Voice of Asia News

دین اسلام اورامن : محمد قیصر چوہان

امن، سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تمام معاملات معمول کے ساتھ بغیر کسی پر تشدد اختلافات کے چل رہے ہوں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند، مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی، معاشی، مساوت اور سیاسی حقوق و تحفظ حاصل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں، امن کا دور اختلافات یا جنگ کی صورت حال کی غیر موجودگی سے تعبیر ہے۔ امن کو تحفظ، بہتری، آزادی، دفاع، قسمت اور فلاح کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انفرادی طور پر امن سے مراد تشدد سے خالی ایک ایسی طرز زندگی کا تصور لیا جاتا ہے جس کی خصوصیات میں افراد کا ادب، انصاف اور عمدہ نیت مراد لی جاتی ہے۔ معاشرے میں انفرادی طور پر امن کی حالت ہر فرد پر یکساں لاگو ہوتی ہے جبکہ مجموعی طور پر کسی بھی خطے کا پورا معاشرہ مراد لیا جاتا ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں لفظ امن یا سلامتی کو خوش آمدید یا الوداعی کلمات کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی زبان کا لفظ Aloha یا پھر عربی زبان کا لفظ سلام، امن یا سلامتی کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ الوداعی یا خوش آمدیدی کلمات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ انگریزی زبان میں PEACE کا لفظ الوداعی کلمات میں استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر مردہ افراد کیلئے ایک فقرہ استعمال ہوتا ہے جیسے، Rest in Peace۔
امن و سلامتی احساس تحفظ اسلام کے بنیادی عناصر ہیں۔ یہ وہ نظامِ حیات ہے جس نے اپنے عہدِ عروج میں ثابت کیا ہے کہ اس نظام کے اطلاق سے دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلامی سلطنت ، ساڑھے بائیس لاکھ مربع کلو میٹر تک پھیل چکی تھی۔ لیکن نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک ہر کہیں انسان کو احساسِ تحفظ حاصل تھا۔امن کے ماحول میں ساری انسانی آبادی نہایت اطمینان اور امن و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھی۔
عمومی طور پر امن تباہ کرنے میں عدم تحفظ، سماجی بگاڑ، معاشی عدم مساوات، غیر متوازن سیاسی حالت، قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں جنگ کا عالم ہے۔ تیل کی تلاش میں نکلی کولمبس کی اولاد کسی دجال کی طرح پوری دنیا کے امن کو برباد کیے ہوئے ہے۔کشمیر،فلسطین،شام،عراق،افغانستان،پاکستان،میانمر میں خون کی ندیا ں بہہ رہی ہیں۔یورپ کے کئی ممالک بھی بدامنی کے اس ریلے سے محفوظ نہیں۔ اس قیامت خیز قتل و غارت کی تمام تر وجہ انسانی معاشرے میں نافذ نظام ہائے حیات و حکومت کا ناقص ہونا ہے۔انسانی معاشرہ اللہ تعالیٰ کی باشعور مخلوق کا ایک اجتما ع ہے۔ کیا کسی مخلوق کے لیے مخلوق کا بنایا ہوا نظام کارگر ہوسکتا ہے؟ کبھی نہیں !133ہم جس خالق کی تخلیق ہیں، ہمارے لیے امن وسلامتی کے ساتھ جینے کا شیڈول بھی اسی نے دیا ہے۔
امن کے لفظی معنی جس طرح چین، اطمینان، سکون وآرام، صلح، آشتی وفلاح کے ہیں، اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن وسکون اورلازوال سلامتی کا مذہب۔جیسا کہ لفظ اسلام کے لغوی معانی سے ظاہر ہے کہ اسلام کہتے ہیں ’’سلامتی‘‘ کو۔ ایسی سلامتی جس میں آپ کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں۔یہ محض ایک مذہب یا عبادات کا نظام نہیں بلکہ دین اسلام ،نام ہے آشتی کا، فتنہ و فساد سے نجات اور لڑائی جھگڑے سے اجتناب کا۔ اسلام ،نام ہے رواداری کا ، برداشت اور بردباری کا، اسلام نام ہے عدل و مساوات کا، حسنِ خیالات کا ، احترامِ جذبات کا اور تحفظِ ذات کا۔اسلام میں امن کا اتنا واضح تصور موجود ہے کہ دیگر ادیانِ عالم ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں، مثال کے طور پرقرآن پاک کی آیت کا ترجمہ ہے:(جو شخص قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا ملک میں فساد کرنے لگے تو گویا قتل کرڈالا اس نے سب لوگوں کو اورجس نے زندہ رکھا ایک جان کو توگویا زندہ کردیا سب لوگوں کو)۔
رحم، خیرخواہی اور امن پسندی اسلام کے بنیادی عناصر ہیں، اسلام میں پہلے سلام پھر کلام کی ترغیب آئی ہے۔ السلام علیکم کے صرف یہ معنی نہیں ہیں کہ تم پر سلامتی ہو، بلکہ یہ اس مفہوم پر بھی محیط ہے کہ تم میری طرف سے محفوظ و مامون ہو۔ اسلام میں ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے، جس میں اللہ کے دو صفاتی نام یعنی رحمن ورحیم بھی شامل ہیں، یعنی بڑامہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس طرح بندوں کے کردار پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔’’عملی طور پر ایک مسلمان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں امن وسلامتی کا پیغامبر بنے نہ کہ تشدد، نا انصافی اور ظلم و زیادتی کاسفیر۔
اسلام میں امن وسکون کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے اور ظلم وستم سے اس روئے زمین کو پاک کرنے کی اتنی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ دیگر مذاہب عالم اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔’’اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اور اس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہء اخلاق پیش کیا، جس کا نام ہی ’’اسلام‘‘ رکھا گیا ،یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں۔ اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی واخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی۔ آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتاہے اورہر طبقہ اپنے اپنے طور پر کسی گہوراۂ سکون کی تلاش میں ہے، یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔اسلام ظلم کوکسی حالت میں اور کسی بھی نام اور عنوان سے برداشت نہیں کرتا۔ وہ اپنے فرزندوں کو جان، مال ومذہب، عقیدہ، وطن، مذہبی مقدسات، شعائر دین، مساجد ومعابد وغیرہ کی حفاظت، ان کے دفاع اور کسی بھی طرح کی تعدی سے ان کے بچاؤ کی تدبیر کرنے کا ناگزیر حکم دیتا ہے اور ان ساری سازشوں کو ناکام بنادینے کا انہیں پابند بناتا ہے جو خود ان کے خلاف کی جائیں یا انسانیت کے خلاف روبہ عمل لائی جائیں۔اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ اسلام دنیا میںآ یا ہی ظلم وجبر سے نجات کیلئے ہے۔دین اسلام واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں امن وسلامتی کا عنصر زیادہ ہے، وہ تمام معاملات میں ان پہلوؤں کو اختیار کرنے پر زور زیادہ دیتا ہے جن میں نہ خود کوئی زحمت اٹھانی پڑے اور نہ دوسروں کو کوئی تکلیف ہو، اللہ تعالیٰ نے مومنین کا یہ وصف بیان کیا ہے وہ تسامح اور صلح جوئی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جبکہ فریق ثانی سے زیادتی اور جھگڑے کا اندیشہ ہو۔’’لاضرر ولاضرار‘‘ اسلام کا وہ لائحہ عمل ہے، جس کی روشنی میں ممکنہ حد تک قوت اور اثرات کے ذریعہ مظلوم کی دستگیری کی جائے اور ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے۔
رحمت دراصل اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور رحمن ورحیم اس کے خاص نام ہیں اور جن بندوں میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا جتنا عکس ہے، وہ اتنے ہی مبارک اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اتنے ہی مستحق ہیں اورجو جس قدر بے رحم ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے اسی قدر محروم رہنے والے ہیں۔جس طرح سورہ فاتحہ کی شروعات ہی رحمتِ عالم کے اعلان کے ساتھ ہوتی ہے،ترجمہ (سب تعریفیں اس پروردگار کیلئے ہیں جو سارے جہان کا پالنے والاہے، مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے)۔ اس آیت میں خداکو رب العالمین کہاگیا ہے، رب المسلمین نہیں۔ جس سے اسلام کے فیض عمومی کا اندازہ بلاتکلف لگایا جاسکتا ہے۔قرآن نے نہ صرف رب کائنات کو بلکہ پیغمبرآخرالزماں کی تخصیص وتحدید بھی صرف مسلمانوں کیلئے نہیں کی بلکہ اس کا دائرہ سارے عالم کے لیے وسیع کرتے ہوئے فرمایا،ترجمہ ہے ،(ہم نے آپ کو سارے عالم کے لیے رحمت ہی بناکر بھیجا ہے)۔
چونکہ اللہ رب العزت کی ذات رحمن ورحیم ہے اور پیغمبر آخرالزماں رحمۃ للعالمین لہٰذا دونوں کی انتہائے رحمت کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات محبت وشفقت، رحمت ورافت کا سرچشمہ بن گئیں۔ اسلامی تعلیمات پوری کائنات کیلئے امن وسلامتی، اتحاد واتفاق، احترام آدمیت، ہمدردی وغم خواری، وحدت ومساوات، رحم وکرم، عفو ودرگزر، صلح وآشتی، عدل وانصاف، سکون واطمینان اور پرامن بقائے باہم لامنتاہی ثابت ہوئیں۔ مذکورہ خوبیاں جن سے اسلام متصف ہے، دراصل امن کیلئے خمیر کی حیثیت رکھتی ہیں، جن سے صرف نظر کرکے امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اسلام کی انہیں گوناگوں خوبیوں نے اسے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب بلااکراہ پھیلادیا، جس میں جورو تعدی یا شمشیروسنان کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔ جن لوگوں نے تاریخ اسلام کا معروضی مطالعہ کیا ہے اور معاندانہ کے بجائے منصفانہ ذہن ودماغ کے حامل ہیں، انہیں اس کا دل سے اعتراف ہے کہ اسلام اپنی مذکورہ بالا خوبیوں کے سبب ہی دنیا میں پھیلا اور آج بھی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔
عفوودرگزر قیام امن کیلئے کس قدر ناگزیر ہے، یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ سرزمین عرب پر خاص طور سے قتال وجدال کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس وقت رکا جب آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ وسلم طلوع ہوا، ورنہ پشتہا پشت بدلے لینے کی روش برقرار رہتی تھی، لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آئندہ کیلئے ختم کردیا اور اولیں قربانی خود پیش کی اور اپنے خاندان پر ہونے والے مظالم کو فراموش کردیا اور ان کے اوپر بیک جنبش قلم خطِّ عفو کھینچ دیا۔ جہاں تک عفوودرگزر کا سوال ہے۔
’’ارباب سیر نے تصریح کی اور تمام واقعات شاہد ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا،قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکی دی، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپ کی شان میں گستاخیاں کیں، نعوذ باللہ کبھی جادوگر، کبھی پاگل، کبھی شاعر کہا، لیکن آپ نے کبھی ان کی باتوں پر برہمی ظاہر نہیں فرمائی۔‘‘انسان کے ذخیرۂ اخلاق میں سب سے کم یاب، نادرالوجود چیز دشمنوں پررحم اور ان سے عفوودرگزر ہے، لیکن حاملِ وحی ونبوت کی ذات اقدس میں یہ جنس فراواں تھی۔ دشمن سے انتقام لینا انسان کا قانونی فرض ہے، لیکن اخلاق کے دائرۂ شریعت میں آکر یہ فرضیت مکروہ تحریمی بن جاتی ہے۔ تمام روایتیں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ دشمنوں سے انتقام کا سب سے بڑا موقع فتح حرم کا دن تھا جب کہ وہ کینہ خو سامنے آئے جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے تھے اور جن کے دستِ ستم سے آپ نے طرح طرح کے اذیتیں اٹھائی تھیں، لیکن ان سب کو یہ کہہ کر چھوڑدیاکہ ترجمہ (تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو)۔’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عربوں جیسی وحشی اور جنگجوقوم کو اس فضا سے نکال کرامن اور بھائی چارہ کا درس دیا۔ اگر انہوں نے کبھی جنگ بھی لڑی تو اس وقت، جب انھیں مجبور کیاگیا یا جب قیام امن کیلئے ناگزیر ہوگئی۔قیام امن میں رواداری، حسن سلوک اور حقوق کی پاسبانی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس امر کے وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ان تینوں بنیادی امور کے محاذ پر بھی اسلام سب سے اعلیٰ وارفع منہاج فراہم کرتا ہے۔ اسلام بلاشبہ نہ صرف اپنوں بلکہ دوسروں کیلئے بھی رحیم وشفیق بننے کی ہدایت کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ترجمہ (تم دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرو جیساکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کرتاہے)لیکن اس سلسلے میں بھی وہ جادۂ اعتدال سے ہٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام راواداری، محبت، شائستگی، شرافت اورمعقولیت کی تعلیم ضرور دیتا ہے، لیکن ایسی عاجزی اور مسکینی کی بھی تعلیم نہیں دیتا کہ اس کے پیروہرظالم کیلئے نرم چارہ بن کر رہ جائیں۔سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی بندگی کیلئے شرط اولیں قرار دیا ہے۔’’اگر تمہیں خدا کی بندگی کرنی ہے تو پہلے اس کے بندوں سے محبت کرو‘‘۔اسلام دین رحمت ہے،اس کا دامن محبت ساری انسانیت کو محیط ہے، اسلام نے اپنے پیروکاروں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور اہل مذاہب کے ساتھ مساوات،ہمدردی،غمخواری،رواداری کا معاملہ کریں اوراسلامی نظام حکومت میں ان کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی، بھیدبھاؤ اور امتیاز کا معاملہ نہ کیا جائے۔ ان کی جان ومال عزت وآبرو، اموال اور جائیداد اورانسانی حقوق کی حفاظت کی جائے۔اسلام اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ بے ضرر کافروں سے بغض وعداوت رکھی جائے، یہ فعل اسلام کی نظر میں غیرمطلوب اور انتہائی ناپسندیدہ ہے۔اسلام نے کفارِ مکہ، یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ منافقوں کے ساتھ بھی کھل کر حسن سلوک کی ہدایت دی ہے۔ اس نے جہاں رشتہ داروں، قرابت داروں کے حقوق متعین کیے ہیں، وہیں قیدیوں، عام انسانوں اور غیرمسلم رعایا(ذمیوں) کے حقوق کی بھی وضاحت کی ہے۔جہاد کا حکم شریعت مطہرہ میں خالق ارض وسما نے بڑی مصلحتوں کے پیش نظر بڑے قیدوبند اور اصول وضوابط کے ساتھ دیا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی یہ خوبصورت دنیا فتنہ وفساد سے پاک ہوکر امن وامان کا گہوارہ بن جائے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری انسانیت کو اس نے اپنی خاندان قرار دیا ہے اور من آذی النَّاس آذی اللّٰہ فرماکر شریعت نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت عمومی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ جہاد کے درج ذیل چند بنیادی مصالح سے اس کی حکمت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جہاد لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کیلئے نہیں بلکہ اسلام کی عزت اور ناموس کی حفاظت کیلئے ہے۔ تلوار، تیر اور خنجر سے کوئی عقیدہ قلب میں نہیں اترسکتا بلکہ اگر اسلام کو تلوار اور تیر سے پھیلایا جاتا تو اسلام پھیلنے کے بجائے کمزور ہوتا اور لوگ اپنے اس مذہب کے دشمن بن جاتے۔یاد رکھیں کہ حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے، ظلم کے ساتھ نہیں، کیونکہ ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ۔ دنیا میں اتنی طویل المدتی اسلامی حکومتیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انہوں نے ظلم وستم کے بجائے انصاف اور عدل کو اپنا شعار بنایا اور ملک کے باشندوں کو بلاتخصیص مذہب وملت ہمیشہ ایک آنکھ سے دیکھا، ان کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز روا نہیں رکھا۔ انہوں نے اسپین میں اپنے آٹھ سو سالہ دور حکومت میں شمشیر کا استعمال نہیں کیا۔ پورا خطّہء عرب گزشتہ چودہ صدیوں سے عربوں کے زیرنگیں ہے اور وہاں کم وبیش ڈیڑھ کروڑ قبطیوں کی موجودگی اس حقیقت کی غماز ہے کہ اگر مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت میں تلوار کا سہارا لیا ہوتا یا بزور قوت مسلمان بناتے تو آج قبطیوں کا وہاں نام ونشان بھی نہ ہوتا۔دورِ حاضر کے ذرائع ابلاغ دہشت گردی کا لفظ بکثرت استعمال کررہے ہیں اور بعض عناصر یہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش بھی کررہے ہیں کہ نعوذ باللہ! اس کا رشتہ اسلام سے ہے جبکہ تشدد اور اسلام میں آگ اور پانی جیسا بیر ہے، جہاں تشدد ہو وہاں اسلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، اسی طرح جہاں اسلام ہو وہاں تشدد کی ہلکی پرچھائیں بھی نہیں پڑسکتی۔ اسلام امن وسلامتی کا سر چشمہ اور انسانوں کے مابین محبت اور خیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے۔بلاشبہ مسلمانوں ہی کے ذریعہ آج پھر اس دنیا میں امن وامان پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام اپنے حسن اخلاق اوراپنے ہمہ گیر نظام امن سے دنیا کو پھر امن سے بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اورامیر، غریب، کمزور اور قوی کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت رکھتا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے