Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر،7شہداء دو سپرد خاک، فائرنگ حاملہ خاتون جاں بحق ،8خواتین سمیت16زخمی

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جنگجو قرار دے کر شہید کئے گئے سات میں سے دو نوجوانوں کو پاکستانی قرار دے کر گانٹہ مولہ میں شہدا کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جبکہ مظاہرین پر فائرنگ سے ایک حاملہ خاتون جاں بحق اور 8خواتین سمیت 16افراد زخمی ہو گئے ہیں ،ترجھل بستی میں لوگوں کی مار پیٹ،بھارتی فورسز نے 40مکانوں اور 20سے زائد گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی،لوگوں کا احتجاج،پائین شہر کی ناکہ بندی ،2روز سے زندگی مفلوج،اعلی تعلیمی ادارے بند، کئی مقامات پر پتھراؤ و شلنگ،دکانیں اور بازار بھی بند،انٹ نیٹ اور موبائل سروس بدستور معطل ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ روز بارہمو لہ کے کرالہار خواجہ باغ علاقے میں جمعہ کو فائرنگ کے مختصر تبادلے میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ بونیار اوڑی میں حد متارکہ پر 3جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔کرالہار جھڑپ کے بارے میں ایس ایس پی بارہمولہ امتیاز حسین نے پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ فورسز نے جمعہ کو تقریبا دوبجے کے قریب اس وقت ایک بڑے جنگجویانہ حملے کو ٹال دیا جب سرینگر سے بارہمولہ کی طرف ایک سکارپیو گاڑی زیر نمبر JK01L-5792 کو سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر واقع کرالہار خواجہ باغ ریلوے کراسنگ کے نزدیک پہلے سے ہی تعینات ناکہ پر بیٹھے پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا ۔ایس ایس پی نے کہاگاڑی میں سوار دو جنگجوؤں نے فورسز پر اندھادھند فائرنگ کی ،جس کے جواب میں فورسز نے بھی کارروائی کی ،اور دو جنگجو مارے گئے جبکہ پولیس کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق جیش محمد سے تھا، جن کی شناخت فیضان اور وہاب ساکنان پاکستان کے طور پرہوئی ہے ۔ ایس ایس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے ایک اے کے رائفل ،ایک میگزین ،ایک یو بی جی ایل ، چینی ساخت کے دوپستول، میگزین 6 عدد ،اے کے روانڈس 19،پستول روانڈس 52 ،گرینیڈ 3 ،یو بی جی گرینیڈ 2بر آمد کئے گئے ۔انہوں نے بتایا کہ بارہمولہ پولیس تھانہ میں اس سلسلے میں ایف آئی آر زیر نمبر 176/2018 درج کیا گیا ہے جبکہ گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا اور گاڑی ضبطکی گئی ہے ۔ دونوں جنگجوؤں کی نعشوں کوڈسٹرکٹ پولیس لائنزبارہمولہ منتقل کیاگیاجہاں سے بعد میں ان کی لاشیں پولیس کے سپرد کی گئیں پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر شہداء کی گانٹہ مولہ قبرستان میں تدفین کر دی۔ادھر مقامی لوگوں نے بتایاکہ ریلوے کراسنگ پراچانک گولی باری شروع ہونے کے بعدیہاں سے گزرنے والی گاڑیوں میں سوارمسافروں اورکچھ راہگیروں میں افراتفری مچ گئی جبکہ ڈرائیوروں نے ہوش میں رہ کر نجی اورمسافرگاڑیوں کوجائے واردات سے دورپہنچادیا۔اس اہم شاہراہ پردونوں اطراف سے گاڑیوں کی آمدورفت بندہوگئی ،اورنزدیکی کرالہ ہاربازارمیں بھی دہشت پھیل گئی ،اوریہاں دکاندار فوری شٹرگراکرمحفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ۔ادھرفوج نے ضلع بارہمولہ کے بونیار کے تورنا رام پور سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر 3جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔فوج کے ترجمان راجیش کالیانے بتایا کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف سے دراندازی کے ایک گروپ نے اس پار داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پرتعینات فوج کے 5 گرینیڈرس سے وابستہ اہلکاروں نے جونہی مشتبہ افراد کی نقل و حرکت بھانپ لی ،تو انہوں نے انہیں سرنڈر کرنے کی پیش کش کی ،جسے جنگجوؤں نے ٹھکراتے ہوئے فوجی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ فوج نے بھی اس موقعے پر دراندازوں کی فائرنگ کا بھر پور جواب دیا جس کے نتیجے میں علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ٹورنا بونیار سیکٹر میں 3جنگجوؤں کو ہلاک کیاگیا۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ مارے گئے تینوں جنگجو کی لاشیں برآمد کی گئیں ہیں اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ وبارود بھی برآمد کیا گیا ہے ۔ شہداء کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن کی شناخت نہیں ہو سکی ۔دریں اثناء شادی مرگ پلوامہ میں جنگجوؤں کی طرف سے فوجی کیمپ پر حملے کے بعد فائرنگ کے واقعہ میں 6ماہ کی ایک جواں سال حاملہ خاتون جاں بحق ہوئی۔واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و دہشت اور کشیدہ صورتحال ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون جنگجوؤں اور فوج کے مابین فائرنگ کے تبادلہ میں کراس فائرنگ میں ماری گئی، تاہم مقامی لوگوں نے اس بیان کی نفی کی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام کے قریب 7بجکر 10منٹ پر انہوں نے شادی مرگ کیلر روڑ پر واقع 44آر آر کیمپ کی طرف ایک دھماکہ کی آواز سنی جس کے فورا بعد فورسز اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جو قریب 5منٹ تک جاری رہی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ کیمپ کے ارد گرد قائم بنکروں میں موجود فوجی اہلکاروں نے چاروں طرف بندوقوں کے دہانے کھول دیئے، جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ فردوسہ اختر زوجہ خورشید احمد شیخ اپنے مکان کے صحن میں نلکے پر برتن دھو رہی تھی، اور اسکی گردن میں گولی لگی۔اسے پہلے راجپورہ اسپتال لیا گیا اور بعد میں ضلع اسپتال پلوامہ لیجاتے ہوئے وہ دم توڑ بیٹھی۔ لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں کوئی کراس فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ دھماکہ ہونے کے بعد فوجی کیمپ سے اندھا دھند گولیاں برسائیں گئیں، اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رکھا گیا۔لوگوں نے بتایا کہ فردوسہ اور اسکا خاوند بنیادی طور پر قصبہ یار شادی مرگ کے رہنے والے تھے اور انہوں نے اپنی ملکیتی زمین پر فوجی کیمپ کے نزدیک ہی ایک منزلہ مکان بنایا تھا جہاں دونوں میاں بیوی قیام پذیر تھے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فردوسہ حاملہ تھی اور اسکے پیٹ میں 6ماہ کا بچہ تھا۔دریں اثنا جونہی فردوسہ کی لاش قصبہ یار پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ خواتین سینہ کوبی کرتی ہوئیں گھروں سے نکل آئیں جبکہ گاؤں میں ہر کوئی دم بخود ہوکر رہ گیا۔پولیس نے اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ شام کو شادی مرگ میں جنگجوؤں نے فوجی کیمپ کو نشانہ بنانے کی غرض سے اس پر رائفل گرینیڈ داغا جس کے بعد جنگجوؤں نے کیمپ پر فائرنگ بھی کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس موقعہ پر جنگجوؤں اور فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اور کراس فائرنگ میں ایک خاتون گولی لگنے سے لقمہ اجل بن گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بارے میں تحقیقات شروع کی گئی ہے اور حملہ آور جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ادھر پلوامہ ضلع ہیڈکوارٹر سے محض 3کلو میٹر دور ترچھل پل کے قریب بارودی سرنگ دھماکہ کے بعدفوج نے ترچھل کی آرہ محلہ بستی کو 6گھنٹے تک تاراج کیا۔اس دوران خواتین، بچوں، بوڑھوں،نوجوانوں حتی کہ بزرگوں کا شدیدٹارچر کیا گیا ۔ اسپتال میں 16 زخمیوں کو لایا گیا،جن میں8خواتین بھی شامل ہیں۔اسکے علاوہ بستی میں کھڑی چھوٹی بڑی 20گاڑیوں کو تباہ کیا گیا اور قریب 40رہائشی مکانوں کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی۔بستی پر فوجی اہلکاروں کا قہر صبح چار بجے تک جاری رہا ، جس کے فورا بعد شبانہ اور جمعہ کی صبح علاقے میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔جمعرات کی شب قریب ساڑھے نو بجے 53آر آر کی ایک کیسپر گاڑی جنگجوؤں کی طرف سے ترچھل پل کے نیچے بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آئی اور دھماکے سے تباہ ہوئی۔اس واقعہ میں میجر نوین سمیت 7اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 3 شدید زخمی فوجیوں کو بادامی باغ اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعہ کے فورا بعد فوج کی مزید کمک یہاں پہنچ گئی جس کے بعد آپریشن توڑ پھوڑ اور ٹارچر شروع کیا گیا۔رات دس بجے کے بعد ترچھل پل کے نزدیک آرہ محلہ میں فوجی اہلکار داخل ہوئے اور اندھا دھند طریقے سے بلا لحاظ عمر و جنس ڈنڈوں اور بندوقوں کے بٹھوں سے لوگوں کو مارنا شروع کردیا۔ مکنیوں کو بھاگنے کا موقعہ بھی نہیں دیا گیا کیونکہ اندھرے میں بستی کا محاصر کیا گیا تھا ۔مشتعل فوجی و پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اہلکاروں نے بستی میں قہر بپا کیا۔سب سے پہلے چھوٹی بڑی قریب 20گاڑوں کا حلیہ بگاڑ کر انہیں تباہ کیا گیا۔اس کے بعد اہلکار گھروں میں داخل ہوئے اور خواتین، بچوں اور دیگر مکینوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور پھر انکی مارپیٹ شروع کردی گئی۔یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا اور صبح 4بجے تک بستی کے قریب40مکانوں کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ پھوڑ کر کے رکھ دی گئیں اوردرجنوں افراد کی شدید مارپیٹ کی گئی اور کئی نوجوانوں کا شدید ٹارچر کیا گیا۔جب مشتعل اہلکار لوگوں کو مارپیٹ کرکے تھک گئے تو یہاں سے چلے گئے۔اسکے بعد زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال پلوامہ لایا گیا جہاں انکا علاج و معالجہ کیا گیا۔جو شہری مارپیٹ سے زخمی ہوکر ضلع اسپتال لائے گئے ان میں باپ 60سالہ علی محمد ڈار ولد محمد عبداللہ، اسکی اہلیہ50سالہ راجہ بیگم اور بیٹاشوکت احمد ڈار ولد علی محمد ڈار(سر اور چہرے پر چوٹ)،30سالہ نعیمہ بانو زوجہ محمد اظہر ملک(پورے جسم میں زخم)،40سالہ عبدالمتین میر غلام احمد میر( سر میں چوٹ)، 40سالہ وزیرہ بیگم زوجہ ارشاد احمد (بازو میں زخم)،ارشاد احمد ولد محمد انور الائی ( سر میں چوٹ)،60سالہ راجہ بیگم زوجہ انور الائی(کمر میں چوٹ)26سالہ بشارت ولد بشیر احمد (کسی بھاری چیز سے مار پیٹ)،45سالہ گلزار احمد ولد عبدالغنی بٹ(ناک میں چوٹ)، 30سالہ جوزیہ جان دختر مشتاق احمد ڈار(ہاتھا پائی سے چوٹ )،شفیقہ جان زوجہ گلزار احمد(ہاتھا پائی سے چوٹ)،15سالہ منیب شوکت ولد شوکت احمد ڈار(کہنی توڑی ہوئی)، 18سالہ سریا جان دختر غلام احمد ڈار ( بازو میں چوٹ)،35سالہ سائمہ جان زوجہ غلام احمد ڈار( بازو میں چوٹ) شامل ہیں۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ اسپتال پلوامہ ڈاکٹر عبدالرشید پرہ نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اسپتال میں پہلے 15افراد لائے گئے، جس کے بعد مزید کچھ افراد کو زخمی حالت میں لایا گیا، جن میں 8خواتین بھی شامل تھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سبھی افراد مارپیٹ سے زخمی ہوئے تھے ۔ انکا کہنا تھا کہ کسی کے سر میں چوٹ تھی، تو کسی کی بازو، ٹانگ، چہرے، پیٹ،یادیگر اعضا زخمی تھے۔انہوں نے کہا کہ کئی زخمیوں کا اسپتال میں پلسٹر بھی چڑھایا گیا۔اس دوران مقامی آبادی نے جمعہ کی صبح فوجی زیادتیوں کے خلاف زوردار احتجاج کیا ۔ ایس ایس پی پلوامہ چندن کوہلی نے بتایا کہ واقعہ سے متعلق انہیں بھی شکایت ملی ہے جس کے بارے میں مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہے۔ ادھر فوجی ترجمان راجیش کالیانے بتایا وہ اس واقعے کے متعلق تفصیلات جمع کر رہے ہیں ۔خیال رہے ضلع کے نیوہ علاقے میں بھی لوگوں نے گزشتہ روز فورسز کی زیادتیوں کے خلاف بستی سے اجتماعی ہجرت کی ہے ۔پائین شہر میں دوسرے روز بھی سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں، جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ کالجوں اور ہائر سکنڈری سکول بھی بند رہے جبکہ یونیورسٹی میں درس و تدریس کا کام کاج معطل رہا۔اس دوران سرینگر میں تیسرے روز بھی انٹرنیٹ کی رفتار سست رکھی گئی ۔دریں اثنا شہر خاص کے کئی علاقوں اور کھڈونی میں سنگباری اور شلنگ کے واقعات رونما ہوئے۔ پائین علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال تھی۔پائین شہر میں صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئی ۔ سرینگر کے اہم سڑکوں ،پلوں اور چوراہوں پر بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ناکے بٹھائے گئے تھے۔انتظامیہ اور پولیس نے جمعہ کوپائین شہر کے مہاراج گنج،خانیار،نوہٹہ،صفاکدل،رعناواری تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کیں۔مقامی لوگوں کے مطابق لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جامع مسجد، نوہٹہ، گوجوارہ، راجوری کدل،صراف کدل، بہوری کدل،ملارٹہ اور جامع مسجد کے گرد نواح میں بڑے پیمانے پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔ نامہ نگار کے مطابق جنوبی قصبہ پلوامہ کے کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران لوگوں نے مطالبہ کیا کہ21 ستمبر کو سملر بانڈی پورہ میں جھڑپ کے دوران جاں بحق جنگجو کی نعش جلد از جلد انہیں سپرد کی جائے تاکہ وہ مہلوک جنگجو کی آخری رسومات ادا کر سکے۔ ہڑتال کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی۔پائین شہر میں احتجاج،سنگباری اور ٹیر گیس شلنگ ہوئی۔ زالڈگر علاقے میں نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے فورسز اور پولیس پر سنگباری کی۔فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولے داغے۔ خانیار میں شامن کو فورسز پر پتھراؤ کیا گیا۔اس موقعہ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولے داغے گئے۔ طرفین میں شام دیر گئے تک سنگباری و شلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کے صفا کدل اور نور باغ علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوتی رہیں۔شہر کے برزلہ اور نٹی پورہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔کولگام سے نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق نماز جمعہ کے بعد کھڈونی میں نوجوان مقامی جامع مسجد کے باہر جمع ہوئے اور بعد میں احتجاج کرنے لگے۔ بعد میں نوجوانوں اور فورسز و پولیس کا آمنا سامنا ہوا،جس کے دوران سنگباری و شلنگ کی گئی۔اس دوران سرینگر میں مزاحمتی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے بھی برآمد کئے۔بندشوں کے بیچ سرینگر ضلع انتظامیہ نے پہلے ہی شہر سرینگر کے تمام ہائر سیکنڈری سکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے جس کے باعث سکول و کالج اور کشمیر یونیورسٹی بند رہے۔ تاہم اسکول کھلے رہے۔ادھر فتح کدل علاقے میں گذشتہ روز بدھ وار کو ایک خونریز جھڑپ کے شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے شہر میں انٹرنیٹ سروس پوری طرح بند کردی جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس دوران 18اکتوبر جمعرات کو انٹرنیٹ سروس کو اگرچہ بحال کیا گیا لیکن اس کو 2جی رفتار پر چالو کیا گیا ۔جبکہ جمعہ کو دوسرے روز بھی شہر سرینگر میں انٹرنیٹ سروس 2جی رفتار پر ہی چالو رہی ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے