Voice of Asia News

کشمیری صحافیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کشمیری ایڈیٹرز کی تنظیم کو تشویش

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں بھارتی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں 2درجن سے زیادہ رپورٹرز اور فوٹو گرافرز زخمی ہوگئے ہیں زخمی ہونے والوں میں خواتین رپورٹرز بھی شامل ہیں، کشمیری ایڈیٹرز کی تنظیم کشمیر ایڈیٹرز گلڈ، جے کے ایڈیٹرز فورم نے پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پولیس آفیسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ بیان کے مطابق پریس سے وابستہ نمائندوں جونہی فتح کدل پہنچے کسی وجہ کے بغیر بھارتی فورسز کے اہلکار ان پر ٹوٹ پڑے فتح کدل میں پیش آیا واقع اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وادی میں پریس سے وابستہ نمائندہ اور فوٹو جرنلسٹوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 20سے زائد پریس نمائندوں کی کشمیر پولیس کے اہلکاروں نے ہڈی پسلی ایک کردی جن میں سے کئی ایک کو علاج ومعالجہ کی خاطر اسپتال منتقل کرناپڑا۔ کشمیر ایڈیٹرز گلڈ اور جے کے ایڈیٹرس فورم نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی صحافتی انجمنوں بشمول کشمیرپریس کلب ،کشمیرایڈیٹرز گلڈ،ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن ،فوٹوجرنلسٹس ایسوسی ایشن ،ویڈیوجرنلسٹ ایسوسی ایشن کے علاوہ امریکی نشین صحافتی انجمن کمیٹی برائے تحفظ صحافیاں یعنی سی پی جے نے فتح کدل واقعے پرسخت تشویش اورناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ فورسزکارویہ کسی بھی طورقابل قبول نہیں ہے ۔صحافتی انجمنوں نے الگ الگ بیانات میں میڈیاسے وابستہ افرادکی مارپیٹ اورانھیں پیشہ وارانہ ذمہ دداریاں انجام دینے سے روکے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسبات پرزوردیاکہ انتظامیہ اس واقعے کافوری اورسنجیدہ نوٹس لیکراسبات کویقینی بنائے گی کہ ایسے واقعات آئندہ وقوع پذیرنہ ہوں ۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ میڈیاسے وابستہ افرادکوزدوکوب کرنے کی کارروائی میں شامل فورسزاہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔جن میں اخباری نمائندوں اور فوٹو جرنلسٹوں کی کشمیر پولیس نے مارپیٹ کی ان میں روزنامہ آفتاب سے وابستہ ظہور پنجابی اور فیضان الطاف کے علاوہ قاضی ارشاد ، آصف قریشی ، منظور میر ، وسیم اندرابی اور باسط زرگر شامل ہیں

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے