Voice of Asia News

منان بشیر وانی جو نہ صرف ایک ممتاز اسکالر تھے نامور قلمکار تھے ،ر محمد یاسین ملک

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سرکردہ عسکریت پسند اور اسکالر ڈاکٹرمنان بشیر وانی اور اس کے ساتھی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ منان بشیر وانی جو نہ صرف ایک ممتاز اسکالر تھے بلکہ موصوف ایک ادیب اور نامور قلمکار تھے ،کی شہادت سے رواں تحریک آزادی ایک عظیم اثاثے سے محروم ہو گئی ہے۔قائدین نے ڈاکٹر منان بشیر وانی کی شہادت کو تحریکی صفوں میں ایک زبردست نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جہاں رواں تحریک آزادی کے ساتھ یہاں کی چوتھی نسل جڑ چکی ہے میں پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ افراد کا عسکریت کی جانب رجحان دراصل بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔قائدین نے میمندر شوپیاں میں ایک حریت پسند کارکن طارق احمد گنائی کی نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی حریت نوازافراد کو نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں شہید کیا جاچکا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی نامعلوم قوت یہاں ایک منصوبے کے تحت حریت پسندوں کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنا رہی ہے تاہم اس طرح کے واقعات سے نہ تو حریت پسند کارکنوں اور عوام کے حوصلوں کو توڑ ا جاسکتا ہے اور نہ رواں تحریک آزادی کا رخ موڑا جاسکتا ہے ۔ مزاحمتی قائدین نے محب وطن عوام سے یہ اپیل دہرائی ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے موقعہ پر مورخہ 13 اکتوبر 2018 بروز ہفتہ کوبھی متعلقہ مقامات اور علاقہ جات میں مکمل بائیکاٹ اور احتجاجی ہڑتال کرکے اس نام نہاد مشق سے عملا دور رہ کر اسے کلی طور پر مسترد کریں ۔جن میں لالچوک، راجباغ، اخراج پورہ، مہجور نگر، نٹی پورہ، چھانہ پورہ، بڈشاہ نگر، باغات برزلہ، راولپورہ، حیدرپورہ، خانقاہ معلی، مہاراج گنج، جامع مسجد، مخدوم صاحب، خواجہ بازار، عقلمیر خانیار، روضہ بل، دولت آباد، اسلام یاربل، نواب بازار، نواکدل، صفاکدل، رتھ پورہ، عیدگاہ ، پالہ پورہ، تارا بل،حاجن، سوپور، اوڑی، ترال، اونتی پورہ،مٹن، پہلگام، عیشمقام، سیر ہمدان شامل ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے