Voice of Asia News

کوئلے کی کان کا مزدور اور حکومت کی بے حسی:: محمد قیصر چوہان

علامہ اقبال نے کہا تھا ۔۔۔۔۔ ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات!محنت کش سارا دن محنت کی چکی میں پستا رہتا ہے لیکن شام کو اسے جو معاوضہ ملتا ہے وہ اس قدر قلیل ہوتا ہے کہ اس سے ایک آرام دہ زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ محنت کرنے سے کوئی نہیں مرتا لیکن جب مزدور سے جانوروں کی طرح مشقت کرائی جائے تو پھر عمر کی گھڑیاں گھٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔ جب علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہ ہوں تو بیماری مستقل ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ محنت کے اس عمل میں سب سے مشکل کام کان کَنی ہے۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنا مشکل ہی نہیں جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ میلوں لمبی کان میں گھس کر کوئلہ نکالنا ملک الموت سے بالمشافہ گفتگو کرنے کے مترادف ہے۔ کسی بھی وقت کوئی تودہ گر کر مزدور کو زندہ درگور کر سکتا ہے۔ جومزدور حادثات سے بچ نکلتے ہیں وہ بھی ایک لمبی زندگی نہیں گزارتے۔ کوئلے کے باریک ذرات ،منہ اور نتھنوں سے گزر کر محنت کش کے اندر بھی ایک قسم کی کان بنا دیتے ہیں۔ پھیپھڑے‘ گردے‘ دل بتدریج کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ قانون کی رو سے کام ختم کرنے کے بعد کوئلے کے مزدور کو گرم پانی سے غسل کرنا چاہئے۔ مالکان اس کا بندوبست نہیں کرتے۔ وہ تو ان بیچاروں کو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں کرتے ،ہاٹ واٹر باتھ‘‘ تو بڑے دور کی بات ہے۔ صاف‘ روشن‘ ہوا دار کمرے تک ان مزدوروں کو میسر نہیں، ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح تنگ و تاریک کمروں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں آئے روز خبریں چھپتی ہیں کہ کان میں دب کر اتنے مزدور ہلاک ہوگئے ۔کان کنی بڑا مشکل کام ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی لوگ کانوں میں کام کرنے سے کتراتے ہیں۔ تمام لیبر سوات‘ ٹل‘ ہنگو‘ کوہاٹ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہے۔ چند مزدور ہزارا برادری سے بھی ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔اگر مزدور بیمار پڑ جائے تو اس کو ہسپتال میں بستر نہیں ملتا۔ کان میں حادثے میں ہلاک ہو جائے تو اس کی میت کو آبائی علاقے میں پہنچانے کیلئے ایمبولینس دستیاب نہیں ہوتی۔ اگر کسی سیاست دان ، جرنیل یا پھر کسی بیورو کریٹ کا کتا بیمار پڑ جائے تو ہسپتال کا سارا عملہ اس کی تیمارداری کیلئے کوٹھی پر پہنچ جاتا ہے۔ 2000 سے 2018 تک پاکستان میں گیارہ سو سے زیادہ کان کن کوئلے کی کان میں دھماکے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔رواں سال بلوچستان میں ابھی تک 50 غریب کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لورالائی کے علاقے دکی میں سب سے زیادہ کوئلہ نکالا جاتا ہے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی یہیں ہوتی ہیں۔ اس ملک میں کان کے مالک کی حالت بادشاہوں جیسی ہے۔ وہ اربوں میں کھیلتا ہے اور محلات میں رہتا ہے لیکن کان کن بدنصیب مزدور کی حالت بد ترین ہے اور اس کا مقدر یہی ہے کہ اس نے کان میں خوف ناک صورت احوال میں مرنا ہی ہوتا ہے۔معلوم نہیں اس سیکٹر پر حکومت، عدلیہ اور میڈیا والے توجہ کیوں نہیں دیتے۔ شاید وہ ان مزدوروں کو انسان ہی نہیں سمجھتے یا شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو پیدا ہی مرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کی کانوں میں کہیں نہ کہیں حادثہ ہوتا ہے۔سرمایہ دار طبقے کا کوئی فرد مرتا ہے تو نہ جانے کتنی تعزیت، گل دستے اور پیغامات بھیجے جاتے ہیں، مگر مزدوروں کے جنازے میں ان کے ووٹ سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے والوں میں سے بھی کوئی شرکت نہیں کرتا ۔ جبکہ ان ہی کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ہر چیز ہم روزمرہ استعمال کیے بغیر جی نہیں سکتے۔
1923ء میں انگریز سرکار نے مائین ایکٹ بنایا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت ضروری ہے کہ کوئلہ کان کے نزدیک ہر وقت ایمبولینس موجود رہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ کان کے نزدیک ایک ڈسپنسری اور کوالیفائیڈ ڈاکٹر کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ کان کنوں کیلئے پینے کا صاف پانی ہونا چاہیے لیکن ایسا کوئی انتظام کوئلہ کانوں کے قریب نظر نہیں آتا۔مکان، ماحولیات،، بچوں کی تعلیم اور معقول تنخواہ کے ساتھ ساتھ کام کے دوران حفاظت مہیا کرنا، جیسا کہ شوز، ہیلمٹ، ماسک، یونیفارم، آکسیجن اور بہتر غذا فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مگر ملک کی آزادی کے بعد انگریزوں کے وقت دی گئی جزوی سہولیات سے بھی آج محروم کردیا گیا ہے۔ایکٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ کان کن آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کر سکتا لیکن اس سے بارہ گھنٹے تک کام کرایا جاتا ہے اور بے چارے مزدور کو اوور ٹائم کی مزدوری نہیں دی جاتی۔ میڈیا پر اس حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سول سوسائٹی ان کان کنوں کی اموات اور ان کے حقوق کیلئے آواز نہیں اٹھاتی۔ شاید ان کو انسان نما جانور سمجھا جاتا ہے۔یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس پر میڈیا اور حکومت کو زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئلے کا کاروبار بہت بڑا کاروبار ہے۔ کوئلے کی کانوں کے مالک اربوں کماتے ہیں۔ کیا کبھی نے معلوم کیا کہ ان مزدوروں کو کتنی اجرت دی جاتی ہے؟ جی جناب کوئلہ کان کن کو ہر روز سات سو روپے ملتے ہیں اور وہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔ کان کنی کے دوران ہلاک ہونے والے مزدوروں کا بھی کوئی بھائی، بیوی، بہن یا بیٹا ہوگا، جو ان کی شہادت پر آہ وبکا کرنے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ جہاں مزدوروں کو تحفظات فراہم کیے گئے ہیں، وہاں حادثات کم ہوتے ہیں، جب کہ پاکستان، انڈیا، چین، ایران، جنوبی افریقہ اور ترکی میں یہ شرح زیادہ ہے، جن میں پاکستان پیش پیش ہے۔
اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ استحصال زدہ جو مزدور ہیں، وہ ہیں کان کن، پاور لومز، بھٹہ مزدور،، گارمنٹ، ٹیکسٹائل، سیکیورٹی گارڈ، پٹرول پمپ پر کام کرنے والے مزدور، دکانوں پر کام کرنے والے مزدور، ڈاکٹروں اور وکیلوں کے منشی، جو انتہائی استحصال کے شکار ہیں۔ اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ کان کنوں سمیت محنت کش طبقے کے بارے میں ان کا کیا موقف ہے، مگر یہ تو پتہ چل گیا کہ 33 ہزار روپے تنخواہ پانے والوں پر بھی ٹیکس لگے گا۔ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا تو روز کا خرچہ 33 ہزار سے بھی پورا نہیں ہوگا۔ اب بھلا ایک مزدور 33 ہزار میں کیونکر گزارا کرے گا، باورچی خانہ چلائے گا، علاج کرے، بچوں کو پڑھائے یا گھر کا کرایہ ادا کرے۔ پھر 1300 چیزوں پر ٹیکس لگنے سے روزمرہ کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔وہ اپنی پہلی تقریر میں غریب لوگوں کو اوپر لانے کیلئے بضد تھے۔ اب ان کی نیم فاقہ کشی کی رقوم سے بھی ٹیکس کی شکل میں پیسے بٹورے جائیںِ گے۔ انسان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بجائے مزید مہنگائی میں اضافے سے غریب اوپر کے بجائے اور نیچے چلا جائے گا۔ جب کہ انھیں چاہیے کہ جاگیرداری ختم کرکے زمین کسانوں میں بانٹتے اور تاجروں، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ داروں سے بھاری ٹیکس وصول کرتے۔ اب حکمرانوں کو چاہیے کہ فوری طور پہ کان کنوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے ادا کیے جائیں، ان کے تحفظ کیلئے سارے لوازمات مہیا کیے جائیں، ان کی کم از کم تنخواہ چالیس ہزار روپے مقرر کی جائے۔
کوئلے کی کان میں میتھین گیس بنتی رہتی ہے۔نکاس کا درست انتظام نہ ہو تو دھماکا ہوتا ہے جس سے کان بیٹھ جاتی ہے۔مزدور یا تو ملبے تلے دب جاتے ہیں یا پھر ان کے باہر نکلنے کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔یہ موت بڑی ہی دردناک ہوتی ہے۔ پاکستان کوئلے کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اس کے چاروں صوبوں میں 175 ارب ٹن کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔کان کن کی صحت، جان کی حفاظت، اوقات کار انگریز کے زمانے میں مائنز لیبر ایکٹ مجریہ 1923 میں طے کیے گئے تھے۔پاکستان میں یہ ایکٹ اب بھی قائم ہے مگر اس پر عمل درآمد ندارد ہے۔ ڈیڑھ صدی گزر جانے کے باوجود کان کنی کے طریقہ کار میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔کان میں اترنے سے پہلے (میتھین) گیس چیک کی جاتی ہے نہ ہی کان کنوں کو حفاظتی آلات و اوزار دیے جاتے ہیں۔ نہ ہی کان میں متبادل راستہ بنایا جاتا ہے کہ حادثہ ہونے کی صورت میں وہاں سے نکلا جا سکے۔یہاں اکثر کانیں غیر قانونی ہیں۔ٹھیکداری سسٹم سے چلتے اس شعبے کو صرف نفعے سے غرض ہے۔یہ نا تو کارکن کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں نا ہی ان کے پاس حاضری رجسٹر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ہلاکتیں ہوتی ہیں تو پتہ نہیں چلتا کے کان میں کتنے مزدور کام کر رہے تھے۔تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کارکن جان سے ہاتھ دھوتے ہیں مگر ان کی ہلاکتوں کی خبریں کم ہی منظر عام پر آتی ہیں۔ بیشتر حادثے دبا دیے جاتے ہیں۔ٹھیکیدار کان کن کو فی ٹن 700 روپے کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں۔ یعنی ایک ٹن کوئلہ توڑنے پر سات سو روپے دیہاڑی۔مارکیٹ میں ایک ٹن کوئلہ دس ہزار سے 15 ہزار تک فروخت میں ہوتا ہے۔ رونے کیلئے تو ایک حادثہ بھی کافی ہے۔آخر کوئلے کی کان چلانے والی کمپنیوں سے کیوں سوال نہیں کیا جاتا کہ وہ مزدوروں سے ہفتے میں کتنے دن روزانہ کتنے گھنٹے کام لے رہی ہیں اور ادائیگی کس حساب سے کر رہی ہیں؟مزدوروں کے قیام و طعام، سکیورٹی اور میڈیکل کے کیا انتظامات ہیں؟ اور کیا مزدوروں کو تین ہزار فٹ کی گہرائی میں اتارنے اور کام کرنے کی بنیادی اور مناسب تربیت دی گئی ہے؟کیا انہیں آکسیجن ماسک فراہم کیے جاتے ہیں؟ مائننگ کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں کیا امر مانع ہے؟صرف میڈیا ہی نہیں، حکومت بھی اتنی ہی بے حس ہے۔پچھلے چند میں درجنوں ہلاکتوں کا کون ذمہ دار ہے؟ اس کا جواب آنا ضروری ہے۔ یہ لوگ یہاں مرنے نہیں، روزی کمانے آئے ہیں۔مزدوروں کیلئے قوانین پر عملدرآمد کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن سرکاری اداروں نے سرمایہ داروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کررکھا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کو نہ توڑا گیا تو کوئلے کی کانیں اسی طرح کان کنوں کی قبریں بنتی رہیں گی۔ کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والوں کونیم فاقہ کشی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے اور جو لوگ کچھ نہیں کرتے انہیں لاکھوں روپے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ایک جانب پاکستان میں سیکڑوں ارب پتی ہیں، تو دوسری جانب روزانہ سیکڑوں افراد بیماری اور بھوک سے مر رہے ہیں۔ اس کا تدارک کیے بغیر جمہوریت ایک دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے