Voice of Asia News

معیشت کی مضبوطی کیلئے سیاحت کو فروغ دیا جائے: محمد قیصر چوہان

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کو اللہ تعالی نے متنوع جغرافیہ اور انواع و اقسام کی آب و ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگ،مختلف زبانیں اور علاقیں ہیں جو پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں ریگستان ،سرسبز و شاداب علاقے،میدان،پہاڑ، جنگلات،سرد اور گرم علاقے،خوبصورت جھیلیں،جزائر اور بہت کچھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رْخ کرتی ہے۔پاکستان میں سیاحت کو سب سے زیادہ فروغ 1970ء کی دہائی میں ملا جب ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور دیگر صنعتوں کی طرح سیاحت بھی اپنے عروج پر تھی بیرونی ممالک میں سے لاکھوں سیاح پاکستان آتے تھے۔ اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول سیاحتی مقامات میں درہ خیبر،پشاور،کراچی،لاہور،سوات اور راولپنڈی جیسے علاقے شامل تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر خوبصورت علاقے بھی دنیا بھر میں متعارف ہوئے اور سیاحت تیزی سے بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں سینکڑوں سیاحتی مقامات کی سیر کی جاتی ہے خاص کر پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت اپنے عروج پر ہے۔ شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر،گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور شمال مغربی پنجاب شامل ہیں۔ پاکستان
کے شمالی حصے میں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں۔اس کے علاوہ قلعے ،تاریخی مقامات ،آثار قدیمہ ،وادیاں،دریا،ندیاں،جنگلات ،جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہیں۔سکردو میں دیوسائی کا خوب صورت ٹھنڈا صحرا قدرت کی بے نظیر کاری گری ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں۔ بلوچستان کے خوب صورت خشک پہاڑ،زیارت،کوئٹہ اور گوادر اپنی مثال آپ ہیں۔ سندھ کا ساحل سمندر،کراچی،مکلی کا قبرستان،گورکھ ہل سٹیشن دادو،صحرائے تھر،موئن جو دڑو اور بہت سے شہر اور دیہات اپنی خوب صورتی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا تاریخی شہر ملتان،بہاولپور کا صحرائے چولستان اور ضلع ڈیرہ غازی خان کا خوب صورت علاقہ فورٹ منرو بھی سیاحتی اہمیت کے حامل ہیں۔پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال ملک ہے۔ا گر یہاں سیاحت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو صرف سیاحت ہماری معیشت میں ایک بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں سیرو سیاحت کے لحاظ سے ایسے بہت سی مقامات موجود ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی بنا پر نہ صرف پاکستان میں بلکے پوری دنیا میں مشہور ہیں پاکستان اور کشمیر کے شمالی علاقے جہاں آسمان کو چھوتے بلند پہاڑوں سے بھرا ہوا ہے وہیں یہاں پر موجود سرسبز وادیاں طاقتور دریا، خوبصورت جھیلیں اور حیرت انگیز جنگلات کی زندگی دنیا بھر میں مشہور ہے وادی نیلم ‘منی سوئٹزرلینڈ’ وادی سوات ‘ہنزہ وادی اور پہاڑی ریاست’ ‘ جنھیں زمین کی جنت بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں سیاحوں کی اہم پرکشش مقامات ہیں یہ تمام جگہیں دنیا کی حقیقی قدرتی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہیں۔
رب کائنات نے پاکستان کوجو خوبصورتی عطا کی ہے اس کی نظیر دُنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔پاکستان کو بلند و بالا برف پوش چوٹیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ گلگت بلتستان میں کھڑی ہے جس کا شمار دنیا کے خوبصورت پہاڑوں میں ہوتا ہے۔ نانگا پربت دنیا کی 9 ویں بلند ترین چوٹی ہے جو کوہ پیماؤں کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اپنے خدوخال اور کسی قدر ہموار سطح کی وجہ سے ’’موت کے پہاڑ‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اس پہاڑ پر چڑھتے ہوئے کئی نامور کوہ پیما اپنی جان گنواچکے ہیں لیکن اس کے باوجود نانگا پربت میں کوہ پیماؤں کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ شاہراہ قرارقرم پر سفر کرتے ہوئے گلگت شہر سے پہلے ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں دنیاکے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم ، کوہ ہندو کش اور کوہ ہمالیہ آپس میں ملتے ہیں۔ دیوسائیکا میدان اسکردو شہر سے تقریباً 70 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے جو اپنی قدرتی حسن، حسین جھیلوں، خوبصورت پھولوں، برف پوش پہاڑوں، سرسبز چراگاہوں اور خوبصورت جانوروں و پرندوں کی وجہ سے اس کائنات کا سب سے دلکش و دلفریب میدان تصور کیا جاتا ہے۔ دیوسائی کو بین الاقوامی سطح پر نیشنل پارک کا درجہ بھی حاصل ہے جہاں جنگلی حیات اپنی قدرتی ماحول میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں نایاب نسل کے بھورے ریچھ اس نیشنل پارک کے مکین ہیں ،جن کی نسل کو بچانے کیلئے انتھک کوششیں جاری ہیں۔
ہنزہ نگر (گلگت بلتستان) اپنی قدیم تاریخی روایت کے ساتھ پاکستان کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ہنزہ کے چشمے اورگلیشئر کا پانی دنیا بھر میں معدنیات اور صحت بخش ہونے کی وجہ سے دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ہنزہ نگر شاید دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے جسے چاروں طرف سے خوبصورت بلندو بالا برف پوش پہاڑی سلسلوں نے اپنی حصار میں لیا ہوا ہے جس میں راکاپوشی، براڈ پیک، ویران پیک اور لیڈی فنگر جیسی چوٹیاں قابل ذکر ہیں ۔شاہراہ قراقرم اس علاقے سے ہوتا ہوا گزر رہا ہے جو یہاں کے محل و قوع کو اجاگر اور اس کی حیثیت کو مزید دلکش بناتا ہے۔ شاہراہ قراقرم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ پاک چین دوستی کی بہترین مثال ہے سنگلاخ چٹانوں اور دشوار گزار راستے کو کاٹ کر جس طرح اس شاہراہ کی تعمیر کی گئی ہے بلاشبہ وہ کسی گوہر نایاب سے کم نہیں اور انسانی عظم کی زندہ مثال ہے۔
سی پیک منصوبے کے بعد اس سڑک میں مزید بہتری آئے گی جو بالخصوص اس علاقے کے لوگوں کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولے گا جو کسی نعمت سے کم نہیں۔ شاہراہ قراقرم ہنزہ سے مزید آگے جائیں تو دلفریب نظاروں سے لبریز پاک چائنہ ٹنل سے گزرتی ہوئی عطاء آباد جھیل کو سلام کرتی ہوئی پاکستان اور چائنا کی سرحدخنجراب پر جا کر پاکستانی حدود میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اونچا سرحدی مقام ہے جہاں دونوں ملکوں کی فوجیں موجود ہیں۔ اس مقام کی اونچائی تقریباً 16500فٹ ہے۔
کشمیر کو جنت نظیر وادی بھی کہا جاتا ہے جہاں کی دلکشی اور رعنائی انسانی دلوں کو موہ لیتی ہے اور سیاح وادیوں میں پہنچ کراللہ کی ثناء کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور دم بخو د رہ جاتا ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں وادی نیلم ،ڈرئی، لیپا، باغ،راولاکوٹ کافی مشہور ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مظفر آباد آزادکشمیر کا دارالحکومت ہے جو قدرتی رنگ اور جدید طرز زندگی کا شاہکار ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں چترال سے تقریباً 178 کلو میٹر کے فاصلے پر کیلاش قبیلے کے لوگ آباد ہیں جو اپنے مذہبی لگاؤ، تہذیبی روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں اپنی الگ ہی شناخت رکھتے ہیں۔ ہر سال موسم بہار میں یہاں ایک میلہ لگتا ہے جو چلمبوشی کے نام سے مشہور ہے ساری دنیا سے کثیر تعداد میں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ چترال میں شندور کے مقام پردنیا کا سب سے بلند ترین پولو گراؤنڈ موجود ہے جہاں ہر سال ٹورنامنٹ بھی ہوتا ہے اور اندرون و بیرون ملک سے کثیر تعداد میں شائقین یہاں آکر اس منفرد پولو میچ سے محظوظ ہوتے ہیں۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں سوات جیسی خوبصورت اور دلفریب وادی بھی موجود ہے۔ جس کو خوبصورتی اور رعنائی کی وجہ سے ایشیاء کا سوئٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کے چشمے آبشار، دریا برف پوش پہاڑی سلسلے، باغات اور گھنے جنگلات اپنی مثال آپ ہیں۔ ہمارے اس پیارے ملک میں ایشیاء کی خوبصورت ترین جھیل جھیل سیف الملوک بھی موجود ہے۔ جو چاروں طرف سے برف پوش پہاڑی سلسلوں میں گھری ہوئی ہے اور اپنے رومانوی قصے کی وجہ سے مزید پر اسرار اور دلفریب ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار جھیلیں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارے اس خوبصورت وطن کی زینت ہیں ان تمام جھیلوں کا تذکرہ یہاں احاطہ تحریر میں لانا ممکن ہے اس کے لیے الگ صفحات درکار ہوں گے۔ صوبہ بلوچستان زیارت میں دنیا کے دوسرے قدیم ترین قیمتی صنوبر کے جنگلات موجود ہیں ان جنگلات میں بہت سے درختوں کی عمر تقریباً 5500 سال ہے جو نایاب ترین تصورکئے جاتے ہیں ان قیمتی اثاثوں کی حفاظت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ زیارت ایک نہایت پر فضا مقام ہے جو تقریباً 11000 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام اس مقام پر گزارے جو زیارت ریزیڈنسی کے نام سے مشہور ہے۔ صوبہ بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 335 کلو میٹر کے فاصلے پرزوب میں کوہ سلیمانی کے پہاڑی سلسلے دنیا کے دوسرے بڑے چلغوزے کی وجہ سے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی قدری نمک کی کان صوبہ پنجاب کے علاقے کیوڑہ میں موجود ہے جہاں سیاحوں کے تفریح کیلئے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں اور ’دکان‘‘ تک جانے کیلئے خصوصی ٹرین ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔
قطب شمالی کے بعد دنیا کے طویل ترین گلیشئرز بھی ہمارے پاکستان میں بھی موجود ہیں جن میں ساچن، گلیشئرز، باتورا گلیشئرز، ہسپر گلیشئرز اور بالترو گلیشئرز قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کا ساحلی علاقہ تقریباً 1100 کلو میٹر پر محیط ہے جو صوبہ سندھ کے علاقے بدین سے شروع ہو کر بلوچستان کے علاقے جیونی تک جاتا ہے۔ ان ساحلی علاقوں میں مینگروز کے نایاب جنگلات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کے سمندری حدود میں کئی جزیرے موجود ہیں جوقدرت کی فیاضیوں کا شاہکار ہیں جہاں آبادی جانور اور ہجرت کر کے آئے پرندے آزادانہ ماحول میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سینڈزپٹ کے ساحل پر نایاب نسل کے ہرے کچھوے پائے جاتے ہیں جو دنیا کے کسی اور خطے میں موجود نہیں۔ اعلیٰ قسم کے جھینگے کثیر تعداد میں مچھلیوں کی اقسام بھی ہمارے ان نیلگوں پانیوں میں موجود ہیں۔ دریائے سندھ طویل سفر کرتا مختلف خطے کو سیراب کرتا، سرسبز و شاداب بناتا، زندگی کو رواں دواں رکھتا بالآخر بحیرہ عرب سے جا ملتا ہے۔ بلاشبہ دریائے سندھ ایک عظیم دریا ہے جو اپنے اندر سینکڑوں کہانیاں سموے ہوئے ہیں۔دریائے سندھ میں سکھر کے آس پاس نایاب نسل کی اندھی ڈولفن پائی جاتی ہے جو اکثر و بیشتر اچھلتی کودتی نظر آتی ہے غیر قانونی شکار ہے باعث اس کی نسل کو معدومیت کا خطرہ ہے اس لیے وائلڈ لائف ان کی بقاء پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ ریگستانوں میں تھر اور چولستان کے ریگستان اپنی مثال آپ ہیں جو اپنے اندر کئی رومانوی داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ اسکردو کے قریب سردریگستان موجود ہے جو بلندو بالابرف پوش پہاڑی سلسلوں کے درمیان دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ریگستان اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آثار قدیمہ کے لحاظ سے تو پاکستان میں بے شمار خزانے چھپے ہوئے ہیں۔ جن میں موہنجودڑو، ہڑپہ، ٹیکسلا اور مہر گڑھ قابل ذکر ہیں اور اس شعبے میں تحقیق کر کے درجنوں مزید گوہر نایاب دفن خزینے نکالے جا سکتے ہیں۔تاریخی مقامات میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، رانی کوٹ، عمر کوٹ، بلتت فورٹ کافی مشہور ہیں جو پاکستان کو دوسرے ملکوں سے منفرد و اعلیٰ مقام دلاتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ارض پاکستان کا چپہ چپہ قابل دید نظاروں سے مزین ہے۔ ارباب اختیار اور متعلقہ ادارے پاکستان کی خوبصورت جھیلوں، آبشاروں، برف پوش پہاڑوں، لہلاتے کھیتوں، خوبصورت ریگستانوں، دلکش آب گینوں تک پہنچنے کیلئے خاطر خواہ بہم سہولت پہنچائیں ۔ گھنے اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان چیئر لفٹ لگائی جائیں۔ تیز و تند دریاؤں میں رافٹنگ کی سہولیات مہیا کی جائے۔ سمندری جزیروں تک رسائی کیلئے فیری اور تیز بوٹ سروس متعارف کروائی جائے اس خوبصورت مقامات تک پہنچنے کے راستوں اور سڑکوں کو پختہ کیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیاحوں کے قیام کیلئے ہوٹلنگ سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔ تاکہ دنیا بھر سے یہاں آنے والے سیاح ہمارے جنت نظیر وادیوں کی سیر کر سکیں اس ایک جانب تو ہمیں خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہو گا دوسری جانب یہاں پر امن فضاؤں کی بازگشت دنیا بھر میں پھیلے گی۔
ماضی میں جب امن و امان کی صورتحال بہتر تھی تو بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے تھے اور ان کا یہاں طویل قیام رہتا تھا اس سے ملک کو سیاحت کی مد میں مناسب آمدن ہوتی تھی لیکن بد قسمتی سے دہشت گردی کے عفریت نے جہاں دیگر شعبوں پر منفی اثرات مرتب کئے وہیں سیاحت کو بھی اس سے بے پناہ نقصانات پہنچے اور سیاحوں نے خوف و ہراس کے باعث یہاں کا رخ ہی کرنا چھوڑ دیا۔ اس کا وطن عزیز کو خاصا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا، ملکی معیشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ گویا پاکستان اس شعبے میں دیگر ممالک سے کوسوں پیچھے چلا گیا۔ اب جبکہ پاک فوج کی کوششوں سے امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہو چکی ہے اور پہلے جیسی سنگین صورتحال نہیں رہی تو یہ حالات سیاحت کے فروغ کا تقاضا کرتے ہیں۔ بہت کم تعداد میں غیر ملکی سیاح پاکستان آرہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو سنجیدہ اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں تاکہ پاکستان سیاحوں کیلئے پر کشش ملک سکے۔ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ہماری ملکی معیشت کی صورتحال بھی تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔ ایسے میں دیگر شعبوں کے ساتھ سیاحت کا فروغ ملکی معیشت کی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ خوش کُن امر یہ ہے کہ اب کافی حد تک دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے جن کو بھی کسی حد تک قابو کر لیا گیا ہے، گویا اب پہلے جیسی بد امنی کی صورتحال نہیں رہی، اُس میں بہتری آئی ہے تو ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سیاحت کے فروغ کیلئے سنجیدہ کوششیں عمل میں لائی جائیں۔ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کی کوششیں کی جائیں انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ نئے سیاحتی مراکز کی تلاش کیلئے اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور جو پرانے سیاحتی مقامات ہیں ان کی حالت زار بہتر بنانے کے ساتھ وہاں مناسب سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ اب دنیا پاکستان میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال کو ستائش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور بیرون ملک کے لوگ یہاں کا رُخ کرنے کا سوچنے لگے ہیں۔ ایسے میں حکومت کے مناسب اقدامات سیاحت کے فروغ اور ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے