کر مختلف قسم کی جان لیوا بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ زمین پر قدرت کے پیدا کردہ وہ درخت نہ صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انسانوں کیلئے صاف اور تازہ ہوا کا ذریعہ بھی بنتے ہیں اور انسانی آبادیوں کو مختلف قسم کی آفات یعنی سیلابوں کی شدت کم کرنے اور انہیں روکنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اگر درج بالا تحریر کردہ قدرت کے ان معجزات پر اگر غور کیا جائے تو قدرت نے جنگلی حیات کو صرف بنی نوع انسان کو بھلائی کیلئے ہی پیدا کیا ہے لیکن حضرت انسان شروع سے ہی اپنے اندر ایک ظالمانہ اور ناشکرانہ رویئے کا عنصر رکھتا ہے اور اسی انسان نے اپنے ہاتھوں حضرت آدم کے روح زمین پر آنے کے بعد جو نظام قدرت نے اس وقت کے بنی نوع انسان کی بھلائی اور محفوظ کرنے کیلئے رائج کیا تھا تباہ و برباد کر دیا۔ لیکن دنیا جیسے جیسے ترقی کرتی گئی اور آبادی بڑھتی گئی اس کے ساتھ ساتھ انسان کے رویئے میں ظالمانہ عنصر بھی بڑھتا چلا گیا جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن مجید میں ہم انسانوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ تم زمین پر فساد برپا نہ کرو، لیکن قدرت کے رائج کردہ متوازن قدرتی نظام کو تباہ و برباد کرنا شروع کر دیاا اور اس کا توازن برباد کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان مختلف قسم کی بیماریوں جن میں جان لیوا بیماریاں بھی ہیں، شکار ہوتا چلا گیا اور قدرت کے رائج کردہ متوازن نظام کو تہس نہس کر کے مختلف قسم کی آفات کا شکار ہوتا چلا گیا۔ جیسا کہ سیلاب، زلزلے وغیرہ اور یہی انسان اپنے شوق کیلئے اپنے ہاتھوں سے جنگلی حیات کا بے دریغ شکار کر کے اور درختوں کو چند روپوں کے حصول کی خاطر بے دریغ کاٹ کر اپنی ہی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اب کوئی حضرت نوع ؑ اس دنیا میں انسانوں کی بقاء کو بچانے کیلئے نہیں آئیں گے۔ انہوں نے تو ہم انسانوں کو اپنی بقاء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے محفوظ کرنے کا طریقہ کار وضع کر دیا ہے۔
تفریح طبع کیلئے جانوروں کو پکڑنا اور ان کا شکار کرنا ہزاروں برس سے انسانوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں جانوروں کو گوشت اور کھال کیلئے شکار کیا جاتا تھاکیو نکہ گوشت ان کی غذائی ضروریات، ہڈیاں ان کیلئے ہتھیار اور کھال ان کیلئے لباس کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ انسان نے درج بالا تینوں چیزوں کے متبادل تو تلاش کرلیے لیکن جانوروں کے شکار کی عادت کو ترک نہیں کیا جس کی وجہ سے زمانہ قدیم میں پائی جانے والی بہت سی جنگلی حیات آج ہم صرف تصویروں میں ہی دیکھتے ہیں۔دور حاضر میں جانوروں کا شکار ہماری ضرورت تو نہیں لیکن کہیں اسے کھیل کا درجہ دیا گیا ہے تو کہیں شکار کو مردانگی سے مشروط کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اس روش کو ختم نہیں کیا تو ہماری آنے والی نسلیں ایسے بہت سے جانوروں کو زندہ نہیں دیکھ پائیں گی جنہیں آج ہم اپنی آنکھوں سے جیتے جاگتے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں قانون موجود ہونے کے باوجود جانوروں کو پکڑنے اور ان کا شکار کر نے کا رجحان عروج پر ہے۔
قدرت نے ہر چیز کو ایک توازن میں پیدا کیا ہے جس میں معمولی سا بھی انسانی عمل دخل اس پورے نظام کو تباہی سے دوچار کردے گا۔ اسی طرح پرندے درختوں یا جنگلوں میں پائے جانے والے حشرات الارض کو اپنی خوراک بناتے ہیں لیکن دنیا بھر میں پرندوں کی کم ہوتی نسل کی وجہ سے حشرات الارض کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے لئے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ ماحول ہے کیا؟ دنیا میں انسانوں سمیت ہر جان دار چیز چاہے وہ جنگلی حیات کی شکل میں ہو یا پودوں کی شکل میں، یہ ساری چیزیں مل کر ایک ماحولیاتی نظام بناتی ہیں،ماحولیاتی توازن بناتی ہیں۔ ماحول ان ساری چیزوں کا مرکب ہے، جہاں انسان، جانور چرند پرند، پودے بستے ہیں، زندہ ہیں۔
اسی طرح ایک طرف آپ پہاڑ دیکھتے ہیں، تو دوسری طرف میدانی علاقے ہیں، ایک طرف سمندر ہیں تو دوسری طرف بنجر بیاباں ریگستان ہیں۔ لیکن یہ سب ایک ماحولیاتی توازن میں ہیں۔ یہ انسانوں اور جنگلی حیات کی شکل میں موجود زندہ اجسام کی جائے مسکن ہے۔ انسان گھروں میں، پرندے گھونسلوں میں، جانور جنگلوں میں اور آبی حیات سمندروں میں رہتی ہیں۔ یہ سب ایک توازن میں ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی تنوع (بائیو لوجیکل ڈائیورسٹی) ہے۔ اب اگر آپ اس نظام میں موجود کسی بھی ایک شے کو کم یا زیادہ کرتے ہیں تو اس سے ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہوگا۔ مثال کے طور پر سمندر میں چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کی خوراک ہے، بڑی مچھلی کو اس سے بڑی مچھلی شارک یا ڈولفن کھاتی ہے۔ دوسری طرف انسان بھی بہت سے جانوروں کا شکار کرتا ہے جس سے اس جانور کو کھانے والے جانوروں کی غذائی زنجیر ٹوٹ جاتی ہے جس کا اثر ماحول پر بھی مرتب ہورہا ہے۔ کیوں کہ غذائی زنجیر میں سے اگر ایک چھوٹے سے چھوٹے جان دار کو بھی نکال دیا جائے یا اس کی تعداد کم ہوجائے تو پھر اسے کھانے والوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے جب کہ اس کی خوراک بننے والے جان داروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جس سے قدرت کا بنایا ہوا ماحولیاتی نظام متاثر ہوجاتا ہے۔
نہ صرف پاکستان بل کہ دنیا بھر میں جانوروں، پرندوں اور آبی حیات کو پکڑنے یا انہیں شکار کرنے سے ان کی بہت سی نسلیں ناپید ہوچکی ہیں۔ ماضی میں جانوروں کے ناپید ہونے میں زیادہ عمل دخل قدرتی آفات کا تھا لیکن گذشتہ دو تین صدیوں میں بنی نوع انسان نے اپنی ہی حرکتوں کی وجہ سے بہت سے جانوروں کی نسلیں ختم کردی ہیں۔ بہت سی جنگلی حیات ایسی ہے جن کی نسلیں بالکل ختم ہونے کو ہے اور اگر ہم نے انہیں پکڑنے، شکار کرنے کی روش ختم نہیں کی تو کچھ سال بعد وہ پاکستان میں ناپید ہوجائیں گی اور ہماری آنے والی نسلیں صر ف ان جانوروں کی تصاویر ہی دیکھ سکیں گے۔مثال کے طور پر ہرن کی تعداد لاکھوں سے کم ہو کر ہزاروں میں آگئی ہے۔ اگر ہم نے ابھی سے ہرن کو تحفظ فراہم نہیں کیا، ان کی افزائش نسل نہیں کی تو پھر یہ بھی ایک ناپید جانور ہوجائے گا۔ اسی طرح کچھ جانور ایسے ہیں کہ جن کی تعداد ابھی تو زیادہ ہے لیکن اگر ہم نے ابھی سے اسے پکڑنے اور شکار پر پابندی عائد نہیں کی تو پھر یہ بتدریج معدومی کا شکار ہوجائیں گے۔ آپ درختوں کو جلانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، آپ پھل دینے کے عرصے میں درخت کاٹ دیتے ہیں جس سے زیرگی کا عمل رْک جاتا ہے۔بہ ظاہر تو آپ کو یہی لگے گا کہ صرف ایک درخت ہی کاٹا ہے لیکن اس ایک درخت کی وجہ سے مزید جو درخت اگنے تھے آپ نے اس کو بھی ختم کردیا۔ درخت بڑھتے تو وہ کسی نہ کسی جانور یا پرندے کی جائے مسکن تو بنتے لیکن ہم نے تو قیمتی لکڑی اور زمین کے حصول کے لیے پورے پورے جنگل کاٹ دیے ہیں اور ابھی تک یہ کام زور و شور سے جاری ہے۔
دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں جنگلی حیات کو سب سے زیادہ نقصان زرعی اور صنعتی انقلاب نے بھی پہنچایا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اٹھارھویں صدی میں زرعی انقلاب آیا اور آپ نے جنگل کے جنگل کاٹ کر وہاں زراعت شروع کردی۔ انیسویں صدی میں آنے والے صنعتی انقلاب نے اربنائزیشن کو فروغ دیا۔لوگوں نے دیہات سے نکل کر شہروں کا رخ کرنا شروع کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چھوٹے دیہات قصبے، قصبے شہر اور شہر میگا سٹی بن گئے۔ اب جگہ تو آپ کے پاس محدود ہی تھی تو رہائش کیلئے آپ نے درختوں کو کاٹ دیا، ریت ڈال کر سمندر کو پیچھے دھکیل دیا، دریاؤں کا بہاؤ روک کر زرعی ضروریات کیلئے نہریں بنادیں، اس انسانی سرگرمی کے نتیجے میں وائلڈ لائف جسے تیکنیکی زبان میں فلورا اینڈ فانا کہتے ہیں کہ رہنے کی جگہ کو ختم کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی تعداد میں تیزی سے کمی ہورہی ہے کیونکہ آپ نے نہ صرف ان کے مسکن بل کہ غذائی زنجیر کو بھی توڑ دیا ہے کیوں کہ جنگلات، دریاؤں سمندروں میں رہنے والے حشرات اور دیگر جانور ان کی غذائی ضروریات پوری کرتے تھے۔
درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے کیونکہ سایہ دار درخت جہاں تھکے ماندے اور گرمی کے ستائے ہوئے لوگوں کو ٹھنڈی چھاؤں یا سایہ دار ماحول مہیا کر تے ہیں، وہاں انسانی اور جنگلی حیات کو موسمی پھل کے علاوہ صحت افزا گیسیں، سبزہ ہریالی، پھول اور پرمنظر ماحول اور بہت کچھ تحفہ کرتے ہیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ درخت یا پودے بذات خود زندگی کا پیکر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بیج یا تخم سے پھوٹ کر اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ سالہا سال کا عرصہ لگتا ہے کسی پودے کے تن آور درخت بننے میں، بے شمار درختوں کے جھنڈ مل کر جنگل بن جاتے ہیں جو جنگلی حیات کے پنپنے کیلئے ایسا سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں جنگلی جانور کھیلتے کودتے آزادی کے نغمے الاپتے زندگی کے ماہ شب گزارنے لگتے ہیں۔ گھنے جنگل، جنگلی حیات کیلئے بہترین پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں جہاں سے نکل کر یہ کہیں اور جانا پسند نہیں کرتے۔ کہتے ہیں4ارب سال پرانی ہے یہ زمین، یہاں کے جنگلوں میں پروان چڑھنے والی جنگلی حیات کی ایسی ایسی قسمیں تھیں جن کے نام ونشان تو باقی نہیں رہے، اس ضمن میں ہم ڈائنوسارس کی مثال پیش کر سکتے ہیں۔ ڈائنوسارس جیسی جنگلی حیات میں چرندوں کی بھی بہت سی قسمیں تھیں اور ان میں فضا میں اڑنے والے ڈائنوسارس بھی موجود تھے جو صدیوں پہلے نابود ہو چکے تھے۔ کہتے ہیں یہ دنیا اور اس پر بسنے والے جانور پانچ بار نابودیوں کا شکار ہوئے اور خدشہ ہے کہیں چھٹی بار بھی ایسا نہ ہوجائے۔ اگر اس بار ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار انسان خود ہوگا کیونکہ گلوبل وارمنگ کا وہی باعث بن رہا ہے ۔جنگلات تو سارے جانوروں کا مسکن ہوتے ہیں اور ہم جنگلات کو بے دریغ کاٹ کر انہیں ان کی ہیبی ٹیٹ یعنی جائے مسکن سے بے دخل کر رہے ہیں، جانوروں کی زندگی کا دارومدار ہی جنگلات پر ہوتا ہے، وہ وہیں افزائش نسل کرتے ہیں وہیں سے اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آلودگی نے بھی جنگلی اور آبی حیات کو شدید نْقصان پہنچایا ہے۔ سمندر میں جہازوں سے رسنے والا تیل آبی آلودگی پیدا کرتا ہے، آئل ریفائنریز اور ٹینریز نے آپ کے ساحل آلودہ کردیے۔ زراعت میں استعمال ہونے والا پانی جس میں یوریا ، فاسفورس جیسے کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں آپ سمندر میں پھینک رہے ہیں، آپ کا صنعتی اور گھریلو فضلہ کسی ٹریٹمنٹ کے بنا سمندر میں پھینکا جا رہا ہے۔ انڈسٹریلائزیشن نے آبی اور زمینی حیات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی آلودگی کی تمام اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔
دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق آبادی کے پھیلاؤ، بڑھتی ہوئی آلودگی، اعضا کی فروخت کیلئے غیر قانونی شکار، مالی مفادات کیلئے تجارت اور قوانین کا موثر نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بہت سی آبی و جنگلی حیات معدومی کا شکار ہورہی ہیں، جن میں پہاڑی نیولا، سنگِ ماہی، یورپی اود بلاؤ، برانڈڈ ایگل رے، بگ آئی ٹیونا مچھلی، مارکوپولو بھیڑ، سائبیرین سارس (لق لق)، لمبی گردن والا گدھ، فشنگ کیٹ (جنوب مشرقی ایشیائی دلدلی زمینوں میں گھر بناکر رہنے والی چتکبری بلی)، Marbled Polecat (یورپ کا ایک قسم کا نیولا جو اپنے جسم سے خارج ہونے والی بْو کی وجہ سے جانا جاتا ہے)، Sociable Lapwings(بری جنس کا سیاہ بازؤوں والا سفید پرندہ)، وہیل مچھی کی مختلف نسلیں (اسپرم وہیل، ہمپ بیک وہیل، کلر وہیل، بوٹل نوز وہیل)، اسپینر ڈولفن ، منگرا مچھلی، بلیو شارک، ٹائیگر شارک، بْل شارک، وہیل شارک، ٹیونا مچھلی، مہاجر پرندے (سارس، بطخ، قاز تلور وغیرہ)، اود بلاؤ، نیلی بھیڑ، ہمالین آئی بیکس (پہاڑی بکرا)، بن بلاؤ، بلوچستان کا سیاہ ریچھ، ہاگ ہرن، پینگولین (جنوبی افریقہ کا بغیر دانتوں والا ممالیہ جانور جس کا جسم سخت چھلکوں سے ڈھکا ہوتا ہے)، پنجابی اریل، گرے طوطا شامل ہیں۔ان میں سے کچھ جانوروں کی نسلیں ناپید ہونے کے قریب ہیں۔جن میں مارخور، کالا ریچھ،برفانی چیتا،دریائے سندھ کی ڈولفن،سبز سمندری کچھوا شامل ہے۔
پاکستان کا قومی جانور مارخور بھی معدومی سے دوچار ہوگیا ہے۔ جنگلی بکروں کی اس نایاب نسل کو بقا کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ جانوروں کی بقا کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کی ریڈ لسٹ کے مطابق اوردی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق مار خور کی آبادی معدوم ہونے کے قریب ہے۔ تاہم گذشتہ ایک دہائی میں ان کی تعداد میں حیرت انگیز طور پر بیس فی صد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یہ پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں ، شمال مشرقی افغانستان، مقبوضہ کشمیر ، جنوبی تاجکستان ، ازبکستان اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں 600سے تین ہزار 600میٹر کی بلندی پر پایا جاتا ہے۔ مارخور برفانی چیتے، بھورے بھالو،بن بلاؤ، لومڑیوں اور گولڈن ایگل کی مرغوب غذا ہے، لیکن جانوروں سے زیادہ اسے انسانوں سے خطرہ ہے۔
دنیا بھر میں ریچھ کی مختلف نسلیں جن میں ایشیائی کالا ریچھ، بھورا ریچھ، قطبی ریچھ شامل ہیں بتدریج معدومی کے خطرے سے دوچار ہو رہی ہیں۔ ایشیائی کالا ریچھ جسے تبتی کالا ریچھ، ہمالیائی کالا ریچھ اور چاند ریچھ بھی کہا جاتا ہے، درمیانی قامت، تیز پنجوں اور کالے رنگ کا حامل ریچھ ہے، جس کی پہچان اس کے سینے پر سفید رنگ سے انگریزی حروف تہجیv جیسا نشان بنا ہوتا ہے۔ ایشیائی کالا ریچھ عموماً پاکستان ، بنگلادیش، انڈیا، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، افغانستان، نیپال، برما، چین، بھوٹان، روس، جاپان اور تائیوان کے جنگلات اور پہاڑی مقامات میں 4 ہزار 700 میٹر کی بلندی تک پایا جاتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، کھال اور جسمانی اعضا کی فروخت کیلئے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بڑی تعداد میں ہونے والے شکار سے ریچھ کی اس نسل کو خطرے کا سامنا ہے۔ کالے ریچھ کے ساتھ ساتھ بحر منجمد شمالی اور اس کے اطراف میں پائی جانے والے قطبی ریچھ کی نسل بھی دنیا بھر میں معدومیت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سارا سال برف پوش علاقوں میں رہنے کی وجہ سے انہیں برفانی اور سفید ریچھ بھی کہا جاتا ہے۔اس کا گوشت برفانی علاقوں میں رہنے والے انسانوں کی مرغوب ترین غذا سمجھا جاتا ہے۔ گوشت کے علاوہ کھال، چربی اور دیگر اعضا کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ طلب ہونے کی وجہ سے بھی اس کا شکار بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے۔ آئی یو سی این کے اعداد و شمار کی ریڈ لسٹ کے مطابق قطبی ریچھ کو vurnalable جانوروں کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ وسط ایشیا، روس، چین، شمالی امریکا اور پاکستان کے کچھ شمالی علاقوں میں پائے جانے والے بھورے ریچھ کی نسل بھی بتدریج کم ہوتی جارہی ہے اور کچھ علاقوں میں اسے معدوم ہونے کے خطرات بھی لاحق ہیں۔ اگرچہ آئی یو سی این نے اسے ابھی کم خطرے والے جانوروں کی فہرست میں رکھا ہے، لیکن اگر اس کے غیرقانونی شکار اور اس کی جائے مسکن کو تباہ کرنے کی روش ترک نہیں کی گئی تو چند سالوں میں یہ بھی معدوم جانوروں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔
پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والا یہ خوب صورت جانور بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ آئی یو سی این کے مطابق انسانی آبادی کے پھیلاؤ اور شکار کی وجہ سے دنیا بھر میں برفانی چیتے کی آبادی چار سے چھے ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔ پاکستان میں اسی ہزار اسکوائر کلومیٹر رقبے پر دو سو سے 420 برفانی چیتے آباد ہیں۔ خوش قسمتی سے برفانی چیتے کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ 2013 میں بارہ ممالک پاکستان، افغانستان، بھوٹان ، چین، بھارت، قازقستان، کرغزستان، منگولیا، روس، تاجکستان اور ازبکستان کی حکومتوں نے مل کر گلوبل سنو لیوپرڈ فورم تشکیل دیا۔ لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی کھال کو ڈرائنگ روم کی زینت بنانے اور اعضا کی فروخت سے ملنے والی کثیر رقم کے لالچ میں پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس کا غیرقانونی شکار جاری ہے۔
دریائے سندھ میں پائی جانے والی نایاب نسل کی انڈس ریور ڈولفن کو نابینا ڈولفن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آئی یوسی این کی خطرے سے دوچار آبی حیات کی فہرست کے مطابق تازہ پانی میں رہنے والی ڈولفن کی یہ نایاب نسل اب پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ ماضی میں صرف دریائے سندھ کے آبی نظام میں پائی جانے والی اس ڈولفن کی آبادی دریائے سندھ کے34 سو کلومیٹر رقبے پر محیط تھی۔ اٹھارھویں صدی کے آغاز میں دریافت ہونے والی نابینا ڈولفن کی آبادی اسی فی صد تک کم ہوچکی ہے اور اب یہ دریائے سندھ کے محض 690کلومیٹر رقبے پر آباد ہے۔آب پاشی کی وجہ سے دریائے سندھ میں کم ہوتی پانی کی سطح اور ممنوعہ جال کا استعمال نابینا ڈولفن کی کم ہوتی آبادی کا اہم سبب ہے۔ دوسری جانب اس مچھلی کو زرپرست انسانوں سے بھی شدید خطرات لاحق ہیں جو گوشت اور تیل کے حصول کیلئے اس معصوم اآبی مخلوق کا بے دریغ شکار کر رہے ہیں۔ دریاؤں کے ساتھ بننے والے بڑے ڈیموں کی تعمیر ، زرعی کیمیکلز اور صنعتی فضلے سے بھی اس کی نسل کو خطرات ہیں۔ انڈس ریور ڈولفن کا شمار خطرے سے دوچار دوسری سی ٹیسیا (سمندری مچھلیوں کی وہ قسم جس میں وہیل، ڈولفن اور سوس شامل ہیں) میں کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ان کی تعداد تقریباً بارہ ہزار رہ گئی ہے۔
سمندر میں پائے جانے والے اس کچھوے کا تعلق نایاب Specieجینس چیلونیا سے ہے۔ آئی یو سی این کی ریڈلسٹ میں معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں میں شمار ہونے کے باوجود پاکستان میں اس کا شکار بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ اس بے ضرر آبی مخلوق کو اس کے خوب صورت مضبوط خول اور جلد کی وجہ سے مار کر بلیک مارکیٹ میں منہگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سمندر میں یہ صرف بڑی شارک خصوصاً ٹائیگر شارک کی مرغوب غذا ہے اس کے علاوہ کوئی سمندری مخلوق اسے شکار نہیں کرتی۔ کچھوے کا گوشت زمانہ قدیم سے ہی چینیوں کی مرغوب ترین غذا رہا ہے، جب کہ اس کی مضبوط کھال کو خواتین کے پرس اور جوتے بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے جن میں ضلع چترال بھی شامل ہے اس حوالے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہاں پر ہزاروں سال پرانے درختوں کو جڑوں سے اُکھاڑا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں تیتر، چکور، خرگوش، ہرن، مارخور اور نایاب برفانی چیتے جو یہاں کے مقامی جانور ہیں ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بطخ و قمری اور دیگر مہاجر پرندوں کا جس بہیمانہ انداز سے شکار کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے ان کی آمد مفقود ہونا شروع ہو گئی ہے۔’’تلور‘‘کا گوشت مردوں کیلئے ہر لحاظ سے مفید ہوتا ہے۔ یہ پرندہ سردیوں میں سرد علاقوں سے پاکستان کے صحرائی، پہاڑی اور ریگستانی علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کی مشترکہ سرحد کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ان کے بے دریغ شکار کی وجہ سے تلور پاکستان سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے یہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں پایا جاتا تھا لیکن اب مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔اس کے علاوہ دریائے سندھ پر واقع سندھ کے تاریخی شہر سکھر کی تحصیل صالح پٹ کے ریگستانی علاقے میں سینکڑوں کالے ہرن موجود تھے لیکن غیر قانونی شکار اور بعض عرب ریاستوں کے اعلیٰ حکام کو شکار کی اجازت دیئے جانے کے بعد اس علاقے سے اس نایاب کالے ہرن کی نسل ختم ہوتی چلی گئی اور اب صحرائی علاقوں میں شاذو نادر ہی کوئی ہرن دکھائی دیتا ہے۔ ہم ایک ایک کر کے نایاب ترین پرندوں اور جانوروں کی ہلاکت پر مامور ہیں اور اس بات کا خیال ہی نہیں کر رہے کہ یہ نایاب تحفے قدرت کے حسن کے امین ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں ایک اور خوبصورت پرندہ بھی پایا جاتا ہے جسے چکور کہتے ہیں۔ اس کی آواز سے جنگل میں سر جاگتے ہیں۔ اس پرندے کی نسل بھی شکار کی نذر ہو رہی ہے۔ اس پرندے کا شکار زیادہ تر باز کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر چرند پرند موسم سرما میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے ہیں نارووال اور شکر گڑھ کے سرحد علاقوں میں ہرن اور نیل گائے کی زیادہ آمد سرد موسم ہی میں ہوتی ہے اسی طرح سائبریا سے اڑنے والے پرندے بھی گرم علاقوں یا نسبتاً کم سرد جگہوں کا رخ کرتے ہیں اور یہی موقع ہوتا ہے جب ان پرندوں اور جانوروں کے شکاری بھی ان کو پکڑنے پرکمربستہ ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ قبائلی اور خیبر پختون خواہ کے علاقوں میں مختلف ممالک یعنی وسطی ایشیائی ریاستوں سے جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، مہمند اور باجوڑ کو کنڑ سے قبائلی علاقوں کے راستے سردیوں کے موسم میں بہت زیادہ تعدا میں پرندے اور مرغابیاں ہمارے ملک میں آتے تھے لیکن اب اس میں بھی نمایا ں کمی آئی ہے۔قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں جنگلات کی کٹائی میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پانی کے مقدار میں بھی بہت کمی واقع ہوئی ہے جس کے وجہ سے بہت سے نشیبی علاقے جوباہر سے آنے والے مرعابیوں کا مسکن تھا اب وہ نہیں ہے، اسی طرح ہوا میں زہریلی گیسوں کا بے دریع اخراج نے بھی اس کی کمی میں اہم کرادر ادا کیا ہے۔
پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارے دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر جاوید اقبال ہاشمی کا کہنا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ صرف محکمہ جنگلی حیات کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کی انفرادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں شعور اُجا گر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جانوروں کی بقا میں ہی ہم انسانوں کی بقا ہے۔ ہر ادارہ اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کرے، یعنی سمندری حیات کے تحفظ کیلئے فشری ڈیپارٹمنٹ ماہی گیروں کو یا مچھلی کا شکار کرنے والوں کو اس بات کا پابند کرے کہ جی آپ ایسا جال استعمال نہ کریں جس سے مچھلی، جھینگوں، کیکڑوں اور دیگر آبی حیات کی نسل کْشی ہو، اس سیزن میں ان کا شکار نہ کریں جو ان کی افزائش نسل کا سیزن ہو۔ محکمہ ماہی گیری کے ساتھ ساتھ مچھیروں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ زیادہ کمائی کے چکر میں حد سے زیادہ شکار نہ کریں۔اسی طرح محکمہ جنگلات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ وہ جنگلوں کی کٹائی روکے اور اگر بہت ضروری ہے تو اس کیلئے صحیح وقت کا انتخاب کرے۔ دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر جاوید اقبال ہاشمی کا کہنا ہے کہ غیرقانونی شکار کے خلاف ہم وائلڈلائف کے ساتھ مل کر آواز اٹھاتے ہیں۔ ہمارے یہاں جانوروں کو پکڑنے اور ان کے شکار کے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر اس طرح عمل درآمد نہیں ہورہا جس طرح ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ جانوروں کو معدومی سے بچانا چاہتے ہیں تو یہ کام صرف محکمہ جنگلی حیات یا اس سے متعلق این جی اوز نہیں کر سکتی اس کیلئے جنگلات، ماحولیات، فشریز کے محکموں کے ساتھ ساتھ صنعت کاروں سمیت ایک عام آدمی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صنعتیں اپنا فضلہ ٹریٹمنٹ کے بعد سمندر میں پھینکیں، محکمہ جنگلات اور ماہی گیر اپنا کردار ادا کریں، اسی طرح انفرادی طور پر بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت معدوم ہوتی نسل کے جانوروں کی تجارت اور شکار پر مکمل پابندی عائد ہے لیکن دوسرے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ کام جاری ہے اور اس کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہیں۔ یہاں تو لوگ اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لیے شیر، چیتے اور مار خور کو مار کر اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنا رہے ہیں۔ اس رجحان کی بلاامتیاز حوصلہ شکنی کرنا بہت ضروری ہے ورنہ پاکستان میں پانے جانے والے بہت سے جانور ناپید ہوجائیں گے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن کی ریڈ لسٹ میں شامل جانوروں کی تین درجوں Extinct، Threatened، Lower Risk میں تقسیم کی گئی ہے۔ پہلے درجے کو مزید دو ذیلی درجات Extinct (EX)، Extinct in the Wild (EW)، دوسرے درجے کو مزید تین ذیلی درجات Critically Endangered (CR)، Endangered (EN)، Vulnerable (VU) اور تیسرے درجے کو مزید تین ذیلی درجات Near Threatened (NT)،Conservation Dependent (CD)،Least Concern (LC) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ کے مطابق دنیا بھر میں پائے جانے والے جانوروں کی 746 نوع ناپید، 39 اقسام کے جانوروں کی نسلیں جنگلات میں معدوم، جانوروں کی 4574 اقسام کی بقا کو شدید خطرات ، 2754جانوروں کی اقسام کو درمیانے خطرے کا سامنا اور4618 اقسام غیر محفوظ ہیں۔ جبکہ جانوروں کی 2657اقسام نیئر تھریٹینڈ کے درجے میں شامل ہیں۔دنیا بھر میں شیر، گینڈے، ہاتھی اور دیگر جانوروں کے اعضا کی تجارت ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات کے اعدادوشمار کے مطابق ہاتھی دانت، گینڈے کے سینگ اور کھال، شیر کے جسمانی اعضا کی فروخت کے لیے دنیا بھر میں ان جانوروں کا غیر قانونی شکار اپنے عروج پر ہے۔ چند سال قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کارروائی کے دوران 23 میٹرک ٹن (23ہزار کلو گرام ) ہاتھی دانت کو اپنے قبضے میں لیا جو کہ تقریباً ڈھائی ہزار ہاتھیوں کو ہلاک کرکے حاصل کیے گئے تھے۔ اسی طرح غیرقانونی شکار نے جنگلی شیروں کی نسل کو کم کردیا ہے اور اب دنیا بھر میں اس نسل کے محض 3890 شیر ہی باقی بچے ہیں۔ جانوروں کے اعضا کی تجارت دنیا بھر میں اسی طرح اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے جس طرح، غیرقانونی ہتھیار اور منشیات کی صنعت۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سمندری حیات، پرندوں اور جانوروں کی چار سو سے زائد اقسام کی غیرقانونی تجارت سے دس سے بیس ارب ڈالر سالانہ منافع کمایا جاتا ہے۔ براعظم ایشیا، افریقا اور جنوبی امریکا اس دھندے میں سب سے آگے ہیں۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور آئی یو سی این کے جانوروں کی تجارت کی نگرانی کرنے والے مشترکہ نیٹ ورک ’ٹریفک‘ کے اعدادوشمار کے مطابق ہاتھی دانت کی طرح گینڈے کے سینگ کی غیرقانونی تجارت بھی بے رحم انسانوں کیلئے ایک نہایت منافع بخش کام بن چکی ہے اور صرف سینگ کی خاطر صرف جنوبی افریقہ میں ہی ایک سال کے عرصے میں ساڑھے چار سو گینڈوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ہاتھی اور گینڈے کی طرح کھال اور ہڈیوں کے لیے شیروں کا شکار بھی اپنے عروج پر ہے۔ منشیات اور ہتھیاروں کی غیرقانونی تجارت کرنے والے نیٹ ورکس کی طرز پر چلنے والا یہ غیرقانونی کام اب کھربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے۔ ان کا دائرہ کار صرف ہاتھی، شیر، گینڈے تک ہی محدود نہیں، یہ جرائم پیشہ گروہ سمندری کچھوؤں سے قیمتی درختوں تک کو اپنی دولت میں اضافے کیلئے بے دردی سے ختم کر رہے ہیں۔یہی جرائم پیشہ عناصر جہاں ایک طرف افریقا میں شیر اور گینڈے کو بے رحمانہ طریقے سے ہلاک کر رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی توجہ کا مرکز میانمار میں پائے جانے والے ایشیائی ہاتھی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق میانمار میں کھال، دانت اور دیگر جسمانی اعضا کے لیے ایشیائی ہاتھیوں کو ہلاک کرنے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور پچھلے چھے ماہ میں اس کی شرح دْگنی بڑھ چکی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جنگلی ایشیائی ہاتھی کی آبادی دو ہزار سے بھی کم ہے وہاں اس بڑھتے ہوئے رجحان نے ہاتھیوں کی اس نسل کے ختم ہونے کے خطرات میں اضافہ کردیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں اس نسل کے 50 ہزار سے بھی کم ہاتھی بچے ہیں اور میانمار میں ان کی تعداد دو ہزار سے بھی کم ہے۔ کچھ دہائیوں سے جنگلات کی کٹائی، انسانی تصادم، اور شکار کی وجہ سے سے اس خطے میں ایشیائی ہاتھیوں کی نسل کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ ایشیائی ہاتھیوں میں صرف نر ہاتھی کے ہی دانت ہوتے ہیں اور میانمار میں صرف ایک فی صد ہاتھیوں کے ہی دانت ہیں تاہم ہاتھی دانت کے علاوہ دوسرے اعضاء کیلئے ان کا قتل عام خطرے کی گھنٹی ہے۔
بدلتے موسموں کے باعث انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں اور دنیا میں موجود ایک چوتھائی جنگلی حیات 2050 تک معدوم ہوسکتی ہے۔جانوروں کی کھالوں اور دیگر اعضا کے انسانوں کیلئے فائدہ مند ہونے کے باعث ان کے شکار کی وجہ سے مختلف جانور معدومی کے خطرے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق برطانیہ کی ہر 10 میں سے 1 جنگلی حیات کو معدومی کا شدید خطرہ لاحق ہے۔1970 سے برطانیہ کی خطرے کا شکار جنگلی حیات کا بھی ایک تہائی خاتمہ ہوچکا ہے۔ادھر افریقہ میں ہاتھی دانت کی تجارت عروج پر ہے جس کے باعث ہاتھیوں اور گینڈوں کی نسل کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کے مطابق افریقہ میں ہر سال ہاتھی دانت کے حصول کیلئے 30 ہزار ہاتھی مار دیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہاتھی اور افریقی گینڈے کے جسمانی اعضا کی تجارت ان کی نسل کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔ایشیائی ممالک میں غیر قانونی فارمنگ کے باعث چیتوں کی آبادی میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے 100 سالوں میں چیتوں کی آبادی میں 97 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ اس سے قبل دنیا بھر میں تقریباً 1 لاکھ کے قریب چیتے موجود تھے جو اب گھٹ کر 4 ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ چیتوں کی کئی اقسام پہلے ہی معدوم ہوچکی ہیں۔
عالمی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات آئی یو سی این کے مطابق چینی حکومت نے پانڈا کے تحفظ کیلئے ان کی پناہ گاہوں اور رہنے کے جنگلات میں اضافہ کیا اور غیر معمولی کوششیں کی جس کے باعث پانڈا کی آبادی میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور وہ معدومی کے خطرے سے باہر نکل آیا۔گزشتہ عشرے میں پانڈا کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اب ان کی تعداد 2000 ہوگئی ہے۔امریکا میں بھی کیلیفورنیا میں پائی جانے والی لومڑیوں کی ایک قسم کو، جن کا قد چھوٹا ہوتا ہے اور انہیں ننھی لومڑیاں کہا جاتا ہے، اگلے عشرے تک معدومی کا 50 فیصد خطرہ لاحق ہے۔پینگولین افریقہ اور ایشیا کے گرم حصوں میں پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسمگلنگ کی وجہ سے گذشتہ عشرے میں 10 لاکھ سے زائد پینگولین موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔
جانوروں کی بقا کو سب سے بڑا خطرہ بدلتے موسمو ں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت یعنی گلوبل وارمنگ سے بھی ہے۔ قطب شمالی کے درجہ حرات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے برفانی ریچھ اور پینگوئن کی نسل کو بھی خطرہ لاحق ہے۔تاہم مختلف ممالک کی حکومتوں اور اداروں نے خطرے کا شکار جنگلی حیات کیلئے حفاظتی اقدامات بھی اٹھائے ہیں جن کے باعث کئی جانور معدومی کے خطرے سے باہر نکل آئے۔
جنگلی حیات کسی بھی ملک کیلئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگر انسان قدرت کے ترتیب دیے دائرے سے نکلنے کی کوشش کرے گا تو تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ درخت رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں جبکہ دن کے وقت اس جان لیوا گیس کو جذب کر کے آکسیجن جیسی زندگی بخشنے والی گس پیدا کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں سے سبزدرختوں کا خاتمہ ہو جائے تو ہر طرف کاربن ڈائی آکسائیڈ جمع ہو گی اور دیکھتے ہی دیکھتے انسانی زندگی سمیت سارے جانور ختم ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا ر کے اپنے ماحول اور فطرت کی حفاظت کو یقینی بنائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بہترین ماحول میں پرورش پا سکیں۔

پاکستان میں جانوروں کے شکار کیلئے قوانین
پاکستان میں جانوروں کے شکار اور انہیں پکڑنے کیلئے سب سے پہلے قانون صوبہ سرحد جس کو آج خیبر پختونخواکہتے ہیں نے بنایا تھا۔
1950میں صوبہ سرحد نے جنگلی جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کے قانون پاس کیا اور اس کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ہدایات کیں۔ 1951میں خود مختار ریاست بہاولپور نے بہاولپور اسٹیٹ فشریز ایکٹ 1951کے نام سے قانون بنایا۔ سندھ حکومت نے1953میں وائلڈ برڈز اینڈ وائلڈ اینیملز پروٹیکشین ایکٹ 1940 کو ترمیم شدہ ایکٹ 1953 کے تحت نئے قوانین کے ساتھ نافذ کیا۔ اسی سال بلوچستان حکومت نے بھی بلوچستان وائلڈ برڈز اینڈ وائلڈ اینیملز پروٹیکشن رولز 1953جاری کیا۔ حکومت پنجاب نے پنجاب وائلڈ برڈز اینڈ وائلڈ اینملز ایکٹ1954متعارف کرایا، تاہم اسے 1955میں نافذ کیا گیا۔
سب سے آخر میں مغربی پاکستان نے دی ویسٹ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈینینس1959 جاری کیا۔ تاہم صوبوں کی جانب سے بنائے گئے قوانین میں موجود کچھ خامیوں کی وجہ سے 1972میں صوبہ سندھ میں قانون سازی کے بعد سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈینینس اور پنجاب میں وائلڈ لائف ( پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزویشن اینڈ مینجمنٹ ) ایکٹ1975جاری کیا گیا، جب کہ اس قانون کے تحت شمالی علاقہ جات اور وفاقی دارلحکومت کے لیے مختلف قوانین بنائے گئے اور انہیں نادرن ایریا وائلڈ لائف پریزرویشن ایکٹ، 1975، اسلام آبادوائلڈ لائف ( پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ ) ایکٹ1975 کے نام سے نافذ کیا گیا۔ انہی رولز کے تحت آزاد جموں کشمیر کے لیے قانون بنایا گیا۔ اسی طرح بلوچستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ ،1974 اور سرحد (موجودہ کے پی کے) ( پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ ) ایکٹ، 1995تشکیل دیا گیا۔دی اینمل فاؤنڈیشن پاکستان کے مطابق اس تمام تر قانون سازی کے باوجود پاکستان میں جنگلی حیات کا پکڑنے اور ان کا شکار بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے