Voice of Asia News

مضر صحت مشروبات سے ملک میں ذیابیطس (شوگر) اور یگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے

اسلام آباد(و ائس آف ایشیا)وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے وفاقی اور صوبائی وزراء برائے تعلیم سے تعلیمی اداروں کے اندر اور 100 میٹر کی حدود میں مضر صحت مشروبات کی فروخت پر پابندی کی درخواست کی ہے وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ مضر صحت مشروبات سے ملک میں ذیابیطس (شوگر) اور یگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مضر صحت مشروبات میں چینی کی زائد مقدار کی وجہ سے بچوں کے موٹاپن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابق موٹاپا ، دل کی بیماری ، کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے ۔ حالیہ قومی ذیابیطس سروے 2016-17 کے مطابق پاکستان میں 26 فیصد بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں ۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 2 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 6 چائے کے چمچ سے کم چینی استعمال کرنی چاہیے۔یاد رہے کہ پنجاب اور سندھ فوڈ اتھارٹیز نے تعلیمی اداروں کے اندر اور 100 میٹر کی حدود میں مضر صحت مشربات کی فروخت پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے وفاقی اور کے پی کے ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے صوبائی وزراء تعلیم کو ایک خط میں درخواست کی ہے کہ وہ بھی تعلیمی اداروں میں مضر صحت مشروبات پر پابندی عائد کریں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے