Voice of Asia News

حکومت کا 20اکتوبر کے بعد غیر منظور شدہ موبائل بلاک کرنے کا فیصلہ موخر

لاہور (وائس آف ایشیا) 20 اکتوبر کے بعد غیر تصدیق شدہ موبائل فون بلاک نہیں کیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ 20اکتوبر کے بعد پی ٹی اے کی جانب سے غیر منظور شدہ موبائل فون کا استعمال ممکن نہیں رہے گا۔جس کے بعد تاجروں کی طرف سے شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پاکستان موبائل یونین کے ایک وفد نے منگل کووزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر سے ملاقات کی.ملاقات کے دوران حماد اظہر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت موبائل فونز کو بلاک نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی تجارت کے لئے قانون میں ترمیم کے بعد تاجروں کو دوسرے ممالک سے موبائل فون کی ٹریڈ جاری رکھنے کی بھی اجازت دی جائے گی،رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے 20اکتوبر کے بعد غیر منظور شدہ موبائل فون کو بند کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں پی ٹی اے کی جانب سے جلد ہی کوئی سرکاری بیان بھی سامنے آئے گا۔واضح رہے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اٹھارٹی(پی ٹی ای)نے بغیر تصدیق شدہ موبائل فونز کو 20 اکتوبر کے بعد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔۔پی ٹی اے نے موبائل صارفین کو خبردار کیا تھا کہ ہ اگر 20 اکتوبر کے بعد بھی جو صارفین اپنے فون کی تصدیق نہیں کرائیں گے تو ان کے فونز بند کر دیئے جائیں گے۔پی ٹی اے کے مطابق گھر بیٹھے ہی موبائل فون کے ڈیوائسز کے اوریجنل ہونے کی تصدیق کی جا سکے گی۔موبائل صارف اپنے موبائل فون کا آئی ایم ای آئی نمبر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے 8484 پر بھیج کر اپنے ڈیوائس کی تصدیق کر سکتا ہے۔موبائل فون کا آئی ایم ای آئی نمبر موبائل فون سے *#06#ڈائل کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ موبائل ڈیوائسز کی تصدیق پی ٹی اے کی ویب سائٹ سے بھی کی جاسکتی ہے جبکہ گوگل پلے سے اپنے موبائل کی تصدیق کے لیے ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔اگر تصدیق کے بعد پہلا رزلٹ IMEI Compliant آتا ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کا موبائل پی ٹی اے سے تصدیق شدہ ہے اور 20 اکتوبر کے بعد بلاک نہیں ہوگا۔اگر رزلٹ Valid IMEI آتا ہے، تو آپ کو اپنا موبائل پی ٹی اے سے رجسٹرڈ کرانا پڑے گا ورنہ فون بلاک ہو جائے گا۔اگر رزلٹ Invalid IMEI آتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ آپ جعلی/ٹیمپر شدہ موبائل استعمال کر رہے ہیں، اس کی تصدیق نہیں ہو سکتی اور یہ 20 اکتوبر کے بعد بلاک ہو جائے گا۔تاہم اب حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے