Voice of Asia News

اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، دہشت گردی کا نہیں: محمد قیصر چوہان

امن کے لفظی معنی چین، اطمینان، سکون وآرام نیز صلح، آشتی وفلاح کے ہیں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند، مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی، معاشی، مساوت اور سیاسی حقوق و تحفظ حاصل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں، امن کا دور اختلافات یا جنگ کی صورت حال کی غیر موجودگی سے تعبیر ہے۔ امن بارے تحقیق اس کی غیر موجودگی یا تشدد کی وجوہات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ امن، امان، شانتی، سلامتی ایسے الفاظ ہیں جن کو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔ ہر فرد بشر کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے معانی سے وہ فائدہ اٹھائے، اور سکون و چین کی زندگی گزارے۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی تواس وقت یہ الفاظ اپنے معانی سے عاری ہو چکے تھے، الفاظ تو تھے لیکن معانی کا کہیں وجود نہیں تھا، اور لوگ اس کو ترستے تھے۔ اللہ نے انسانیت پر رحم فرمایا اور انسانوں کی ہدایت کے لئے نبی رحمتؐ کو مبعوث فرمایا۔ اب کیا تھا جہاں جنگل کا راج تھا وہاں امن و امان کی فضا چھا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف صلح و آشتی اور امن و شانتی کا آوازہ بلند ہونے لگا۔ اور دنیا صحیح طور پر ان الفاظ کے معانی سے آشنا ہوئی۔اسلام کا لفظ، "س ل م” سے مشتق ہے، جس کے معنی، امن اور سلامتی کے ہیں۔اسلام کے لفظ ہی سے سلامتی ٹپکتی ہے اور ایمان کے مادہ ہی سے امن و امان رستا ہے۔ اسلام کی ہر تعلیم امن وسلامتی کی مظہر اور ہرمسلم آشتی اور شانتی کا پیام بر ہے۔ باوجود اس کے انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ دشمنان اسلام نے تعلیمات اسلام کو امن مخالف بلکہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت امن وسلامتی کے پیغمبرہیں۔امن ہی اسلام کا قلعہ ہے، اور مسلمان اس قلعے کے باسی ہیں، یہ قلعہ مسلمانوں کی دشمنوں سے حفاظت کرتا ہے، اور مسلمان اس قلعے کی شریر عناصر سے حفاظت کرتے ہیں، امن اسلام کی چار دیواری ہے، اسی چار دیواری میں مسلمان اپنے آپکو محفوظ تصور کرتے ہیں، نیز شرپسند اور باغیوں سے اپنے آپ کو بچا پاتے ہیں، مسلمان اس چار دیواری کو ٹوٹنے اور گرنے سے محفوظ رکھتے ہیں، بلکہ کسی قسم کا شگاف بھی نہیں پڑنے دیتے کیونکہ اللہ تعالی نے اسی کی بقا میں دین، مال و جان، عزت آبرو، لین دین، آزادانہ نقل و حرکت سمیت زندگی کی تمام سر گرمیوں کی بقا رکھی ہے۔
عمومی طور پر امن تباہ کرنے میں عدم تحفظ، سماجی بگاڑ، معاشی عدم مساوات، غیر متوازن سیاسی حالت، قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔دورِ حاضر کے ذرائع ابلاغ دہشت گردی کا لفظ بکثرت استعمال کررہے ہیں اور بعض سیاسی عناصر یہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش بھی کررہے ہیں کہ نعوذ باللہ! اس کا رشتہ اسلام سے ہے جبکہ تشدد اور اسلام میں آگ اور پانی جیسا بیر ہے، جہاں تشدد ہو وہاں اسلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، اسی طرح جہاں اسلام ہو وہاں تشدد کی ہلکی پرچھائیں بھی نہیں پڑسکتی۔ اسلام امن وسلامتی کا سر چشمہ اور انسانوں کے مابین محبت اور خیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہیجیسا کہ لفظ اسلام کے لغوی معانی سے ظاہر ہے کہ اسلام کہتے ہیں ’’سلامتی‘‘ کو۔ ایسی سلامتی جس میں آپ کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں۔یہ محض ایک مذہب یا عبادات کا نظام نہیں بلکہ اسلام نام ہے آشتی کا، فتنہ و فساد سے نجات اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کا۔ اسلام نام ہے رواداری کا ، برداشت اور بردباری کا، اسلام نام ہے عدل و مساوات کا، حسنِ خیالات کا ، احترامِ جذبات کا اور تحفظِ ذات کا۔اسلام دین رحمت ہے،اس کا دامن محبت ساری انسانیت کو محیط ہے، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، غمخواری ورواداری کا معاملہ کریں اوراسلامی نظام حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی، بھیدبھاؤ اور امتیاز کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ان کی جان ومال عزت وآبرو، اموال اور جائیداد اورانسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔ تشدد کا خمیر ظلم ،جبر اور وحشت سے اْٹھتا ہے اور خونریزی وغارت گری سے اس کی کھیتی سیراب ہوتی ہے۔ کائنات کے جملہ ادیان ومذاہب میں انسانی جان کے احترام و وقار اور امن و اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو اولیت دی گئی ہے، الحمد للہ! اس سلسلے میں اسلام کا درجہ سب سے عظیم ہے۔ واضح اسلامی تعلیمات کے فیض سے دنیا میں انسانی جان کے تحفظ کا حیرت انگیز منظر سامنے آیا اور دنیا میں بڑی بڑی سلطنتوں کے اندر انسانی جان کی ناقدری کے خوفناک واقعات اور ہولناک تماشوں کے سلسلے اسلام کی آمد کے بعد موقوف ہوگئے اور دہشت وخون ریزی سے عالم انسانیت کو نجات ملی، انہیں تعلیمات کے باعث ایک مختصر مدت میں عرب جیسی خونخوار قوم تہذیب وشرافت کے سانچے میں ڈھل گئی اور احترامِ نفس وامن و سلامتی کی علمبردار ہوکر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی۔امن و سلامتی احساس تحفظ اسلام کے بنیادی عناصر ہیں۔ یہ وہ نظامِ حیات ہے جس نے اپنے عہدِ عروج میں ثابت کیا ہے کہ اس نظام کے اطلاق سے دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلامی سلطنت ، ساڑھے بائیس لاکھ مربع کلو میٹر تک پھیل چکی تھی۔ لیکن نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک ہر کہیں انسان کو احساسِ تحفظ حاصل تھا۔امن کے ماحول میں ساری انسانی آبادی نہایت اطمینان اور امن و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی۔
آج اسلامی اقدار کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔مذہب اسلام نے تشدد و دہشت گردی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور امن وسلامتی کو فروغ دینے کی تلقین کی ہے۔ اسلام کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا ظلم وتعدی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ظلم کا بدلہ تو لیا جاسکتا ہے، لیکن اگر مظلوم تجاوز کرگیا تو وہ بھی ظالم کی صف میں آجائے گا۔ بدلہ لیتے وقت یہ بات ملحوظ رہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ دہشت گردی اور تشدد کے سلسلے میں اسلام کا موقف بالکل صاف اور واضح ہے کہ اسلام قتل ناحق کا مخالف ہے، جس کی وعید قرآن کریم کچھ اس طرح بیان کرتا ہے۔ترجمہ ( جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا)۔ اسی طرح اللہ کے رسول ؐکا ارشاد ہے۔( اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنااور والدین کی نافرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے)۔ آج اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ مسلمان پوری کائنات میں اپنی دہشت گردی کے ذریعہ اسلام پھیلانا چاہتے ہیں، جبکہ قرآن نے خود اْن کے ان باطل افکار کی تردید کی ہے ،ترجمہ (دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، سیدھی راہ غلط راہ سے الگ ہو چکی ہے)۔ اسی طرح قرآن کریم دوسرے مقام پرارشاد فرماتا ہے ۔ترجمہ (اور جولوگ اللہ کے علاوہ کسی اورکی عبادت کرتے ہیں اْنہیں گالی مت دو)۔ اسلام مذہبی عقائد اور اشاعتِ دین کے سلسلے میں نہایت انسان دوست اور بردبار ہے، جبراً کسی پر بھی کوئی چیز تھوپنے کی یا حلق سے اْتارنے کی کسی کو اجازت نہیں دی ہے۔ اگر اسلام کا نام لے کر کہیں اور کبھی کوئی بھی دہشت گردی یا تشدد کا مظاہرہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام سے ایک انحراف کا فعل بد ہے۔ جسے شریعت اسلامیہ کے بدترین استحصال پر محمول کیا جائے گا۔ اسلام اذیت پسندی اور فساد انگیزی کا روادار نہیں۔ اسلام میں صرف مسلم معاشرہ کے اندر کسی بھی اختلاف کو ختم کرنے کے سلسلے میں تشدد سے کنارہ کشی کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح یا ایک خطے یا سرزمین پر رہنے والے مختلف مذاہب وادیان کے لوگوں کے ساتھ بھی اعلیٰ درجے کے حسنِ اخلاق کی ہدایت دی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،ترجمہ (لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤکرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ مذ ہب اسلام نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور ظالم کے روبرو حق کہنے پر زور دیا ہے اور اْسے ایک حقیقی مومن کا ضروری وصف قرار دیا ہے ۔اس کے باوجود دورِ حاضر میں جب بھی دہشت گردی موضوع بحث بنتی ہے، مغربی دانشور بالعموم اسلامی تحریکوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ۔حالانکہ اس سلسلے میں اب تک کوئی مبینہ ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا ہے، اس لیے اسلامی تحریکو ں یا اسلامی بیداری کے مخالفین کا یہ رویہ عدل و انصاف کے قطعی منافی ہے۔ دہشت گردی ایک وحشیانہ فعل ہے اور اسلام کے تہذیبی نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام انسان کو صرف خدا کا خوف دلاتا ہے، لہٰذا وہ کسی انسان کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنا خوف دلائے اور اْنہیں خوف زدہ کرکے اپنے اَغراض و مفادات حاصل کرے۔ معاشرے میں کشیدگی اسلام کو گوارا نہیں، وہ تو ہر قسم کی کشمکش اور چپقلش ختم کرکے ایک پر امن ماحول میں افراد کے درمیان پیار ومحبت اور فلاحی کاموں میں اشتراک وتعاون کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اسلامی تاریخ ، روایات اور مزاج اس بات کے گواہ ہیں کہ اس نے کبھی دہشت گردی اور تشدد کی اجازت نہیں دی ہے اور دنیامیں جو اس نے عظیم انقلاب برپا کیا وہ اپنے اخلاق حسنہ کے زور پر کیا ہے۔اِسلام، اِیمان اور اِحسان کے تینوں الفاظ اپنے معنی اور مفہوم کے اِعتبار سے سراسر اَمن و سلامتی، خیر و عافیت، تحمل و برداشت، محبت و اْلفت، اِحسان شعاری اور اِحترامِ آدمیت کی تعلیم دیتے ہیں۔ دین اسلام ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی اَمن و سلامتی، رافت و رحمت، اِعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے