مسلما ن سائنسدانوں کے عظیم کارنامے:محمد قیصر چوہان

علم ایسا زیور ہے جو انسانی معاشرے میں اعلی اخلاق کی خوبصورتی پیدا کرتا ہے،علم جہالت کے اندھیروں کوختم کر کے عقل وشعور کی روشنی سے انسانی سماج کو منور کرتا ہے۔ مثبت انسانی رویے پیدا کر نے میں معاون ثابت ہو تا ہے،علم حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ انسان کیا ہے؟ زندگی کی حقیقت و ما ھیت کیا ہے؟تخلیق انسانی کا بنیادی مقصد کیا ہے؟تخلیق کا ینات کی اسباب ،وجوہات،اور طریقہ کا ر کیا ہے؟ یہ وہ تما م سوالات ہے جو علم، عقل اور فلسفہ کی بنیاد پہ حل کیے جا تے ہیں۔ اگر علم کو انسانی سماج سے نکال دیا جائے تو اسکی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے انسانی جسم سے روح کا نکل جانا۔اگر روح ہی باقی نہ رہے تو صرف مادی اور مردہ جسم بھلا کس کا م کا؟ لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ صر ف حصول علم انسانی سماج میں بہتری پیدا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیشہ نتا یج تب ہی پیدا ہوتے ہیں جب علم کے نتیجے میں لوگوں کا شعور بلند ہو جا ئے ۔انسان کی اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر تربیت ہوتبھی سوسائٹی ترقی کرتی ہے۔ دراصل علم اور تربیت لازم وملزوم ہیں۔ فرض کریں ایک سائنسدان بہت ہی ذ ہین و فطین واقع ہو۔ مگر تربیت سے محروم رہے تو اس کی ایجادات ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حق میں استعمال ہو جاتی ہیں۔اور یوں انسانیت استحصال سے دو چار ہو جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر میڈیکل کی مشکل تعلیم حاصل کرتا ہے اور اعلیٰ نظریہ اس کے ساتھ ہو تو وہ مسیحا بن جاتا ہے جبکہ اعلیٰ نظریہ اور تربیت کے بغیر وہی ڈاکٹر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔
اگر ہم اپنے عروج کے ہزار سالہ دورکے نظام تعلیم کابغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس نظام تعلیم نے نہ صرف اپنے زمانے کے بڑے بڑے سائنسدان، انجینئر، ڈاکٹر، ماہرین فلکیات،کیمسٹ اور فلاسفر پیدا کیے بلکہ اعلیٰ ا خلاقی رویے بھی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔تا کہ ان کی ایجادات سے دنیا کی تمام اقوام مستفید ہوں۔ جب ہم عروج کے نظام تعلیم کا اس نقطہ نگاہ سے مطالعہ اور تذکرہ کرتے ہیں تو آج کا نوجواں کنفیوزہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ علم،سائنس، عقل و شعور یہ تو یورپی اقوام کا خاصہ ہے۔ اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ ترقی کے پیچھے صرف اور صرف یورپ اور امریکا کا ہاتھ ہے۔ ہمارہ اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ چنانچہ یہی افکار و خیالات اس کو مایو سیوں کے عمیق گہرائیوں میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے اندر عمل کا جذبہ،نئی تحقیقات کا شوق ما ند پڑ جا تا ہے۔ وہ یہی سوچتا ہے کہ ہم تو صرف تما شاء ہیں تحقیق کر نے والی اقوام تویورپ ہیں۔ اس طرح ہمارا نوجوان ذہنی طور پر موجودہ ترقیافتہ اقوام کا غلام بن جاتا ہے۔ ہما رے نبی ؐپر تو پہلی وحی ہی ’’ اقراء’’ تھی۔ لہٰذامسلم نو جوان کا علم کے بابت شکوک و شبہات کا شکار ہونا یقیناًافسوسناک امر ہے۔ کیا واقعی ہم نے دنیا کی ترقیات و ایجادات میں کوء قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دیا ؟کیا واقعی ہمارا علم،سائنس اور فلسفہ میں کوئی کردار نہیں ؟ ان سوالوں کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
علم کسی خاص قوم کی جا گیر نہیں بلکہ دنیا کی مختلف اقوام نے اپنے دور میں سائنس و ٹیکنا لوجی کی ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انہیں اقوام میں یونان بھی شامل ہیں۔ یو نان اپنی تا ریخی حیثیت کی وجہ سے منفر د مقام رکھتا ہے۔ یونان اْن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو ایک طویل تاریخ رکھتاہے۔ یہاں پر یورپین فلاسفی، اولمپک گیمز، اور سائنس کی ابتداء ہو ئی۔ اِس قوم نے سائنس اور دیگر علوم کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ سا تھویں صدی عیسوی تک کرہ ارض کا ترقی یافتہ ملک تھا۔یونان میں سائنس کی ابتداء ریاضی سے ہوئی۔ ریاضی میں ارشمیدس اور فیثا غورث کے مقام سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ان دونوں عظیم ریاضی دانوں کا تعلق یونان سے تھا۔ اِسی طرح جیومیٹری، اورنظریاتی سائنس میں بھی اِس قوم نے گراں قدر کارنامے سرانجام دےئے،لیکن شومء قسمت کہ یونان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ جنگ وجدل میں مصروف ہو گیا اور رومن ایمپائر سے شکست کھانے کے بعد یہ قوم زوال پذیر ہوگئی۔ سائنس و ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والے علمی گہوارے ویرانوں میں تبدیل ہو گئے اوررفتہ رفتہ اِس کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔
اسلام کی آفاقی تعلیمات کی بنیادخیالی مفروضوں کی بجائے ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر مسلمان اہل علم کی سوچ بھی سائنسی سوچ ٹھہری، جس سے تحقیق و جستجو نے یونانی موشگافیوں سے جان چھڑا کر جدید سائنسی طر یق کار سے تحقیق کرنے کی طرح ڈالی۔مسلم سائنسدانوں نے جس سائنسی علوم کی فصل بوئی تھی ،موجودہ دور اْسی کی کو کاشت کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے۔ مسلمانوں نے جب تک علمی روش کواپنایا اور اسے اپنی کامیابی کا سرچشمہ سمجھا ،یہ سارے جہاں کے امام و مقتدا رہے اور جوں ہی اس سے غفلت برتی، زول و پستی ان کا مقدر بن گئی۔ اپنے اجداد کے علمی خزانے کو بھی انہوں نے فراموش کردیا ۔اور مسلمان آج تک اسی مرض میں مبتلا ہیں۔جبکہ دور قدیم میں مسلمان ہر میدان میں علم کا کوہ ہمالہ ہواکرتے اور مختلف علوم و فنون ان کے سینوں کی زینت ہواکرتے تھے۔انھوں نے اپنی علمی و فکری خدمات کے ساتھ اپنے اسلاف و اکابر کے علمی آثار اور زرین افکار و خیالات کی حفاظت کی اور ان کی اشاعت و ترویج میں تاریخی کار نامہ انجام دیا ہے ، جو لائبریریوں کی زینت بنا ہوا ہے۔آج اپنے اسلاف کی تعلیمات و خدمات سے استفادہ کرنے کے بجائے ہم نے انھیں بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ ضرور یات زندگی کی وہ کون سی حیر ت انگیز ایجادات و انکشافات ہیں ،جن کامو جدمسلما ن نہ ہو ،جدید سائنس کی ترویج وترقی میں مسلما نوں کا جو اہم رول رہا،وہ اظہرمن الشمس ہے۔عالم اسلام کا وہ سنہرا دور جب ایشیا ، افریقہ اوریورپ کے بیشترممالک پرچم اسلام کے زیر سایہ شب وروز ترقی کی راہ پر گامزن تھے۔ ہر سو امن وامان تھا۔ خاص وعام بحرتہذیب و تمدن سے علم کاصدف نکال کر اپنے عملی نمونے اورعلمی افکار سے عوام الناس کو بہرہ ور کرتے اور مقبول عام ہوئے تھے۔تاریخ کے اس سنہرے دور کی اوراق گردانی سے معلوم ہوتا ہے، کہ وہ کون سے علوم وفنو ن ہیں ،جن میں مسلما نوں نے دسترس حاصل نہ کیا ہو؟وہ کون سی ایجادات وانکشافات تھیں ،جن میں مسلمانوں کی تحقیق وتخلیق کا دخل نہ ہو۔شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیاہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے :’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار داا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘۔امریکی سائنسی مورخ جارج سارٹن اپنی مشہور کتاب انٹروڈکشن ٹو دی ہسٹری آف سائنس میں دسویں صدی عیسوی کے نصف اول کے نمایاں کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ بنی نوع انسان کا اہم کام مسلمانوں نے انجام دیا ہے۔ سب سے بڑا فلسفی الفارابی تھا، مسلمانوں کا سب سے بڑا ریاضی داں ابو کامل اور ابراہیم مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں المسعودی تھا اور سب سے بڑا مورخ الطبری مسلمان تھا۔ ایک اور غیر جانبدار معروف امریکی سائنسی مورخ چارلس گیلسپی نے اپنی مایا ناز کتاب ڈکشنری آف سائنٹفک بایوگرافی میں عہدِ وسطی کے ایک سو بتیس ان سائنس دانوں کی فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے اپنی تحقیقات سے سائنس کو فروغ دیا اور ان کی تحقیقات آج سائنس کی بنیاد بنیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس فہرست میں ایک سو پانچ سائنس دانوں کا تعلق اسلامی دنیا سے ہے۔ دس بارہ یوروپ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ باقی کا تعلق یوروپ کے علاوہ دیگر قوموں سے ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عہدِ وسطی میں کم وبیش اسّی سے پچاسی فیصد سائنس داں مسلمان تھے جب کہ آج دنیا کی کل آبادی کے مقابلے مسلمانوں کی پوری آبادی پچیس فیصد سے زیادہ ہے لیکن سائنس کے میدان میں انکا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔فرانس کا نامور مورخ موسید سیدیو لکھتا ہے کہ اب ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ مسلمانوں نے کاغذ، قطب نما، بارود اور توپ ایجاد کیا اور ان کی ایجاد سے تمام دنیا کی ادبی، سیاسی اور فوجی حالت میں کیسا انقلابِ عظیم رونما ہوا اور بعض یوروپی اہلِ قلم جنہوں نے مسلمانوں سے ان چیزوں کے ایجاد کا شرف زبردستی چھین لیا ہے، ان کے بیان پر کوئی التفات اور اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ ان اشیاء کے موجد مسلمان ہیں اور مسلمانوں ہی نے اہلِ یوروپ کو ان کا استعمال سکھایا ہے۔ایک انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔ آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کررہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کرسکی تو غلط نہ ہوگا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات وجغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔ فلکیات پرالبیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیاآج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔بوعلی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر براؤن کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے ، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔ مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔ چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کردیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا۔
آج جو سائنس اہل مغرب کیلئے نقطہ عروج سمجھی جا رہی ہے اور جس نے مسلمانوں کی نظروں کو خیرہ کر کے انہیں احساسِ کمتری کا شکار بنادیا ہے، انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس برگ وبار کو ان کے اسلاف ہی نے کئی صدیوں تک اپنے خونِ جگر سے سینچ کر پروان چڑھایا ہے۔ یہ سائنس جس کے برگ وبار سے دنیا آج لطف اندوز ہورہی ہے اور جو دیگر ضروریاتِ زندگی کی طرح انسانی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ اور لازمہ بن چکی ہے، اس کی تخم ریزی ہمارے پرکھوں ہی نے بد ست خویش کی تھی۔سائنس کی دنیا میں اقوامِ عالم نے ہمارے ہی بزرگوں کی انگشت پکڑ کر چلنا سیکھا ہے۔ سائنس جس پر آپ اہل مغرب کی اجارہ داری ہے یہ درحقیقت مسلم خانوادے کی چشم وچراغ ہے، اغیار کے گھرانے اس کیلئے بانجھ تھے۔ اہلِ یونان صرف اس کی تمنا ہی گوشہِ جگر میں پال سکتے تھے کیونکہ ان کے یہاں اس کی تخم پاشی کے لیے سرے سے عوامل ہی ناپید تھے اور یورپ میں حال یہ تھا کہ وہاں ایسی اولاد کی تمنا حاشیہِ خیال میں لانا بھی جرم تھا۔ اگر کوئی اس کی خواہش بھی کرتا تو کلیسا کی آگ میں جلا کر خاکستر کردیا جاتا۔ سائنس اپنے وجود کی بقا اور ترقی کیلئے ہمارے آبا واجداد کی صدیوں تک مرہونِ منت رہی ہے، بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان کے گلی کوچوں میں کاسہ گداگری وکشکول لیے تحقیقات اور انکشافات کی بھیک مانگتی رہی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس آج وہ ہمارے لیے متاعِ گمشدہ ہے۔اس بات سے قطعاً انکار نہیں کہ انسان ہر دور میں ضروریاتِ زندگی کی تکمیل کی خاطر کائنات کی مختلف اشیاء کے مابین ربط پیدا کر کے کچھ نہ کچھ ایجاد کرتا رہا ہے لیکن اگر اسلام کے عہدِ زریں خلافت راشدہ سے لے کر مسلمانوں کے عروج بلکہ اسلامی سلطنتوں کے رو بہ زوال ہونے تک کئی صدیوں پہ محیط ایک طویل عرصے پر اگر دنیا خصوصاً مغربی دنیا تعصب کا عینک اتار کر حقیقت پسندی و حق شناسی کی نگاہوں سے دیکھے تو اس میدان میں مسلمانوں کے علاوہ دور دور تک اور کہیں سے کہیں تک کوئی دوسرا نظر نہیں آئے گا۔
-1خالد نامی ایک عرب ’’جنوبی ایتھوپیا‘‘ کے مقام ’’کافا‘‘ (Kaffa) میں بکریاں چرا رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی بکریاں جھاڑیوں سے ایک مخصوص پھل کھاتے ہوئے تنو مند ہو رہی ہیں وہ اس نئے دریافت شدہ پھل کو گھر لایا اسے اُبالا تو وہ تاریخ کی پہلی ’’کافی ‘‘ تھی۔ یقینی بات جو تاریخ ریکارڈ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ’’دانے‘‘ جو ایتھوپیا سے یمن برآمد کئے گئے زیادہ تر زاہد لوگ پیتے تھے اور مخصوص ایام میں ساری ساری رات جاگر کر عبادت میں گزارتے تھے۔ 15ویں صدی میں یہی ’’دانے‘‘ مکہ پہنچتے ہیں۔ پھر ترکی سے ہوتے ہوئے 1645 میں وینس (Venice) پہنچ جاتے ہیں۔ 1650 میں پاسکواروزی نامی ایک ترک باشندہ یہ کافی کے دانے لے کر لندن (انگلینڈ) شہر کی لمبارڈ اسٹریٹ میں پہنچتا ہے اور پہلی ’’کافی شاپ‘‘ کا آغاز کرتا ہے۔ عرب کا یہ ’’قہوہ‘‘ ترکی پہنچ کر ’’کہوے‘‘ (Kahva) کہلاتا ہے۔ جبکہ اٹلی میں اسے ’’کیفے‘‘ (Caffe) کہا جانے لگا اور انگلینڈ میں پہنچ کر ’’کافی‘‘ بن گیا۔
-2 قدیم یونانیوں کا تصور تھا کہ آنکھوں سے شعاعیں نکلتی ہیں (لیزر جیسی) جو کہ ہمارے دیکھنے کا سبب ہیں۔ تاریخ کا پہلا شخص جس نے ثابت کیا کہ شعاعیں آنکھوں میں داخل ہوتی ہیں نہ کہ نکلتی ہیں جس سے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں وہ تھا سولہویں صدی کا مشہور مسلمان ریاضی دان، ماہر فلکیات و ماہر طبیعات، ابن الہیشم۔۔۔ اس نے کھڑکی کے سوراخوں سے روشنی کے اخراج کو تحقیق کا مرکز بناتے ہوئے دنیا کا پہلا سوئی کے سوراخ والا کیمرہ ایجاد کیا۔ سوراخ جتنا ہی کم ہو تصویر اتنی ہی واضح اور بہتر بنی۔ یہ اس کی تحقیق نے ثابت کیا ’ابسکورا کیمرا‘‘ (obscura camera) سب سے قبل انہی کی ایجاد تھا۔ ’’کمارا‘‘ عربی کا لفظ ہے جس کے معانی ہیں ’’جیسا دیکھا‘‘ ابن الہیشم ہی وہ پہلی شخصیت ہیں جو طبیعات (Physics) کو فلسفہ کے نظریاتی اصولوں سے نکال کر تجرباتی اور عملی سطح تک لائے۔
-3 قدیم ہندوستان میں شطرنج کی طرح ایک کھیل کھیلا جاتا تھا۔ لیکن شطرنج کھیل کی موجودہ شکل جسے آج ہم جانتے ہیں اس کی تکمیل قدیم ایران میں ہوئی جہاں سے مغرب کو سفر کرتی ہوئی یہی شطرنج یورپ پہنچی جو اسپین کے ’’بربوں‘‘ نے 10 ویں صدی میں متعارف کرائی۔۔۔ مشرق، جاپان میں اس عرصہ تک شطرنج پہنچ چکی تھی۔ شطرنج کھیل کا وہ ’’گھوڑا نما‘‘ جسے آج ہم ’’رک‘‘ (ROOK) کہتے ہیں، فارسی کے لفظ ’’رخ‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب رتھ کا ہے۔
-4 Wright برادرز سے ایک ہزار سال قبل ایک مسلم شاعر، ماہر فلکیات اور انجینئر کا نام عباس بن فرناس تھا انہوں نے اڑنے والی مشین پہ بہت کام کیا۔ 852ء میں اسپین کی مسجد قرطبہ کے مینار سے انہوں نے کپڑے کے ایک کھلے اور ڈھیلے ڈھالے چوغے کو لکڑی کے ایک ڈھانچے سے پیوستہ کر کے زمین کی طرف اڑان لے لی۔ ان کی سوچ تھی کہ وہ پرندے کی طرح لہروں میں اڑیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ چرغے نے ان کے گرنے کی رفتار کو کافی آہستہ کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ’’پیرا شوٹ‘‘ کے ذریعے پہلے پرواز تھی۔ وہ زخمی تو ہوئے لیکن بہت معمولی۔
دوبارہ 875ء میں جب وہ 70 برس کے ہو چکے تھے اس بار وہ کپڑے کیلئے ریشمی اور عقاب کے پر استعمال میں لائے۔ اس بار پہاڑ سے چھلانگ لگائی ۔۔۔ وہ کافی بلندی پہ اڑتے رہے اور قریباً 10 منٹ تک ہوا میں رہے لیکن اس بار زمین پر سیدھے آٹکرائے۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر انہوں نے اس ہوائی مشین میں دم کا اضافہ کر دیا ہوتا تو زمین پہ اترتے وقت زیادہ آسانی ہوتی۔ یاد رہے بغدا کا بین الاقوامی ایئرپورٹ اور چاند کا دھانہ ’’عباس بن فرناس‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
-5 نہانا اور دھونا مسلمان کی مذہبی رسومات کا حصہ ہے۔ شاید یہی وہ وجہ ہے کہ آج ہم صابن استعمال کر رہے ہیں اس کے اجزاء ترکیبی صحیح حالت میں اور مکمل ہیں۔ قدیم مصری اور رومی نہانے کیلئے خوشبو والا تین استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ عرب تھے جنہوں نے سبزیوں کا تیل، سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور خوشبو دار رس کو ملا کر صابن بنایا۔ جب صلیبیوں نے عربوں پہ حملہ کیا تو عربوں کیلئے صلیبیوں کی سب سے بری چیز جو انہیں سخت ناگوارا گزری وہ عربوں کے نتھنوں کو چبھنے والی صلیبیوں کے جسموں سے (اٹھتی) بدبو تھی کیونکہ وہ غسل نہیں کرتے تھے۔
شیمپو سب سے پہلے انگلینڈ میں ایک مسلمان نے متعارف کرایا جس نے برطانیہ کے شہر ’’برائیٹن‘‘ میں ساحل سمندر پر پہلا ’’محمدن انڈین و پیر باتھ‘‘ 1759 میں کھولا اور پھر یہی مسلمان بعد میں بادشاہ جارج چہارم اور ولیم چہار کا شیمپو ینگ سرجن مقرر ہوا۔
-6 مختلف مائعات کا نقطہ ابال مختلف ہے۔ اس طریقہ سے انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے موجد اسلام کے پہلے سائنسدان جابربن حیان تھے جو 800 عیسوی کے لگ بھگ ہوئے ہیں اور یہ وہی تھے جنہوں نے کیمیا گری سے علم کیمیا کو علیحدہ کیا اور بہت سے سائنسی طریقے اور آلے ایجاد کئے جو آج بھی عمل میں ہیں۔ مثلا عمل کشید، عمل تفطیر، عمل تبخیر، بلوریا قلم بنانے کا عمل۔ عمل تکسید (Oxidation) عمل صفائی وغیرہ۔ یہ ’’جابر بن حیان‘‘ ہی تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ (سلفیورک ایسڈ) گندھک کا تیزاب (نائٹرک ایسڈ) شورے کا تیزاب اور آلہ کشید کی تخلیق کی۔ پہلی دفعہ دنی کو خوشبو سے بھرا پانی مہیا کیا۔ کیمیائی الکوحل بھی انہی کی ایجاد ہے (نوٹ: شراب اسلام میں ممنوع ہے) جابر بن حیان نے تجربہ کاری کو تسلسل سے جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ جابر جدید دور کے علم کیمیا کے بانی تھے۔
-7 Crankshaft (پھرنے والی چکری) ایسا آلہ ہے جو حرکت کو چکر سے ایک سیدھی لائن میں تبدیل کرتا ہے جو آج کی مشینوں کا ایک مرکزی حصہ ہے۔ اس کی مثال صرف داخلی جلانے والا انجن (Engine internal combustion) ہی نہیں، تاریخ انسانیت کے شعبہ مکینکس میں اپنی نوعیت کے اہم ترین موجد ایک ذہین مسلمان انجینئر الجزاری تھے جنہوں نے زراعت کیلئے آبپاشی کا طریقہ ایجاد کیا۔
1206 میں لکھی گئی ان کی کتابBook of knowledge ingeniou machanical devices سے پتہ چلتا ہے کہ Value والو اور Piston کے یا تو یہ موجد تھے یا انہیں نئی اور بہتر شکل میں ڈھالا۔۔۔ ساتھ ہی انہوں نے ہی ایک کلینیکل گھڑی پہلی مرتبہ ایجاد کی جو پانی اور وزن کی مدد سے چلتی تھی۔ یہی نہیں مشینی آدمی (Robot) کے خالق بھی مسلمان سائنسدان الجزاری ہی تھے۔ ان کی کل 50 ایجادات میں سے ایک نمبر ون والا (Combination lock) بھی تھا۔
-8 کپڑے کی دو تہوں کے درمیان منتفصل مادہ رکھ کر سینے کا طریقہ Quiptingبھی مغرب کیلئے نیا تھا۔ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ انڈیا سے یا چین سے آیا۔ تاہم یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یورپ میں اس کا تعارف صلیبی جنگ کے دوران ہوا۔ جب مسلمان جنگجو (مجاہد) صلیبیوں کے خلاف یورپ میں محاذ آرا تھے تو وہ زرہ بکتر کی بجائے کینویس کی بنی دو تہوں والی قمیض جس کے درمیان بھوسہ بھرا ہوتا تھا پہنے ہوئے تھے جو صلیبیوں کے دھاتی اسلحہ کا موثر حفاظتی دفاع ثابت ہوا۔ یورپین مسلمانوں کی بنی اس دفاعی قمیض سے اتنا متاثر ہوئے کہ سرد یورپ کے ممالک ہالینڈ اور انگلینڈ میں مانگ کی وجہ سے اس نے ایک اچھی بھلی صنعت کا درجہ اختیار کر لیا۔ (زرہ بکتر لوہے کی ہونے کی وجہ سے بھاری ہوتی ہے جس کی وجہ سے صلیبیوں کیلئے حرکت کرنا اور تیزی سے لڑنا مشکل ہوتا جبکہ مسلمانوں کی یہ دفاعی قمیض زیادہ کامیاب رہی)
-9 یورپ کے گرجوں کی ساخت میں جو نوکیلی محراب ہے یہ بھی مسلمانوں کے فن تعمیر سے نقل کی گئی ہے جو کہ زیادہ پائیدار ہی نہیں، لمبائی میں اونچی، جسامت کے لحاظ سے عظیم اور دلکش تھی۔ جبکہ رومن اور نارمن اس سے قبل گول محراب بنایا کرتے تھے۔ مسلم ذہانت اور ان کے فن سے کئی دوسرے تعمیری نمونے یورپ نے نقل کئے۔ مثلاً باریک محرابی چھت، گلابی کھڑکیاں، گنبد بنانے کا فن وغیرہ۔
یورپ کے قلعوں نے بھی اسلامی ساخت کی شکل اختیار کر لی۔ چھیدتا ہوا نیزہ اور فصیل کی دندانے دار دیوار اور منڈیر چوکور میناروں کی جگہ گول میناروں نے لے لی جس سے دفاع زیادہ آسان تھا۔
-10 بہت سے جراحی آلات جو آج میدان میں استعمال ہو رہے ہیں وہ وہی ہیں جو دسویں صدی کے مسلمان سرجن الزھروی نے ایجاد کئے۔ ان کے ایجاد کئے گئے نشتر، ہڈیوں کی آری، چمٹی اور عمدہ قسم کی قینچی۔ ان 200 ایجاد کردہ اوزاروں میں سے ہیں جو آج کی سرجری کے شعبہ میں نمایاں ہیں۔ یہ الزھروی ہی تھے جنہوں نے اندرون جسم ٹانکے لگانے کی پٹی (Catgut) ایجادد کی جو بعد میں خودبخود تحلیل ہو جاتی ہے جو بعدازاں دوائی سے بھرے کیپسول بنانے کا سبب بنی۔
’’ولیم ہاروے‘‘ کی دریافت سے 300 سال قبل 13 ویں صدی میں ایک مسلمان ماہر طب ’’ابن نفیس‘‘ نے ’’گردن خون‘‘ کی وضاحت کی اور پھر یہ مسلمان طبیب ہی تھے جنہوں نے افیون اور الکوحل کے امتزاج سے بے ہوش کرنے کی دوا کا آغاز کیا۔ آنکھوں کا موتیا نکالنے کیلئے خالی سوئی کی ایجاد بھی مسلمان طبیبوں کی مرہون منت ہے۔
-11 پن چکی 634ء میں ایران میں ان کے خلیفہ کی خاطر ایجاد ہوئی جو غلہ پیسنے اور آبپاشی کیلئے پانی نکالنے کے استعمال میں آئی۔ صحرائے عرب جہاں کی موسمی نہریں خشک ہو جاتی ہیں ’’ہوا‘‘ کی صورت میں ان کے پاس یہی ایک قوت تھی جو کہ مہینوں ایک ہی سمت میں مسلسل چلتی تھی۔ انہوں نے ایسی ’’پن چکی‘‘ ایجا کی جس کے 6 یا 12 بادبان ہوتے تھے جو کپڑے یا کھجور کے پتوں سے پیوستہ تھے۔ یہ ایجاد یورپ میں آنے والی پن چکی سے 500 سال قبل اسلامی دنیا میں وجود میں آچکی تھی۔
-12ٹیکہ (Inoculation) کی ایجا (Jenner) ’’جینر‘‘ یا (Pasteur) ’’پیسٹیور‘‘ سے نہیں ہوئی بلکہ اس کی ایجاد مسلم دنیا میں ہوئی اور پھر ترکی کے راستے یورپ میں پہنچی۔ جب 1724 میں ترکی میں برطانیہ کے سفیر کی بیوی اس تخلیق کو ترکی سے انگلینڈ لائی ترکی میں چیچک کی بیماری کا ٹیکہ یورپ میں اس کی دریافت سے قریباً 50 سال قبل استعمال میں آچکا تھا۔
-13 فاؤنٹین پین کی ایجاد مصر میں ہوئی۔ جب مصر کے سلطان نے 953 میں ایسے قلم کا مطالبہ کیا جو ہاتھ یا کپڑے پہ دھبے کا باعث نہ بنے۔ ایسا قلم بنایا گیا جس کے ایک حصہ میں سیاہی محفوظ کر لی جاتی اور پھر کشش ثقل اور باریک سوراخ کے ذریعے نب تک پہنچتی۔
-14 شماریات کا نظام جو پوری دنیا میں مروج ہے۔ اس کا آغاز غالباً ہندوستان میں ہوا۔ لیکن ’’اعداد‘‘ کی طرز پر پہلی دفعہ عربی زبان میں 825 میں الخوارزی اور الکندی ماہرین ریاضیات کے زمانے میں منظر عام پر آئی۔ الجبرا کا نام الخوارزمی کی کتاب ’’الجبرو و المقابلہ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کے بہت سے اصول آج بھی استعمال میں ہیں۔ مسلمان ماہرین ریاضیات کی تخلیقات 300 سال بعد اٹلی کے ریاضی دان Fibo nacci فیبو نیکی کی وساطت سے یورپ میں پہنچی۔ ریاضی کے شعبہ Algorithms اور Trigonometryبھی دنیائے اسلام کی تخلیق ہے اور یہ ’’الکندی‘‘ تھے جنہوں نے تجزیہ سرعت Frequency Analysis کے ذریعے قدیم زمانے کے مجموعے قانون تک رسائی کی اور ان کے حل نکالے اور انہوں نے ہی آج کے زمانے میں مروج رمزی تحریروں کو پڑھنے کے طریق کی بنیاد رکھی۔
-15علی بن نافی جو کہ زریاب (یعنی کالا پرندہ) کے نام سے مشہور تھے 9ویں صدی میں عراق سے اسپین منتقل ہوئے۔ یہ وہی تھے جنہوں نے یورپ میں ’’تین لوازم‘‘ کا کھانا متعارف کرایا۔ یعنی پہلے شوربہ، اس کے بعد مچھلی یا گوشت اور آخر میں تازہ پھل یا خشک پھل۔ زریاب نے ہی بلوری شیشے کے گلاس متعارف کرائے۔ (نوٹ: بلوری گلاس کی ایجاد عباس بن فرناس نے بلوری چٹان پہ تجربہ کے بعد کی تھی)
-16قرون وسطیٰ کے مسلمانوں میں ’’قالین‘‘ جنت کا تحفہ تصور کئے جاتے تھے۔ یہ بھی عربوں کی بُننے کی اعلیٰ مہارت تھی۔ اسلامی کیمیائی ایجاد سے لیئے ہوئے نمونے اور نقاشی کی وجہ سے ان کی قالین کی ایجاد بھی مثالی تھی۔ اس کے برعکس یورپین کے فرش ننگے اور غلیظ تھے۔ جب عرب سے اور ایران سے قالین یورپ پہنچے تو تب یہاں صورتحال بدلی جیسا کہ برطانوی مورخ اراسمس (Erasmus) لکھتا ہے: ’’ہمارے فرش غلاظت سے اٹے پڑے تھے۔ کبھی کبھار صفائی ہو ہی جاتی۔ پھر بھی اس کی نچلی تہہ قائم رہتی اور بسا اوقات 20 سال تک ایسی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آتی۔ یعنی غلاظت تہہ بہ تہہ لگی رہتی۔ تھوک، قے، بلی کتے ہی نہیں، انسان کا پیشاب، کھانے کے بعد مچھلی کے کانٹے اور دوسرے ایسی غلاظتیں جن کا یہاں ذکر مناسب نہیں، جمی رہتیں اور پھر اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ یورپ میں عربی قالین کو کیسے پذیرائی ملی۔
-17موجودہ زمانے کا لفظ ’’چیک‘‘ عربی کے لفظ ’’سق‘‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں ’’رسید‘‘ کے جو سامان وصول کرنے کے بعد دی جاتی ہے۔ 9ویں صدی میں ہی مسلمان تاجر بغداد سے جاری کیا ہوا چیک ’’چین‘‘ میں کیش کرا سکتا تھا۔
-18 9ویں صدی میں ہی مسلمان علما اور سائنسدان قائل ہو
چکے تھے کہ زمین گول شکل میں ہے۔ ابن الہیشم ثبوت کے طور پر دلیل دیتے تھے کہ زمین پہ پڑنے والی سورج کی شعاعیں ہمیشہ عمودی ہوتی ہیں۔ Galileo گیلی لیوکو 500 سال بعد اس حقیقت کا پتہ چلا۔
-19 گوکہ ’’چین‘‘ نے قلمی شورے سے ’’بارود‘‘ ایجاد کیا تھا اور آتش بازی کیلئے استعمال کیا یہ مسلمان عرب تھے جنہوں نے اس بارود کو ’’پوٹاشیم نائٹریٹ‘‘ کے استعمال سے صاف کیا اور پھر اسے فوجی استعمال میں لائے۔ مسلمانوں کے اس مہلک اورخوفناک اسلحے نے صلیبیوں کو خوف اور حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔
15ویں صدی تک مسلمانوں نے ’’راکٹ‘‘ ایجاد کر لیا تھا۔ جنہوں نے اس کا نام ’’خود کار، پھٹنے والا انڈہ‘‘ دے رکھا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ، تارپیڈو (آبدوز گولہ) بھی ایجاد کر لیا گیا جس کی شکل ناشپاتی جیسی تھی اور اگلا حصہ نیزے جیسا نوکدار تھا یہ خودکار تھا یعنی آٹومیٹک اور بحری جہاز کو ٹکراتے ہی اسے اڑا دیتا تھا۔
-20قرون وسطیٰ کے بعد یورپ کے گھروں میں جڑی بوٹیوں کے باغیچے اور ساتھ ہی باورچی خانہ بھی تھا لیکن یہ عرب مسلمان تھے جنہوں نے باغ کا تصور دیا جو پھولوں بھری خوبصورت جگہ تھی اور جہاں ریاضت بھی کی جاتی تھی۔
عہدِ وسطی میں مسلمانوں نے دنیاوی علوم وفنون میں جس دیدہ روی اور تحقیق وتفتیش کا ثبوت دیاآج تک دنیا اس کی نظیر پیش نہ کر سکی، انہوں نے تاریخ، جغرافیہ ، معدنیات، نباتات، حیوانات، علمِ کیمیا، طبعیات، فلکیات، ریاضیات، طب اور فلسفہ جیسے علوم میں انسانیت کو اپنے کارہائے نمایاں کی جو سوغات پیش کی ہے انہیں پڑھ کر عقل محوحیرت رہ جاتی ہے۔ ساتویں صدی سے پندرہویں عیسوی تک صف اول کے فلسفی، منطقی، کیمیا داں، ریاضی داں، تاریخ نگار، طبیب، محقق یعنی سائنس کے تمام شعبوں میں عرب، ایران، اندلس، اور ہندستان میں وہ علمی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جس کی بدولت آج اہلِ یورپ کو ترقی حاصل ہے۔مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کا احاطہ محال نہیں تو مشکل ضرور ہے یہاں پر ان کے چند سائنسی کارناموں کا تذکرہ بطور مثال کیا جا رہا ہے۔ توپ سب سے پہلے کندی نے بنائی تھی، دور بین ابن سینا کے استاذ ابو الحسن نے ایجاد کی تھی، ابو القاسم عباس بن فرناس نے تین چیزیں ایجاد کرکے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ عینک کا شیشہ ، بے نظیر گھڑی اور ایک مشین جو ہوا میں پرواز کر سکتی تھی۔ حسن الزاجہ نے راکٹ سازی کی طرف توجہ دی اور اس میں تارپیڈو کا اضافہ کیا۔ مسلمانوں کی دیگر ایجادات میں بارود، قطب نما، زیتون کا تیل، عرقِ گلاب، خوشبو، عطر سازی، ادویہ سازی، کاغذ سازی، معدنی وسائل میں ترقی، پارچہ بافی، صابون سازی، شیشہ سازی اور آلاتِ حرب شامل ہیں۔مسلمانوں کی کتنی ایجادات ہیں جو اہلِ مغرب نے مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل رکھی ہیں حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات بیشتر مسلمانوں کی مرہونِ منت ہیں۔ اور وہ اسی وقت ایجاد ہوئی ہیں جب کہ متمدن دنیا میں کہیں یوروپ اور اہلِ یوروپ کا ذکر تک نہ تھا۔ یوروپ نے جابر بن حیان کو جیبر ، ابنِ رشد کو اویروز ، ابنِ سینا کو اویسینا ، ابن الہیثم کو الہازین ، الفارابی کو الفرابی اس، اور موسی بن میمون کو مائمونائڈس کہنا شروع کیا تاکہ ان کا مسلمان ہونا ثابت نہ ہو۔ مستشرقین یوروپ کی یہ خاص عادت رہی ہے کہ وہ مسلمانوں کی ایجاد یا ان کے کسی کارنامے کو یوروپ ، چین یا کسی یا کسی دوسرے مشرقی ملک کے غیر مسلم شخص سے منسوب کر کے بزعمِ خویش صلیبی جنگوں کی ہزیمتوں کا بدلہ لیتے ہیں مگر خود یوروپ کا انصاف پسند طبقہ ان کی اس روش سے نالاں ہے۔اہلِ مغرب نے ہمارے اسلاف کے روشن اور نمایاں کارناموں پر از راہِ عناد اور تعصب صدہا دبیز پردے ڈال رکھے ہیں مگر روشنی کی جو چند کرنیں ان پردوں کو چاک کر کے باہر آرہی ہیں خود رشک آفتاب ہیں۔ سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کے شاندار کارناموں کا عہدِ زریں دوچار برس یا نصف صدی ہی تک محدود نہیں بلکہ عہدِ وسطی کی ہزار سالہ مدت تک فرشِ خاک پر سایہ فگن رہا۔ یہ وہ دور تھا جب اسلام ہی سائنس میں اقوامِ عالم کی رہبری کر رہا تھا اور مسلمانوں کو ہی علوم وفنون کی سرپرستی حاصل تھی ،جب کہ اس طویل عرصہ تک سائنس یوروپ میں خوابیدہ تھی اور اہلِ مغرب خواب خرگوش میں مست تھے، سائنس کا تصور ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھا۔پندرہوں صدی عیسوی کے بعد جب اہلِ مغرب کے اندر سائنس کا ذرا ذوق اور روشنی کے لیے تڑپ پیدا ہوئی ، اورعلم وآگہی کا آنگن ن میں جھانکنے کی ان کے دلوں میں للک بیدار ہوئی تو بغداد، اندلس اور قرطبہ کا سفر کیا اور وہاں کے مدارس میں صدیوں تک سائنسی تحقیقات کی بھیک مانگتے رہے۔ ان کے اندر اختراع اور ایجاد کی جو صلاحیت پیدا ہوئی وہ ہمارے اسلاف ہی کی دین ہے۔
اہلِ یوروپ نے مسلمانوں کے علمی کتابوں کی جس قدر چوری کی اور جس بے دردی کے ساتھ مسلمانوں کے ورثے پر ہاتھ صاف کیا وہ علم ودانش کا طویل ترین سیاہ باب ہے۔ کوپرنکس ہوں یا کیلر، گلیلیو ہوں یا ٹائیکو براہے، سب نے مسلمانوں کے علمی انکشافات اور ایجادات پر ہاتھ صاف کر کے اس دزدِ دلاور کی طرح انہیں اپنے نام سے مشہور کردیا جو رات کا مالِ مسروق صبح کو سرِ عام اپنا مال چلا چلا کر نیلام کردیتا ہے۔لہٰذآج اگر عہدِ وسطی کے مسلم دانشوروں اور سائنس دانوں کے متعلق کچھ معلوم کرنا چاہیں تو مغربی ممالک کے کتب خانوں اور لائبریریوں میں جانا ہوگا جہاں جابر بن حیان ، ابنِ سینا، زکریا الرازی، البیرونی، الخوارزمی، الکندی، ابونصرالفارابی، ابنِ رشد، ابنِ زہر، ابنِ خلدون، ابو معثر، ابن الہیثم، اور نصر الدین الطوسی جیسے بے شمار مسلم سائنس دانوں کی تصنیفات، کتابیں، رسائل اور دیگر اسلامی لٹریچرس محفوظ ہیں۔
دورِ حاضر میں سائنس کے میدان میں مسلمانوں میں قدرے بیداری پیدا ہوئی ہے جو مسلمانوں کے حق میں حوصلہ افزا ء کہی جا سکتی ہے۔ بعض مسلم ممالک نے اپنی سرپرستی میں اس طرف توجہ دینی شروع کی ہے ، یونیورسٹیوں میں باقاعدہ سائنٹفک لیباریٹریز کا قیام اور ریسرچ کا کام بڑے پیمانے پہ شروع کیا جا چکا ہے، روز بروز مسلم ریسرچ اسکالرز ، انجینئرس ، ڈاکٹرس اور نوجوان سائنس دانوں کی ایک بڑی کھیپ تیار ہو رہی ہے جو مستقبل میں دنیا کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہوگی۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کیلئے دل وجان سے محنت کریں۔ اپنے اسلاف کے ذریعہ چھوڑے گئے علمی خزانوں سے اور دورِ جدید کے تجربوں سے استفادہ کریں اور دوسروں پر منحصر رہنے کے بجائے سائنسی میدان میں اہل اورخود مختار بنیں۔
qaiserchohan81@gmail.com