Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر ، مزید نوجوان شہید،3اہلکار ہلاک ،11 شہداء سپرد خاک

سرینگر/جموں (وائس آف ایشیا ) مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ تصادم میں مزید نوجوان شہید،3اہلکار ہلاک ،11 شہداء سپرد خاک،مزاحمتی خیمے کی اپیل پر وادی بند،سندر بنی سیکٹر میں مجاہدین نے بھارتی فوج کی گشتی پارٹی پر دھاوا بول دیا،ایک اہلکار زخمی ،گزشتہ روز زخمی ہونے والے 40سے زائد افراد بدستور زیر علاج ،،وادی میں سوگ،حریت قیادت کا آج لال چوک چلو پروگرام کا اعلان ، وادی میں مکمل ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز،تجارتی ادارے بند،ٹرانسپورٹ غائب ،کئی مقامات پر احتجاج ،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی،انٹر نیٹ اور موبائل سروس سمیت مواصلاتی رابطے منقطع ،شہری ہلاکتوں پر حریت قائدین سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تمام طبقہ فکر کا اظہار افسوس ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کنٹرول لائن پر سندر بنی سیکٹر میں ایک مسلح تصادم کے دوران 3فوجی اہلکار ہلاک اور2نوجوان شہید ہو گئے ہیں ۔ وزارت دفاع کے جموں مقیم ترجمان لیفٹنٹ کرنل دیویندر آنند نے بتایا کہ اتوار بعد دوپہر پونے دو بجے کے قریب ضلع راجوری کے سندر بنی سیکٹر میں مسلح در اندازروں نے معمول کی گشت پر تعینات فوجی اہلکاروں کی ٹکڑی پر حملہ بول دیا جس کے نتیجہ میں 3اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ مزید ایک شدید زخمی ہو گیا۔اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد بذریعہ ہیلی کاپٹر ادہم پور کمان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بنی ہوئی ہے۔تمام مہلوک اہلکار مقامی ہیں اور وہ جموں کشمیر لائٹ انفینٹریجیکلائی کے 8ویں یونٹ کے ساتھ منسلک تھے۔ مہلوکین کی شناخت حوالدار کوشل کمار ساکن ڈینگ نوشہرہ راجوری، لانس نائیک رنجیت سنگھ ساکن گام ڈوڈہ اور رائفل مین رجت کمار باسن ساکن پلانوالہ جموں کے طور پر کی گئی ہے جب کہ زخمی اہلکار رائفل مین راکیش کمار کا تعلق سانبہ سے ہے۔ترجمان نے کہا کہ فوج نے فورا ہی علاقہ کو محاصر ہ میں لے لیا اور دونوں نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے جن کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ان کا تعلق ممکنہ طور پر پاکستان سے ہو سکتا ہے ۔دریں اثناء بھارتی فوج کے ہاتھوں کے گزشتہ روز شہید ہونے والے 11افراد کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے جن کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔بھارتی فوج نے کولگام کے علاقے لارو میں ایک مکان کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا جس کے ملبے سے تین نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہو ئی تھیں۔شہداء کی شناخت شاہد اسلام تانرے ساکن وانگام شوپیاں،یازل احمد مکرو ساکن آرونی بجبہاڑہ اور زبیر احمد لون سکنہ ہانجی پورہ کولگام کے ناموں سے ہوئی تھی۔جن کی متیں فوج نے پولیس کے سپرد کیں اور پولیس نے لواحقین کو بلا متیں ان کے حوالے کیں بعد میں شہداء کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی اور ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا ۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے شہداء کی تدفین کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے اور قابض اہلکاروں کو پتھراؤ کا نشانہ بنایا۔کولگام معرکہ آرائی میں جاں بحق جنگجو زبیر احمد لون عرف ابو عبیدولد فاروق احمد لون ساکن آہوتھو کولگام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حافظ قرآن تھا اور 25 اپریل 2018سے عسکری تنظیم جیش محمد میں شامل ہوا تھا جبکہ یازل احمد مکرو ولد مشتاق احمد مکرو عرف ابو موسی ساکن آرونی بجہباڑہ بی اے فائنل ایر کا طالب تھا ،مہلوک جنگجو20جون 2018 کو تعلیم چھوڑ کر جیش محمد میں شامل ہوا تھا۔شاہ دل احمد تانترے ولد عبدالرشید تانترے نامی تیسرا جنگجو دانگام شوپیان کا رہنے والا تھا۔شادل نے14 جولائی 2018کو جنگجووں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی اور وہ جیش محمد کے ساتھ منسلک ہوا۔شادل کے بارے میں مزید معلوم ہوا کہ اس نے دیوبند میں مولوی کا کورس کیا تھا اور حافظ القرآن تھا۔شادل کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وانگام میں آس پاس کے علاقوں سے آئے ہوئے مرد وزن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے۔جوں ہی شادل کی لاش اسکے آبائی گاوں لائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا۔ اسکے بعد شادل کی میت کو ایک بڑے میدان میں لایا گیا جہاں اسکی تین بار نماز جنازہ ادکی گئی۔اس دوران کئی جنگجو بھی یہاں نمودار ہوئے جنہوں نے شادل کو بطور سلامی ہوا میں فائر کئے۔اسکے بعد شادل کو پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔شام ساتھ بجے جنگجووں نے دوبارہ شادل کی قبر کے پاس ہوا میں فائر کئے اور اسے سلامی دی۔ لارو جھڑپ کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے باہر نکل کر احتجاج کیا۔اس دوران بھارتی فورسز نے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں مزید 6افراد شہید ہو گئے تھے۔جن کی شناخت طالب مقبول لارے ساکن لارو،مقیم حفیظ بٹ ساکن لارو،ارشاد احمد پڈر ساکن شرت کولگام،عزیرت احمدڈار ساکن ریشی پورہ کولگام،منصور احمد ڈار ساکن بوگند کولگام اور عبید شاہ ساکن ماکن پورہ کولگام کے ناموں سے ہوئی تھی جبکہ50سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے 8کو ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی فوج نے دھماکے میں کیمیائی مواد استعمال کیا جس کے نیتجے میں کئی زخمیوں کے جسم جھلس گئے ہیں ۔لوگوں نے واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہریوں کو بھی ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔اس موقع پر لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے پیر کو ہمہ گیر ہڑتال اور آج منگل کو لال چوک چلو پرگرام کا اعلان کیا تھا۔مزاحمتی خیمے کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال رہی جس کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند رہے۔تعلیمی اداروں میں بھی ہڑتال کے باعث امتحانات ملتوی کر دئیے گئے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ بھی غائب رہی۔کولگام،شوپیاں اور انت ناگ سمیت کئی اضلاع میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اس دوران قابض فورسز پر پتھراؤ کیا گیا۔فورسز کے ساتھ تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔وادی میں انٹر نیٹ،موبائل اور ریل سروس معطل رہی ۔مزاحمتی خیمے کی اپیل پر آج لال چوک میں احتجاج ہو گا جس سے نمٹنے کے لئے بھارتی فورسز نے بھی لنگوٹ کس لئے ہیں ،حریت قائدین کی نظر بندیوں اور گرفتاریوں کا امکان ہے ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت عوام الناس کے ہمراہ ایک پرامن احتجاجی دھرنادیں گے نیز اس قتل عام اور ظلم و جبر کو اجاگر کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک یادداشت بھی تحریر کی جارہی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کولگام میں کئے گئے قتل عام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی فوج اور فورسز نے آخری اطلاعات موصول ہونے تک آٹھ کے قریب لوگوں کو جن میں ایک نو سالہ کمسن بچہ بھی شامل ہے شہید جبکہ سینکڑوں لوگوں کو گولیاں،بم اور پیلٹ سے زخمی کردیا ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے جاری اس قتل و غارت گری نے اب ساری حدیں پار کردی ہیں اور کشمیری اب کسی صورت اس قتل عام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں کولگام، شوپیان،پلوامہ یہاں تک کہ شمالی و وسطی کشمیر کے کئی مقامات پر بھی کریک ڈاؤن کرکے لوگوں کی بلا تخصیص جنس و عمر مار پیٹ اور تذلیل، عورتوں کے اوپر حملے جس دوران ایک حاملہ خاتون کوبن جنمے بچے سمیت شہید کیا گیا، مکانات، دکانات،گاڑیوں اور اسباب خانہ کی آتش زدگی اور حراست میں لے کر قتل کردینے کے واقعات میں تیز ترین اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر کے وسط میں ایک جوان سال بچے رئیس احمد کو اپنے بھال بچوں اور والدین کے سامنے گرفتار کیا گیا اور رات بھر ٹارچرکرنے کے بعد گولی مار کر شہید کیا گیا۔ قائدین نے کہا کہ ترچھل پلوامہ میں ایک پوری بستی پر دھاوا بول کر خواتین اور معمر افراد کے سر پھوڑ دئے گئے نیز گام و شہر میں مکانات اور بستیوں کو بارودی سرنگیں لگاکر اور آتش گیر مادے سے تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ بھی تیز تر کیا گیا ہے۔جاری قتل و غارت، مار دھاڑ، ظلم و جبر ، حراستی ہلاکتوں،خواتین کے خلاف تشدداور دوسرے مظالم کے خلاف سوموار کو پورے کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ منگل کو مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر عوام لال چوک کارخ کریں گے جہاں اس قتل عام اور ظلم و جبر کے خلاف پرامن دھرنا دیا جائے گا ۔ اس دھرنے میں مشترکہ قائدین نے شرکت کریں گے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک یادداشت بھی تیار کی جارہی ہے جس میں اس ظلم و جبر کو اجاگر کرتے ہوئے ان سے اسے روکنے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال میں لانے کیلئے کہا جائے گا۔ احتجاجی ہڑتال، لال چلو کی کال اور دوسرے احتجاجی پروگراموں کو ہر سطح پر کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام یادداشت کو سماجی میڈیا کے ذریعے بھی مشتہر کیا جائے گا اور ہر ذی ہوش و حواس کشمیری پر لازم ہے کہ وہ اس یادداشت پر دستخط کرکے ظلم کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرے ۔تحریک حریت، پیپلز لیگ،تحریک مزاحمت،مسلم لیگ،دختران ملت، پیپلز پولیٹیکل فرنٹ،محاذ آزادی،انجمن شرعی شیعیان،اتحاد المسلمین،سالویشن مومنٹ،ماس مومنٹ ،وی او وی،پیروان ولایت،ڈیمو کریٹک پولیٹکل مومنٹ ، ینگ مینز لیگ اورتحریک استقامت نے کولگام ہلاکتوں کو بربریت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے خلاف اعلانا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کولگام واقعہ کو ایک سانحہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج اور دیگر فورسز کو معصوم کشمیریوں کا خون بہانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا ۔انہوں نے اس خونین واقعہ میں جاں بحق ہوئے جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور اس کے کارندوں نے کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے نہتے کشمیریوں کے خلاف اعلانا جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ صحرائی کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور ضد آئے روزہلاکتوں کی وجہ بن رہی ہے لیکن اقوام متحدہ یا دیگر عالمی اداروں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔دریں اثنا شام گئے تحریک حریت چیئرمین کو ایک مرتبہ پھر خانہ نظربند کرلیا گیا ہے۔پیپلز لیگ کے محبوس چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اورقائمقام چیئرمین سید محمد شفیع نے کولگام میں شہری ہلاکتوں کو بربریت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔موصولہ بیان کے مطابق لیگ کے محبوس چیئرمین غلام محمد خان سوپوری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کا قتل عام باعث تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی طرف سے دی جا رہی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔پیپلز لیگ کے ایک اور دھڑے کے وائس چیئر مین محمد یاسین عطائی نے مذمت کر تے ہو ئے حقوق البشر کے عالمی اداروں اور یواین کے سکریٹری جنرل سے جلد از جلد فوری مداخلت کی اپیل کی تاکہ کشمیریوں کے مال و جان کا تحفظ ممکن ہوسکے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قربانیوں کو کسی بھی حال میں ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اورقوم اور قیادت پر ان قربانیوں کی حفاظت فرض ہے۔انہوں نے عام شہریوں پر طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارتی فوج کی نفسیاتی اور ذہنی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے ۔دریں اثنا بلال صدیقی کے ہمراہ ایک وفد نے فتح کدل اور خانیار جاکر معراج الدین بنگرو،فہد مشتاق وازہ اور رئیس احمد کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کا اظہارکیا۔ وفد نے لبریشن فرنٹ کے سرکردہ رہنما محمد یاسین بٹ سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی۔مسلم لیگ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسپا اور فوج کو حد سے زیادہ اختیارات دینے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ لیگ ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان طاقت کے نشے میں چور ہوکر جس طرح یہاں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر کر چھوٹے بچوں اور عام شہریوں کو راست فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنا کر ابدی نیند سلاتا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی فوج کو خون کا لگ چکا ہے اور اسے تب تک چین اور سکون نہیں ملتا جب تک وہ بے بسوں اور نہتے لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگ لے کیونکہ تبھی تو وہ یہاں آئے دن بے گناہوں اور معصوموں کے خون کی ہولی کھیلتا ہے۔ دختران ملت نے قتل عام قرار دیتے ہوئے فورسز کے طرز عمل کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کی ترجمان رفعت فاطمہ نے کہا کہ اگرچہ پولیس یہ دعوی کر رہی ہے کہ معرکہ آرائی کی جگہ دھماکہ ہونے سے عام شہری جاں بحق ہوئے تاہم یہ قتل عام کا ایک نیا حربہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل تو عوام کومعرکہ آرائیوں کے مقامات سے روک دیا جاتا تھا توآج لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت کیسے دی گئی۔ پیپلز پولیٹیکل فرنٹ چیئرمین محمدمصدق عادل نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بڑکر اور کس طرح کی انسانی خون کی ہولی ہوسکتی ہے جو حقوقِ انسانی سے وابستہ عالمی اِداروں کونظر آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اقوام عالم کی خاموشی کا ہی نتیجہ ہے ۔ جنہوں نے اب تک کشمیریوں کی چیخ و پکار پر دھیان دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ مصدق عادل نے کہا کہ اس انتہائی نازک اور خوفناک موقعہ پر یہ اقوامِ عالم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بھارت کی اس دہشت گردی کا فورا جائزہ لیکر کشمیر میں یہ منصوبہ بندنسل کشی کے کھیل کو روکا جائے۔محاذ آزادی صدر سید الطاف اندرابی نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حقوق البشر کی عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کو کب کشمیریوں کا دردوکرب محسوس ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کولگام واقعہ بھارت کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے۔دریں اثنا الطاف اندرابی نے لبریشن فرنٹ لیڈر محمد یاسین بٹ کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے ان کی والدہ کی جنت نشینی کی دعا کی ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغاسید حسن نے کولگام میں ہلاکتوں کے خلاف رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ قتل و غارتگری کے حربوں سے کشمیری عوام اپنی جائز مطالبے سے دستبردار نہیں ہونگے۔ آغا حسن نے اس سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین سے تعزیت کااظہار کیا۔اتحاد المسلمین نے کولگام دلدوز واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ مولانا مسرور عباس انصاری نے ایک بیان میں کولگام واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی قتل و غارتگری بھارت کا مشغلہ بن گیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہونے کے علاوہ جمہوریت کا سراسر قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے لگام فورسز کے ذریعے بھارت نے کولگام میں چنگیزیت کو بھی شرمسار کیا۔ مولانا مسرور نے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی اداروں کی مجرمانہ خاموشی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں سے کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مولانا نے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا اورزخمی ہوئے نوجوانوں کی صحتیابی کیلئے دعا کی۔سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے کولگام واقع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کولگام میں عام شہریوں کو بے دردی سے جاں بحق کیا گیا اور درجنوں کو شدید طور پر زخمی کیا گیا ،اس سے کشمیری عوام کے دلوں کو بری طرح زخمی کیا گیا۔انہوں نے اس واقعہ کو فورسز کی فسطائی ذہنیت اور انسانیت کش قرار دیتے ہوئے اس قتل عام میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ووئس آف وکٹمزکے ڈائریکٹر عبدالقدیر اور کوارڈی نیٹر عبدالرؤف نے کولگام واقعہ کو اقوام عالم کیلئے چشم کشا قرار دیا ہے۔ماس مومنٹ ،پیروان ولایت،ڈیمو کریٹک پولیٹکل مومنٹ چیئر مین فردوس احمد شاہ ، ینگ مینز لیگ کے چیئرمین امتیاز احمد ریشی اورتحریک استقامت کے غلام نبی وار نینے کولگام ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کی نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔ادھر گورنرکے مشیرکے وجے کماراورپولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کولگام میں جنگجوؤں اور فورسزکے درمیان ہوئی خونین معرکہ آرائی کے دوران پرتشدد مظاہروں اورایک سماعت شکن دھماکے میں شہری اموات پرگہرے دکھ اورافسوس ظاہرکیاہے ۔انہوں نے کہاکہ انکاؤنٹرمقام کے نزدیک ہوئے دھماکے کی زدمیں آکرکئی عام شہریوں کے جان بحق ہوجانے پرانھیں گہرادکھ اورصدمہ پہنچاہے۔کے وجے کماراور دلباغ سنگھ نے جاں بحق ہوئے شہریوں کے غمزدہ کنبوں اورلواحقین کیساتھ دلی تعزیت اورہمدردی کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ جھڑپ ختم ہونے کے فورابعدلوگ جائے جھڑپ پرچلے گئے اوریہاں موجودبارودی موادسماعت شکن دھماکے کیساتھ پھٹ جانے کی وجہ سے یہ المناک صورتحال وقوع پذیرہوئی ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جھڑپ والے مقامات کے نزدیک تب تک نہ جائیں جب تک ان مقاما ت کاپولیس وفورسزکے ماہردستے جائزہ نہ لیاکریں ۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے وادی میں مسلسل عام شہریوں کی ہلاکتوں پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست خصوصا وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا دائرہ دن بہ دن وسیع ہوجانے کہا ہے کہ ریاست میں ریکارڈ توڑ ہلاکتوں سے انسانیت کانپ اٹھتی ہے ۔ انہوں نے فورسزکے بے تحاشہ طاقت کے استعمال پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فورسز کو اپنے طاقت بے جا استعمال پر روک لگانے کی مانگ کی اور آج کی شہری ہلاکتوں کی فوری تحقیقات عمل میں لانی چاہیے ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کے مال وجاں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور فورسز کے بے جا طاقت کے استعمال پر ہر سطح پر روک لگائی جائے ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لاروکولگام میں شہریوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے پر گہرے صدمے اوررنج کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی صورتحال کے دوران سیکورٹی فورسز معیاری ضابطہ کار کے پابند رہنے کو یقینی بنایا جائے اور سبھی حفاظتی ایجنسیوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ شہری ہلاکتوں کو روکنے کیلئے تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کریں ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے