Voice of Asia News

بھارت میں کشمیری طلبہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنا افسوسناک ہے ،مجلس احرار الاسلام

لدھیانہ(وائس آف ایشیا )مجلس احرار الاسلام ہند کے امیر شاہی امام پنجاب مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی نے کہا کہ دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا سراسر غلط ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں پنجاب کے جالندھر میں گرفتار کئے گئے کشمیری طلبہ کو پکڑنے کے بعد پولیس نے پنجاب بھرکے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں مقیم تمام کشمیری طلبہ کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے جو کہ سرا سر غلط ہے ۔ مولانا لدھیانوی نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں لیکن دہشت گردی کے نام پر کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی ہرگز نہیں ہونے دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ پنجاب میں کچھ فرقہ پرست لیڈران بھی اس ضمن میں بیانات دے رہے ہیں کہ کشمیری طلبہ کے خلاف کارروائی ہو تو کیا یہ لیڈران کشمیر اور کشمیریوں کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ پنجاب کے شاہی امام نے کہا کہ ابھی گزشتہ دنوں اسرو کا ایک افسر ملک کے راز بیچتا پکڑا گیا، یہ افسر غیر مسلم ہے تو کیا جو اس افسر کے مذہب کے ماننے والے سبھی لوگ دہشت گرد سمجھے جائیں ، ایک سوال کے جواب میں مولانا لدھیانوی نے کہ کشمیری طلبہ کے ساتھ ہو رہی اس زیادتی کے خلاف ایک وفد نائب شاہی امام کی قیادت میں پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ ، ڈی جی پی شری سریش سونی سے ملاقات کریگا ۔ شاہی امام نے کہا کہ جو پولیس افسران بے قصور کشمیری طلبہ کو پکڑ کر تمغے لگوانا چاہتے ہیں وہ اس ظلم سے باز آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی سیاست چمکانے کے لئے سٹوڈنٹس کے خلا ف بیان بازی کرنے والے کیا لدھیانہ میں سو سال سے کاروبار کر رہے کشمیریوں کو بھی دہشت گرد بتائیں گے۔شاہی امام نے کہا کہ ہم نے اپنے وطن کے لئے قربانیاں دی ہیں ، مسلمان اس ملک کے باوقار شہری ہیں کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ جھوٹے الزامات کے تحت ہمارے بچوں کا مستقبل خراب کرنے کی کوشش کرے۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے