Voice of Asia News

سوات میں گیارہ سالہ آپریشن ختم ، تمام اختیارات اورانتظام سول حکام کے حوالے

سوات(وائس آف ایشیا)سکیورٹی فورسز نے گیارہ سال بعد سوات میں آپریشن اور ایمرجنسی ختم کرتے ہوئے تمام اختیارات اورانتظام سول حکام کے حوالے کردئیے ۔ اس سلسلے سوات میں سیدوشریف ایئرپورٹ پر پاک فوج کی جانب سے اختیارات حوالے کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں وزیراعلی کے پی محمود خان،کور کمانڈرپشاور نذیربٹ نے شرکت کی، کمشنر مالاکنڈ اور ڈی آئی جی سعید خان وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی کے پی محمودخان نے کہا جنت نظیروادی پرقبضہ کیاگیاتھا، دہشت گردی عروج پرتھی لیکن عوام نے بہادری کامظاہرہ کیا ، پاک فوج اورعوام نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دیں۔وزیراعلی کے پی کا کہنا تھا کہ عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لانے پر پاک فوج کے مشکورہے، امن کی بحالی کے بعد پاک فوج نے ترقیاتی کام شروع کیے، پاک فوج نے سوات کے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کورکمانڈر پشاور نذیربٹ نے کہا کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کا صفایا کیا، امن عوام اور فورسزکی قربانیوں کا نتیجہ ہے، عوام نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔کور کمانڈرپشاور کا کہنا تھا کہ آج کا سوات ایک مختلف سوات ہے، امن لوٹ چکا ہے ،تجارت اور ترقی کا آغاز ہوچکا ہے ، آج سوات کی بنیادی ذمے داری انتظامیہ کے حوالے کردی، 80فیصد چیک پوسٹوں کو ختم کردیا۔انھوں نے مزید کہا تمام سیکیورٹی ذمے داریاں بھی انتظامیہ کے حوالے کریں گے، سوات میں حقیقی معنوں میں ایک کامیاب آپریشن کیا، یقین دلاتاہوں سوات سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔نذیر بٹ کا کہنا تھا کہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے، افغان سرحد پر 415کلو میٹرکی فینسنگ مکمل ہوچکی ہے۔اس سے قبل جنرل آپریشنل کمانڈر میجرجنرل خالد سعید کی جانب سے شرکا کو بریفنگ دی گئی، واضح رہے کہ پاک فوج کو دفعہ 245کے تحت سول اختیارات تفویض کئے گئے تھے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے