Voice of Asia News

جعلی اکانٹس کیس،سپریم کورٹ کا سندھ حکومت کو 26 اکتوبر تک ریکارڈ دینے کا حکم

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) جعلی بینک اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ۔ دوران سماعت مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ احسان صادق نے دوسری رپورٹ جمع کرا دی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی ۔ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ معاملہ ایک کھرب سے زائد کے حجم تک پہنچ گیا ہے ۔ پیچیدہ طریقوں سے عام افراد اور مرحومین کے اکاونٹس میں رقوم منتقل کی گئیں ۔ بعض افراد کی موت کے دو سال بعد ان کے اکاونٹس میں اربوں روپے ڈالے گئے ۔ 47 ارب روپے عام افراد اور 54 ارب روپے سے زائد رقوم کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کئے گئے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹری خزانہ سندھ ، سیکرٹری توانائی ، سیکرٹری اریگیشن اور سیکرٹری اسپیشل انیشیووٹیوز ذاتی حیثیت میں 26 اکتوبر کو متعلقہ ریکارڈ سمیت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوں ۔ عدالت تمام ریکارڈ کا خود جائزہ لے کر جے آئی ٹی کے حوالے کروائے گی ۔ اگر ریکارڈ ڈھونڈنے میں کوئی دقت آ رہی ہے تو وہ کراچی آ رہے ہیں اور وہ خود متعلقہ سیکرٹری کے ساتھ جا کر دیکھیں گے کہ ریکارڈ کیسے نہیں ملتا ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا تو ہم اس بات پر غور کریں گے کہ ان افسران کے خلاف کس قسم کی کارروائی شروع کی جائے ۔ پیر کوچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ جعلی بینک اکاونٹس سے منی لانڈرنگ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی دوسری رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروا دی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی ۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ چور مر جائیں گے ایک پیسہ نہیں دیں گے ۔ چوروں نے ایسے اکاؤنٹس میں پیسہ رکھا تو نہیں ہو گا ۔ چیف جسٹس نے جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق سے سوال کیا کہ کیا آپ اس معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں گے ۔ اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ معاملہ کی حقیقت کا پتہ چلائیں گے ۔ جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ رکشہ ڈرائیور اور فالودے والے کے اکاونٹس میں اربوں روپے تھے ۔ سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ۔تعاون کے لیے تحریری درخواست دی گئی تھی ۔ سیکرٹری توانائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ۔ عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے ریکارڈ فراہمی کے لیے چار ماہ کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی ۔ چیف جسٹس نے جے آئی ٹی سربراہ سے سوال کیا کہ کیا تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ جعلی اکاؤنٹس سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کو تعاون کے لیے تحریری درخوست دی گئی تھی اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ تعاون کے لیے تحریری درخواست دی گئی تھی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس سے وابستہ کچھ لوگ مفرور ہیں اس پر پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ سندھ حکومت کے کئی افسر بیرون ملک منتقل ہوگئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دو مردوں کے بھی بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس سے 47 ارب کی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں ۔ 36 بے نامی کمپنیوں سے مزید 54 ارب روپے منتقل کئے گئے ۔ اومنی گروپ کی متعدد کمپنیاں کیس سے منسلک ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا رقوم اب بھی اکاؤنٹس میں موجود ہیں ۔ اس پر جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ رقوم نکلوا کر اکاونٹس بند کر دئیے جاتے تھے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کار سرکار میں مداخلت ہو گی تو کارروائی ہو گی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سنا ہے کہ ملزم اسپتال منتقل ہو گئے ۔ سندھ کے ڈاکٹرز کی رپورٹس پر اعتبار نہیں ۔ انور مجید کو کراچی سے یہاں لانے کا سوچ رہا ہوں ۔ انور مجید کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیتے ہیں ۔ 24 گھنٹے انہیں ڈاکٹرز کی سہولت میسر ہو گی زیادہ مسئلہ ہوا تو آر آئی سی یا پمز لایا جا سکتا ہے ۔ انور مجید کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایسے کیا حالات ہیں کہ عدالت میرے موکل کی صحت کا یقین نہیں کرتی ۔ جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ معاملہ ایک کھرب سے زائد کے حجم تک پہنچ گیا ہے ۔ پیچیدہ طریقوں سے عام افراد اور مرحومین کے اکاونٹس میں رقوم منتقل کی گئیں ۔ بعض افراد کی موت کے دو سال بعد ان کے اکاؤنٹس میں اربوں روپے ڈالے گئے ۔ 47 ارب روپے عام افراد اور 54 ارب سے زائد رقوم کمپنیوں کے اکاونٹس میں منتقل کی گئیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے موقف اپنایا کہ جے آئی ٹی ہم سے 2008 ء سے حکومت کا کیا ہر معاہدہ مانگ رہی ہے جے آئی ٹی کے دئیے 46 ناموں میں سے 6 معاہدے ریکارڈ میں دستیاب ہو سکے ہیں ۔ جے آئی ٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں منی لانڈرنگ کا معاملہ نظر آتا ہے ۔ سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی اور ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے تعاون نہ کرنے کی بات درست نہیں ۔ جے آئی ٹی اب تک تین چار طرح کا ریکارڈ مانگ چکی ہے اور ریکارڈ کی ایک جگہ پر دستیاب نہیں ہے اس لیے اس کو فراہم کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ 26 اکتوبر کو کراچی جائیں گے اور وہیں پر اس کیس کی سماعت کریں گے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری توانائی ، سیکرٹری اریگیشن اور سیکرٹری اسپیشل انیشیٹیوز از خود حاضر ہوں اور تمام لوگ متعلقہ ریکارلڈ بھی لے کر آئیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا تو پھر ہم اس بات پر غور کریں گے کہ ان افسران کے خلاف کس قسم کی کارروائی شروع کی جائے ۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آج بھی انور مجید اور ان کی فیملی کے لیے فرانس سے پانی آتا ہے ۔ چیف جسٹس نے سندھ کے کیس سے متعلقہ سیکرٹریز کو حکم دیا ہے کہ جو جو ریکارڈ جے آئی ٹی نے ان سے مانگا ہے وہ لے کر 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پیش ہو جائیں ۔ عدالت نے کہا کہ تمام متعلقہ سیکرٹریز 26 اکتوبر ذاتی حیثیت میں حاضر ہوں ۔ عدالت تمام ریکارڈ کا خود جائزہ لے کر جے آئی ٹی کے حوالے کروائے گی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ریکارڈ ڈھونڈنے میں کوئی دقت آ رہی ہے تو وہ کراچی آ رہے ہیں اور وہ خود متعلقہ سیکرٹری کے ساتھ جا کر دیکھیں گے کہ ریکارڈ کیسے نہیں ملتا ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی آئندہ سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہو گی ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے