Voice of Asia News

بھارت: مندر میں خواتین کے داخلے کا معاملہ سیاسی بن گیا

کیرالہ (وائس آف ایشیا)بھارتی ریاست کیرالہ کے ایک مندر میں خواتین کے داخلے کا معاملہ سیاسی بن گیا ہے اور انتہاپسند ہندو سپریم کورٹ کے احکامات ماننے سے بدستور انکار کر رہے ہیں۔کیرالہ سباری مالا نامی مندر میں 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی عائد تھی جسے سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک فیصلے میں ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن انتہاپسند ہندو سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔جمعہ کو بھی دو خواتین صحافی کویتا جگدال اور سماجی کارکن ریحانہ فاطمہ نے پولیس کے حفاظتی حصار میں مندر میں داخل ہونے کی کوشش لیکن دروازے پر موجود درجنوں انتہاپسندوں کے پھتراؤ کے باعث کوئی خاتون مندر میں داخل نہیں ہو سکیں۔پرتشدد مظاہرین میں مردوں کے ساتھ کافی خواتین بھی شامل ہیں اور انہوں نے مندر کی طرف جانے والے راستے بند کر رکھے ہیں۔ مظاہرین مندر کی طرف آنے والی گاڑیوں کو مسلسل چیک کر رہے ہیں کہ ان میں سنِ بلو غت تک پہنچ جانے والی لڑکیاں موجود نہ ہوں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی جنرل سیکریٹری کے سریندرن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنا ایجنڈہ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ اسے روکنے کیلئے قانون ہاتھ میں لینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ہندو مذہب میں سنِ بلوغت کو پہنچ جانے والی خواتین پر مذہبی رسومات میں شامل ہونے پر پابندی عائد کی جاتی ہے جب کہ بہت سے مندروں میں خواتین صرف مخصوص ایام کے دوران داخل نہیں ہو سکتیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے