Voice of Asia News

ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کی مسلم کش پالیسی پر عمل پیرا

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث ،جمعیت ہمدانیہ،جمعیت علماء اہل السنت والجماعت ، کاروان اسلامی اور انجمن حمایت الاسلام نے کولگام میں تیں جنگجوؤں اور سات عام شہریوں کی ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتوں کے جاری سلسلے نے اب یہ واضح کردیا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی نسل کشی کا فیصلہ کرلیا ہے۔جماعت اسلامی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاروکولگام میں فورسز کی اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں تین جنگجوؤں اور سات عام شہریوں کی ہلاکتوں سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی نسل کشی کا فیصلہ لیاہے اور یہاں کے نوجوانوں کو اْسی طرح ایک منصوبہ بند طریقے پر قتل کیا جارہا ہے جس طرح فرعونی دور میں مسلمان بچوں کا قتل عام کیاجارہا تھا لیکن تاریخ میں یہ حقیقت ثبت ہے کہ فرعون اپنے تمام ہتھکنڈوں اور حربوں کے باوجود بالآخربنی اسرائیل کو کامیابی نصیب ہوئی اور ظالم قوتوں کا ہمیشہ ہی یہی انجام رہا ہے اور مظلوموں کو آخر کار فتح و نصرت حاصل ہوئی ہے۔موصولہ بیان میں جماعت کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی نے فورسز کی اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے سبھی نوجوانوں کو خراج عقیدت اورلواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اورزخمیوں کی فوری صحتیابی کیلئے دعاکی ہے۔ جماعت اسلامی نے اقوام عالم اور عالمی انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق دیگر عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فورسزکی ان بہیمانہ کارروائیوں کو رکوانے کی خاطر مو ثر اقدامات کریں اور ان دلدوز واقعات میں ملوث فورسز اہلکاروں کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی پاداش میں مقدمات درج کریں۔جمعیت اہلحدیث نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز بلا ناغہ خون مسلم کی ارزانی ظلم وبربریت کا ثبوت اور نئی نسل میں نفرت کے بیج بونے کی منصوبہ بند سازش ہے۔ جمعیت صدر پروفیسر غلام محمد بٹ المدنی نے ایک بیان میں ایسے دلدوز واقعات کی مذمت کی ہے اورکہا ہے کہ طاقت کا بے تحاشہ استعمال اس بات کی واضح علامت ہے کہ فورسزریاست میں انسانی خون کے خوگر ہوچکے ہیں۔بیان میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مداخلت کی فوری اپیل کی گئی ہے۔ جمعیت ہمدانیہ نے کشمیر میں جاری خونین واقعات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کولگام واقعہ کو نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔جمعیت ہمدانیہ نے کہا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ہندوستان مسلم کش پالیسی اختیار کر کے ریاست میں مسلم آبادی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جمعیت ہمدانیہ نے دنیا کے تمام امن پسند ممالک کے سربراہوں خصوصاً مسلم ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ یو این او سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں اور مسلمانوں کے بیجا قتل عام روکنے کے لئے بھارت پر دباو ڈالیں۔جمعیت نے کہا ہے کہ کشمیر کو ایک نوآبادیاتی کالونی اور فوجی سٹیٹ میں تبدیل کیاگیا ہے جو اہل کشمیر کو کسی بھی صورت میں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے۔جمعیت کے مطابق ہندوستان اسرائیلی طرز کی مسلم دشمن پالیسیاں اختیار کر کے کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے ہی ریاست میں قیام امن ممکن ہے۔ جمعیت علماء اہل السنت والجماعت نے کولگام کے خونین واقع اور نہتے شہریوں کی ہلاکتوں پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دے دیاہے۔جمعیت کے سیکریٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی( مہتمم دارالعلوم شیری بارہمولہ) نے کہا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پر امن طریقہ سے حل کیا گیا ہوتا تو روزانہ یہ خونین واقعات دیکھنے کو نہ ملتے۔انہوں نے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانان کشمیر صدیوں سے ظلم وستم سہتے آرہے ہیں خصوصاً ہند وپاک کی آزادی کے بعد سے اب تک کشمیریوں نے قتل وغارت گری کے سوا کچھ نہیں دیکھا اوریہی وجہ ہے کہ یہاں کی 90 فیصد آبادی ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہے۔انہوں نے ہندوپاک قیادت پر زور دیا ہے کہ جتنا جلد ہوسکے مسئلہ کشمیر کو پر امن اور باوقار طریقہ سے حل کیا جائے۔کاروان اسلامی کے امیر مولاناغلام رسول حامی نے سات عام شہریوں کے جاں بحق ہونے اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت سوز مظالم عالم انسانی حقوقی اداروں کے لئے چشم کشا ہیں۔انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے شہری ہلاکتوں پر تاسف کرتے ہوئے کہاکہ ا?ئے روز انسانی جانوں کا زیاں اہل کشمیر کیلئے باعث تشویش ہے اور فورسزو بھارتی طاقت کے ایجنسیوں کی ہٹ دھرمی اور بے تحاشا عوام پر زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پر ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دیں جبکہ انہیں صرف ملیٹنسی کے نام پر اہل کشمیر کے ماردھاڑ معمول بن گیا ہے اور دوسری طرف نام نہاد انتخابات پیش کرکے کشمیر کے حالات کو بین الاقوامی سطح پر پْرامن قرار دے کر اقوام عالم کو گمراہ کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے