Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ، حریت کارکن شہید کر دیا،پی ایچ ڈی نوجوان سمیت2سپرد خاک

سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طور پر بھارتی فورسزنے حریت کارکن شہید کر دیا،گزشتہ روز مارے گئے پی ایچ ڈی نوجوان سمیت2سپرد خاک ،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت ،شہداء کو جہادی،مذہبی اور سیاستی تنظیموں کی جانب سے خراج تحسین،بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 8مظاہرین بدستور زیر علاج،جھڑپوں میں کئی زخمی،پلوامہ میں ایک اور پی ایس اور کو گولی مار دی گئی،مزاحمتی خیمے کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال،سخت سکیورٹی کے باعث کرفیو کا سماں ،حریت قیادت کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ ملی ،کاروباری مراکز اور تجارتی اداروں کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی بند،انٹر نیٹ،موبائل اور ریل سروس معطل،منان وانی کی کئی مقامات پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔تفصیلات کے مطابق شوپیان کے مضافات میمندر میں نامعلوم مسلح افراد نے حریت (گ)سے وابستہ مسلم لیگ کے ایک کارکن طارق احمد گنائی ولد محمد یعقوب عرف طارق مقدم کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق نامعلوم افراد نے طارق احمد کو اس وقت بلا کر اپنے ساتھ لیا جب وہ میمندر شوپیان میں اپنی رہائش گاہ پر تھا۔ مسلح افراد نے اسے قریب دو سو میٹر دوری پر شال لٹو میمندر روڈ پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔طارق کے ہلاک ہونے کی خبر پھیلتے ہی پورے علاقے میں صف ماتم چھا گیا۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ میمندر پہنچے اور زبردست مظاہرے کئے اسکے بعد جلوس کی صورت میں میت کو لیکر ایک بڑے میدان میں پہنچایا گیا۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے طارق کی نماز جنازہ ادا کی۔اس دوران طارق کے جنازے میں سات عسکریت پسند بھی دیکھئے گئے جنہوں نے بطور سلامی ہوا میں فائر کئے۔اسکے بعد اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گونج میں طارق کو سپرد لحد کیا گیا۔طارق احمد گنائی ،جو طارق مقدم کے نام سے جانا جاتا تھا ،کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ 1996 تک عسکریت پسند تنظیم الجہاد کے ساتھ منسلک تھا اور اسے پولیس نے بعد میں گرفتار کیا تھا۔ سزا کاٹنے کے بعد اسے رہا کیا گیا،اسکے بعد طارق نے مسرت عالم کی قیادت والی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جسکے بعد اسے ضلع صدر منتخب کیا گیا۔اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ طارق کو بھارتی فورسز نے نشانہ بنایا ہے ۔ 2016میں اسے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے)کے تحت حراست میں لیا گیا اور 27 جولائی 2017میں رہا کیا گیا۔رہا ہونے کے بعد سے طارق احمد گھر میں ہوتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ طارق کی ہلاکت میں جنگجو ملوث ہیں اور پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرجنوبی نامعلوم بندوق بردار رات11 بجکر 45 منٹ پر کریم آباد پلوامہ میں ایس پی او بلال احمد گنائی ولد محمد مقبول کے گھر میں داخل ہوئے ،اور اس پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے نتیجے میں بلال شدید زخمی ہوا اور اسے خون میں لت پت نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا ،جہاں سے اسے سرینگر کے ہڑیوں کے اسپتال منتقل کیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ ایس پی او کی ٹانگ میں گولی لگی ۔بتایا جاتا ہے کہ بلال کورٹ کمپلیکس پلوامہ میں گیٹ کیپرکی حیثیت سے اپنی خد مات انجام دے رہا تھا۔ایس ایس پی پلوامہ چندرن کوہلی نے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔پولیس ترجمان نے کہا کہ ایس پی او کو زخمی کرنے میں بھی عسکریت پسندوں کا ہاتھ کار فرما ہے ۔دریں اثناء گزشتہ روز بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے پی ایچ ڈی اسکالر منان وانی اور اس کے ساتھی کو ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں پی ایچ ڈی طالبعلم منان وانی کی شہادت پر حریت قیادت کی کال پر وادی بھر میں ہڑتال کی گئی۔بھارتی فوج نے گزشتہ روز ضلع ہندواڑہ میں ڈاکٹر منان وانی سمیت دو نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا جس کے خلاف حریت قیادت نے ہڑتال کی کال دی تھی۔بھارتی فوج، پیرا ملٹری فورس اور اسپیشل آپریشنل گروپ نے ضلع ہندواڑہ کے علاقے شتگند کو گھیرے میں لیکر پی ایچ ڈی طالبعلم منان وانی اور عاشق حسین زرگر کو نشانہ بنایا تھا۔منان وانی اور اسکے ساتھی عاشق حسین کی لاشیں شاٹھ گنڈ بالا سے ہندوارہ پولیس لائنز لائی گئیں جہاں انہیں لواحقین کے حوالے کیا گیا۔اس دوران منان وانی کی لاش جلوس کی صورت میں آبائی گاؤں روانہ کی گئی جبکہ عاشق حسین کی لاش بھی لنگیٹ پہنچائی گئی۔عاشق حسین کی نماز جنازہ عید گاہ لنگیٹ میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور بعد میں جلوس کی صورت میں تلواری لیجا کر سپرد خاک کیا گیا۔منان وانی کی لاش ٹکی پورہ پہنچنے کے بعد فورسز نے ٹکی پورہ جانے والے تمام راستے سیل کردیئے اور کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ہر ایک جگہ پر ناکے لگائے گئے تھے، سڑکیں بند کردی گئی تھیں اور لوگوں کے چلنے پھرنے پر روک لگائی گئی، لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگ ٹکی پورہ پہنچنے میں کابیاب ہوئے۔اس دوران لوگ جب مشتعل ہوئے تو انہوں نے ٹکی پورہ بس سٹینڈ اوربڑی بیراہ آرمی کیمپ میں فورسز اہلکاروں پر شدید پتھراؤ کیا۔جس کے جواب میں مظاہرین پر شلنگ کی گئی۔اس دوران ہزشاروں مرد و زن لولاب کے مختلف علاقوں سے پہلے ہی ٹکی پورہ پہنچ گئے تھے جن میں ایک کثیر تعداد جنوبی کشمیر سے بھی تھی۔پلوامہ،ترال، پانپور، اونتی پورہ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔نماز مغرب کے بعد منان وانی کی نماز جنازہ اپنے آبائی گھر کے بالکل مقابل میں انگلش میڈیم پبلک سکول کے صحن میں ادا کی گئی، جس میں قریب 20ہزار لوگوں نے شرکت کی اور بعد میں انہیں مزار شہدا میں سپرد خاک کیا گیا۔ اسکالرکمانڈرمنانی وانی کے جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوجانے کی تصدیق ہونے کے بعدکشمیریونیورسٹی کے طالب علموں نے کیمپس میں جمع ہوکراحتجاج کیا،اورپھرکمانڈرکی غائبانہ نمازجنازہ بھی اداکی۔طلاب نے آزادی واسلام کے حق میں نعرے بازی بھی کی تاہم وہ پرامن رہے ۔اس دوران احتجاج میں شامل یونیورسٹی طلاب نے صفیں بانڈھ لیں اور غائبانہ نمازجنازہ اداکی ۔ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالونی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے جمعرات کو یونیورسٹی میں درس وتدریس کا عمل متاثر رکھنے کا فیصلہ لیا ۔ترجمان نے بتایا کہ جمعرات کو اسلامک یونیورسٹی بند رہی اور یہ اقدامات انتظامیہ کی ہدایت پر اٹھائے گئے ۔26 سالہ منان وانی علی گڑھ یونیورسٹی سے اپلائڈ جیولوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔منان وانی اس وقت منظر عام پر آئے کہ جب انہوں نے رواں سال 16 جولائی کو ایک کھلا خط لکھا جس میں انہوں نے انڈین نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ کے حوالوں سے بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دیا۔شہداء کی تدفین کے بعد لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔اس دوران مشتعل مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں طاقت کا استعمال کیا گیا ۔جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔منان وانی اور عاشق زرگر کی شہادت پر سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جمعہ کو احتجاج اور ہڑتال کی اپیل کر رکھی تھی جس کے باعث وادی میں مکمل ہڑتال رہی ۔اس دوران کاروباری مراکز،تجارتی ادارے،دکانیں ،بازار اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ انٹر نیٹ،موبائل اور ریل سروس بھی معطل رہی۔وادی میں ٹریفک سڑکوں سے غائب رہی۔اس دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث کر فیو کا سماں رہا ۔سید علی گیلانی اور میر واعظ سمیت چوٹی کی حریت قیادت کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی بھی اجازت نہیں ملی جنھیں گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ یاسین ملک درجنوں کارکنان تھانوں میں بدستور بند ہیں ۔گزشتہ روز جھڑپ میں زخمی ہونے والے 8افراد بدستور زیر علاج ہیں جنھیں مظاہرے کے دوران بھارتی فورسز نے گولیاں مار دی تھیں۔جائے جھڑپ پر مظاہرین اور فورسز میں شدید تصادم آرائی کے دوران قریب ایک درجن افراد زخمی ہوئے ، جن میں 8افراد کو گولیاں اور پیلٹ لگے۔منان وانی کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی کپوارہ ،ہندوارہ اور لنگیٹ میں ہڑتال اور ٹریفک بند رہنے کے دوران درجنوں مقامات پر پتھراؤ کے واقعات رونما ہوئے اور انتظامیہ نے شمالی اور جنوبی کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کرنے کے علاوہ کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند کردیئے۔جھڑپ شروع ہوتے ہی شاٹھ گنڈ بالاکے مضافاتی دیہات ہرل،پرنگرو،قلم آباد،آڑورہ،تیرن،شاٹھ گنڈ پائین اور دیگر علاقوں کے لوگ پہنچ گئے تھے اور یہاں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ غالبا جنوبی کشمیر کا ایک جنگجو محاصرہ توڑ کر فرار ہوا جبکہ دو جنگجو جاں بحق ہوئے۔سینکڑوں مظاہرین نے فوسرز پر چاروں طرف حملہ کیا لیکن اس سے پہلے ہی ہلاکتیں ہوچکی تھیں، تاہم فورسز کو گاؤں سے نکلنے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔فورسز اور پولیس نے مظارین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کا سہارا لیا۔ تاہم بعد میں پیلٹ کا استعمال کیا گیا اور مظاہرین پر گولیاں بھی چلائیں گئیں جس سے 8مظاہرین زخمی ہوئے، جن میں 2کو گولیاں اور 6کو پیلت لگے۔دو زخمیوں کو سرینگر منتقل کردیا گیا ہے۔جن نوجوانوں کی ٹانگوں میں گولیاں لگیں ان میں مدثر احمد بیگ ولد سنا اللہ بیگ ساکن جہامہ ماور اور اشفاق احمد شیخ ولد غلوم رسول شیخ ساکن ہرل دودھ کوہل شامل ہیں۔اسکے علاوہ جن کو پیلٹ لگے ان میں ندیم احمد شیخ ولد غلام احمد شیخ پرنگرو ماور،دانش احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ اورمحمد اشرف وار ولد محمد صابر وار ساکنا ن شیخ پورہ ماور،محمد شفیع خان ولد خضر محمد خان ساکن ماور بالا،اصغر احمد بٹ ولد محمد مقبول بٹ اور محمد اقبال میر ولد حبیب اللہ میر ساکنان پرنگرو ماور شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر منان وانی کی ہلاکت یا فورسز کے نرغے میں آنے کی خبر پھیلتے ہی کپوارہ میں انٹر نیٹ سروس بندکردی گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر ضلع بھر کے کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اسکے علاوہ سوپور میں بھی کالج بند کئے گئے اور اسلامک یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کاج معطل کیا گیا۔اس دوران کپوارہ، ترہگام،کرالہ پورہ، لنگیٹ، کرالہ گنڈ، ہندوارہ،لال پورہ اور دیگر علاقوں میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے پتھراؤ کیا۔ان علاقوں میں کاروباری و تجارتی مراکز اورٹریفک بند ہوا اور سرکاری دفاتر میں بھی حاضری برائے نام رہی۔کئی علاقوں میں جلوس نکالے گئے ۔ہڑتال سے پورے ضلع میں ہر قسم کی سرگرمیاں معطل اور کشیدہ صورتحال رہی۔فورسز نے ٹکی پورہ لولاب جانے والوں کو سیل کیا اور لولاب علاقے میں غیر معمولی طور پر فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ دریں اثناء حزب المجاہدین کی کمانڈر کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ا س وقت منعقد ہواجب تنظیم کے ایک معروف کمانڈر منان وانی اپنے دوساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔ اجلاس سے سید صلاح الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منان وانی اس تحریک آزادی کا بیش قیمت سرمایہ تھے ۔ نہ صرف ا ن کا بندوق بھارت کے لئے سوحان روح بنا تھا بلکہ ان کے الفاظ بھی بھارتی ایوانوں میں لرزہ طاری کئے ہوئے تھے ۔ صلاح الدین نے کہا کہ موصوف کے یہ الفاظ جب قابض غیر مہذب، وحشی ہو، اس کا اجتماعی ضمیر خون آ شام ہے، اس کی اخلاقیات دھوکہ اور فریب ہے، اس کی ذہنیت غالبانہ، توسیع پسندانہ اور وہ بندوق کی نالی سے سوچتاہے، ایسے میں پرامن مذاکرات ردعمل نہیں ہوسکتا، ضروری ہے کہ اس کا گھمنڈ توڑا اور کچلاجائے آ ب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔انہوں نے کہا حزب المجاہدین انتہائی صدمے سے دوچار ہے ،ا ن کی جدائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ایسے لوگ بڑی مدتوں کے بعد ہی کسی قوم یا تنظیم کو میسر آ تے ہیں ۔ حزب المجاہدین کی یہ خوش نصیبی تھی کہ ہمارے صفوں میں منان وانی جیسا سکالر موجود تھا ۔نائب امیر حزب سیف اللہ خالد نے بھی اس موقع پر کمانڈر کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکالر منان وانی جتنا اعلی تعلیم یافتہ اور دانشور تھے اتنے ہی وہ جری ، بہادر اورعسکری صلاحیتوں سے مالا مال تھے ۔ پوری حزب المجاہدین اس وقت غمزدہ ہے ، لیکن یہ حزب المجاہدین کا اعزاز ہے کہ یہاں ہر ایک آزمائش اور ابتلا کے بعد مجاہدین کا عزم پختہ تر ہوتا چلاجاتا ہے ۔ منان وانی اور کے ساتھیوں کی قربانی ان شا اللہ ضرور رنگ لائے گی ۔ آپریشن فیلڈ کمانڈر محمد بن قاسم نے منان وانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سامراج کو اپنے الفاظ سے تھر تھرانے اور کپکپانے والے حزب کمانڈر منان وانی ہمارا سرمایہ افتخار اور مشعل راہ تھے ۔ہمیں امید ہے کہ ا نہوں نے نئی نسل کو اپنے الفاظ اور بندوق کی نالی سے جو پیغام دیا ۔ہمارے نوجوان ان شا اللہ تاصبح آزادی یاد رکھیں گے ۔ادھر لشکر طیبہ سربراہ محمودشاہ نے حزب المجاہدین کمانڈر ڈاکٹرعبدالمنان وانی اور انکے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی ۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کشمیر کا ہر نوجوان بھارت سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔جب قوموں کے نوجوان اس طرح کے عظیم فیصلے کرتے ہیں تو دشمن شکست تسلیم کرنی ہی پڑتی ہے ۔ کمانڈر عبدالمنان وانی کی شہادت سے تحریک آزادی میں شمولیت کی نئی راہیں کھلیں گی ۔انہوں نے اپنی قلم اور گن دونوں سے آزادی کی تحریک کو ایک نئی جہت بخشی ہے ۔شہدا ہمارے ہیروہیں اور نوجوان اپنے شہدا کے راستے کومشعل راہ سمجھتے ہیں ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے