Voice of Asia News

بچوں میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا کیا جائے؟

لاہور(و ائس آف ایشیا)بچوں کی بہترین تربیت ان کا بنیادی پیدائشی حق ہے۔ یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچے کی تر بیت میں بہترین کردار ادا کریں۔ بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا درحقیقت ان کی نفسیا تی تربیت کا حصہ ہے ۔ یہ احساس بچوں میں جگانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ان کی تعلیم اور غذا کا خیال رکھنا۔ اسی طریقے سے ان کی نفسیاتی تربیت ہو نا بھی زند گی کا بہت اہم پہلو ہے ۔ بچوں میں مثبت اور منفی رویے بیدار کر نے میںگھر کی تربیت ، ارد گرد کا ما حول، اسکول اور بچے کے دوست ، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ہر چیز پر نظر رکھنا، اچھے برے کا فرق سمجھانا والدین کا فرض ہے۔

ان رویوں میں اک بہت اہم رویہ احساس ذمہ داری بھی ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں کم ہو تا جا رہا ہے۔ اکثر لوگ بے پروائی،بے حسی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ ان میں یہ عادت بچپن سے ہو جو وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگئی ہو۔ ایسے لوگ معاشرے اور خود اپنے اہل خانہ پر بوجھ بن جا تے ہیں۔ شروع ہی سے اگر بچوں میں احساس ذمہ داری کی عادت ڈالی جا ئے تو پھر وہ محنت سے جی نہیں چُراتے۔ ان کے اندر سے کا ہلی ،سستی اور کام چوری کی عادت ختم ہو جا تی ہے۔ پھر وہ بڑے ہو کرکام یاب انسان بنتے ہیں اور اپنے والدین اور ملک کا نام بھی روشن کرتے ہیں۔ اسی احساس ذمہ داری کی وجہ سے وقت کی پابندی اور اپنے کام کو وقت سے پہلے مکمل کر نا بھی ان کی عادات میں شامل ہو جا تا ہے ۔ یہی عادت ان کی ترقی اور کامیا بی کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح وہ الجھن اور جلد بازی میں کام بگڑنے اور پورا نہ ہو نے کی پریشانی سے بچ جا تے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان کا موڈ ہمیشہ خوشگوار اور زندگی سے بھر پور رہتا ہے۔ ان کی جسمانی صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ بچوں میں احساس ذمہ داری کیسے پیدا کیا جائے؟ اس کے لیے والدین کوسب سے پہلے خودکو ذمہ دار انسان ثابت کر نا ہو گا۔کیوںکہ بچے جو کچھ اپنے والدین کو کر تا ہوا دیکھتے ہیں، وہی سیکھتے ہیں ۔ اگر والدین نماز پڑھتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ جائے نماز بچھا کر بیٹھ جا تے ہیں۔ بھلے انھیں نماز پڑھنی نہ آتی ہو لیکن اپنے والدین اور گھر کے بڑوں جیسے نانا، نا نی، دادا ،دادی وغیرہ کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر والدین غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بچوں کے سامنے اس طرح کے فقرے ادا کرتے رہیں کہ کرلیں گے، ابھی بہت وقت پڑا ہے، تو بچے یہ باتیں ذہن میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر جب ان سے کو ئی کام کہا جا ئے تو وہ سستی اور کا ہلی کا مظاہرہ کر تے ہو ئے اپنے بڑوں کے الفاط دہراتے ہیں کہ کر لیں گے ابھی بہت وقت ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے شروع سے توجہ دینے کی ضرورت ہو تی ہے۔ دو چار ایسے کام جو بچوں کی عمر کے حساب سے ہوں اور جسے وہ شوق اور آرام سے کر سکیں، شر وع سے ہی ان کی عاد ت میں شامل کردینے چاہیں ۔مثال کے طور پر جب بچے بہت چھوٹے ہو تے ہیںجیسے تین چار سال کے، تو وہ آرام سے گملوں میں پا نی ڈال سکتے ہیں۔ گملے کو ایسی جگہ پر رکھیں کہ وہ بچے کی پہنچ میں ہو۔ اب اس کے ذمہ یہ کام لگا دیں کہ اس پودے کا دھیان آپ نے رکھنا ہے۔ اس میں روزانہ پانی ڈالنا ہے۔ اسے پہلے پا نی ڈال کر دکھائیں کہ اصل میں اسے کیا کر نا ہے۔ کو ئی بھی ذمہ داری سونپنے سے پہلے بچے کو اس پر عمل کر کے دکھائیں اور سمجھائیں تا کہ وہ کسی بھی قسم کی الجھن کا شکار نہ ہو۔ جب پودے میں سے پھول یا پھل نکلیں تو بچے کی تعریف کر یں اور اس کی اس ذمہ دارانہ کو شش کو سراہیں۔ اس طرح بچے کا حوصلہ اور شوق بڑھے گا۔ اہل خانہ اور عزیزواقارب کے سامنے بچے کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کریں۔ پھروہ اس کام کو مجبوری سمجھ کر نہیں بلکہ شوق کے ساتھ کرے گا ۔ آہستہ آہستہ اس کی ذمہ داریوں کو بڑھائیں۔ تھوڑے بڑے ہوجائیں یعنی چھے سے آٹھ سال کی عمر کو پہنچیں توپا نی کی بوتلیں بھرکر فریج میں رکھنا، اپنے کھلونے اور کتابیں جگہ پر رکھنا، اسکول سے واپسی پر بستہ، یونی فارم اور جوتے سب چیزیں اپنی مقررہ جگہ پر رکھنے کی ہدایت کردیں۔ انھیں بتائیں کہ اس طرح اگلی صبح یہ چیزیں انھیں آسانی سے مل جایا کریں گی۔ اس کے علاوہ وہ صبح اٹھ کر اپنا بستر تہ کریں یا رات کو کمبل یا چادر جو صبح وہ تہہ کر کے کیبنٹ میں رکھ کر گئے تھے، وہ خود نکالیں اور اپنا بستر صاف یا تیار کریں۔ وقت پر پڑھنا ، وقت پر کھیلنا اور پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی بھی ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے میں معاون ہوگی۔ اگر گھر کے سارے کام خاتون خانہ کر تی ہیں تو ایسے میں لازمی طور پر بچے دسترخوان یا ڈائنگ ٹیبل پر برتن وغیرہ رکھنے اور اٹھانے میں والدہ اور بڑے بہن بھا یؤں کا ساتھ دیں۔ یہ بات ان کے ذہن میں ڈالیں کہ ہم سب گھر کے فرد ہیں۔ اس لیے ایک دوسرے کی مدد کرنا اور کام میں ہاتھ بٹانا ہما را فرض ہے۔ نیز یہ کہ اس طرح کام کر کے آپ کسی کے ملازم نہیں ہوجائیںگے۔ اس سلسلے میں لڑ کے اور لڑکی میں کو ئی فرق نہ رکھیں بلکہ ان میں برابری کی بنیاد پر یہ ذمہ داریاں بانٹیں تا کہ ان کے اندر برتری یا کمتری کا احساس پیدا نہ ہو۔ اس کے علاوہ گھر میں پرندے، مچھلیاں یا بلّی وغیرہ پال لیں جو آپ کے بچے کو پسند ہو۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ پالتو جانور کے انتخاب میں بچے کی پسند لازمی شا مل ہو۔ اسکول جانے سے پہلے اور آنے کے بعد یا کو ئی بھی وقت مختص کر لیں کہ اس وقت روزانہ پا بندی کے ساتھ اس پرندے یا جانور کو کھا نا اور پا نی دینا بچے کی ذمہ داری ہے۔جب بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں یعنی ٹین ایجر ہوجائیں تو وہ اس پالتو جانور کے پنجرے یا اس کے رہنے کی جگہ کی صفائی بھی کریں۔ اس سارے معاملے میں بچے کے سا تھ کبھی زبردستی یا ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہ لیں۔ ڈانٹ اور مار منفی رویے کو جنم دے سکتی ہے اس لیے اسے پیار سے سمجھائیں۔ وہ یہ سارے کام شوق اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہو ئے کرے نا کہ بوجھ سمجھ کر۔ اس طرح بچے میں اکتاہٹ اور منفی سوچ پیدا ہو سکتی ہے ۔ کوئی کام کر تے ہو ئے بچے کو مشکل درپیش ہورہی ہو تو اس سے پیار سے پو چھیے کہ کیا بات ہے؟اس کی اس مشکل کو مناسب انداز میں حل کردیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے