Voice of Asia News

آئی ایم ایف اور اس کے کا م کرنے کا طریقہ کار : محمد قیصر چوہان

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے سونے کی زبردست قلت کی بنا پر دوران جنگ دنیا کے بیشتر ممالک کو باہمی کرنسیوں کے تبادلے کی شرح کو متعین کرنے والے 1880 سے جاری گولڈ سٹینڈرڈ کے نظام کو خیرآباد کہنا پڑا۔ امریکا اور یورپ 1929میں زائد پیداوار کی وجہ سے عظیم ترین کسادی بازاری کا شکار ہونے کا مزہ چکھ چکے تھے اور رسد کے طلب سے زیادہ بڑھنے پر اشیا صرف کی قیمتیں اس قدر گر گئیں کہ کارخانے داروں کے پیداواری مصارف بھی اس سے پورے نہیں ہو رہے تھے جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں تقریباً تین کروڑ افراد کارخانے فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے تھے۔ چنانچہ نئی نئی منڈیاں تلاش کرنے کی وجہ سے جرمنی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے خلاف شدید لڑائی میں الجھ گئے چنانچہ تیسری جنگ عظیم سے بچنے کیلئے امریکا اور یورپ کے فیصلہ سازوں نے یہ راستہ اختیار کیا کہ نہ تو دوبارہ گولڈ سٹینڈرڈ کا نظام اختیار کیا جائے اور نہ ہی آزادانہ شرح تبادلہ کا نظام اپنایا جائے اور ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بین الاقوامی تجارت سے صنعتی ترقی یافتہ ممالک کو مساوی فائدہ حاصل ہو اور وہ ترقی پذیر ممالک میں اپنی اشیاء بیچنے کیلئے قبضے کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ نہ الجھیں بلکہ مسابقت کی بنیاد پر ان ممالک کی منڈیوں میں اشیا بیچیں اور اس مقصد کیلئے وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے ادارے وجود میں لائے تاکہ قرضے فراہم کرکے ان ممالک کی معیشتوں میں قوت خرید بحال رکھی جائے۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ جو 1945 میں ہوا، اس کے مطابق ایک ایسے ادارہ کی ضرورت تھی جو مندرجہ ذیل کام کرے۔جس میں،دنیا کیلئے ایک نیا اور پراعتماد مالیاتی نظام تشکیل دے۔ان ممالک کی مدد کرے جو توازنِ ادائیگی کے مسائل کا شکار ہیں۔ارکان ممالک کی زر مبادلہ کی شرح کا درست تعین کرنا اور اس کے لیے ایک نظام وضع کرنا۔چنانچہ دسمبر 1945 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کے 29 ارکان تھے ۔یہ ایک خود مختار ادارے کے طور پر عمل میں لایا گیا اور اس کا الحاق اقوام متحدہ سے کیا گیا۔ وہ تمام ممالک جو فنڈز آرٹیکل آف ایگریمنٹ کے تحت اس کیلئے رقم فراہم کرتے ہیں انہیں اس کی ممبر شپ آفر کی جاتی ہے۔ آج اس کے ممبرز ممالک کی تعداد بڑھ کر 185 ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ) ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور ان کی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور ان کی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کیلئے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدہ کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کیلئے دسمبر 1945 میں قائم ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر امریکا کے دار الحکومت واشنگٹن میں ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کیلئے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے شروع میں تمام کھاتے امریکی ڈالر میں لکھے جاتے تھے۔ ان کھاتوں میں مختلف ممالک نے ایک دوسرے کو جو ادائیگیاں کرنا ہوں، ان کو جمع یا تفریق کیا جاتا ہے۔ بریٹن ووڈز کے معاہدے کے تحت امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ چونکہ اب امریکی ڈالر کو بنیادی کرنسی کی حیثیت حاصل ہے اس لیے ڈالر کی قیمت (جو سونے کے حساب سے مقرر ہوتی ہے) میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ مگر امریکا کے توازن ادائیگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے 1972 میں امریکا کے صدر نکسن نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت میں کمی کر دی (35 ڈالر فی اونس سونے سے 38 ڈالر فی اونس سونا )۔ اس سے بریٹن ووڈز کا نظام تباہ ہو گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ایک نیا طریقہ وضع کیا جس میں ڈالر کی جگہ ایس۔ڈی۔آر (Special Drawing Rights:SDR) کا استعمال شروع کیا۔ ایس۔ ڈی۔ آر،کسی ملک کا روپیہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں کھاتوں کی جمع تفریق کا ایک نظام ہے۔ ایس۔ ڈی۔ آر، کی مالیت کا انحصار صرف ڈالر پر نہیں بلکہ کئی ملکوں کے زرِ مبادلہ پر ہے۔ اس سے اگر کسی ایک ملک کے زرِمبادلہ میں کوئی تبدیلی ہو تو ایس۔ ڈی۔ آر،پر بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ اور رکن ممالک کے کھاتے ڈالر کی قیمت میں تبدیلی کے اثر سے محفوظ رہتے ہیں۔ شروع میں ایک ایس۔ ڈی۔ آر کی قیمت 1.44 ڈالر کے برابر تھی۔ رکن ممالک کو تو ڈالر، پونڈ یا ین وغیرہ ہی ملتے ہیں مگر اس کا اندراج بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے کھاتوں میں ایس۔ ڈی۔ آر میں کیا جاتا ہے۔جس طرح مختلف ممالک کے نجی سنٹرل بینک ہوا میں سے کاغذی کرنسی تخلیق کرتے ہیں اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ بغیر کسی اثاثوں کے ایس ڈی آر تخلیق کرتا ہے اور رکن ممالک کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اسے بطور کرنسی قبول کریں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو جو گورنر کنٹرول کرتے ہیں وہ مختلف نجی مرکزی بینکوں کے سربراہ یا ان کے خاص آدمی ہیں۔
آئی ایم ایف میں ہر ممبر ملک کو ایک کوٹہ الاٹ کیا جاتا ہے۔یہ کوٹہ تین چیزوں کی بنا پر مقرر ہوتا ہیں یعنی کسی ملک کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کتنی ہے، بیرونی ذرائع مبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں اور برامدات و درامدات کی مقدار کیا ہے۔ انہی کی بنیاد پر کسی رکن ملک کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ہوتا ہے۔ہر ممبر ملک اس کوٹے کا 75 فیصد اپنی کرنسی میں ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے اور 25 فیصد گولڈ کی صورت میں جمع کرایا جاتا ہے تاہم 1967ء میں آئی ایم ایف نے مختلف حکومتوں کے مابین قرضوں کے معاملات طے کرنے کے SDRs (Special Drawing Rights) متعارف کرائے۔ یہ گولڈ کے متبادل کے طور پر آئی ایم ایف کی متعارف کردہ اور گارٹنڈ کاغذی کرنسی ہے اور یہ گولڈ کے مساوی بین الاقوامی ریزرو کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ شروع شروع میں ایک ایس ڈی آر کی قدر ایک ڈالر کے برابر رکھی گئی مگر اب اس کی شرح مبادلہ پانچ ترقی یافتہ ممالک کی کرنسیوں کی مشترکہ نسبت کے ساتھ طے کی جاتی ہے مثلاً اگر امریکا نے برطانیہ کا قرض ادا کرنا ہے اور وہ براہ راست یہ قرض ادا کرنے سے قاصر ہے تو وہ اپنا یہ قرض آئی ایم ایف میں اس کے تفویض کردہ SDRs کے کوٹے کی اس قرض کے برابر حقدار برطانیہ کو منتقل کر سکتا ہے چونکہ اس وقت امریکہ آئی ایم ایف کے پاس SDRs کا 16 فیصد کوٹا ہے اور ا کی یورپین اتحادی ممالک اور جاپان کو ساتھ ملایا جائے تو آئی ایم ایف کے فنڈز کے 80 فیصد پر امریکا اور اس اتحادی ممالک کی اجارہ داری ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں رائے شماری کا طریقہ کار اس طرح ہے کہ آئی ایم ایف میں ایک ملک کو ایک ووٹ حاصل نہیں ہے بلکہ ووٹ تین چیزوں کی بنا پر مقرر ہوتے ہیں یعنی کسی ملک کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کتنی ہے، بیرونی ذرائع مبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں اور برامدات و درامدات کی مقدار کیا ہے۔ اس طریقہ کی وجہ سے غریب ملکوں کے ووٹوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف امریکا کے ووٹ کل ووٹوں کا تقریباً 18 فی صد بنتے ہیں۔ اگر ہم پانچ بڑے ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان اور چین کے ووٹ جمع کریں تو وہ ووٹوں کی کل تعداد کے 40 فی صد کے قریب بنتے ہیں۔ سب سے بڑے تقریباً 20 صنعتی ممالک بشمول پہلے بتائے گئے پانچ ممالک کے پاس کل ووٹوں کی کل تعداد کا 70 فی صد کے قریب ہے یعنی ایک طرح سے وہ جو چاہے کر سکتے ہیں۔ امریکا کے ووٹوں کی تعداد بھی قابل غور ہے۔
آئی ایم ایف کے اہم مقاصد میں یہ شامل ہے کہ وہ اپنے ممبرز ممالک کو کرنسیوں کی شرح مبادلہ کو مستحکم رکھے اور ممبرز ممالک کے توازن اور ادائیگیوں کو بہتر بنانے کیلئے انہیں فنڈز آسان شرائط پر مہیا کرے اور مفت ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرے مگر ترقی پذیر ممالک کے سلسلے میں آئی ایم ایف قرضے فراہم کرنے میں ان کے مالیاتی معاملات میں مداخلت بھی کرتا ہے جو اسکے مینڈیٹ کیخلاف ہے مگر چونکہ یہ امیر ممالک کا ایک کلب ہے اس میں دوست ممالک پر پالیسی سازی نہیں ہوتی ہے بلکہ 1 لاکھ ڈالر کے عوض ایک ووٹ کا حق تفویض ہوتا ہے لہٰذا جن ممالک کا کوٹہ زیادہ ہوتا ہے انکی مرضی کے فیصلے آئی ایم ایف میں ہوتے ہیں مثلاً آئی ایم ایف میں امریکہ 16.75 فیصد‘ چین 3.81 فیصد‘ جاپان 6.23 فیصد‘ بھارت 2.34 فیصد‘ پاکستان 0.44 فیصداور ایران 0.62 فیصدکوٹہ رکھتے ہیں۔ پاکستان 1952ء سے لیکر اب تک آئی ایم ایف سے 18 بلین ڈالر کے 18 پروگرام لے چکا ہے جن میں سے محض 70 فیصد فنڈز استعمال ہوئے۔ 1988ء سے لیکر اب تک پاکستان نے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت قرضے کے 12 پروگرام حاصل کئے جن میں 11 درمیان میں ہی چھوڑ دئیے گئے۔ اگر کسی ترقی پذیر ممالک کی اشیاء کی طلب بڑھنے سے اس کی کرنسی کی طلب بڑھ جائے تو آئی ایم ایف اس ملک کی کرنسی مارکیٹ سے خرید لیتا ہے اور مرضی سے ان ممالک کو فراہم کرتا ہے جو امریکا کے اتحادی ہوتے ہیں۔ تاہم جب پاکستان امریکی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے تو آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور اسلامی ترقیاتی بنک ہماری تمام تر خامیوں کو نظرانداز کر کے امداد فراہم کرتے رہتے ہیں وگرنہ جونہی ہم امریکا کے برعکس ایران اور چین کے ساتھ تجارتی تعلق کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو آئی ایم ایف ہمیں قرضہ جات کی فراہمی کیلئے کڑی سے کڑی شرائط عائد کرتا ہے۔11.3 ملین ڈالرز کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت 9 فیصدشرح سود پر قرض حاصل کیا مگر جب ہم نے امریکا کے برخلاف ایران سے گیس پائپ لائن اور چین کے ساتھ گوادر پورٹ کے معاملات طے کرنے کی کوشش کی تو امریکی اشارے پر آئی ایم ایف نے ہمیں 11.3 بلین ڈالرز میں سے صرف 7.6 بلین ڈالرز دے کر پروگرام ختم کر دیا اور 11.3 ملین ڈالرز کی بنیاد پر جرمانے اور سود کے ساتھ 8 ملین ڈالرز 2015 ء4 تک واپس کرنے کا حکم دے دیا اور آج اگر ہم امریکی ایجنڈے کی افغانستان میں تکمیل جاری رکھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پورے کئے بغیر 4 بلین ڈالرز کا پیکیج مل جائے جس کے تحت ہمیں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کم از کم چھ روپے اضافہ کرنا ہے اور تمام اشیاء پر سبسڈی اور سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے