Voice of Asia News

ہم خواتین کو عزت کیوں نہیں دیتے؟

خواتین کا عالمی دن ہو یا پھر کچھ اور یہ ہماری روایت ہے کہ انہیں خوشی دینے سے ہم کتراتے ہیں، ہاں البتہ اگر غرض ہو تو انہی خواتین کو ہم سر پر بٹھاتے دکھتے ہیں۔ دفاتر میں کام کرنے والے مرد حضرات ہوں یا گھر کی کفالت کرنے والے باپ بھائی اُن کے ذہنوں میں حکمرانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی رعایا (خواتین) کی پریشانیوں سے ناواقف رہتے ہیں. مذہبی گھرانہ ہو یا پھر لبرل فیملی کہیں بھی خاتون اگر گھر دیر سے پہنچھے تو اُس سے تفتیش کی جاتی ہے اور ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جس سے گمان ہوتا ہے شاید وہ کچھ غلط کر کے آئی ہے۔ عام طور پر ہمارے معاشرے میں خواتین کے دفاتر میں کام کرنے یا انہیں روزی کمانے پر اعتراض کیا جاتا ہے، ایک بہن اگر کسی جگہ پر اپنی تعلیمی قابلیت کے حساب سے نوکری حاصل کرتی ہے اور معاشرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنا آپ منوانا چاہتی ہے تو ارد گرد کے لوگ اور ماحول بھائی کی غیرت کو للکارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ بیسویں صدی میں رہنے کے باوجود دنیا میں موجود خواتین بے پناہ مسائل کا شکار ہیں، کہیں وہ اپنی مرضی سے گھر سے نہیں نکل سکتی تو کسی ملک میں اُن کے مرضی سے حجاب اڑھنے پر پابندی ہے، کہیں وہ پینٹ شرٹ پہننے پر تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں تو کہیں وہ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر نکلنے پر آوارہ مردوں کی تضحیک کا نشانہ بنائی جاتی ہیں۔ دنیا کے کسی خطے میں تو خواتین کی پسند پر انہیں سرعام کوڑے مارے جاتے ہیں تو کہیں بھائی کی غلطی پر بہن یا بیوی (خاتون) ونی کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے، غیرت کا عالم تو یہ بھی ہے کہ ایک بھائی جو اپنے ساتھ کسی دوسری خاتون کو بھگا کر پسند کی شادی کا خواہش مند ہوتا ہے وہی بھائی بہن کو اس کی مرضی کا حق دینے کے خلاف ہے۔ گھر سے دفتر یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والی خاتون پہلے تو دروازے سے بس اسٹاپ تک انتقامی نظروں کا نشانہ بنائی جاتی ہے پھر اگر وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرے تو وہاں بھی بچنا محال ہوتا ہے، دفتر یا تعلیمی درس گاہ میں بھی اُسے آڑی ترچی ، تیڑھی اور سیدھی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ واپسی میں اگردیر ہوجائے تو گھر آکر شکی نظروں سے اُس سے سوالات کیے جاتے ہیں اور ایک سانس میں جواب نہ دینے پر مرد کی اپنی ہی سوچ پختہ ہوجاتی ہے، دفاتر میں کام کرنے والی خواتین اپنے ارد گرد کے ماحول سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اُن کو کب تک کن نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ جس پڑھے لکھے معاشرے میں خواتین کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے تو قومیں ترقی کے بجائے پستی کی طرف چل پڑتی ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے اور اس بات کا اندازہ مرد حضرات کو اچھی طرح سے ہے مگر وہ اس کا برملا اظہار اپنی رعایا (بیوی، بہن، بیٹی، ماں) سے اس لیے نہیں کرتے کہ اُس کو اپنی سلطنت کمزور ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ معاشرے میں حقیقی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو شریعت کے مطابق جینے کا حق دیا جائے اور اُن کو بھی اختیار دیا جائے تاہم اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ فیصلے کے وقت عورت کے علم میں کسی بات کا ہونا ضروری ہے اور اُسے صفائی کا موقع فراہم کیا جائے۔جیسے ایک لڑکا کسی لڑکی سے مانوس ہوتا ہے اور اُس کی غلطی پر اُسے صفائیاں پیش کرنے کا موقع دیتا ہے بالکل اسی طرح وہ اپنی بہن، ماں، بیوی، بیٹی سے  محبت کا برملا اظہار کرے اور طبیعت خراب ہونے یا کھانا نہ کھانے کی صورت میں اُس سے بھی اُسی طرح دریافت کرے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے