TOPSHOT - Kashmiri protestors clash with Indian police as they took to the streets chanting pro-freedom slogans after prayers marking the festival of Eid al-Fitr, in Srinagar on July 6, 2016. Authorities placed several separatist leaders and activists under house arrest or detained them in police stations to prevent them from joining the Eid congregation. / AFP PHOTO / TAUSEEF MUSTAFA
Voice of Asia News

الیکشن ڈرامے کا دوسرا مرحلہ بھی فلاپ ،’’جہاں الیکشن وہاں بائیکاٹ

سرینگر( وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کے ڈرامے کا دوسرا مرحلہ بھی فلاپ، آدھے دن تک ٹرن آؤٹ صرف دو فیصد،مزاحمتی قیادت ’’ جہاں الیکشن وہاں ہڑتال اور بائیکاٹ ‘‘ کی اپیل ،بندوقوں کے سائے میں الیکشن کے باجود پولنگ اسٹیشن خالی ،آخری اطلاعات تک 49وارڈوں کے الیکشن میںآدھے دن کا ٹرن آؤٹ صرف دو فیصد رہا ،61وارڈوں کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب،56وارڈوں میں کسی نے کاغذات ہی جمع نہیں کرائے،وسطی شمالی اور جنوبی کشمیر کے ان علاقوں میں ہڑتال کے باعث نظام زندگی درہم برہم،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل،چار سو فوجی گاڑیوں کا گشت ،علاقے میں کرفیو کا سماں ،چناؤ کے علاقوں میں سرکاری چھٹی،تعلیمی ادارے بند رہے ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کے ڈرامے کا دوسرا مرحلہ بھی فلاپ ہو گیا جہاں آدھے دن تک پولنگ کا ٹرن آؤٹ صرف 2فیصد رہا ۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر لوگوں گھروں سے باہر نہیں نکلے اور وادی کے ان پولنگ کے علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی۔کاروباری مراکز اور تجارتی ادرے بند رہے اور سڑکوں پر ’ہو‘ کا علم رہا ۔اس دوران فوجی گاڑیاں جا بجا گشت کرتی رہیں جس کے باعث کرفیو کا سماں رہا۔وادی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔اس موقع پر انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل رہی۔الیکشن والے علاقوں میں عام تعطیل کے باعث تعلیمی ادارے بھی بند رہے ۔ وسطی کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو وادی کے12بلدیاتی اداروں کے166انتخابی وارڈوں میں الیکشن ہونا ہے۔انتخابات میں مجموعی طور پر209امیدوار میدان میں ہیں،جن میں61امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،جبکہ56 انتخابی وارڈوں پر کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا ہے۔ خالی نشستوں اور امیدواروں کے بلا مقابلہ کامیاب ہونے کی صورت کو مد نظر رکھتے ہوئے 10اکتوبر کو وادی میں ہونے والے انتخابات میں صرف49وارڈوں پر انتخابات کرانے ہونگے۔چیف الیکشن کمشنر شالین کابرا نے انتخابی ایام کار میں اضافہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو صبح6بجے سے شام4بجے تک ووٹنگ کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم دن12بجے تک دو فیصد سے کم ووٹ پول ہوئے تھے۔سرینگر میونسپل کارپوریشن میں 19وارڈوں میں پولنگ ہوئی جہاں 72امیدوار میدان میں تھے جبکہ ایک امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوا۔ سرینگر مونسپل کارپوریشن کے18سے لیکر37وارڈوں تک دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالیگئے۔ان وارڈوں میں بسنت باغ،فتح کدل، منور آباد، ٹنکی پورہ،سید علی اکبر،شہید گنج، شیخ داؤد کالونی، زیارت بٹہ مالو، آلوچی باغ ،سولنہ،کرانگر، چھتہ بل، قمرواری،مشرقی بمنہ،مغربی بمنہ،نند ریشی کالونی،پارمپورہ،زینہ کوٹ،لاوئے پورہ اور مجہ گنڈ شامل ہیں۔بڈگام ضلع میں بیروہ میونسپل کمیٹی میں13بلدیاتی وارڈوں میں سے صرف ایک امیدوار نے الیکشن میں شرکت کی ہے،اور دیگر12 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار انتخابی میدان میں نہیں اترا۔اس میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی الیکشن نہیں ہوا۔ چرار شریف میں بھی کوئی بھی بلدیاتی انتخاب نہیں ہوا۔ چرار شریف میونسپل کمیٹی 13بلدیاتی وارڈوں پر مشتمل ہے,جہاں11امیدوار بلا مقابلہ کامیاب اور2وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا ہیں،وہ خالی ہیں،اور اس کمیٹی میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوا۔الیکشن محکمہ ذرائع کے مطابق بڈگام کے ماگام میونسپل کمیٹی کے13واڈوں میں7امیدوار بلا مقابلہ کامیاب دیگر6 وارڈوں میں کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے،اس طرح یہاں بھی انتخاب ہوا۔شمالی کشمیر میں بارہمولہ کی کنزر میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی انتخاب نہیں ہوا،کیونکہ اس میونسپل کمیٹی کے7وارڈوں میں صرف 7امیدواروں نے ہی کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں،جو بلا مقابلہ کامیاب ہوئے اور انتخابات کی نوبت ہی نہیں آئی ۔بارہمولہ کی وتر گام میونسپل کمیٹی میں13وارڈوں میں سے8امیدوار دوڑ میں تنہا رہے جو بلا مقابلہ کامیاب ہوئے جبکہ دیگر4 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ہے،اور وہاں پر بھی انتخاب نہیں ہوئے البتہ ایک وارڈ میں چناؤ ہوا جس میں عوام نے دلچسپی نہیں لی ۔کپوارہ کی لنگیٹ میونسپل کمیٹی میں13وارڈوں میں9وارڈوں میں امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہونگے،جبکہ دو میں کوئی بھی امیدوار نہیں ہے،اور صرف دو وارڈوں میں انتخاب ہوا،جہاں4امیدوار میدان میں تھے ۔ضلع بانڈی پورہ کی سمبل میونسپل کمیٹی 13وارڈوں پر مشتمل ہے،جہاں11وارڈوں میں34امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلہ ہوا،جبکہ صرف ایک ہی بلدیاتی وارڈ میں بلا مقابلہ امیدوار کامیاب ہوا۔جنوبی کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور کولگام میں4میونسپل اداروں میں انتخابات ہوئے ۔ان بلدیاتی اداروں میں کولگام ضلع میں میونسپل کمیٹی یاری پورہ اور اور فرصل جبکہ اسلام آباد(اننت ناگ)میں میونسپل کمیٹی بجبہاڑہ اوراننت ناگ شامل ہیں۔ فرصل میونسپل کمیٹی کے 13وارڈوں میں کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے اور کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ضلع میں یہ واحد بلدیاتی ادارہ ہے،جہاں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ۔اس میونسپل کمیٹی میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوا۔یاری پورہ میونسپل کمیٹی کے6وارڈوں میں4امیدوار میدان میں8 ہیں،جبکہ2 وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔ 4وارڑوں میں صرف ایک ایک امیدوار کھڑا ہوا ہے وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے ۔ ان 4امیدواروں میں سے2کانگریس اور2بی جے پی کے ہیں۔اس میونسپل کمیٹی میں بھی کوئی انتخاب نہیں ہوگا۔اننت ناگ میونسپل کونسل واحد ایسا بلدیاتی ادارہ ہے،جہاں پر سب سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں کل25وارڈ ہیں، جن میں سے 9پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔یہاں16 وارڈوں پر الیکشن ہوا۔ہر ایک وارڈ میں کم از کم 2امیدوار ہیں،جبکہ بیشتر امیدوار کانگریس اور بی جے پی سے وابستہ ہیں،تاہم آزاد امیدوار بھی اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس بجبہاڑہ میونسپل کمیٹی میں صورتحال بالکل مختلف ہے،جہاں پر17 وارڈوں کیلئے صرف5امیدوار میدان میں ہیں۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق ان میں سے3امیدوار کانگریس جبکہ2بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ12وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار نہیں ہے،جبکہ دیگر وارڈوں میں ایک ایک امیدوار ہے،جو ممکنہ طور پر بلا مقابلہ کامیاب ہوئے اور انتخابات کی نوبت ہی نہیںآئی ۔ دوسرے مرحلے میں ریاست میں مجموعی طور پر30بلدیاتی اداروں کے الیکشن ہوئے ،جس میں384وارڈوں میں1994میدان میں ہے،جبکہ65امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔۔ مزاحمتی لیڈرشپ کی ہڑتال کال،انتظامیہ کی عام تعطیل اورسخت سیکورٹی انتظامات کے پیش نظرنجی تعلیمی اداروں کے منتظمین نے بھی بد ھ کوالیکشن والے علاقوں میں اسکول بندرکھے۔بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں جموں کے ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن ، ریاسی، ادہم پور اور کٹھوعہ اضلاع کی 18میونسپل کمیٹیوں کے215وارڈوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے جس کے لئے مجموعی طور پر 881امیدوار میدان می تھے ۔ سب سے زیادہ 142امیدوار کٹھوعہ میونسپل کونسل کے 21وارڈوں کے لئے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کے سب سے کم امیدوار میونسپل کمیٹی بانہال کے 4وارڈوں کے لئے 8امیدوار ہیں، قابل ذکر ہے کہ یہاں 3امیدوار قبل ازیں ہی بلا مقابلہ کامیاب قرار دئیے جا چکے ہیں۔مقابلہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ہے۔ ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کی چار کمیٹیوں میں ووٹران کی تعداد22908ہے جن میں مرد ووٹر11243اور11274خواتین ووٹر شامل ہیں۔ان میں ڈوڈہ کی میونسپل کمیٹی میں5863،بھدرواہ میں6793اور ٹھاٹھری میں734ووٹرس جبکہ میونسپل کمیٹی کشتواڑ میں9128ووٹران شامل ہیں۔میونسپل کمیٹی ڈوڈہ میں مرد ووٹر2970،خواتین ووٹر2893،بھدرواہ میں مرد ووٹر3463،خواتین ووٹر3330،ٹھاٹھری میں مرد ووٹروں کی کل تعداد375جبکہ خواتین ووٹرس359ہیں۔اسی طرح میونسپل کمیٹی کشتواڑ میں مرد ووٹوں کی مجموعی تعداد4435اور4693خواتین ووٹرس شامل ہیں۔دریں اثناء مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروقاور محمد یاسین ملک نے دوسرے مرحلے پربھی متعلقہ مقامات اور علاقہ جات میں مکمل بائیکاٹ اور احتجاجی ہڑتال کرنے کی اپیل دہرائی ہے ۔بیان کے مطابق سولنہ، آلوچی باغ، ایس ڈی کالونی بٹہ مالو، زیارت بٹہ مالو، شہید گنج، کرن نگر، چھتہ بل، قمرواری، بمنہ ایسٹ، بمنہ ویسٹ، نندریشی کالونی، پارمپورہ، زینہ کوٹ، لاوے پورہ، مجہ گنڈ، ٹنکی پورہ، حبہ کدل، بربرشاہ، فتح کدل، منور آباد،لنگیٹ، سمبل، کنزر، وترگام، چرارشریف، بیروہ، ماگام، یاری پورہ، فرصل، اننت ناگ، بجبہاڑہ میں ہڑتال اور چناؤ بائیکاٹ کیا جائے۔قائدین نے عوام سے یہ بات زور دیکر کہی کہ خون سے سینچی ہوئی حق خودارادیت کی تحریک اور بیش بہا جانی و مالی قربانیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ قیادت اور عوام بھر پور اتحاد اور یکجہتی کامظاہرہ کرکے سازشوں سے چوکنا رہیں ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے