Voice of Asia News

مختلف المذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی وقت کا تقاضہ : محمد قیصر چوہان

کسی بھی معاشرے کی مضبوطی اور اس کی تعمیر وترقی کی بنیاد معاشرے میں موجود افراد کے درمیان باہمی اعتماد اور ان میں پیار اور محبت کے قیام میں ہے، ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ انسانیت اور وطن دشمنوں نے ہمیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا ہے، ہمارے ملک میں مذہبی منافرت اور مسلکی تضادات بہت نمایاں ہیں اور ہماری تاریخ گواہ ہے کہ کئی مرتبہ یہ خونی فسادات میں بھی تبدیل ہوچکے ہیں، مختلف شہروں میں مذہبی حوالے سے ہونے والے فسادات میں ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا ہے تومسلک کی بنیاد پر ہونے والی خونریزی بھی سیکڑوں شخصیات کو نگل چکی ہے۔ آج کا عالمی بحران مذہبی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور معاشی طور پر دنیا کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جس کے باعث مختلف معاشروں میں بے چینی، نفرت اور اضطراب کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو دنیا کی سب سے بڑی ضرورت اور خواہش کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ہر مذہب کی اپنی زبان اور روایات ہوتی ہیں جو عوام کو بنیادی انسانی قدریں عطا کرتی ہے۔ جس سے انسانی معاشرہ بہتری کی طرف بڑھتا ہے اور یہ قدریں اس سوسائٹی کے نگران کا کردار ادا کرتی ہیں۔دنیاگلوبل ولیج بن گئی ہے، کسی بھی ملک میں ہونے والے واقعات کو بیک وقت پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے اور یہ دنیا کی مختلف تہذیبوں کے افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جہاں شعور و آگہی دیتے ہیں وہاں یہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے پیروکاروں کے بارے مثبت یا منفی رویوں کو بھی جنم دیتے ہیں اس لئے ایسی کوششوں کی عالمی سطح پر ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس سے تمام مسالک اور مذاہب کے درمیان مثبت رابطہ پیدا کر کے دنیا میں اس حوالے سے پائی جانے والی مشکلات کو انتہائی کم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی صورت حال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پوری دنیا مسلم ورلڈ اور نان مسلم ورلڈ میں تقسیم ہوچکی ہے اور مسلم بلاک کے حق میں توازنِ طاقت بگڑ چکا ہے جس کی وجہ مسلم بلاک کے حکمرانوں کی اپنی مصلحتیں، باہمی اختلافات اور وابستگیاں بھی ہیں۔ حالات اس طرح کے بن چکے ہیں کہ کوئی مخلص قوت، قیادت یا ملک، ملت اسلامیہ کے جسد میں نئی روح پھونکنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ نان مسلم ورلڈ نے ایسی فکرو پروگرام رکھنے والوں کے خاتمہ کیلئے طویل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ان حالات میں ایک ایسی قیادت ہی مسلم امہ کو بحران سے نکال سکتی ہے جو اُمت مسلمہ کو متحد کرکے مسلم و نان مسلم ورلڈ میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں ایک پل کا کردار ادا کرسکے اور تمام امور کو جنگ و جدل کے بجائے مذاکرات و افہام و تفہیم سے حل کرانے کا ملکہ رکھے لہٰذا مسلم اُمہ کو آج ایسی مسلم سکالر شخصیت کی قیادت کی ضرورت ہے جو سکالر، قانون دان، معتدل، وسیع النظر، وسیع القلب، وسیع الذہن، مصلح اور پراگریسو ہو اور ایسی ہمہ جہت شخصیت ہو۔جو مذہب، اخلاقیات، معاشیات، سیاسیات، قانون و روحانیات میں اپنا اہم مقام رکھتی ہو۔ جو آئینی، قانونی، سیاسی اور پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہو۔ جس کی ملکی، قومی و بین الاقوامی حالات پر گہری نظر ہو۔ جو دین اسلام کے زریں اصول اجتہاد، اجماع اور شورائیت کو تسلیم کرے اور اسوہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرنے کا خصوصی وصف رکھتی ہو کہ آج مسلم اُمہ ہجرت مدینہ، صلح حدیبیہ یا میثاق مدینہ جیسے کسی مرحلہ پر کھڑی ہے۔ مسلم اُمہ کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو کہ انقلابی فکر رکھتی ہو اور ہر سطح پر نظام کی تبدیلی کی نہ صرف مطالبہ کرتی ہو بلکہ نفاذ کی اہل ہو۔اس مرحلہ پر ہمیں انقلاب یعنی تبدیلی نظام کے تصور کو سمجھنا ہوگا۔ ملکی سطح پر تبدیلی نظام سے یہ مراد ہے کہ قرآن و سنت کی حاکمیت پر مبنی آئین و قانون کی حکمرانی ہو۔ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہو۔ عدلیہ بالادست اور آزاد ہو۔ احتساب کا مربوط نظام تشکیل پائے اور نظام انتخاب اس طرح تبدیل ہو کہ اہل الرائے اور متوسط طبقات کی پارلیمنٹ میں موثر نمائندگی ہو تاکہ ہر شخص کیلئے اسلام کی انقلابی تعلیمات کے مطابق خوشحال زندگی بسر کرنا آسان اور ممکن ہوسکے۔اُمت مسلمہ کی سطح پر تبدیلی نظام سے مراد یہ ہے کہ اسلامی سربراہی کانفرنس ایک مضبوط اور مقتدر ادارہ کی صورت سامنے آئے، ایک متحدہ اسلامی بلاک معرض وجود میں آئے تاکہ دنیا میں امن عالم کیلئے طاقت کا توازن پیدا ہو، مسلم ممالک کو حقیقی آزادی میسر آئے اور دنیا میں مذہبی ہم آہنگی پیدا ہو۔بین الاقوامی سطح پر تبدیلی نظام سے مراد ہے کہ مملکتیں اپنے معائدات کا احترام کریں۔عالمی سطح پر پسماندگی اور جہالت کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہو۔یواین کا چارٹر اور جنرل اسمبلی سپریم ہو۔ اور عالمی عدالت انصاف کا بول بالا ہو جو اسلام کے اصولوں کے تحت امن عالم، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت فراہم کرے۔جدید طریقہ ہائے انقلاب خونی نہیں بلکہ یہ شعوری و فکری سطح کا انقلاب ہے جس کیلئے ملکی سطح پر عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر سفارتی حمایت درکار ہوتی ہے۔اقتصادی و میڈیا کے محاذوں پر برتری درکار ہوتی ہے۔ اب ریاستوں اور دنیا نے اداروں کے استحکام، امن و سلامتی اور حقوق انسانی کے تصورات کے ذریعے رول آف لاء کا نظام قائم کرنا ہے کیونکہ اب دنیا میں نظام اقتصادیات، میڈیا، ٹیکنالوجی، کلچر اور سفارتی جنگ کا دور ہے اور دنیا گلوبلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ماضی میں مذہبی طبقوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے مختلف کوششیں ہوئیں مگر اس کے مثبت اثرات پیدا نہ ہو سکے۔ مذہبی طبقات میں ڈائیلاگ کا دروازہ کھولنے کیلئے اسلام کا فلسفہ نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اسلام نظریاتی اختلاف کو قبول کرتا ہے۔ برداشت، احترام اور محبت کی پالیسی کو تبھی تشکیل دیا جاسکتا ہے جب آپ دوسرے کے نظریات کو احترام دے کر اختلاف کو قبول کر لیتے ہیں۔ یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے اختلافات کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پر امن معاشرے کی تشکیل کیلئے تضادات کو سمجھنا ضروری ہوتاہے، اختلافات کو سمجھنے کے بعد ہی دوسرے عقائد اور مذاہب کا احترام جنم لیتا ہے اور اس طرح ہی مختلف مسالک اور مذاہب کے لوگوں کو قریب لایا جا سکتا ہے۔اسلام نے اس حوالے سے جو نہایت اہم اصول وضع کیا ہے، اس میں مذاہب کی بجائے مذہبی افراد کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت ہے کیونکہ مذاہب کے درمیان فرق کو ختم نہیں کی جا سکتا۔ اسلام کے دیئے ہوئے اس زریں اصول کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کے اپنے عقائد ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے کے مذہب یا عقائد کے حوالے سے زبان کھولے۔ اختلافات کو سمجھ کر مذاہب کے مشترکات کو جمع کر کے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ آج تعلیم، اٹانومی، مذہبی و روحانی اخلاقیات، مذہبی اور سماجی خدمات، گلوبل آؤٹ لک، ماحولیاتی تبدیلیوں، سوشل سکیورٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، شخصی آزادی، ملٹی کلچرل ازم اور امن کے قیام جیسی درجنوں مشترکات پر مل کر کام کیا جانا چاہیے۔پاکستان میں بھی اسی اپروچ سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی سے رہنمائی لینا ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیحوں اور یہودیوں سے مکالمہ فرمایا اور مدینہ کی ایسی ریاست تشکیل دی جس میں تین مرکزی مذاہب کے لوگ آباد تھے اور وہاں امن و سلامتی اور باہمی احترام غالب تھا۔ برداشت اور احترام کا رویہ اسلام کی تعلیمات کا جزو لا ینفک ہے۔ اسلام کی کامیابی کی بنیادی وجہ مکالمہ تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی کوششوں سے عبارت ہے۔
انتہائی افسوس سے کہنا پڑے گا کہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ ناروا سلوک شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ڈائیلاگ کے عمل کو چھوڑ کر انتہا پسندانہ اپروچ کے ساتھ پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں حالانکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ایسے منفی رویوں کی اجازت نہیں دیتا۔عالمی اور علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مختلف مسالک اور مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے معاشروں میں برداشت محبت امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے کیلئے ایک ہونا ہوگا اور آپس میں ڈائیلاگ کے دروازے کو ہمیشہ کھلا رکھنا ہوگا۔ ڈائیلاگ کا یہ عمل اپنے ارتقائی عمل سے گزر کر انسانیت کو اس شاہراہ تک لے جائے گا جہاں سے محبت، برداشت، تحمل، بردباری اور امن و سلامتی کے دائمی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ؐ کی ذات بابرکت پر بے شمار درود وسلام ہوں، آپؐ نے اپنے حلم، بردباری اور بے پایاں شفقت و برداشت سے دنیا کو امن کا خطہ بنا دیا۔ آپ ؐکی تعلیمات عالیہ اور لائے ہوئے نظام میں دنیا کی فلاح و بہبود پوشیدہ ہے۔آپ ؐنے اعلان نبوت کے بعد اپنے سفرا کے ذریعے 225 خطوط غیر مسلموں کو تحریر کرکے آنے والے وفود سے مکالمہ کرکے فکری آہنگی اور اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی جبکہ مذہبی اتحاد کے اثرات نظر نہ آئے تو معاشرتی اتحاد کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن یہود مسلسل دھوکہ دیتے اور سازشیں کرتے رہے۔
فرقہ واریت کے اس عفریت نے ہمارے معاشرے کو اس وقت اس قدر اپنی شدید لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی ، شدت ، مذہبی و مسلکی تصادم ہمارا وطیرہ بن چکی ہے۔ اور ہم میں سے ہر آدمی اپنے مذہبی عقائد و نظریات کو جبراً دوسروں پر مسلط کرنے کا خواہاں ہے جس کی وجہ سے معاشرہ بدامنی، فتنہ وفساد اور قتل و خونریزی کا شکار ہے ایسے ماحول میں مختلف المذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی بے حد ضروری ہے۔آج کے جدید دور میں بھی لوگ غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔حقیقی آزادی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک افراد اور قوموں کے درمیان تعلقات عادلانہ اور منصفانہ بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے، قانونی نظام اور قانونی طریقے خواہ کتنے ہی کیوں نہ بدل جائیں، عدل و انصاف کا معیار اور کسوٹی ہمیشہ ایک ہی رہے گی۔ اس کسوٹی اور معیار پر ہر دور میں حسن نظم اور قوانین کو پرکھاجاتا رہے گا۔شریعت اسلامیہ، جان، مال اور عزت و آبروکی حرمت سے تعلق رکھنے والے قانون سازی کے ارفع اصولوں میں دیگر تمام آسمانی شریعتوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔مذاہب دنیا میں لوگوں کو جوڑتے اور ملاتے آئے ان میں تفریق پیدا کرنا نہیں، یہی وجہ ہے جب تفریق ہوئی فوراً آپؐکی جانب سے کوئی نبی مبعوث ہوگیا، تمام انبیا کے اوصاف یکساں تھے، تعلیمات یکساں تھیں بلکہ ہر نبی پچھلی تعلیمات کی تکمیل اور بگڑی ہوئی تعلیمات کی اصلاح کے لیے آیا یہاں تک کہ نبوت کا سلسلہ آپؐپر ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا اس لیے کہ آپؐ پر جامع تعلیمات مکمل ہوگئیں۔دور جدید میں بین المذاہب عالمی اتحاد، یگانگت و ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے اور بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ عین اسلامی تعلیمات اور آپ ؐکے اسوہ حسنہ کے مطابق ہے۔یہ تاریخی حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا داعی، اتحاد و یگانگت اور احترام انسانیت کا درس دیا۔ اس نے پر امن بقائے باہمی کیلئے بلا تفریق مذہب و ملت کا نظریہ عطا کرکے غیر جانبداری، بین المذاہب، عالمی اتحاد و یگانگت و ہم آہنگی کا فلسفہ عطاء کیا، اس لیے ہمیں آج دنیا کی ہر حکومت، ہر ملک اور ان کے باشندوں کے ساتھ احترام اور جذبہ ترجم کے ساتھ ملنا ہے۔دنیا کے تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں، ان کاخالق بھی ایک ہی ہے، اس کے نسلی یا مسلکی اختلافات کی کوئی حیثیت نہیں، تمام انسان بحیثیت انسان برابر ہیں، ہمیں سب کے ساتھ اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی پیدا کرنی ہے، رنگ و نسل و زبان کا فرق باہمی تعارف کیلئے ہے، قرآن خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں اور اہل کتاب کو قریب آنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے ساتھ اتحاد و ہم آہنگی قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اور تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، انھیں برحق بتاتا ہے اور تمام انبیا اور کتب پر ایمان لانا تکمیل ایمان کیلئے ضروری قرار دیتا ہے اگر کفار صلح کی طرف جھکیں تو قرآن کریم ہمیں ان سے صلح و اتحاد قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ مغرب کو یہ باور کرایا جائے کہ اگر مسلمان مذہبی ہوں گے تو اتحاد و ہم آہنگی برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے