Voice of Asia News

آئی ایم ایف اورمہنگائی کا سونامی ’’تبدیلی‘‘ کے تحفے:محمد قیصر چوہان

یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی نئی اُبھرتی ہوئی قوت ہے اور کرپشن کے خاتمے اور تبدیلی کی امید میں ایک بڑی تعداد نے اس سے توقع قائم کررکھی ہے۔ لیکن ابتدائی اقدامات نے ہی موجودہ حکومت کے مستقبل سے مایوس کرنا شروع کردیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں انتخابی عمل کے تازہ سلسلے کی چوتھی حکومت ہے۔ انتخابات کا یہ سلسلہ جنرل (ر) پرویزمشرف کا فوجی اقتدار قائم ہونے کے بعد 2002ء سے شروع ہوا۔ پہلی حکومت جنرل پرویزمشرف نے( ق )لیگ کی شکل میں قائم کی تھی۔ باقی دو حکومتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قائم ہوئیں جو امریکی ثالثی میں این آر او کے بدنام زمانہ معاہدے کا نتیجہ تھیں۔ اس معاہدے کے بعد ہی بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی جلاوطنی ختم ہوئی۔ چوتھی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی قائم ہوئی ہے جس کے قیام پر ’’پس پردہ ہاتھ‘‘ واضح نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود ایک بڑی تعداد نے تبدیلی کا خواب دیکھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر حکومت کیلئے اولین ترجیح معاشی و اقتصادی استحکام رہا ہے، لیکن کوئی بھی حکومت عوام کیلئے حالات میں بہتری پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ موجودہ حکومت کیلئے سب سے پہلا چیلنج منی بجٹ پیش کرنا تھا اور وہ اس چیلنج پر پورا نہیں اتر سکی ہے۔ منی بجٹ کے حوالے سے حکومت کے وزیرخزانہ اسد عمر اور قائد حزبِ اختلاف میاں شہبازشریف کے درمیان قومی اسمبلی کے اجلاس میں مناظرانہ مباحثہ ہوا ہے۔ دونوں کی باتوں میں حق و باطل کی آمیزش موجود تھی، لیکن اصل جڑ کے اُوپر کوئی بھی فریق بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ سرمایہ دارانہ نظام کا جبر ہے جس کی بنیاد سودی معیشت میں ہے۔ کسی بھی ماہر معیشت سے پوچھیں کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل میں سرفہرست مسئلہ کیا ہے؟ تو وہ یہی کہے گا کہ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ۔ موجودہ حکومت جو تبدیلی کا خواب لے کر آئی ہے اْس کے پاس بھی ایسے ماہرین معیشت موجود نہیں ہیں جو ملک کی معیشت کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سرمایہ داروں کے شکنجے سے آزاد کرا سکیں۔ اسی سرمایہ دارانہ معیشت کا نتیجہ قوم جرائم اور کرپشن کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ اس حوالے سے مغربیت کے غلبے کے باوجود قوم میں اتفاقِ رائے ہے کہ ملک کا نظام حکومت مدینے کی پہلی اسلامی ریاست کے مطابق قائم کیا جائے گا۔ سیکولر ملحدین کی اقلیت کی طاقت کے باوجود پاکستان کی منزل کو اجتماعی ضمیر نے اسلام ہی قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کی منافقت کی وجہ سے قوم کو اسلام کے راستے پر سفر کرنے سے روکا جارہا ہے۔ سب سے بڑی منافقت سود کے حوالے سے ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں صاف اور واضح الفاظ میں یہ لکھ دیا ہے کہ اب جبکہ اللہ نے سود کو حرام قرار دے دیا ہے، جو کوئی بھی سودی کاروبار کرے گا وہ سن لے کہ اس کی اللہ اور اس کے رسولؐسے جنگ ہے۔ نوآبادیاتی دور کے بعد عہد جدید کا پورا نظامِ معیشت سود سے آلودہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح نے اسٹیٹ بینک کے ارکان کو یہ ٹاسک دیا تھا کہ وہ غیر سودی معیشت قائم کرنے کا چیلنج پورا کریں تاکہ سرمایہ دارانہ ظلم سے انسانیت کو چھٹکارا دلایا جا سکے۔ لیکن ہماری قومی زندگی کا سفر اس حوالے سے بہت خراب ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس حوالے سے پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔ اس سلسلے میں مجرمانہ کردار میاں نوازشریف نے اپنی حکومتوں کے دوران میں ادا کیا اور وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کو معطل کرا دیا۔ اب یہی امتحان نئی حکومت کا بھی ہے۔ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ ملک کو قرضوں کی معیشت سے کیسے نکالا جائے۔ اس کے بغیر نہ مہنگائی ختم ہوسکتی ہے اور نہ بے روزگاری۔
پاکستان تحریک انصاف اْن جماعتوں میں شامل ہے جنہوں نے انتخابات میں عوام کو پیغام دیا تھا کہ وہ ’’آزمائی ہوئی‘‘ جماعتوں کو ووٹ نہ دیں، اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو ’’تبدیلی‘‘ کی علامت قرار دے کر تیسری بڑی سیاسی جماعت بنادیا ہے۔ نئی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ عوام کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ سے کس طرح محفوظ رکھتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ حکومت فوری طور پر عوام کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی، لیکن کیا ایسی اُمید کی جاسکتی ہے کہ حکومت نے ’’پہلا قدم‘‘ اٹھا لیا ہے؟ کچھ عرصے کے بعد ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ عوام کی زندگی میں بہتری آئے؟ کیا تحریک انصاف اور عمران خان کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ’’متبادل‘‘ پالیسیاں تشکیل دے سکے؟ کیا ایسا وژن موجود ہے جس کے نتیجے میں عوام سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصال کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوسکیں؟ ۔کنٹینر پر چڑھ کر عمران خان نے کہاتھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہوگا کے میں خود کشی کرلوں ،لیکن اب تبدیلی سرکار نے بھی ماضی کی حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئی ایم ایف سے نئے قرضوں کے معاہدے کیلئے کشکول اُٹھا لیا ہے۔آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان آیاتھا جس نے مذاکرات کے دوران حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکس کی وصولیابی میں اضافہ کرے اور اس کے دائرے کو وسیع کرے، یعنی عوام کے اُوپر مزید ٹیکس لگایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ماضی کے قرضوں کی ادائیگی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر کی ضرورت ہے۔ پاکستانی معیشت کا قدیم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ادائیگی کا توازن ہمیشہ خراب رہا ہے۔ اس لیے قرضوں اور اس کے سود کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے لیے جاتے رہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس طرح ایک ایسا گھن چکر ہے جس سے قوم آج تک نہیں نکل پائی ہے۔ یہ بھی اس مسئلے کا سب سے اہم موضوع ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ کے وسائل میں کوئی کمی نہیں ہوتی، یعنی عوام کی قوتِ خرید تو کم سے کم ہوجاتی ہے لیکن اشرافیہ کی دولت و ثروت میں اضافہ ہوتا ہے۔ صرف کرپشن کی داستانوں کے اعداد و شمار کو جمع کیا جائے تو ہماری اشرافیہ جو اقلیت میں ہے اْس کی دولت امریکا، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں سے بھی زیادہ نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود عوام کو سہولیات پہنچانے کیلئے کوئی تجویز مقتدر طبقات کے معاشی ماہرین کے پاس موجود نہیں ہے۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ملک میں محصولات اور ٹیکسوں کی وصولی کا منصفانہ اور سادہ نظام دیا جائے۔ لیکن آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سرمایہ دارانہ قوتوں کے ہر حکم کی تابعداری تو کی جاتی ہے، قومی وسائل کا جمعہ بازار لگادیا جاتا ہے لیکن ملک کی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکسوں کی وصولی کا سادہ اور منصفانہ نظام قائم کرنے سے پہلوتہی کی جاتی ہے۔ یہ بات غلط ہے کہ ملک میں ٹیکس کا کلچر نہیں ہے۔ بلکہ کرپشن، بدعنوانی اور رشوت و کمیشن کی رقوم کو تحفظ دینے کیلئے شفاف اور منصفانہ ٹیکس کے نظام کی تشکیل سے گریز کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اپنے وزرا کے ساتھ مشاورتی اجلاس کیا ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ایسا قدم سامنے نہیں آیا ہے کہ جس سے عوام کے مسائل یعنی کم از کم مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کی اْمید کی جاسکے۔ بڑی جماعتوں کو عوام نے اگر مسترد کیا ہے تو اس لیے کہ ان کے رہنما انتخابی مہم کے دوران جوشِ خطابت میں سہانے خواب دکھاتے ہیں۔ کیا یہ روایت ’’تبدیلی‘‘ کے علمبرداروں اور دعویداروں کی جانب سے بھی برقرار رہے گی؟ حکومت کے صرف چند دنوں میں ٹیکسوں میں اضافے، ڈالر کی قیمت اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی نئی لہر آگئی ہے۔ متوسط اور غریب طبقات کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ درآمد شدہ اشیا کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زائداضافہ نوٹ کیا گیا۔ معاشی صورتِ حال کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بھی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عوام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کی اقتصادی پالیسیوں کے زخم خوردہ ہیں۔ سخت اقدامات کے باوجود اس بات کی ضرورت ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور طاقت ور، خوش حال اور بااثر طبقات پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے، جب ہی ’’تبدیلی‘‘ کے دعوے حقیقت بن سکیں گے۔البتہ مختصر مدت میں عمران خان کی ’’تبدیلی سرکار‘‘ نے جو اقدامات کیے ہیں اْن سے غریب عوام مہنگائی کے سونامی میں غرق ہو گئے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے