Voice of Asia News

بچوں کی تعلیم کا مسئلہ: سب سے پہلے کیا کیا جائے؟

 لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)انسانی تہذیب و تمدن کا ارتقا اور قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ تعلیم میں اعلیٰ معیار حاصل کیے بغیر کوئی تہذیب قائم رہ سکی ہے اور نہ ہی کسی قوم نے ترقی کی اعلی منازل طے کی ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کی قیادت انہی قوموں کے ہاتھ میں ہے جن کے پاس دنیا کی علمی قیادت ہے۔ گویا دنیا کی قیادت کا براہ ِراست تعلق تعلیم سے ہے۔ اس کے بغیر ترقی ایک خواب ہے اور قیادت ایک سراب۔ تعلیمی تحقیق ایک وسیع موضوع ہے اور محقیقین اس پر اپنی تحقیقات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل قلم بھی اپنے مضامین کے ذریعے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان صاحبان ِ علم و فراست کے قلم سے تعلیم سے متعلق مختلف موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں اور ان سے قابل قدر معلومات بہم پہنچتی ہیں۔ نصاب ِ تعلیم، سکول کے اوقات، طلبہ کے یونیفارم، طریقہء تدریس، فنی تعلیم، شرح خواندگی، تربیتِ اساتذہ، تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال، غرض اس طرح کے درجنوں موضوعات پر لکھا جاتا ہے۔ یہ تمام ہی موضوعات انتہائی اہم اور تحقیق طلب ہیں۔ لیکن ایک سوال بہت ہی اہم اور توجہ طلب ہے کہ تعلیمی درستی کرتے ہوئے سب سے پہلے کیا کیا جائے۔ موجودہ مضمون میں اسی حوالے سے رائے پیش کی گئی ہے۔

بچوں کی تعلیم کےحوالے سے تمام مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن سب سے بچوں کے اندر خوف کو ختم کیا جائے اور یہ باور کرایا جائے کہ اسکول خوفزدہ ہونے کی جگہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچے اسکول کو واقعی ایک پر سکون جگہ سمجھتے ہیں۔ کیا جب وہ اسکول میں موجود ہوتے ہیں تو ان کے ذہن احساسِ  تحفظ رکھتے ہیں؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بچے تعلیم کو ایک کار آمد عمل سمجھ رہے ہوتے ہیں یا نہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بچے تعلیم کو بوجھ سمجھ کر حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اس پر مناسب توجہ نہیں دیتے۔ یقیناً اس میں بچے قصور وار نہیں کہ ہم اکثر تعلیم پر توجہ نہ دینے کے جرم کی پاداش میں بچوں کو کوستے، سزائیں دیتے اور ٹھیک کرتے رہتے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا یہ رویہ مناسب ہے۔ در اصل ہم نے تعلیم کے عمل کو ایسا دلچسپ بنایا ہی نہیں کہ بچے  تندہی سے یہ عمل انجام دیں۔ جب تک تعلیمی عمل غیر دلچسپ ہو گا تو بچوں کی عدم دلچسپی برقرار رہے گی۔ لہٰذا تعلیمی عمل انتہائی دلچسپ ہونا چاہیئے تا کہ طلبہ کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ بچے اسکول کو خوف کی جگہ سمجھتے ہیں اور مقام افسوس ہے کہ یہ خوف ان کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے جو شاید یونیورسٹی تک بھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک بچے نے بتایا کہ جب وہ پہلی جماعت میں تھا تو شرارت کرنے پر آیا اسے کہتیں کہ باہر بلا کھڑی ہے اور اگر اس نے شرارتیں کیں تو بلا اندر آ جائے گی۔ یہ بات کتنی تکلیف دہ ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کو اس انداز سے خوفزدہ کیا جائے اور وہ بھی اس کی شرارتوں سے جان چھڑانے کیلیے۔ کیا اس رویے سے ہم اپنے بچوں کے اندر بہادری اور جرأت مندی جیسی عظیم صفات پیدا کر سکتے ہیں؟ اس طرح کے کئی خوف بچوں کے دلوں میں ڈال کر ہم ان سے عزت اور سر بلندی سے جینے کا فن چھین رہے ہیں۔ ابھی ذکر ہوا کہ اس طرح کے خوف یونیورسٹی تک باقی رہتے ہیں لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ اس طرح کے خوف سے انسان ساری زندگی جان نہیں چھڑا پاتے۔ اسی خوف کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں۔ اور ہمارے قومی فیصلوں میں یہ خوف خوب جھلکتا ہے۔ تعلیمی کامیابی کو یقینی بنانے، تعلیمی عمل کو مؤثر، تعمیری اور نتیجہ خیز بنانے کیلیے ضروری ہے کہ بچوں کے دلوں سے اس خوف کو ختم کیا جائے۔ بصورتِ دیگر تعلیمی عمل تربیتِ طفل کا ذریعہ کم ہو گا اور خوف پیدا کرنے کا آلہ زیادہ۔
اس سلسلے میں تعلیم و تعلم سے جڑے تمام محترم خواتین و حضرات سے چند گزارشات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اس بات کو اپنا مقصد بنانا ہے کہ بچوں کے دلوں کو خوف سے آزاد کریں۔ بچوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلے خود کریں۔ انہیں بار بار روکا ٹوکا نہ جائے۔ اگر بچے غلطی کریں اور انہیں سمجھانا مقصود ہو تو ایک دفعہ سمجھانے  یا سرزنش کرنے کے بعد طعنہ زنی سے سخت پرہیز کیا جائے۔ اساتذہ جب پڑھاتے ہیں تو عام طور پر بچوں کے کچھ عیب بھی ان پر آشکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں اساتذہ بچوں کے عیبوں سے چشم پوشی کریں اور ان باتوں کو اپنے تک محدود رکھیں۔بچوں کے خوف پر قابو پا کر ہی ہم انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ مستقبل کی قومی زندگی میں تعمیری کردار ادا کریں۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے