Voice of Asia News

امراض گردہ سے بچاؤ کا واحد ذریعہ، آگاہی

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)گردے، نظام بول یا پیشاب کے نظام کے اہم اعضاء ہیں۔ انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کے قریب دو گردے موجود ہوتے ہیں دایاں گردہ جزوی طور پر جگر کے پیچھے واقع ہوتا ہے جب کہ بایاں عموماً قدرے اونچا ہوتا ہے کیونکہ اس کے راستے میں جگر نہیں ہوتا۔ یہ جسم کے پچھلے حصے میں نچلی دو پسلیوں کے برابر لیکن ڈایافرام سے نیچے ہوتاہے۔ انسانی گردہ لوبیا کے دانے کی شکل کا ہوتا ہے اور اپنی جسامت کے لحاظ سے مٹھی بھر ہوتا ہے۔ ہر گردہ لمبائی میں تقریباً 10 سے 12 سینٹی میٹر اور چوڑائی تقریباً 5 سے 7.5 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے جب کہ موٹائی میں یہ تقریباً 2.5 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن بالغ مرد میں 125 سے 170 گرام، جب کہ بالغ عورت میں 115 سے 155 گرام تک ہوتا ہے۔ رنگت میں ہر گردہ سرخی مائل کتھئی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی بارہویں تھوریسک (thoracic) مہرے سے لمبر (lumber) کے تیسرے مہرے تک ہوتی ہے۔ ہر گردے کی دو سطحیں اور دو کنارے ہوتے ہیں۔ اندر والے کنارے سے ہر گردہ درمیان سے پچکا ہوتا ہے۔ اس حصے سے خون کی شریانیں، اعصاب اور وریدیں اندر اور باہر آتی ہیں۔ یوریٹر بھی اسی حصے سے نکلتا ہے۔
دونوں گردے ایک خول میں گھرے ہوتے ہیں جنہیں گردوں کا کیپسول (Renal Capsule) کہا جاتا ہے۔ یہ کیپسول سخت قسم کے ہوتے ہیں۔ ہر گردے کے نیچے چربی کی دو تہیں ہوتی ہیں جو انہیں اپنی جگہ قائم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ گردوں کے اندر رینل آرٹری جاتی ہے اور ان کے اندر رینل وین اور یوریٹر نکلتی ہے۔ ہر گردے کے تین بڑے حصے ہیں: رینل کارٹیکس (Renal Cortex) :بیرونی دیوار رینل کارٹیکس کہلاتی ہے۔ رینل میڈولا (Renal Medulla): اندرونی دیوار کو رینل میڈولا کہا جاتا ہے۔ یہ مثلث کی شکل کی بافتوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ان بافتوں کو رینل پیرامڈ (Renal Pyramids) کہا جاتا ہے۔ یہ رینل کالم (Renal Column) کے ذریعے علیحدہ ہوتے ہیں۔ رینل پیلوس (Renal Pelvis): یوریٹرز، رینل پیلوس ہی میں سے نکلتا ہے۔
گردے انسانی جسم میں عمل استحالہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مضر مادوں کو خون سے الگ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جسم میں رقیق مادوں کا توازن برقرار رکھنے اور حیاتیاتی کیمیائی مادوں کا تناسب بنائے رکھنے کا اہم کام بھی انجام دیتے ہیں۔ پیشاب گردوں سے حالب (یوریٹر) کے ذریعہ مثانے میں پہنچتا ہے اور وقتاً فوقتاً پیشاب کی نالی کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ گردے انسانی جسم میں ترشوی و قلوی توازن کے محافظ و نگہبان بھی ہیں۔ اس توازن میں ذرا سی بھی گڑ بڑ ہو جائے تو انسانی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں موجود اہم شے، یوریا کو بھی ٹھکانے لگاتے ہیں اور اگر یوریا اپنی مخصوص مقدار سے زائد جسم میں جمع ہونے لگے تو یہ انتہائی زہریلے اثرات مرتب کرتا ہے۔ گردے چوبیس گھنٹے خون کے فضلات خارج کر کے خون کو پاک و صاف رکھتے ہیں اور پھر قدرت نے ان کی تعمیر میں یہ حفاظتی کرشمہ بھی رکھا ہے کہ اگر ایک گردہ بیمار یا ناکارہ ہو جائے تو باقی ماند دوسرا گردہ پوری تن دہی سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔
انسانی گردے چونکہ ایک فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں اور یہ جسم کے فاسد مادے پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں اس لیے اگرگردے صحیح طور کام نہ کریں تو فاسد مادے ایک خاص سطح سے زیادہ ہو کر جسم میں زہر پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔ دل کی نالیوں کی طرح گردوں کی نالیاں بھی ہائی بلڈپریشر یا دیگر امراض کی وجہ سے سخت اور موٹی ہو جاتی ہیں۔ یہ نالیاں پوری مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے گردے فاسد مادے، جیسے یورک ایسڈ اور بلڈ یوریا وغیرہ خارج نہیں کر پاتے اور اگر کچھ عرصہ یہ صورتحال برقرار رہے تو گردے فیل ہو جاتے ہیں۔ ان کے فیل ہونے کی ابتدائی علامات اتنی نمایاں نہیں ہوتیں البتہ ان میں سوزش ہونے کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد رہنے لگتا ہے اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے جس کے ساتھ مریض کو جلن کا بھی احساس ہوتا ہے۔ گردے فیل ہونے کی صورت میں مریض نڈھال ہو جاتا ہے اسے قے ہونے لگتی ہے اور مریض شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے ایسی صورت میں مصنوعی طریقے سے فاسد مادے خارج کرائے جاتے ہیں جسے ’’ڈائیلائسز‘‘ کہا جاتا ہے۔
گردوں کے امراض کا سب سے بڑا سبب لاحق ہونے والی معمولی بیماریوں کو نظر انداز کرنا ہے لیکن چند عوامل گردوں کے امراض اور انہیں مزمن نوعیت تک لے جانے کے اہم ذمے دار ہیں مثلاً ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس، گلومونیفر ائی ٹس، موروثی رجحان، بالخصوص پولی سسٹک کڈنی ڈیزیز، عرصہ دراز تک انیلجیسک ادویہ کا استعمال، آرتھر اوسکلیروسس کا عارضہ، جو بعد میں اسکیمک نیفروپیتھی کا باعث بنتا ہے، زیادہ عرصے تک پیشاب میں رکاوٹ ہونا چاہیے یہ گردے کی پتھری کے سبب ہو یا پروسٹیٹ گلینڈ کے عوراض کی وجہ سے، منشیات کا طویل عرصے تک مسلسل استعمال، سکل سیل بیماری لاحق ہونا، مختلف اعضاء کے کینسرز، گردوں کی مزمن سوزش، ہائی بلڈکولیسٹرول، جگر و دل کے امراض۔
ایسے افراد جو گردے کے امراض کا شکار ہو چکے ہوں یا ہونے والے ہوں ان میں یہ علامات پائی جا سکتی ہیں: پیشاب کی بار بار حاجت، بالخصوص رات کے اوقات میں، ٹانگوں اور ٹخنوں پر سوجن کا نمایاں ہونا، آنکھوں کے نیچے سوجن یا تھیلیاں نمایاں ہونا، بلڈپریشر زیادہ رہنا، تھکاوٹ اور کمزوری کی شکایت، بھوک کم ہونا یا ختم ہو جانا، متلی اور قے رہنا، جلد پر زخم لگنا اور جلدی ٹھیک نہ ہونا، سانس کی تنگی، جس میں مریض تکلیف کے عالم میں چھوٹے چھوٹے سانس لے، سر میں درد کا رہنا، ہاتھوں اور پاؤں کا سن ہونا، نیند کے دوران سانس رکنا، دورانِ نیند ٹانگوں میں کھچاؤ محسوس رہنا، چھاتی میں درد رہنا، عموماً دل کے آس پاس، خون کا رکنا، ہڈیوں میں درد رہنا، ہڈیوں کا آسانی سے ٹوٹ جانا، جنسی جذبات کا ٹھنڈا ہو جانا اور تولیدی نظام کا متاثر ہونا۔ گردوں کے مزمن امراض کی چند علامات بھی ظاہر ہوں تو فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ مزید نقصان و تکلیف سے بچا جا سکے جب کہ یہ علامات ظاہر ہوتے ہی دیر نہیں کرنی چاہیے او رفوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے علامات یہ ہیں: جب نقاہت کا احساس نمایاں ہو اور انرجی لیول دن بدن کم ہوتا جائے، جب جسم کے کسی بھی حصے پر سوجن نمایاں ہو، بالخصوص آنکھوں کے نیچے، ٹانگوں پر یا ٹخنوں پر سوجن رہنے لگے تو یہ جسم میں پانی رہ جانے کی علامت ہے، جب محسوس ہو کہ سانس لینے کی نارمل رفتار میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے، جب متلی و قے کی علامات رہنے لگیں، جب سر میں ہلکا ہلکا درد مستقل بنیادوں پر رہنے لگے، اسی طرح جوڑوں یا ہڈیوں میں شدید درد رہنے لگے، جب خارش کی مستقل شکایت محسوس ہو، اگر ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہے یا ہائی پرٹینشن کا شکار ہیں یا ایسی خواتین، جو حاملہ ہوں، انہیں بھی چاہیے کہ وہ اپنا مکمل طبی معائنہ کرانے کیلئے باقاعدگی سے معالج کے پاس جائیں اور کسی بھی تبدیلی یا علامت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
گردے کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے درج ذیل افراد کی لازمی اسکریننگ (Screening) اسی طرح ذیابیطس، ہائی بلڈپریشر اور موٹاپے میں مبتلا افراد، تمباکو نوش، 50سال سے زائد عمر کے افراد، ایسے افراد جن کے خاندان میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردوں کی پتھری کی موروثی وجوہ ہوں ۔اسی طرح گردوں کے امراض ، جب ابتدائی مراحل میں ہوں تو ان کا عموماً پتا نہیں چلتا، اس لیے جوں ہی علامات نمایاں ہوں تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ضروری ٹیسٹ تجویز کر کے گردوں کے امراض کی تشخیص کر سکے۔
مرض کی تشخیص ہوتے ہی یہ ضروری امر ہے کہ مریض خود اور اس کی دیکھ بھال کرنے والے افراد مریض کے رہن سہن اور کھانے پینے کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ ایسے حالات میں عموماً درج ذیل ضروری نکات پر ضرور غور کرنا چاہیے تاکہ ان امراض کی وجہ سے جسم کے دیگر اعضاء ریئسہ کو مختلف عوارض سے محفوظ رکھا جا سکے اور مزید کسی قسم کی پیچیدگی نہ ہو، روزمرہ غذا میں نمک کی مقدار کم اور پروٹین سے بنی اشیاء پر کنٹرول، کچھ مریض پانی بہت زیادہ پینے لگتے ہیں، یہ اضافہ بھی معالج کی ہدایت کے مطابق کیا جائے، گردوں کے مزمن امراض سے متاثرہ افراد میں پوٹاشیم کا لیول قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے پوٹاشیم ملی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی صورت میں دل کے افعال میں بے قاعدگی کا خدشہ ہوتا ہے (پوٹاشیم کی حامل غذاؤں میں کیلا، مالٹا اور آلو وغیرہ شامل ہیں) گردوں کے مزمن امراض کے شکار افراد کو اپنی خوراک میں فاسفورس ملی اشیاء سے بھی پرہیز کرنا چاہیے تاکہ ہڈیوں کی بوسیدگی کا عارضہ لاحق نہ ہو، فاسفورس کی حامل اشیاء میں انڈے، دودھ سے بنی اشیاء اور کولا مشروبات سرفہرست ہیں، خون کے دباؤ یعنی بلڈپریشر کو قابو میں رکھنا چاہیے، تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کریں، زائد وزن کم کرنے کی کوشش کریں، ذیابیطس پر کنٹرول ،وقتاً فوقتاً خون میں شوگر کی مقدار کی جانچ کروائیں، باقاعدگی سے ورزش کریں، کوئی بھی دوا، چاہے وہ ملٹی وٹامن ہو یا معمولی درد کش گولی ہی کیوں نہ ہو معالج کی رہنمائی کے بغیر ہرگز نہ لیں۔ اسی طرح ہائی بلڈپریشر پر کنٹرول، غذا میں نمک کا استعمال کم سے کم، جسم میں خون کی کمی واقع نہ ہونے دیں، خون میں شوگر لیول کنٹرول میں رکھیں، یعنی ذیابیطس کے عارضے سے بچیں، موٹاپے پر کنٹرول، یعنی وزن کو قد کے مطابق رکھیں، تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب برتیں، کسی بھی نشہ آور شے کے استعمال سے گریز کریں اور صحت مندانہ سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، واکنگ و جوگنگ باقاعدگی سے کریں، پیشاب کی رکاوٹ یا پیشاب کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر بھی معالج سے مشورہ کریں، ازدواجی تعلقات، شریک حیات تک ہی محدود رکھیں، حتیٰ الوسع کوشش کریں کہ پیشاب کی حاجت رفع کرنے کے لیے بیت الخلاء ہی استعمال کیا جائے۔ کسی نالی یا میدان میں پیشاب کرنے سے اجتناب برتیں، پیشاب و پاخانے کے بعد استنجا ضرور کریں، ذہنی و نفسیاتی عوارض کی صورت میں مستند معالج سے فوراً رابطہ کریں، ازخود کوئی سکون بخش دوا نہ لیں، پیشاب کی حاجت کو بلاوجہ نہ ٹالیں، نماز پنجگانہ اور دیگر احکام خداوندی باقاعدگی سے ادا کریں۔
 

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے