Voice of Asia News

نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کا اضافہ کیوں؟

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ جدید تکنیکی اور سائنسی ایجادات نے انسان کو لاتعداد سہولتیں فراہم کی ہیں، اس نیوکلیئر عہد کے انسان کو وہ تمام سہولتیں حاصل ہیں جن کا آج سے سو سال قبل کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دنیا کی تاریخ میں انسانی زندگی کا معیار کبھی ایسا جلدجلد نہیں بدلا اور نہ ہی اتنا بلند ہوا جتنا اس عہد میں ہوا ہے۔ اشیائے ضرورت کبھی اتنے بڑے پیمانے پر تیار نہیں ہوئیں اور انسان کو آرام و آسائش سے زندگی گزارنے کے اس قدر مواقع اس سے پہلے نہیں میسر آئے۔ یہ سوال ابھرتا ہے کہ ان ایجادات و مصنوعات نے انسان کو جو کچھ فراہم کیا ہے کیا وہ واقعی انسان کیلئے مفید ہے؟ مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی آبادی، جذباتی عدم توازن بے چینی اور تشویش کا شکار ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر، ذیابطیس اور دل کی بیماریاں عام ہوگئی ہیں، خاص طور پر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ طرز زندگی یکسر بدلنے کی وجہ سے دل کی بیماریاں نوجوانوں میں زیادہ پائی جارہی ہیں

وجوہات
ایک عام فرد کو بھی اندازہ ہے کہ موٹاپا، ذیابطیس اور بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھادیتا ہے لیکن کچھ ایسی وجوہات بھی ہیں جو جان لیوا ’’ہارٹ اٹیک‘‘ کا سبب بن سکتی ہیں۔مثلاً اچانک شدید غصے کا اظہار، بہت زیادہ فکر یا تشویش، ذہنی دباؤ، کھانے کے غلط اوقات کار اور غیرصحتمندانہ خوراک کا استعمال، الکوحل، منشیات کا استعمال اور سگریٹ نوشی وغیرہ دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ دل کے ماہرین (کارڈیالوجسٹ) نوجوانوں میں دل کے عارضے کا سبب بتاتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں اور ہدایت بھی کرتے ہیں کہ آج کا نوجوان چونکہ ورزش وغیرہ سے دور ہوگیا ہے اور رات بھر جاگنا اور کمپیوٹر پر بے معنی کام کرنا، نیند کا پورا نہ ہونا اور سب سے زیادہ یہ کہ کھانے پینے کی عادات میں فاسٹ فوڈ اور اسے بے وقت کھانےکی عادت کو جاری رکھا، یہ وہ وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں نوجوانی میں بلڈ پریشر بڑھنے کے ساتھ شریانوں میں غلط خوراک کی وجہ سے تنگی پیدا ہوجاتی ہے جس سے کسی وقت بھی دل کا دورہ پڑسکتا ہے۔ یہ بات بھی نوجوانوں کو پیش نظررکھنی چاہئے جن خاندانوں میں دل کا عارضہ موروثی ہے ان کو اپنے کھانے پینے اور نیند اور ورزش کے اوقات کار کا پابند ہونا ضروری ہے۔ ویسے بھی اچھی اور معیاری زندگی گزارنے کیلئے وقت کا پابند، کم کھانا اور سادہ خوراک اپنی زندگی کا اہم حصہ بنالینا چاہئے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ’’کھانا کچھ بھوک معدے میں رکھ کر کھانا چاہئے‘‘،جبکہ نوجوان اس قدر زیا دہ کھالیتے ہیں کہ وہ ان کیلئے باعث تکلیف بن جاتا ہے۔

نامناسب طرز زندگی
ڈاکٹروں کی مشترکہ رائے ہے کہ ہارٹ اٹیک کے زیادہ تر شکار مریض جو ان کے پاس آرہے ہیں، ان کی عمر 19 سے 23 سال تک ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو پاکستان میں ہوئی ہے، اس کے مطابق سگریٹ نوشی کم ہونے کے بجائے نوجوانوں میں عام ہوگئی ہے۔ کمپیوٹر ،ٹیلی ویژن اور مختلف کھیلوں کے گیجٹس کے سامنے گھنٹوں رات بھر بیٹھے رہتے ہیں جس سے ان میں Stress کی سطح بڑھ جاتی ہے اور بے آرامی کی وجہ سے دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔جس نوجوان کا ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے تو اس کا بلڈ پریشر نارمل نہیں ہوتا، اگر انہیں اس عارضے کو قابو رکھنے کی گولیاں تجویز کی جاتی ہیں تو اسے پابندی سے نہیں استعمال کرتے۔ یہ زیادہ خطرناک امر ہے کہ آپ بلڈ پریشر کا شکار ہوں اور آپ نہ تو پرہیز کریں نہ نمک اور تیل کا استعمال کم کریں اس کے بجائے ان تمام غیرضروری عادات سے باز نہیں آتے جو انجائنا کا پہلے سبب بنتے ہیں۔ انجائنا یہ وارننگ دیتا ہے کہ سنبھل جایئے، ہارٹ اٹیک آنے والا ہے، یہ ایک قسم کی دستک ہے کہ اپنے طرز زندگی میں بہتری لایئے۔ کمپیوٹر پر رات بھر بیٹھے وڈیو گیمز کے ساتھ جنک فوڈ اور مشروب استعمال نہ کیجئے تاہم یہ مشغلہ نوجوانوں کی دل لگی بن چکا ہے۔ ایک معروف ڈاکٹر ریٹائر میجر جنرل ڈاکٹر اظہر محمود کیانی کا کہنا ہے کہ 80 فیصد دل کی بیماریاں ترقی پذیر ملکوں میں پائی جاتی ہیں اور اس میں پاکستان سرفہرست ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میرے اسپتال میں نوجوان ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو لایا جاتا ہے، تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے کھانے پینےکی عادات بہت خراب ہیں اور ان کی اکثریت بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرتی ہے اور تیل کے بنے ہوئے پکوان تناول کرتے ہیں۔‘‘ اس لئے ضروری ہے کہ نوجوان باہر کھانا نہ کھائیں، سبزیوں اور فروٹ کا استعمال زیادہ کریں، وقت کی پابندی کریں اور گوشت کی مقدار کو کم کریں۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ نمک اور چینی دونوں انسان کی دشمن ہیں، ان کا استعمال کم سے کم ہونا چاہئے۔ امریکا میں کلیولینڈ اس لئے مشہور ہے کہ وہاں چوٹی کے کارڈیالوجسٹ ہیں جن کی بڑی تعداد اب دبئی طبی مرکز میں کام کررہی ہے۔
پاکستان کے ڈاکٹر بھی دنیا میں ہنرمندی کے تناظر میں تسلیم کئے جاتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر کے کارڈیالوجسٹس (دل کے ڈاکٹر) کی مشترکہ رائے ہے کہ دل کے عین اوپر سو میں ۹۹درد دل کے نہیں ہوتے، اگر بائیں طرف دانت میں شدید درد ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ ہارٹ اٹیک کی علامت ہو۔ ہارٹ اٹیک کی روایتی علامات جیسے سینے میں درد یا دباؤ، سانس کا پھولنا، ٹھنڈے پسینے آنا، بازو سے درد کا سفر کرکے سینے کی طرف آنا، انتہائی کمزوری محسوس کرنا، یہ علامات ایسی ہیں جن سے اکثر لوگ واقف ہیں۔ ایک خاموش ہارٹ اٹیک بھی ہوتا ہے، جس میں درد نہیں ہوتا اس لئے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنابہت ضروری ہوتا ہے مگر کچھ ایسی علامات بھی ہیں جو بیشتر افراد کو معلوم نہیں اور انہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ سینے کے درد کے ساتھ جسم میں درد، کندھے یا بازو میں درد، دونوں کندھوں کے درمیان درد، سینے پر دباؤ محسوس ہونا، سانس لینے میں دشواری، بدہضمی کی شکایت، دل کی دھڑکن کا 100 سے کہیں اوپر ہوجانا، پسینہ اور متلی آنا وغیرہ۔ اس عارضے سے جان چھڑانے کی احتیاطی تدابیر بھی ہیں جن کا اجمالی ذکر ہوگیا ہے۔

احتیاطی تدابیر
کچھ سنہری اصول ایسے ہیں جنہیں اپناکر دل کے دورے کو وقوع پذیر ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے مکمل طور پر سگریٹ نوشی اور منشیات سے پرہیز کریں۔ صحت مندانہ اور متوازن غذائیں کھائیں،اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، غصہ بہت کم کریں، ورزش یا کھیلوں میں حصہ لیں، پابندی سے نیند لیں، اپنی شوگر، کولیسٹرول لیول اور ہائی بلڈ پریشر کے بارے میں ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں۔ ادویات ڈاکٹر کی ہدایات پر اور پابندی سے لیں۔
یاد رکھئے ہارٹ اٹیک کا علاج انجیو پلاسٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے، پہلے پہل بیلون ٹیکنالوجی سے کیا جاتاتھا اور اب اینجیو پلاسٹی میں بند شریانوں میں ایک یا دو سسٹنٹ ڈالے جاتے ہیں یا اگر شریان زیادہ بند نہ ہو تو ایک باریک تار ڈال کر شریان کو کھولا جاتا ہے اور خون کے بہاؤ کو بحال کیا جاتا ہے۔ دو شریانوں سے زیادہ شریانوں میں 70 فیصد سے زائد تنگی ہو یا بند ہو تو بائی پاس آپریشن کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایات ہیں کہ دل کے مریضوں کو خاص طور پر نوجوانوں کو اسپتال تک پہنچانے کا انتظام بروقت ہونا چاہئے۔ دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کیلئےٹرانسپورٹیشن کا بندوبست فوری ہونا چاہئے تاکہ اسپتال بروقت مریض کو پہنچایا جائے، یہ بھی ذہن میں رہے کہ بلڈ پریشر کی شرح بلند ہو اور سینے اور بازوؤںمیں درد ہو تو فوری طور پر (Angised) گولی زبان کے نیچے رکھ دی جائے۔ عام زندگی میں اسپرین (الیسکارڈ) اور لہسن کا استعمال دل کے امراض سے بچاؤ میں مفید ہے ۔اس کے علاوہ اسکن پیچ بھی ملتے ہیں، بائیں طرف سینے کے چسپاں کردیں۔ اگر بال ہوں تو انہیں صاف کردیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ روزانہ آدھ گھنٹہ چہل قدمی دل کو ٹھیک رکھنے کا بہترین نسخہ ہے۔ زیادہ کولیسٹروں، زیادہ بلڈ پریشر موٹاپے، سگریٹ اور شراب نوشی سے بچا جائے اور موڈ کو ہر حال میں اچھا رکھیں تو آپ کی صحت بہترین رہے گی ۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے