کھیلنے کودنے والے بچے ذہنی تنائو سے دور رہتے ہیں: ماہرین نفسیات

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) ماہرین نفسیات کہتے ہیں روزانہ دس منٹ کی ورزش سے حافظہ تیز ہو جاتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو خوش و خرم اور دماغی طور پر صحت مند دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ورزش کا عادی بنائیں۔ ماہرین نے چار سال تک چھے  سے دس برس کے سیکڑوں بچوں میں ورزش اور ڈپریشن کے درمیان ممکنہ تعلق پر غور کیا۔ ناروے کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سوشل ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے کیے گئے مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چھے سے آٹھ برس کے وہ بچے جو ورزش اور کھیل کود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ دیگر کے مقابلے میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے دور رہتے ہیں۔

بلاوجہ رونا، غصہ کرنا، پسندیدہ کاموں میں بھی کم دلچسپی لینا، الگ تھلگ رہنا اور بھوک کم لگنا بچوں میں اداسی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی علامات ہیں۔

نفسیات دانوں نے انکشاف کیا کہ جن بچوں نے چھے سال کی عمر میں ورزش کو معمول بنایا تھا اگلےدو  برس بعد بھی ان میں ڈپریشن اور تناؤ کے آثار نہ ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھیل کود یا جسمانی محنت کرنے والے بچے ناصرف ڈپریشن سے دور رہتے ہیں بلکہ تعلیمی میدان  میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔