Voice of Asia News

دنیا عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر مقبوضہ علاقوں کے مکینوں کو نظر انداز نہ کرے،

اقوام متحدہ ( وائس آف ایشیا)دنیا عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر عملدرآمد میں مقبوضہ علاقوں کے مکینوں کو نظر انداز نہ کرے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی سیکنڈ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس بات کو یقینی بنائے کہ نوآبادیاتی اور غیر ملکی تسلط والے علاقوں کے مکین پائیدار ترقی کے اہداف 2030ء کے حوالے سے غربت کے خاتمہ، ناانصافی کے خلاف جہدو جہد اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے ایجنڈے پر عملدرآمد میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔اقتصادی اور مالیاتی امور کی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں کہا کہ نوآبادیاتی اور غیر ملکی قبضے اقتصادی اور سماجی ترقی کی راہ کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔پاکستان ایسے علاقوں کے لوگوں کی ہمیشہ سے حمایت کرتا آیا ہے کیونکہ حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بنیادی انسانی حق ہے۔پاکستانی مندوب نے اس موقع پر سی پیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنوبی کرہ کے ممالک کے درمیان تعاون کی شاندار مثال ہے ، یہ ایک بہت ہی بڑے پیمانے کا منصوبہ ہے اور اس کے اقتصادی فوائد سے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک بھی مستفید ہو رہے ہیں۔پاکستانی مندوب نے وزیر اعظم عمران خان کی سماجی و اقتصادی ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ترجیحات پائیدار ترقی کے اہداف 2030 سے مطابقت رکھتی ہیں۔ان ترجیحات میں معیشت کی بحالی، زرعی شعبے کی ترقی، ارزاں توانائی اور ایندھن کی فراہمی، جنگلات اور ماحولیات کا تحفظ ، آبی وسائل کا دانشمندانہ استعمال، ماحول دوست نمو، گورننس سٹرکچر میں اصلاحات ، موثر احتساب اور تعلیم و صحت کے شعبوں کا احیاء شامل ہیں۔مقامی وسائل کو بروئے کار لانا اور زیادہ خود مختاری اگرچہ ان اہداف کے حصول کی جدو جہد کے بنیادی اصول ہیں تاہم سازگار بین الاقوامی ماحول، مالیاتی وسائل تک زیادہ رسائی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مدد ہماری ترجیحات پر عملدرآمد کے لئے ناگزیر ہے۔ہمہ جہتاورضابطہ کار کے تحت باہمی تعاون کے معاہدوں کو درپیش چیلنجز عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔اسی طرح لوٹ کر غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم اور ان سے بنائے گئے اثاثوں کی واپسی پاکستان کی نئی حکومت کے ایجنڈے کی بنیاد ہے اور اس کے لئے بھی بین الاقوامی تعاون بے حد ضروری ہے۔ پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پانی کی قلت کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے نئی واٹر پالیسی تشکیل دی ہے جس کا بنیادی اصول زیادہ سے زیادہ پانی کو زخیرہ کرنا اور اس حوالے سے بڑے منصوبے مکمل کرنا ہے۔انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تکمیل کے بعد یہ ڈیم ماحول دوست توانائی، پینے کے پانی اور آبپاشی کا بڑا ذریعہ ثابت ہو گا۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے