Voice of Asia News

شہید نوجوانوں کو خراج تحسین ، کشمیری مرعوب نہیں ہونگے ،مزاحمتی قیادت

سرینگر(وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر کی مزاحمتی جماعتوں نے بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھارت پر واضح کیا ہے کہ قتل وغارت سے کشمیری مرعوب نہیں ہونگے ،وادی کے طول وارض میں ظلم و جبر کا بازار گرم، بھارت کی ہٹ دھرمی ،ضد اور طاقت کے غرورنے نوجوانوں کو قتل گاہ کی بھینٹ چڑ ہا دیاہے جو مسئلہ کشمیر یو سیاسی بنیادوں کے بجائے نسل کشی سے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔لبریشن فرنٹ قائدین شیخ عبدالرشید،محمد صدیق شاہ، بشیر احمد کشمیری، پروفیسر جاوید،غلام محمد ڈار،شیخ اسلم نے مائسمہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اورزونل صدر نور محمد کلوال وغیرہ کی اسیری جو حریت قائد جاوید احمد میر کے ہمراہ کوٹھی باغ تھانے میں مقید ہیں،کے ایام اسیری کو طول بخشنے کی نیز برزگ قائد سید علی شاہ گیلانی جو عرصہ دراز سے خانہ نظر بند ہیں اور قائد میرواعظ محمد عمر فاروق جنہیں الیکشن اعلان کے بعد سے اب تک خانہ نظر بند رکھا جارہا ہے کے خلاف جاری ان پولیسی کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہاکہ یک طرفہ سرکاری تشدد و جبر کے باوجود کشمیریوں نے یک آواز ہوکر الیکشن ڈرامے کو مسترد کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے جمہوریت کے دعوے کئے جارہے ہیں اور دوسری جانب سیاسی قائدین و اراکین کو جیلوں اور زندان خانوں میں بند کرکے ان کی آواز کو دبانے کا غیر جمہوری عمل بھی جاری ہے جسے صرف اور صرف منافقت اور جمہوریت کی بیخ کنی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔اپنے خطا ب میں مقررین نے کہا کہ بھارت کی فوج، پولیس اور فورسز نے کشمیریوں کے لہو کو رازان کرنے اور معصوموں کا لہو بے دریغ بہانے نیز سیاسی قائدین ، اراکین اور عام جوانو ں کو جیلوں اور تھانوں میں مقید کرنے کا عمل تیز تر کردیا ہے۔ اس کے علاوہ گاں جات اور بستیوں کا گھیرا کرنے،عام شہریوں کو جنس و عمر کے لحاظ کے بغیر ٹارچر کرنے، مارنے پیٹنے، انکی تذلیل و تحقیر کرنے،انکے گھروں ،اسباب خانہ جس میں ریفریجریٹر، ٹی وی، واشنگ مشین، کولرس، کمپیوٹر،اور گاڑیاں قابل ذکر ہیں کی توڑ پھوڑ، میوہ باغات اور فصلوں کی تباہیاں وغیرہ جیسے مظالم خاص طور پر موجودہ حکمران طبقے کا امتیازی نشان بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں کولگام اور ترچھل،اور نیوہ پلوامہ کی بستیاں اس بھارتی ظلم و ستم کا شکار بن چکے ہیں جس دوران ان بستیوں پر قہر ڈھایا گیا اور لوگوں نیز انکے سامان کی بے دریغ توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں جوانوں اور بزرگوں یہاں تک کہ علیل افراد تک کو گرفتار کیا جارہا ہے اور پی ایس اے لگاکر بیرون ریاست جیلوں کے اندر منتقل کیا جارہا ہے اور اس عمل کو بھی ہر سطح تیز تر کردیا گیا ہے۔ تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی ،ضد اور طاقت کے غرورنے نوجوانوں کو قتل گاہ کی بھینٹ چڑ ہا دیاہے جو مسئلہ کشمیر یو سیاسی بنیادوں کے بجائے نسل کشی سے مسئلے کا حل چاہتا ہے ۔صحرائی نے کاکا پورہ میں جان بحق ہوئے جنگجو شوکت احمد بٹ ساکنہ اونتی پورہ پدگام پورہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا بھارت کی ہٹ دھرمی ،ضد اور طاقت کے غرورنے نوجوانوں کو قتل گاہ کی بھینٹ چڑ ھا دیاہے جو مسئلہ کشمیر ی سیاسی بنیادوں کے بجائے نسل کشی سے مسئلے کا حل چاہتا ہے صحرائی نے بیان میں کہا کہ نوجوانوں نے تعلیم کی اعلی ڈگریاں حاصل کر کے قوم کی تعمیر میں اپنا ادا کر سکتے ہیں۔لیکن بھارت کی غلامی کی وجہ سے انہیں یہ ڈگریاں قوم کی آزادی کے نذر کرنی پڑتی ہیں ۔صحرائی نے کہا کہ شوکت احمد نے اپنا سب کچھ جموں کشمیر کی آزادی کے لئے پیش کیا ہے ۔تحریک حریت چیرمین نے وادی کشمیر خاص کر جنوبی کشمیر پلوامہ ۔نیوہ ،ریڈونی ،ترچھل اور لاسی پورہ سمیت دیگر علاقوں میں فوجی زیادتیوں پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔چیر مین نے لبریشن فرنٹ کے زمہ دار محمد یاسین بٹ کی والدہ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پورے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔بعد میں محمد اشرف صحرائی کی ہدایت پر ایک وفد محمد یاسین بٹ کے گھر جا کر افراد خانہ کے ساتھ تعزیت کی ہے ۔ نہتے لوگوں پر فورسز یلغار اور گھروں کی توڑ پھوڑ وقید وبند کے سلسلے پر جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث نے سخت تشویش کااظہار کیا ہے ۔جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترچھل پلوامہ میں فورسز اہلکاروں نے وہاں کے مکینوں پر بلاکسی جوا زکے دھاوا بول دیااور جو بھی فرد سامنے آیا اس کو ڈنڈوں اور بندوق کے بھٹوں سے بے تحاشا مارااور سڑک پر موجود چھوٹی بڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے۔بیان کے مطابق فورسز اہلکار بعد میں گھروں میں گھس کر وہاں رہنے والے لوگوں پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس بے رحمانہ تشدد کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ لوگوں کے گھریلو سامان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ ہر طرف آہ و بکا بلند ہوا لیکن ان اہلکاروں نے اپنے ظلم و بربریت میں کوئی کمی نہ دکھائی۔ چند روز قبل نیوہ پلوامہ کے ایک محلہ میں بھی لوگوں کے ساتھ اسی طرح کا ظالمانہ سلوک کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں بسنے والے لوگوں نے اپنا بوریا بسترہ اٹھاکر وہاں سے ہجرت کی۔ جماعت اسلامی نے اس ظالمانہ رویہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اور مقامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ وادی کشمیر میں فوج کی زیادتیوں کا فوری نوٹس لے کر اس کے سدباب کے لیے ضروری اور مو4134ر کارروائی کرے۔اس دوران جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر نے اخبارات کے نام اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوجوانوں کا قتل عام روز کا معمول بنتا جارہا ہے اور خون مسلم کی ارزانی اور ہر آئے دن بوڑھے باپ کے کندھے پر اسکے نوجوان بچے کی لاش کا تکلیف دہ منظر ہر صبح دلوں میں اضطراب ، گھروں میں ہیجان اور جذبات میں طوفان پیدا کردیتا ہے۔اس پرستم ظریفی یہ کہ تلاشی کاروائیوں کے نام پر پلوامہ ،شوپیان کولگام ،بانڈی پورہ ،سوپور کے قصبوں ودیہاتوں میں توڑ پھوڑ ، زدوکوب، خوف وہراس کا بھیانک ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگ احتجاجی ہجرتوں پر مجبور کئے جارہے ہیں۔صحافتی برادری پر ڈنڈوں کی برسات ظلم وستم کی انتہا ہے۔ ایسے میں حقوق انسانی کی تنظیموں کی خاموشی حالات کو اور زیادہ تکلیف دہ بنادیتی ہے ۔ جامع اہلحدیث گاکدل میں ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے لوگوں سے اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے ، رب کی طرف رجوع اور توبہ واستغفار کرنے کی تلقین کی اور مقامی وعالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہورہی ظلم وزیادتی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر الکندی نے مسلمانوں سے اتحاد و یکجہتی ، مسلکی انتشار سے باہرآنے اور خون مسلم کی ارزانی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعصب اور منافرت کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے متعلق برداشت زیرو ٹالرنس کے غبارے سے ھوابھی نکل چکی تھی مگر اب تو شہروں کے نام تک تبدیل کئے جارہے ہیں جو انتہائی پست اور منفی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔مدراس کے بعد الہ آباد کا نام تبدیل کرنا تعصب اور منافرت کے ماحول کو ھوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر الکندی نے فتح کدل ،سوپور ، بارہمولہ اور دیگر مقامات پر ہوئے انسانی جانوں کے نقصان پر غمزدہ کنبوں سے تعزیت اور شہداکی مغفرت کی دعا کی۔نہتے لوگوں پر فورسز یلغار اور گھروں کی توڑ پھوڑ وقید وبند کے سلسلے پر جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث نے سخت تشویش کااظہار کیا ہے ۔جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترچھل پلوامہ میں فورسز اہلکاروں نے وہاں کے مکینوں پر بلاکسی جوا زکے دھاوا بول دیااور جو بھی فرد سامنے آیا اس کو ڈنڈوں اور بندوق کے بھٹوں سے بے تحاشا مارااور سڑک پر موجود چھوٹی بڑی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے۔بیان کے مطابق فورسز اہلکار بعد میں گھروں میں گھس کر وہاں رہنے والے لوگوں پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس بے رحمانہ تشدد کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ لوگوں کے گھریلو سامان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ ہر طرف آہ و بکا بلند ہوا لیکن ان اہلکاروں نے اپنے ظلم و بربریت میں کوئی کمی نہ دکھائی۔ چند روز قبل نیوہ پلوامہ کے ایک محلہ میں بھی لوگوں کے ساتھ اسی طرح کا ظالمانہ سلوک کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں بسنے والے لوگوں نے اپنا بوریا بسترہ اٹھاکر وہاں سے ہجرت کی۔ جماعت اسلامی نے اس ظالمانہ رویہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اور مقامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ وادی کشمیر میں فوج کی زیادتیوں کا فوری نوٹس لے کر اس کے سدباب کے لیے ضروری اور مو4134ر کارروائی کرے۔اس دوران جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر نے اخبارات کے نام اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوجوانوں کا قتل عام روز کا معمول بنتا جارہا ہے اور خون مسلم کی ارزانی اور ہر آئے دن بوڑھے باپ کے کندھے پر اسکے نوجوان بچے کی لاش کا تکلیف دہ منظر ہر صبح دلوں میں اضطراب ، گھروں میں ہیجان اور جذبات میں طوفان پیدا کردیتا ہے۔اس پرستم ظریفی یہ کہ تلاشی کاروائیوں کے نام پر پلوامہ ،شوپیان کولگام ،بانڈی پورہ ،سوپور کے قصبوں ودیہاتوں میں توڑ پھوڑ ، زدوکوب، خوف وہراس کا بھیانک ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگ احتجاجی ہجرتوں پر مجبور کئے جارہے ہیں۔صحافتی برادری پر ڈنڈوں کی برسات ظلم وستم کی انتہا ہے۔ ایسے میں حقوق انسانی کی تنظیموں کی خاموشی حالات کو اور زیادہ تکلیف دہ بنادیتی ہے ۔ جامع اہلحدیث گاکدل میں ڈاکٹر عبداللطیف الکندی نے لوگوں سے اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے ، رب کی طرف رجوع اور توبہ واستغفار کرنے کی تلقین کی اور مقامی وعالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہورہی ظلم وزیادتی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر الکندی نے مسلمانوں سے اتحاد و یکجہتی ، مسلکی انتشار سے باہرآنے اور خون مسلم کی ارزانی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعصب اور منافرت کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے متعلق برداشت زیرو ٹالرنس کے غبارے سے ھوابھی نکل چکی تھی مگر اب تو شہروں کے نام تک تبدیل کئے جارہے ہیں جو انتہائی پست اور منفی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔مدراس کے بعد الہ آباد کا نام تبدیل کرنا تعصب اور منافرت کے ماحول کو ھوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر الکندی نے فتح کدل ،سوپور ، بارہمولہ اور دیگر مقامات پر ہوئے انسانی جانوں کے نقصان پر غمزدہ کنبوں سے تعزیت اور شہداکی مغفرت کی دعا کی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے