Voice of Asia News

وزیراعظم سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کے لیے آج سعودی عرب روانہ ہونگے

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) وزیراعظم عمران خان ریاض میں ہونے والی مستقبل کے سرمایہ کاری اقدامات پر کانفرنس میں شرکت کے لئے آج سعودی عرب روانہ ہوں گے. تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج سعودی عرب روانہ ہوں گے، جہاں وہ ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے. وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ خزانہ اسد عمر اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری وزیرِ اعظم کے ہمراہ جائیں گے جبکہ وفد میں مشیرِ تجارت رزاق دآد، سیکرٹری خارجہ اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ شامل ہیں.دفتر خارجہ نے کہا وزیراعظم کانفرنس میں پاکستان میں سرمایہ کاری اورمعاشی مواقع پرروشنی ڈالیں گے اور اپنے آئندہ5 سالہ وڑن سے دنیا کو آگاہ کریں گے. ترجمان کے مطابق وزیراعظم شاہ سلمان ،ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ وزیراعظم وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند کاروباری شخصیات سے بھی ملیں گے. دفتر خارجہ ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم کو دورے کی دعوت شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے دی.ترجمان کے مطابق سرمایہ کاری کانفرنس میں90 ممالک سے 3ہزار 800 مندوب شرکت کررہے ہیں. خیال رہے وزیراعظم عمران خان کا یہ دوسرا دورہ سعودی عرب ہے ، اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان 18 ستمبر کو دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب گئے تھے جو ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا، ان کے لیے خصوصی طور پر روضہ رسولﷺ کے دروازے کھولے گئے تھے. وزیرِ اعظم عمران خان نے مکہ مکرمہ میں عمرہ بھی ادا کیا، بیت اللہ پہنچنے پر ان کے لیے خصوصی طور پر خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا، جہاں وہ وفد کے ساتھ بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے، نوافل ادا کیے اور پاکستان اور عالم اسلام کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں.دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اگلے 2 ہفتوں میں 3 دوست ممالک کا دورہ کریں گے جہاں وہ ممکنہ طور پر مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گے. رواں ماہ کے آخر میں ملائیشیا اور اگلے ماہ کے اوائل میں چین کا دورہ کریں گے.وفاقی کابینہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنے تینوں میزبان دوست ممالک سے مالی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ پاکستان کو درپیش معاشی بحران کو کم کرنے کے لیے مالی تعاون کی اشد ضرورت ہے.حکومت کو مالی بحران اور بیرونی قرضوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 12 ارب ڈالر سے 13 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات کے لیے 8 ارب کی ضرورت ہے اور حکومتی امور چلانے کے لیے 5 ارب ڈالر چاہیءں.انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے دوست ممالک سے بہتر مالی تعاون حاصل کر پائے تو ممکن ہے ہم عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض حاصل نہیں کریں گے.کابینہ کے رکن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 28 اکتوبر اور 29 اکتوبر کو دو روزہ دورے پر ملائیشیا جائیں گے اور اپنے ملائیشین ہم منصب اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے.ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے حال ہی میں ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے ان کے تجربے سے استفادہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ملائیشیا کے دورے کی دعوت بھی قبول کی تھی.ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے آپس میں تعاون کے خواہاں ہیں اور دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلق اور تعاون میں مضبوطی کی توقع ہے.وزیراعظم عمران خان 3 نومبر کو چین کے سرکاری دورے پر ہوں گے جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے.ذرائع کا کہنا تھاکہ دوست ملک کے دورے میں عمران خان چینی قیادت کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کریں گے.گزشتہ حکومت نے انفراسٹرکچر پر توجہ دی تھی لیکن موجودہ حکومت زرعی، روزگار کی فراہمی اور بیرونی سرمایہ کو اولین ترجیح دینا چاہتی ہے.رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ایک کھرب سے زائد مالیت کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے شاہراہوں کے منصوبوں پر منفی اثرات پڑے ہیں، توانائی کے شعبے میں بھی کئی منصوبوں پر اثر پڑا ہے.

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے