Voice of Asia News

مشرف کا سیاست میں آنے کا فیصلہ غلط تھا، عام انتخابات 2018ء صاف شفاف ہوئے، ترجمان پاک فوج

لاہور(وائس آف ایشیا) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مشرف کا سیاست میں آنے کا فیصلہ غلط تھا، ہر برائی کی جڑ فوج نہیں ہے، فوج سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن فوج ملک کے دفاع کی خاطر جانیں دینے سے گریز نہیں کرتی۔ انہوں نے دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج سے متعلقہ گاڑیوں کی خریداری کا خط جعلی تھا۔فوج میں احتساب کا کڑا نظام موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن 2018ء4 صاف شفاف ہوا تھا۔ تاہم الیکشن میں فوج پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تولے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی خواہش کے مطابق ووٹ ڈالا۔ کسی کونہیں کہا گیا کہ کس کوووٹ دینا ہے اورکس کو نہیں۔ فوج نے ممکن بنایا کہ ہرشخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے۔پاکستان کے متعدد حصوں سے ریکارڈ ووٹرز ٹرن آؤٹ رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بڑے ممالک مسائل پر ایک دوسرے سے ملنے سے گریز کرتے ہیں۔پاکستان واحد ملک ہے جو تمام ممالک سے ملاقاتیں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دورہ برطانیہ میں پیشہ ورانہ امور سمیت ملکی بہتری پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی۔پاک فوج سی پیک کا محافظ ادارہ ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اداروں کو ملکی استحکام کی خاطر حکومتوں کا ساتھ دینا چاہیے۔فوج سب سے منظم ادارہ ہے فوج کی طرح دوسرے اداروں کو بھی مضبوط ہونا چاہیے۔بھارت ، چین ، سعودی عرب، افغانستان اور قطر سے بات چیت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بطور ادارہ پاکستان کا امیج بلند کرنا ہمارا فرض ہے۔پاکستان میں خرابیوں سے اچھائیاں زیادہ ہیں جودنیا کوبتانی ہیں۔آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے۔ہم اچھے حالات کی جانب گامزن ہیں۔انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت اگر ایک سرجیکل اسٹرائیک کرے گا توپاکستان 10 بار سرجیکل اسٹرائیک کرے گا۔جس ملک کی فوج مضبوط نہ ہو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ قومی یکجہتی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔پاک فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اتنی قربانیاں کسی نے نہیں دیں۔پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں 76ہزار جانیں قربان کی ہیں۔قربانیاں دینے میں اکثریت عوام کی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کراچی کرائم ریٹ میں چھٹے نمبر پر تھا لیکن آج 66 ویں نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی پولیس کا کام ہے۔پاک فوج پچھلے 15 سالوں سے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کام کررہی ہے۔دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں ملنی چاہئیں تھیں۔چار سالوں میں جوڈیشل ریفارمز کیوں نہیں کی گئیں؟ ترجمان پاک فوج نے ایک سوال پر کہا کہ مشرف کا سیاست میں آنے کا فیصلہ غلط تھا، ہر برائی کی جڑ فوج نہیں ہے، فوج سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن فوج ملک کے دفاع کی خاطر جانیں دینے سے گریز نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر مایوسی پھیلائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کودیکھنے سے پرہیز کیا جائے تاکہ سکون رہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا میں فاٹا اصلاحات سے متعلق ایک بھی بامقصد اسٹوری ملنے کو نہیں ملی۔ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان سے متعلق مثبت خبروں کواجاگرنہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہاکہ احتساب اور کرپشن کی مہم میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ن لیگ کی حکومت نے فوج کی ہر ضرورت پوری کی ہے۔ مغربی میڈیا میں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرمبنی الزامات لگائے جاتے رہے۔ سرحد پر باڑ لگانے کیلئے فوج کو رقم فراہم کی۔اسی طرح ن لیگ کی حکومت نے عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن کی منظوری دی اور بھرپور تعاون بھی کیاپاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2018ء صاف شفاف ہوئے، عوام نے اپنی خواہش کے مطابق ووٹ ڈالا،فوج پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تولے کر آئے۔ انہوں نے دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج سے متعلقہ گاڑیوں کی خریداری کا خط جعلی تھا۔فوج میں احتساب کا کڑا نظام موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن 2018ء4 صاف شفاف ہوا تھا۔ تاہم الیکشن میں فوج پر دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تولے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی خواہش کے مطابق ووٹ ڈالا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بڑے ممالک مسائل پر ایک دوسرے سے ملنے سے گریز کرتے ہیں۔پاکستان واحد ملک ہے جو تمام ممالک سے ملاقاتیں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دورہ برطانیہ میں پیشہ ورانہ امور سمیت ملکی بہتری پر بات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی۔پاک فوج سی پیک کا محافظ ادارہ ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اداروں کو ملکی استحکام کی خاطر حکومتوں کا ساتھ دینا چاہیے۔فوج سب سے منظم ادارہ ہے فوج کی طرح دوسرے اداروں کو بھی مضبوط ہونا چاہیے۔بھارت ، چین ، سعودی عرب، افغانستان اور قطر سے بات چیت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بطور ادارہ پاکستان کا امیج بلند کرنا ہمارا فرض ہے۔پاکستان میں خرابیوں سے اچھائیاں زیادہ ہیں جودنیا کوبتانی ہیں۔آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے۔ہم اچھے حالات کی جانب گامزن ہیں۔انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت اگر ایک سرجیکل اسٹرائیک کرے گا توپاکستان 10 بار سرجیکل اسٹرائیک کرے گا۔ جس ملک کی فوج مضبوط نہ ہو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔قومی یکجہتی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ پاک فوج جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جتنی قربانیاں پاکستان نے دی ہیں اتنی قربانیاں کسی نے نہیں دیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں 76 ہزار جانیں قربان کی ہیں۔ قربانیاں دینے میں اکثریت عوام کی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کراچی کرائم ریٹ میں چھٹے نمبر پر تھا لیکن آج 66 ویں نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی پولیس کا کام ہے۔ پاک فوج پچھلے 15 سالوں سے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کام کررہی ہے۔ دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں ملنی چاہئیں تھیں۔ چار سالوں میں جوڈیشل ریفارمز کیوں نہیں کی گئیں؟

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے