Voice of Asia News

کشمیری نوجوانوں کی جہادی صفوں میں شمولیت بڑا چلینج ہے ، بھارتی وزیر دفاع کا اعتراف

بنگلور ( وائس آف ایشیا) مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر ہر طرح کی دراندازی کو ناکام بنا دیا جائیگا اور جو بھی جنگجو دراندازی کرنے کی کوشش کریگا اس کو مار گرایا جائیگا ۔تاہم انہوں نے کہاکہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکروٹمنٹ پر مرکز کی کڑی نگاہ ہے اور وہ لوگ راڈار میں ہیں جو کہ اس ریکروٹمنٹ کو یقینی بنانے میں ملوث ہیں ۔ بنگلور میں میڈیا نمائندوں کیساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے کشمیر میں دراندازی جاری ہے اور پاکستان کی حمایت یافتہ دراندازی کی وجہ سے ہی کشمیر میں حالات خراب ہورہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ جب جب بھی پاکستان کی طرف سے دراندازی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تب تب لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے جس کیو جہ سے اسی آڑ میں یہ دراندازی کویقینی بناتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بھلے ہی نئی سرکار آئی ہو لیکن ابھی تک سرحد پار دراندازی جاری ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم یہ صاف کر نا چاہتے ہیں کہ پاکستان سے جو کوئی بھی دراندازی کشمیر میں ہوگی اس کو ناکام بنانے کیلئے فوج پوری طرح سے کوشش کریگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں وزیر دفاع ہوں اور میں یہ بات سرحد پار پہنچانا چاہتی ہوں کہ کشمیر میں ہونے والی دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائیگا ۔اس دوران مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے خبردار کیا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکروٹمنٹ پر مرکز کی کڑی نگاہ ہے اور وہ لوگ راڈار میں ہیں جو کہ اس ریکروٹمنٹ کو یقینی بنانے میں ملوث ہیں ۔ اس دوران انہوں نے مزید کہاکہ کشمیر میں سرحد پار دراندازی کو روکنے کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اور بہت سارے جنگجو مارے گئے ہیں ۔تاہم انہوں نے اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق رپورٹ کو مستر د کر دیا ۔نرملا سیتا رمن نے مزید کہاکہ کشمیر کی صورتحال میں گورنر راج کے دوران کافی ساری بہتری کے آثار دکھائی د ے رہے ہیں اور ایسے میں یہ بات صاف ہورہی ہے کہ لوگ کسی حد تک راحت محسوس کر نے لگے ہیں تاہم آپریشن آل آوٹ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ یہ آپریشن جاری ہے اور ان میں فوج کو کافی ساری کامیابیاں مل رہی ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکرروٹمنٹ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب زیادہ سے زیادہ نوجوان وہاں جنگجو صفوں میں جارہے ہیں اور یہ ریکروٹمنٹ ابھی تک جاری ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مقامی نوجوانوں کی جنگجو صفوں میں ریکروٹمنٹ باعث تشویش ہے اور مرکزی حکومت نے اس معاملے پرکڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان لوگوں کا پتہ لگارہے ہیں جو اس کام کیلئے نوجوانوں کو اکسارہے ہیں اور ایسے میں کونسا منظم گروپ یہ کام کررہا ہے وہ نئی دلی کی راڈار پر ہے ۔ لہذا بہت جلد اس سلسلے میں قابو پانے کی کوشش کی جائیگی ۔انہوں نے کہاکہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ جنگجووں کا گراف کم ہوگیا ہے بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی حد تک حالات میں سدھار کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کنٹرول لائن پر بھی جنگجومارے جارہے ہیں کیونکہ سرحد پار سے دراندازی پر روک لگانے کیلئے سیکورٹی فورسز نے پختہ انتظامات کررکھے ہیں جس کی بدولت دراندازی ناکام ہورہی ہے اور وہاں جنگجووں کو ڈھیر کیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ پچھلے دو ماہ کے دوران ایک درجن کے قریب جنگجو کنٹرول لائن پر فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں کیونکہ وہ دراندازی کرکے اس پار والے علاقوں میں داخل ہوچکے تھے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے