قوم سر سبز اور صاف پاکستان مہم کی کامیابی کے لئے بھرپورتعاون کرے، ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ قوم سر سبز اور صاف پاکستان مہم کی کامیابی کے لئے بھر پورتعاون کرے ، صفائی نصف ایمان ہے اور اس کا تعلق براہ راست صحت سے ہے، صفائی اور پاکیزگی سے ہم خود اور معاشرہ بھی صحت مند رہے گا، کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے مربوط نظام اپنایا جائے، پلاسٹک کی بنی اشیا سے اجتناب کیاجائے۔انہوں نے یہ بات کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے حوالے سے جمرات کو اپنے ویڈیو پیغام میں کہی۔ صدر نے کہا کہ پاکیزگی کی ہدایت اللہ تعالی نے فرمائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس بات کا بیڑہ اٹھایا ہے کہ عوام تک یہ بات پہنچائی جائے کہ پاکستان میں آلودگی بڑھ رہی ہے اور ملک میں کوڑا کر کٹ اور گندگی کے حوالے سے قومی مقصد کے پیش نظر ہمیں اس مسئلہ کو اٹھانا پڑے گا تاکہ ہم صاف رہیں، اس کا تعلق براہ راست ہماری صحت کے ساتھ ہے۔صدر نے اس امر کی طر ف بھی توجہ مبذول کروائی کہ اللہ تعالی قرآن کے اندر فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اس سے رجوع کرتے ہیں اور پاک رہتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صفائی نصف ایمان ہے۔ انہوں نے صفائی کے تین پہلوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک روحانی طہارت ہے، دوسری جسمانی پاکیزگی اور تیسری معاشرتی صفائی ہے یعنی معاشرے کو صاف ستھرا رکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ مذہب کے اعتبار سے بھی، انسانی فطرت اور صحت کے اعتبار سے بھی یہ سب چیزیں بہت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عرب کے ریگستان میں جہاں پانی کی قلت تھی وہاں بھی دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے، ہاتھ دھونے اور اپنے آپ کو صاف رکھنے کی تلقین کی گئی کیونکہ اس کا براہ راست صحت سے تعلق بھی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حضور پاک ﷺ جب کھانہ تناول فرماتے تو کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوتے تھے اور موجودہ دور کی میڈیکل سائنس بھی یہ کہتی ہے کہ دن میں کم از کم دن میں پانچ مرتبہ ہاتھ دھوئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ اس سے بہت سی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ صدر نے کہاکہ اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں بارش کا نزول کرتا ہوں تاکہ تم لوگ صاف ہو جاؤ لہذا معاشرے میں پانی اور صفائی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس کا ہماری صحت سے بھی بہت زیادہ تعلق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اپنی گلی اور بازاروں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے اور مختلف طریقوں سے ارد گرد پھیلانے سے معاشرتی آلودگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، اس ضمن میں احتیاط کی جانی چاہیے اور بچوں کو بھی تلقین کرناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال سے بھی گریز کیا جائے ۔ اگر ہم خود کو اور ارد گرد کے ماحول کی صفائی کا خیال رکھیں گے تو اس سے خود بھی صحت مند رہیں گے اور معاشرہ بھی صحت من رہے گا۔ بیماریاں بھی کم ہوں گی اور صفائی نصف ایمان ہونے کی بنا پر ہمیں ثواب بھی ملے گا۔