Voice of Asia News

بھارتی فوج نے دو کشمیری نوجوانوں کی لاشوں سے 10روزہ خاموشی توڑ دی ،جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی

سرینگر/جالندھر ( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے 10روزہ خاموشی کو دو کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کے ساتھ توڑا ہے ،بھارتی فورسز ہندواڑہ میں کارروائی کی،لوگوں کا احتجاج،جھڑپوں میں متعدد زخمی ،قابض فورسز پر پتھراؤ،دکانیں اور بازار بند ہو گئے ،علاقے میں انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل کر دی گئی،دوسری جانب بھارتی درسگاہوں میں کشمیری طلباء بدستور عتاب کا شکار، جالندھر میں داعش کے ساتھ تعلق کے الزام میں ذاکر موسیٰ کے بھتیجے سمیت چار طالب علم گرفتار،بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بر آمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن ڈرامے میں مصروف بھارتی فورسز نے ایک بار پھر کشمیریوں پر توپوں کے دھانے کھول دئیے ہیں اور جمعرات کی صبح ہندواڑہ میں دو کشمیری نوجوانوں کو مجاہد قرار دے کر شہید کر دیا ہے ۔بھارتی فوج کے مطابق جمعرات کی صبح ہندواڑہ ہندواڑہ تحصیل کے علاقے شرت گنڈ بالا میں مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع پر کارورائی کی گئی۔اس دوران علاقے کو محاصرے میں لیا جا رہا تھا کہ اس دوران ایک مکان سے فورسز پر فائرنگ کی گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بھارتی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی جو آخری اطلاعات تک جاری تھی۔بھارتی فوج کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک دو نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ مکان کے اندر سے فائرنگ جاری ہے ۔فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے ۔مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے ۔بھارتی فورسز کی کارروائی کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور احتجاج شروع کر دیا ۔اس موقع پر فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔لوگوں نے بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا۔علاقے میں دکانیں اور بازار بھی بند ہو گئے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کر دی گئی ہے ۔دریں اثناء بھارتی درسگاہوں میں کشمیری طلباء کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کا سلسلہ جاری ہے جہاں جالندھر میں چار کشمیری طلباء کو داعش کے ساتھ تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔جموں وکشمیر پولیس نے دعوی کیا ہے کہ پنجاب پولیس کیساتھ ایک مشترکہ کارروائی عمل میں لائی گئی جس دوران عسکری تنظیم انصار غزو الہنداور جیش محمد سے رابط رکھنے کی پاداش میں 4طالب علموں کو ہتھیار اور گولی بارود سمیت جالندھر پنجاب سے گرفتار کیا گیا ۔جموں وکشمیرپولیس نے پنجاب پولیس کے اشتراک سے بدھ علی الصبح جالندھرکے مضافاتی علاقہ شاہ پور میں واقع ایک نجی انجینئرنگ کالجسٹی انسٹی چیوٹ آف انجینئرنگ منیجمنٹ اینڈٹیکنالوجی میں زیرتعلیم ایک کشمیری طالب علم زاہد گلزار ولد گلزار احمد راتھرساکن راجپورہ پلوامہ کے ہوسٹل کمرے میں چھاپہ ڈالا۔بتایاجاتاہے کہ زاہدگلزار،جوکہ یہاں بی ٹیک(سیول) میں سیکنڈسمسٹر کاطالب علم ہے ،کے کمرے کی جب پولیس کی مشترکہ پارٹی نے تلاشی لی تواسوقت کمرے میں مزیدتین کشمیری طالب علم بھی موجودتھے۔ پنجاب پولیس کے سربراہ سریش ارورہ نے ایک بیان میں کہاکہ جموں وکشمیرپولیس اور پنجاب پولیس کے مشترکہ دستے نے تلاشی کے دوران کمرے سے ایک رائفل اورکچھ بارودی موادبھی برآمدکیا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرپولیس نے پنجاب پولیس کے اشترا ک سے یہ کارروائی اس پختہ اطلاع کے بعدعمل میں لائی کہ جالندھرمیں زیرتعلیم کچھ کشمیری طالب علموں کاجنگجوگروپوں انصار غزوا الہنداور جیش محمدکیساتھ رابطہ ہے ،اوریہ طالب علم عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ڈی جی پی سریش ارورہ کامزیدکہناتھاکہ کمرے سے ہتھیاراورگولہ بارودبرآمدہونے کے بعدپولیس کے مشترکہ دستے نے کشمیری طالب علم زاہدگلزار کے علاوہ کمرے میں موجودمحمدادریس شاہ عرف ندیم ساکن پلوامہ،یوسف رفیق بٹ ساکن نورپورہ ترال اورازلان احمدکھوروساکن سوپورکوپوچھ تاچھ کیلئے گرفتارکیاگیا،یوسف رفیق بٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ وادی میں سرگرم انصار غزوۃ الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ کا بھتیجا ہے ۔یوسف کا والد رفیق بٹ اور ذاکر موسیٰ چچا زاد بھائی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گرفتارشدگان کیخلاف ایف آئی آ ر ز یر نمبر 166/2018زیردفعہ121،121-A،120B،25/54/59آرمزایکٹ ،3/4/5ایکسپلیوسیوایکٹ،10/13/17/18،18-B/20/38/39/40یوایل اے کے تحت پولیس تھانہ صدرجالندھرمیں کیس درج کیاگیا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے