Voice of Asia News

موجودہ حکومت خارجہ پالیسی میں یکسر ناکام ہوگئی، شیری رحمان

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)موجودہ حکومت خارجہ پالیسی میں یکسر ناکام ہوگئی۔پاکستان دنیا میں اس وقت جس قدر تنہا ہے ماضی میں اس بدترین صورتحال کی مثال نہیں ملتی۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ نیویارک ناکام رہا۔ایف اے ٹی ایف میں پاکستان مزید خطرے میں ہے۔ہوسکتا ہے چین بھی ہمارا ساتھ نہ دے سکے۔بھارت کی شاندار خارجہ پالیسی کا ہماری نالائق حکومت کے پاس کوئی توڑ نہیں۔ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر اور سابق لیڈر آف اپوزیشن محترمہ شیری رحمان نے ملک بھر سے آئے ہوئے سینئر صحافیوں سے سینیٹ کمیٹی روم نمبر3 میں خصوصی ملاقات کے موقع پر کیا۔شیری نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں کامیابی تو دور کی بات جو دوست ہیں وہ بھی ناراض ہیں۔چینی وزیر خارجہ کا جس طرح استقبال کیا گیا وہ حیران کن ہے۔چین اور دنیا کے دوسرے ممالک میں فرق ہے۔چین نے اس روئیے کا برا منایا ہے۔اس کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ایف اے ٹی ایف میں ہمیں چین کا سہارا تھا لیکن اب وہ بھی اس حکومت کے روئیے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب حالت یہ ہے کہ منت ترلوں کے باوجود سعودی عرب ادھار کا تیل دینے پر راضی نہیں۔ہمارے وزیرخارجہ نیویارک سے واپسی پر بہت بڑھکیں مار رہے ہیں لیکن ان کا دورہ ناکام رہا۔امریکی وزیر خارجہ نے ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ تک جاری نہیں کیا۔یہ کیا خاک خارجہ پالیسی ہے،بھارت اور امریکہ کے وزرائے خارجہ مشترکہ اعلامیہ اور پریس کانفرنس کرتے ہیں،دونوں ممالک اپنے تعلقات خوب انجوائے کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی کے دورہ نیویارک میں اور مائیک پومپیو کی پاکستان آمد کے موقع پر پاکستان نے کولیشن سپورٹ پروگرام کی رکی ہوئی رقم کا ذکر تک نہیں کیا۔یہ کوئی خیرات نہیں ہمارا حق ہے،وہ بھی بہت کم ہے،ہم نے بہت زیادہ خرچ کیا،یہ رقم مانگنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔عمران خان حکومت کو خارجہ پالیسی کی سمجھ ہی نہیں۔یہ حکومت’’گڈی گڈی‘‘ کیوں بنی ہوئی ہے۔اس طرح کی خارجہ پالیسی سے قوم بری طرح متاثر ہوگی۔حکومت فی الفور اپنے روئیے پر نظرثانی کرے۔اب حکومت کا ہنی مون پریڈ ختم ہوچکا ہے۔سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور امریکہ سے کولیشن سپورٹ پروگرام کی رقم کا تقاضا کرے۔اس طرح معیشت کو بھی سہارا ملے گا اور امریکہ سے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔شیری رحمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی ملک سے مذاکرات کا اصول یہ ہے کہ آپ بہت سی چیزیں زیر بحث لائیں،کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا،اگر آپ نے ٹیبل پر صرف ایک ہی چیز رکھی ہے تو اس کا انکار بھی ہوسکتا ہے،امریکہ سے بات چیت کا الگ طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک بھی خطرے میں ہے۔ان لوگوں نے قبل از وقت معاہدوں پر نظرثانی کی یا باتیں کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کو پریشان کر دیا ہے۔آئی ایم ایف سے قرضہ لینا غلط بات نہیں،ساری دنیا اپنے مسائل اسی طرح حل کرتی ہے۔انہوں نے قوم کو عجیب دھوکے میں رکھا ہوا ہے اور اب جب سمجھ آرہی ہے تو کہتے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔عمران خان حکومت اگر چاہتی ہے کہ اچھی حکومت کرے تو پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوتوں سے رویہ ٹھیک کرے۔حکومتی وزراء جس طرح باتیں کر رہے ہیں وہ ناقابل برداشت اور غیرسیاسی رویہ ہے۔صحافیوں سے ملاقات میں شیری رحمان نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ ایک بار پھر صحافیوں کو سڑکوں پر نکل کر آزادی صحافت کو بچانا ہوگا۔اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم،چیئرمین ایپنک اکرام بخاری،سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے جی ایم جمال،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر نعیم مصطفیٰ،کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر حسن عباس،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر شکیل احمد،جنرل سیکرٹری صدیق انظر،کلیم شمیم،راجہ جاوید،آصف پرویز بٹ،محمد آصف بٹ اور دیگر صحافی عہدیداران نے سوالات کئے،جن کے محترمہ شیری رحمان نے نہایت تفصیلی جوابات دئیے

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے