Voice of Asia News

پنجاب یونی ورسٹی میں غیر قانونی بھرتیاں، سابق وی سی سمیت 6 ملزمان گرفتار

لاہور( وائس آف ایشیا) قومی احتساب بیورو (نیب) نے غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں پنجاب یونی ورسٹی کے سابق وی سی مجاہد کامران اور رجسٹرار سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے پنجاب یونی ورسٹی کے سابق وی سی ڈاکٹر مجاہد کامران کو گرفتار کر لیا، سابق وائس چانسلر پر بے ضابطگیوں کا الزام ہے، مجاہد کامران نے بڑے پیمانے پر یونی ورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجاہد کامران نے اہلیہ کو غیر قانونی طور پر یونی ورسٹی لا کالج کی پرنسپل تعینات کیا، اور من پسند طلبہ کو اسکالر شپس دیں، سابق وی سی نے اپنے 9 سالہ دور میں غیر قانونی بھرتیاں بھی کیں۔ ذرائع کے مطابق نیب ایگزیکٹو بورڈ مجاہد کامران کے خلاف انکوائری کی منظوری دے چکا ہے، سابق وائس چانسلر نے پپرا رولز کے خلاف من پسند کنٹریکٹر کو ٹھیکے بھی دیے۔ دریں اثنا قومی احتساب بیورو نے پنجاب یونی ورسٹی میں بے ضابطگیوں کے خلاف اپنی کارروائی کو وسعت دیتے ہوئے رجسٹرار سمیت مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیب کے ہاتھوں گرفتار ملزمان میں ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر راس مسعود، اور امین اطہر بھی شامل ہیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ ان ملزمان نے غیر قانونی بھرتیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کی ملی بھگت سے 550 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں، یہ بھرتیاں گریڈ 17 اور ا س سے اوپر کے گریڈز میں کی گئیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے