Voice of Asia News

نئی دلی کی خاموشی مجرمانہ مسئلہ کے حل میں سنجیدہ نہیں:بھارت نواز سیاسی جماعتیں

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز سیا سی جماعتیں سی پی آ ایم ،پی ڈی ایف اور عوامی اتحاد پارٹی نے شہری ہلاکتوں پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک خاموش تماشائی کی طرح یہ منظر دیکھ رہی ہے اور مسئلے کے سیاسی حل کیلئے سنجیدہ نہیں۔سی پی آئی ایم کے رہنما و ممبراسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے شہری ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں روزانہ ہلاکتیں ایک قاعدہ بن گیاہے۔اپنے ایک بیان میں تاریگامی نے کہاکہ یہ انتہائی دردناک ہے کہ کشمیرمیں روزانہ ہلاکتوں کے واقعات رونماہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے نئی دہلی ایک خاموش تماشائی کی طرح یہ منظر دیکھ رہی ہے اور مسئلے کے سیاسی حل کیلئے سنجیدہ نہیں۔ان کاکہناتھاکہ کشمیری عوام خاص کر نوجوانوں میں پایاجارہاغم وغصہ گہرا ہوتاجارہاہے جس کا ادراک اسی بات سے ہوتاہے کہ نوجوان اور عام شہری بغیر کسی ڈر کے انکاؤنٹر والے علاقے تک چلے جاتے ہیں۔تاریگامی نے کہاکہ نئی دہلی میں بھاجپا کی زیر قیادت حکومت نے کشمیری نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کردیاہے اوربدقسمتی سے سیاسی قیادت ماضی میں ہوئی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہی ہے۔ان کاکہناہے کہ شہری ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات اور نئی دہلی کی طرف سے کوئی اقدام نہ کئے جانے باعث صورتحال کے مزید پیچیدہ بن جانے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے اس دردناک و افسوسناک واقعہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائے۔پی ڈی ایف کے چیئرمین اور ممبر اسمبلی خانصاحب حکیم محمد یاسین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لارو کولگام میں قیمتی انسانی جانوں کی ہلاکتوں، تشدد اور دھونس دباؤ سے کوئی نتیجہ برآد نہیں ہوسکتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں حکیم یاسین نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں میں پائے جارہے غصہ اور بد اعتمادی کی فضاختم کرنے کیلئے گولی کا استعمال کرنے کے بجائے باہمی اعتماد سازی اور گفت شنید کا عمل شروع کریں۔ عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے عالمی برادری سے کشمیر یوں کے قتل عام کو روکنے کی کوشش کرنے کی اپیل کی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ’’کشمیریوں کے لئے تو ہر دن یوم سیاہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ نئی دلی نے کسی بھی قیمت پر کشمیریوں کو خاموش کرنے کی ٹھان لی ہے۔وہ جو چند کشمیری پنڈتوں کی ہلاکت کو نسل کشی قرار دیکر عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں سامنے آکر واضح کریں کہ مسئلہ کشمیر کے لازمی حل کو ٹالنے کیلئے کشمیر کو ایک تجربہ گاہ بناکر یہاں کے مسلمانوں کو کیوں تہہ تیغ کیا جارہا ہے‘‘۔انجینئر رشید نے الزام لگایا کہ فورسز موت اور تباہی کے کھیل میں اپنا مفاد خصوصی قائم کرچکی ہیں لہٰذا وہ کبھی اس کھیل کو بند نہیں ہونے دینا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا’’عالمی برادری کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ نئی دلی کشمیر میں ہورہے قتل عام کے حوالے سے اسے جو بھی کہانیاں سنا رہی ہے وہ سب فرضی ہیں۔حالانکہ مسئلہ کشمیر ایک خالص سیاسی مسئلہ ہے لیکن نئی دلی اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے پر تلی ہوئی ہے۔یہ انتہائی بد قسمتی مگر کڑوا سچ ہے کہ کشمیریوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مارا جا رہا ہے،اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر کم از کم بھارت کی سیول سوسائٹی یا سیاسی جماعتوں نے کشمیریوں کے قتل عام پر کبھی آواز ہی اٹھائی ہوتی‘‘۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے