Voice of Asia News

شور شرابا کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا،اسمبلی میں بحث کیلئے تیار ہیں ، فواد چوہدریکی وائس آف ایشیا سے گفتگو

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہیکہ شور شرابا کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا اور احتساب کے عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن دھاندلی کمیشن کی طرح ملکی معیشت پر بھی کمیشن بننا چاہیے، گزشتہ دس سال میں جنہوں نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ان سے نرمی نہیں ہونی چاہیے، احتساب کے عمل میں شفافیت کے لیے تجاویز دیں۔انہوں نے کہا کہ شور شرابا کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا اور احتساب کے عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، وزیراعظم نے کہا تھا کہ 50 لوگ جیل میں ہونے چاہئیں اور یہ شور بھی ان 50 نے ڈالا ہے، موٹو گینگ جتنا مرضی شور مچالیں احتساب کا عمل نہیں رکے گا، حالت یہ کردی ہے کہ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو بہتر حالت میں ہو، بجلی کا حال ہے کہ 34 ارب روپے ہر ماہ گردشے قرضے میں جارہا ہے۔وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ اپنے ہی بنائے اداروں کے خلاف ہنگامہ آرائی سے بہتر ہے بات کریں کہ احتساب کیسے مزید شفاف بنانا ہے، اگر کسی کے خلاف ریفرنس چل رہا ہے تو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے سے وزیراعظم کا تعلق نہیں اور جنہوں نے سیف الرحمان کو چیئرمین لگایا وہ تو ہمیں سیاسی انتقام کی باتیں نہ سنائیں۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت بہت مضبوط ہے، یہ سازش کرنا تو چاہتے ہیں لیکن ان کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،حکومت کے خلاف سازش کرنے کی ان کی اوقات نہیں رہی، پاکستان کے عوام کو جلد بڑی خوشخبری ملنے والی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ایس پی اور ڈی ایس پی کو استعمال کرنے والے یہ باتیں نہ کریں، سرکاری فنڈ کو الیکشن میں استعمال کرنے والے ہمیں باتیں نہ سنائیں، حکومت سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی۔وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ بے گھر لوگوں کے لیے گھر بنانے کا ماضی میں کسی حکومت نے نہیں سوچا، ہماری حکومت نے پاکستان کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروجیکٹ لانچ کیا، حکومت نے ملک میں ہیلتھ کارڈ جاری کیا، ہم حکومت کا خزانہ بچا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کو اسمبلی اجلاس میں لا کر اسپیکر اسد قیصر نے مثال قائم کی ہے، حکومت مضبوط ہے اور سب ادارے ساتھ کھڑے ہیں، موٹو گینگ جتنا مرضی شور مچائے احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔ انہوں نے کہا پچھلے 10 برسوں میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی، احتساب کا عمل بہتر کرنے کیلئے کمیٹی بنائی جا سکتی ہے، نیب خود مختار ادارہ ہے، حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں، نقاب اتار کر دیکھیں گے تو سب کو اپنی پڑی ہے۔فواد چودھری کا کہنا تھا حکومت نے شہباز شریف کے اجلاس میں شرکت کی مخالفت نہیں کی، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے جو رویہ اختیار کیا وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی الیکشن جیتے تب دھاندلی، ن لیگ جیتے توسب ٹھیک ؟ احتساب کیعمل کو روکنا عوام کا نقصان ہے، احتساب کا عمل رک نہیں سکتا البتہ اس میں اصلاحات سامنے لائی جائیں، قومی اسمبلی اجلاس میں آج سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیئے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم احتساب کے عمل پر اسمبلی میں بحث کے لیے تیار ہیں، جس طرح انتخابی دھاندلی پر کمیٹی بنائی، احتساب پر بھی بنائی جا سکتی ہے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے